Monday, June 10, 2019

clinic


یہ ابھی کچھ دیر پہلے کی بات کی ہے۔سرددر اور کمزوری کی شکائیت سے آنے والی مریضہ کو جب میں نے ٹینشن کم لینے اور خود کو مصروف رکھنے کا کہا تو مسکرا کرجواب دیا۔ کوشش تو کرتی ہوں لیکن کیا کروں؟ کبھی کبھی سوچ خود ہی آجاتی ہے ۔ اللہ نے تین بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی تھی۔ ایک بیٹا قتل ہوگیا ، دوسرا ایکسیڈنٹ میں چلا گیا اور تیسرے کو بیماری کے بہانے اللہ نے واپس بلا لیا ۔ ایک بیٹی ادھر بیاہی ہوئی ہے۔ اس سے ملنے آئی تھی۔ کسی نے آپ کا بتایا تو چیک اپ کروانے ادھر آگئی۔
ایک دوست کے والد کہا کرتے تھے ۔کچھ باتیں ہم کتابوں سے سیکھتے ہیں کچھ تجربے سے اور کچھ لوگوں سے ۔
اور جو صبر کا سبق مجھے آج تک کوئی کتاب، کوئی وعظ ،کوئی نصیحت نہیں سکھا سکی تھی ۔وہ مجھے اس خاتون کی ایک مسکراہٹ نے سکھا دیا

clinic

چار پانچ سال کا بچہ کھانسی کی شکائیت کے ساتھ آیا ۔موٹی سی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ جب اس کی ماں اس کی زپ کھولنے میں ناکام ہورہی تھی تو میں نے تھوڑا سا مدد کیلئےزور لگایا تو وہ ٹوٹ گئی۔ اتنے میں اسکا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچے نے چیختے ہوئے اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے میری جیکٹ کی زپ توڑ دی ہے ۔اس کے باپ نے مجھے گھور کر دیکھا ہے تب سے بڑا ہی شرمندہ شرمندہ سا محسوس کررھا ہوں

tabsra

کتابوں پر تبصرہ...
مکہ مکرمہ کے ہزار راستے
مائیکل وولف
ترجمہ تصدق حسین
تاریخ سے دلجسپی رکھنے والوں کیلیئے ایک بہت ہی دلچسپ کتاب ..جس میں مکہ شہر اور حج کے حوالے سے لکھے گئے لگ بھگ تئیس سفرناموں سے اقتباسات کو اکھٹا کیا گیا ہے.. پہلا سفرنامہ 1050 عیسوی اور آخری 1990سے منتخب کیا گیا ہے....
ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے اور اس دور کے شعور کو سمجھے بغیر اس دور کے فیصلوں اور واقعات کو سمجھا نہیں جاسکتا۔اور کسی دور کے شعور کو سمجھنے کیلئے سفرنامے اور خود نوشت سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے
ایک ایسا شہر جہاں کوئی فصل نہیں ہوتی نہ ہی کوئی اناج پیدا ہوتا ہے ۔ ایک ایسا شہر جہاں پینے کا پانی بھی بارشوں کا محتاج ہے اور ایک ایسا شہر جس کے لوگوں کو اپنی زندگی کی ساری ضروریات کیلئے باہر کی دنیا کی طرف دیکھنا پڑتا ہو ۔ اور ایک ایسا شہر جہاں تک پہنچنے کیلئے خطرات کے پل صراط موجود ہو۔ اس شہر کو اللہ تعالی اپنا شہر قرار دے کر وہاں سے ایک ایسی دعوت کو کھڑا کرتا ہے کہ جس کی بازگشت چند ہی صدیوں بعد پوری دنیا میں گونج رہی تھی۔ اور وہ دعوت کس قدر جامع اور مضبوط تھی کہ راستوں کی سختیاں اور موسم کی نا مہربانیاں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکیں ۔ایسے ہی سمجھ لیں اگر لاہور سے ایک کام شروع کیا جائے تو اس کو لوگوں تک پہنچانا کس قدر آسان ہوگا اور تھر کے صحرا میں کھڑی کسی بستی سے ایک پیغام کو دنیا تک پہنچانے کیلئے حالات کتنے ساز گار ہوسکتے ہیں ؟ ۔
مکہ شہر ویسا نہیں تھا جیسا اب ہے ۔اس شہر میں زندگی کس قدر مشکل تھی اور وہاں رہنے اور پہنچنے کیلئے کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا ۔مکہ شہر کا حدود اربعہ وہاں کے صعوبتیں اور مسافروں کو در پیش مسائل اور تکالیف کا ادراک مجھے ان سفرناموں کو پڑھ کرہوا جو اس کتاب میں جمع کیئے گئے ہیں
عرب چھوٹے چھوٹےقبائل میں تقسیم تھے۔ اور ان قبائل کو عبور کرکے مکہ آنا یا پھر عرب کے اس خطے سے باہر نکلنا ایک بہت جان جوکھوں کا کام تھا۔ اس کے علاوہ خوراک اور پانی کی کمیابی اور موسم کی سختی الگ سے مسئلہ ہمیشہ سے درپیش رھا ہے۔ مکہ تک پہنچنے کیلئے کون کون سے راستے تھے اورحکمران طبقے کی طرف سے حاجیوں کو کیلئے کیا کیا سہولتیں مہیا کی جاتی تھیں۔اور حاجیوں کی راہ میں کیسے روڑے اٹکائے جاتے تھے۔یہ محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ مکہ شہر ، حج اور حج کے سفر کے ارتقا کی ایک دستاویزی ڈاکومنٹری ہے۔
ایک اور اہم چیز جو اس کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے ، وہ ہماری مسلم تاریخ کی معتدل تصویر ہے جو کتابوں میں درج قتل غارت سے بھرپور تاریخ کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔
میں نے یہ کتاب رومیل پبلیکیشنز کے فیس بک پیج سے آرڈر کرکے منگوائی تھی..
https://www.facebook.com/romailpublications/
میم سین

yadoon ka


یادوں کا جھروکہ......
پانچ منٹ تک مرغا بنے رہنے کے بعد کھڑا ہوا تو اوسان بحال ہونے میں کچھ وقت لگ ہی گیا
بہت دنوں بعد جب دھند سےآسمان صاف ہوا تو چمکدار دھوپ دیکھ کر ریاضی کی کلاس گراؤنڈ میں لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس گراؤنڈ میں ہماری کلاس نے ڈیڑہ ڈالا اس کے ساتھ والی گرائونڈمیں سالانہ کھیلوں کی تیاری کیلئے طالب علم کرکٹ کی پریکٹس کررہے تھے۔ ماسٹر صاحب جونہی بلیک بورڈ پر لکھنے کیلئے رخ بدلتے، میں فورا بالر اور بیٹس مین کی کارکردگی دیکھنے میں مصروف ہوجاتا اور ماسٹر صاحب کے کلاس کی طرف مڑنے سے پہلے دوبارہ اپنی توجہ کلاس میں مرکوز کرلیتا۔
بیٹسمین نے ایک سٹروک کھیلا اور گیندہوا میں کافی بلند ہوگئی ۔ فیلڈر اس کے نیچے تھا۔ میری نگائیں بال اور فیلڈر پر مرکوز تھیں ۔ کیچ کرسکے گا یا نہیں۔
اور جب میں کلاس کی طرف متوجہ ہوا تو ماسٹر صاحب اشارے سے مجھے اپنے پاس بلارہے تھے۔۔۔۔۔
ریاضی کے یہ ماسٹر صاحب ناصرف پڑھائی کے معاملے میں کافی سخت مزاج تھے بلکہ وقت کے بھی بہت پابند تھے۔ چھٹی کا لفظ شائد ان کی ڈکشنری میں نہیں تھا ۔ سکول شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے زیرو پیریڈ کے نام پر اضافی کلاس بھی لیا کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے ان کی طالب علموں میں مقبولیت حکومتی کارکردگی کی طرح کافی کم رہتی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن سکول سے بنا کسی اطلاع کے غائب ہوگئے۔دوپہرکو خبر ملی، لقوہ ہوگیا ہے۔ محمد بخش تو کہہ کر گیا تھا
دشمن بیمار پوے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی بیمار پر جاناں
ٹیگر تے دن ہویا محمد اوڑک نوں ڈب جانا
لیکن خوشی وہی، جو چھپائے نہ چھپے ۔باوثوق ذرائع سے پتا چلا، دو ہفتے سے پہلے ان کا سکول آنا ممکن نہیں ۔اور کلاس میں جشن کی گھٹا چھا گئی۔ ۔لیکن سانحہ یہ ہوا کہ تیسرے دن ہی منہ پر کپڑا لپیٹ کر کلاس میں چلے آئے اور سرپرائز ٹسٹ کا علان بھی کردیا
ولی محمد صاحب کو اللہ غریق رحمت کرے اور جنت کے بلند مقام پر جگہ دے۔ ایک بار کلاس میں میرے بارے کہا تھا کہ اس کو سعادت مندی کی وجہ سے اللہ ہمیشہ کچھ نمبر تیاری کے بغیر ہی دے دیا کرے گا ۔اور اللہ تب سے کچھ نہیں، سے کچھ زیادہ ہی نواز رھا ہے۔۔۔
میم.سین

moulvi

بھولی بسری یاد...
گزرے دنوں کی بات ہے کالج کی مسجد میں ایک صاحب جمعہ پڑھایا کرتے تھے..کالج کی مسجد تھی تو مقتدی زیادہ تر طالبعلم ہی ہوا کرتے تھے لیکن.جمعہ کے موضوعات کافی اڈلٹ نوعیت کے ہوتے تھے..جیسے ایک سے زائد شادی کی شرعی حیثیت، مسئلہ لعان، شوہر کے ازدواجی حقوق، حلالہ کیا ہے..
ایک ایسے ہی جمعہ میں نقشہ کھینچ رہے تھے ایک اچھی بیوی کا... کہنے لگے ایسی بیوی ملے تو دل کرتا ہے ایسی ایک اور بیوی ہو، دو نہیں تین.ہوں اور تین بھی کیا چار بھی کم ہونگی...
لیکن یہ بات کنواروں کو سمجھ نہیں آسکتی..
اور ہم نے بے ساختہ ارد گرد نظردوڑائی کہ یہاں شادی شدہ کون ہے؟

Sunday, June 9, 2019

ایک لمحے کے تعاقب میں

آوارہ گرد کی ڈائری...
ایک لمحے کے تعاقب میں
کچھ لمحے لافانی ہوتے ہیں۔ فردوسی لمحے ۔ وہ لمحے جن میں انسان قید ہوجاتا ہے ۔وہ لمحے جو تنہائی میں بھی مسرت کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔وہ لمحے جو پروں کے بغیر اڑان بھرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ایک انوکھی روحانیت، ایک انوکھی راحت۔وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا جس نے مجھے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ جس سے رہائی کا سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔
فطرت کے نظام میں کبھی ترتیب نہیں ہوتی لیکں اس ترتیب میں ایک حسن ہوتا ہے۔اور اس حسن کی تلاش میں ابوزر کے ہمراہ ایک بار پھر محو سفر تھا ۔کلرکہار انٹر چینج سے اتر کر چکوال روڈ پر سفر شروع کیا تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر جلیبی چوک سے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو جانے والے راستے پر سفر شروع کیا۔ اس روڈ پر کوئی تین کلومیٹر چلنے کے بعد دائیں جانب ایک سڑک نکلتی ہے جو موٹر وے کے نیچے سے گزر کرکلرکہار ایریا کی سب سے خوبصورت سیوک جھیل کوجانے والے ٹریک کو ملاتی ہے جس پر پچھلے سال ایڈونچر کیا تھا لیکن بدقستی سے جہاں سے پیدل ٹریک شروع ہوتا ہے وہاں تک پہنچتے پہنچتے شام ہوچکی تھی اور سیوک جھیل کو ،پھر آئیں گے کہہ کر واپس لوٹ آئے تھے۔ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے بعد سڑک سنگل ہوجاتی ہے ۔کٹی پھٹی لیکن اس قابل ہے کہ آسانی سے اس پر سفر کیا جاسکے۔ چڑھائی دھیرے دھیرے بڑھتی ہے اس لیئے ڈرائیونگ میں کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آتی ۔
میلوٹ ٹیمپل کے قریب پہنچ کر گاڑی کو ایک طرف پارک کیا۔باہر نکلے تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ گہرے بادل اور یخ بستہ ہوائوں نے جسم میں ایک سنسناہٹ پھیلا دی۔ اور ہیبت ناک ہزاروں سال پرانے ٹیمپل کے آثار کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے ہوئے جب دوسری طرف نکلا تو سفید چٹانوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے قدموں کے نیچے سے جیسے چھت ختم ہوگئی ہو اور سامنے جہلم کا وسیع و عریض ڈیلٹا تاریخ کے ہزاروں صفحوں کو اپنے اندر سموئے اپنی بے پناہ تابناکیوں کے ساتھ کسی آرٹسٹ کے کینوس کی مانند میری نظروں کے سامنے پھیلا ہواتھا۔
ٹھنڈی یخ ہوا ایک عجیب پر اسرایت پیدا کررہی تھی ۔میرے سامنے فطرت کی رعنائی اپنی بھرپور دلفریبی کے ساتھ میرے اوپر ایک سحر طاری کرچکی تھی ۔جس میں بل کھاتی ندیاں اور موٹر وے ایک لکیر کی صورت دکھائی دے رہی تھی۔تاحد نظر سر سبز و شاداب وادی بکھری ہوئی تھی۔ ہواؤں کے سرد تھپرے کسی نظر نہ آنے والے ہیولوں کی مانند جسم کو سہلاتے اٹھکیلیاں کرتے کبھی سامنے سے دھکا دیتے تو کبھی سائیڈ سے۔
میں وادی کی طرف منہ کرکے ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔یہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان تنہائی میں مسرت محسوس کرتا ہے۔ امنگیں اور ولولے ایک ہجوم بپا کردیتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسانی فطرت کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔انسانی احساسات کے گمشدہ گوشوں کو روشن کرتے ہیں ۔انسانی ذہن کی متضاد کیفیتوں کی آماجگاہ کو ایک نقطے پر سمیٹ دیتے ہیں۔
میں سرشار تھا۔ایک مدھر ترنگ سرشاری دکھا رھا تھا۔پہلا لمحہ دوسرے میں ڈھل رھا تھا اور دوسرا تیسرے میں، تیسرا ایک احساس میں ۔اور میں ایک وجدانی کیفیت اور خودفراموشانہ محویت سے ایک جذبے میں ڈھل رھا تھا۔ اس جذبے کا کوئی نام نہیں تھا ۔ جس جذبے کو آپ کوئی نام نہ دے سکیں اس کو خوشی کہتے ہیں ۔ روحانی خوشی۔
وہ لافانی لمحے تھے ۔وجدانی لمحے۔وہ لمحے جن کا کوئی مول نہیں
وہ لمحے ، جن کے اختتام پر احساسات کا ہجوم ہوتا ہے، ناقابل بیان ہیجان ہوتا ہے۔
امید، حزن، توقعات، ملال، حسن، اداسی، خوشی، سرشاری، جوش۔
جذبات و احساسات کا ہجوم ہوتا ہے جو انسانی وجود اور زندگی کے ضامن ہیں وہ جذبات جن کے دم سے انسانی زندگی چل رہی ہے اور اپنے اپنے محور میں زندہ ہے۔
زندگی اسی کا نام ہے شائد ہر جذبے کا احساس، اس کا ظہور اور اس ظہور کا احساس۔
اور انسانی زندگی کی معراج شائد ان جذبوں کو زبان دینا ہے ۔
احساسات کے اظہار کی لگن روز ازل سے انسان کے خمیر میں ہے۔.....کیمرہ سے قلم تک
سفر کریں۔ خوش رہیں۔ احساسات لکھیں اور خوشی محسوس کریں
میم سین

haqeeqat

یہ چند دن پہلے کی بات ہے .اپنے بھائی ابوزر کے ہمراہ چورپرجی والے خان بابا کے ریسٹورنٹ پر کھانا کھانے پہنچا...خان بابا کا مٹن قورمہ ذائقے میں اپنی نوعیت کی منفرد ڈش ہے.. سالوں بعد بھی جائیں تو وہی ذائقہ ملتا ہے جو آپ کی زبان.محسوس کررہی ہوتی ہے....اس دن بھی کچھ ایسا ہی ذائقہ زبان.پر رکھے وہاں پہنچے اور قورمہ آرڈر کردیا..سروس کا بھی جواب نہیں اور چند ہی لمحوں بعد کھانا میز پر موجود تھا..اس دن ذائقہ تو ہمیشہ کی طرح ویسے ہی اعلی لگ رھا تھا لیکن گوشت کی کوالٹی بھی معمول سے زیادہ اچھی دکھائی دے رہی تھی..
لیکن ہوا کچھ یوں کہ ابھی ابتدائی لقمے ہی چل رہے تھے کہ گردے کا درد شروع ہوگیا..جووقفے وقفے سے اٹھتا اور پھر کچھ سنبھل جاتا... جیسے تیسے کھانا ختم.کرلیا..لیکن.کھانے کا ذائقہ یاد رھا نہ گوشت کی کوالٹی..درد بھی کچھ دیر بعد کافی سنبھل گیا
لیکن اس سارے واقعے سے میں نے ایک نتیجہ نکالا...
دوسری شادی کا فیصلہ کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی گردے کے درد جیسی بدمزگی پیدا ہوجائے تو سارا مزہ کرکراہ ہوجانا ہے..