Tuesday, October 22, 2019

ملوٹ ٹیمپل کے نقوش




جب مجھے بتایا گیا تھا کہ ملوٹ قلعے سے وادی جہلم پر نظر دوڑائیں تو دریائے جہلم، چناب اور راوی کو الگ الگ منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔جہلم اور چناب کا نام تو ہضم ہوگیا تھا لیکن راوی والی بات مبالغہ لگی لیکن جس دن ملوٹ قلعے سے وادی میں جھانکا تو اندازہ ہورھا تھا کہ اگر مطلع صاف ہو اور روشنی مناسب ہو تو یقینا نظر راوی تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔
انتہائی بلندی پر موجود ہونے کی وجہ سے ملوٹ قلعے پرپہنچے تو تیز یخ ہوائوں نے استقبال کیا۔ پہاڑوں سے ٹکڑاتی، گونج پیدا کرتی آواز اور آبادی سے ہٹ کر موجود مندر ایک ہیبت ناک منظر پیش کررھےتھے۔
لیکن کچھ دیر ٹھہریں۔کسی نے انباکس ایک سوال کیا ہے کہ سالٹ رینج۔ سکیسر، وادی سون، کلرکہار، پوٹھوہار کے الفاظ بار بار سنتے ہیں ان کی وضاحت کردیں؟
سالٹ رینج ایک پہاڑی سلسلے کا نام ہے۔ جس میں نمک اور چونا بکثرت ملتا ہے اور کوئلہ بھی کسی حد تک پایا جاتا ہے۔ کھیوڑہ کی نمک کی کانیں اسی سلسلے کا حصہ ہیں ۔ اسلام آباد جاتے ہوئےبھیرہ سے موٹر وے کے بعد جو مشکل رستہ شروع ہوتا ہے وہ سالٹ رینج کا ہی حصہ ہے۔ جسے عبور کرکے ہم میدانی علاقے سے سطح مرتفع پوٹھوہار میں داخل ہوتے ہیں۔ سطح مرتفع پوٹھوہار اونچی نیچی زمین کا ایک خطہ ہے جوچکوال جہلم ، پنڈی ، اسلام آباد اٹک اضلاع اور خوشاب اور میانوالی اضلاع کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے۔۔
سالٹ رینج میں کم بلندی کی پہاڑیاں ہیں جن میں سب سے اونچی سکیسر ہے۔ جہاں پر پاکستان فضائیہ کا دفاعی نظام نصب ہے۔خوشاب کے ایک قصبے پدھراڑ سے سکیسر کی پہاڑی کے درمیان جو وادی پھیلی ہوئی ہے اس کا نام وادی سون ہے۔ جو کوئی سات سو اسی مربع کلومیٹر کے لگ بھگ رقبہ پرپھیلی ہوئی ہے۔ اگر کسی نے امریکہ کی ایریزونا سٹیٹ کے بارے میں سنا ہوا ہے جو اپنی مخصوص سطح مرتفع اور مٹی کی سرخ رنگت کی وجہ سے مشہور ہے تو یہ وادی اس سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے۔ وادی سون اپنی آبشاروں اور جھیلوں اور لینڈ سکیپ کی وجہ ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ پہلی بار جانا ہوا تو حکومتی بے حسی پر بہت افسوس ہوا۔ حکومتی توجہ کے بعد دوبارہ جانا ہوا تو لوگوں کا علاقے کے ساتھ سلوک دیکھ کر احساس ہوا قدرتی ماحول کی بقا کیلئے حکومتی غفلت کس قدر ضروری ہے۔
کلرکہار ضلع چکوال کی ایک تحصیل اور سیاحتی مرکز ہے۔ جس کو ہم موٹر وے سے نظر آنے والی جھیل کے حوالے سے جانتے ہیں ۔
ملوٹ قلعہ پہنچے تو قلعہ تو کہیں نظر نہیں آیا لیکن دو بلند وبالا مندروں نے اپنی اجڑی تاریخ کے ساتھ استقبال کیا۔جنجوعہ قوم کے جد امجد راجہ مل 980 میں ہندوستان کے علاقے متھرا سے نقل مکانی کرکے اس علاقے میں آباد ہوئےتو یہاں ایک قلعے کی بنیاد رکھی۔ یہ مندر اسی قلعے کے اندر تعمیر کروائے گئے تھے۔
مندروں کی تعمیر کیلئے چبوترہ مقامی پتھر سے بنایا گیا۔لیکن مندر کی تعمیر کیلئے سرخ پتھر انڈیا سےمنگوایا گیا تھا ۔مندروں کی ناگفتہ حالت کے باجود پتھروں پر کندہ مینا کاری ، آرائشی مورتیاں اور نقش ونگار کے آثار ایک ہزار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک موجود ہیں۔
محمود غزنوی نے جب جہلم کے اس حصے پر حملہ کیا تو راجہ مل نے شکست کھائی اور گرفتار ہوگیا۔ لیکن محمود غزنوی کے حسن سلوک کی وجہ سے مسلمان ہوگیا۔ راجہ مل نے کوئی چالیس سال حکومت کی۔اسلام قبول کرنے کے بعد راجہ مل کی اولاد علاقے میں پھیل گئی۔لیکن آئندہ سے کسی بھی حملہ آور کے خلاف مزاحمت سے بھی توبہ کرلی۔جب منگول سردار تیمور شاہ نے ہندستان پر حملہ کیا تو اس علاقے کے حکمرانوں نے اسے خوش آمدید کہا۔ بابر کی ہندوستان پر حملے میں جس طرح مدد کی اس کا بھی ذکر بابر نامہ میں بھی ملتا ہے
چھت پھاڑ کر دولت حاصل کرنے والے لوگ آج بھی موجود ہیں ۔لیکن کسی نے بتایا نہیں دولت چھت پھاڑ کرملتی ہے صحن پھاڑ کر نہیں ۔جس مندر کے آثار کچھ بہتر ہیں اس کے کے اوپر چڑھ کر اندر جھانکا تو معلوم ہوا نوادرات کی تلاش میں پورا فرش کھودا ہوا ہے جس سے یقینا چبوترے کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،۔
میم.سین

چنیوٹ کا کنہ




بابا شہزاد اویسی تحفہ نہ بھیجتا تو کبھی معلوم نہ ہوتا کہ ملتان سے زیادہ اچھا سوہن حلوہ میلسی میں بنتا ہے۔لیکن پھر بھی سوہن حلوہ ملتان کی ہی سوغات ہے۔ایک نئی سوغات آجکل ملتان کی شناخت بنا رہی ہے اس کا نام ہے سرائیکی اجرک۔ پہلی بار نام سنا تو کچھ تذبذب کا شکار ہوا۔ ایک مہربان تنویر مجید صاحب سے ذکر کیا تو اتنی جلدی افتخار چوہدری سوؤ موٹو نوٹس نہیں لیتا تھا جتنی جلدی انہوں نے خرید کر بھیجوا دیں۔ سرائیکی اجرک سندھی اجرک جیسی چادر ہے لیکن اس کا نیلا رنگ بہت دلفریب اور دلکش ہے۔ اس لیئے ملتان سے سوہن حلوہ کی بجائے سرائیکی اجرک کو ٹرائی کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ کمالیہ جائیں تو کھدر کی سوغات۔ گوجرہ مند اور جٹ کی برفی ۔ تاندلیانوالا ماہی کا من پسند ۔ میاں چنوں خوشی کی برفی اور گلاب جامن۔ چکوال کی ریوڑی ایسے ہی بہت سےشہروں کے ساتھ کوئی نہ کوئی سوغات جڑی ہوتی ہے۔جو کچھ لوگوں کو پسند نہیں بھی آتی لیکن سوغات تو سوغات ہوتی ہے۔
ایسے ہی چنیوٹ جائیں تو وہاں کی پہچان ان کا فرنیچر ہے لیکن اگر چنیوٹ جائیں اور کنہ نہ کھائیں تو پھر بہتر ہے چنیوٹ شہر جانے کی بجائے دریائے چناب کا پل عبور کر جائیں۔
کنہ چنیوٹ کی ایک روایتی ڈش ہے۔جو کوئی دو سو سال پرانی ہے اور بادشاہوں اور امرا کی مرغوب تھی۔ بکرے اور بیف دونوں سے بنتی ہے لیکن ہڈی کے بغیر بکرے کے گوشت کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے اور گوشت میں بھی بکرے کے مچھلی کا گوشت زیادہ استعمال کیا جائے تو ذائقہ کے کیا کہنے ۔ کنہ بنانے کے ماہر بزرگ بتاتے ہیں کہ اصل کنہ چربی میں بنایا جاتا تھا اور پکانے کیلئے زیر زمین چولہے استعمال ہوتے تھے ۔ لیکن اب مٹی کی ہانڈی میں آئل ڈال کر اس میں گوشت اور مصالحے ڈال کر اسکو آدھا پونا گھنٹہ پکایا جاتا ہے۔ہانڈی کو مٹی سے لیپ کر رکھا جاتا ہے تاکہ ہانڈی لمبی عمر پائے کیونکہ ہانڈی جتنی پرانی ہوگی کنہ اتنا مزیدار بنے گا۔اس کی تیاری میں سبز مرچ ادرک ٹماٹر یادھنیے کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کے بعد بادام مغز اور دوسری اشیا سے بنا دودھی ملا کر پکایا جاتا ہے۔اور کنہ کی گریوی کے ذائقے میں سارا کمال اسی دودھی کا ہوتا ہے۔ہانڈی کا منہ مٹی لگا کر بند کردیا جاتا ہے اور تین سے چار گھنٹے تک پکایا جاتا ہے۔۔ بوٹی کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے مخصوص ڈوئی استعمال کی جاتی ہے۔اور پھر مٹی کی ہانڈیوں میں ہی ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ گرم گرم تنور کی روٹی کے ساتھ ہو. دھی کا رائتہ اور تازہ سلاد ۔کنہ کا ذائقہ ساری عمر یاد رہے گا
میم سین

ہیر رانجھا ..میڈ ایزی


...

یہ داستان مغلوں کے ہندوستان آنے سے کچھ سال پہلے کی ہے۔ضلع سرگودھا میں ایک قصبہ تخت ہزارہ تھا۔ جس کے چوہدری موجو کے آٹھ بیٹے تھے جن میں سب سے چھوٹا رانجھا تھا۔ کام کا نا کاج کا بس بانسری خوب بجاتا تھا۔لمبے لمبےبال، سوہنا گھبرو ۔بھائیوں بھابیوں نے کام نہ کرنے پر پہلے پہل تو باتیں سنائیں ۔ لیکن پھر تنگ آکر زمین کا بٹوارہ کرلیا اور سب سے نکمی زمین رانجھے کو دے دی۔ نازک اندام رانجھا۔ مشقت اس کے بس کاکام نہیں تھا اورجلد ہی مایوس ہوگیا

ادھر جھنگ شہر میں سیال قوم رہتی تھی ۔ ان کے کے سردار مہر چوچک کی بیٹی کا نام ہیر تھا جس کے حسن کی شہرت دور دور پھیلی ہوئی تھی۔یہ شہرت رانجھے تک بھی پہنچی ہوئی تھی۔ گھر کے طعنوں اور مشقت سے تنگ آکر رانجھے نے جھنگ کے سفر کی ٹھانی۔راستے میں ایک گاؤں کی مسجدمیں رات ٹھہرا تو پہلے تو اس کا مسجد کے امام سے جھگڑا ہوگیا اور صبح جب اٹھا تو کنوئیں پر پانی بھرنےآئی لڑکیوں نے اسے دیکھ لیا اور ایک نے کھلم کھلا اعلان کردیا۔ ویاہ کروں گی تو صرف اس نوجوان سے۔ ورنہ نہیں۔ اور رانجھے کو چھپ چھپا کروہاں سے نکلنا پڑا۔چلتے چلتے دریائے چناب پر جاپہنچا۔ ایک کشتی کنارے پر آکر رکی تو اس میں سے دوسرے مسافروں کے علاوہ پانچ پیر بھی نکلے اوررانجھے کو بنسری بجاتے دیکھ کر سیالوں کی ہیر اسے بخش دینے کا کہہ کر چل دیئے۔

رانجھا کشتی پر سوار ہوا تو دیکھا کہ کشتی پر ایک پلنگ بھی ہے۔ ملاح نے بتایا کہ ہیر اپنی سہیلیوں کے ساتھ جب کشتی پر سیر کیلئے آتی ہے تو اس پلنگ پر آرام کرتی ہے۔ رانجھے نے اجازت مانگی کہ کچھ دیر اس پر سستا لوں تو ملاح جو اس کی بنسری پر فدا ہوچکا تھا انکار نہ کرسکا اور رانجھے کو اس پر لیٹتے ہی نیند آگئی۔ ہیر جب سہیلیوں کے ساتھ کشتی پر پہنچی تو اپنے پلنگ پر ایک اجنبی کو دیکھ کر سخت غصہ آیا۔ سہیلیوں نے اسے مارکر جگایا تو شانوں تک جھولتے سیاہ بال اور رانجھے کے حسین چہرے نے ہیر سے اسکا دل وہیں چھین لیا۔ہیر کو جب پتا چلا اجنبی ہے تو اسے اپنی بھینسوں کی دیکھ بھال کیلئے ملازم رکھ لیا

اور یوں دونوں کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ہیر کا ایک چاچا تھا ۔کیدو، لنگڑا تھا، اسے رانجھا ایک آنکھ نہ بھایا اور ہیر کے ابا کے کان بھرتا رھا۔ ایک دن کیدو کی باتوں میں آکررانجھے کو نوکری سے نکال دیا۔ لیکن بھینسیں جو رانجھے کی بنسری کی عادی ہوچکی تھیں۔ وہ قابو سے باہر ہونے لگیں تو مجبورا رانجھے کو دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑا۔ لیکن اب دونوں پر گہری نظر رکھنا شروع کردی گئی ۔ اورایک دن کیدو کی وجہ سے دونوں کو اکھٹے پیار محبت کی باتیں کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔

اور مظفر گڑھ کے ایک گاؤں رنگ پور کے کھیڑوں کے طرف سے آئے ہوئے رشتے کو قبول کرکے شادی کی تیاریاں شروع کردیں ۔لیکن جب نکاح کے وقت رضامندی پوچھی گئی تو ہیر نے صاف انکار کردیا کہ میرا نکاح پانچ پیروں نے رانجھا کے ساتھ کردیا تھا ۔لیکن اس کے اس سارے ہنگامے کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور سیدا کھیڑا اسے بیاہ کر لے گیا۔

رانجھا کو نوکری سے نکالا گیا تو واپس اپنے گاؤں تخت ہزارہ واپس لوٹ گیا۔ وہاں اسے ہیر کے بیاہ کی خبر پہنچی تو دل برداشتہ گھر سے نکل گیا۔جہلم کے قریب جوگیوں کا ٹلہ تھا جہاں گوروگال ناتھ کا آستانہ تھا۔ جس نے رانجھے کے کانوں میں مندریاں ڈال کر اسے اپنا جوگ دے دیا اور عشق کی آگ میں رانجھا پہلے ہی تپا ہوا تھا اسلئے ساری منزلیں بہت جلد طے پاگیا۔گورو سے اجازت لیکر رانجھے نے جوگی بن کر رنگ پور جاکر ایک باغ میں ڈیڑہ ڈال لیا اورایک دن ہیر کی نند سہتی جو خود مراد بلوچ کے عشق میں مبتلا تھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ جوگی کو ملنے آئی اسے جوگی کی باتوں میں پراسرایت نظر آئی جس کا ذکر اس نے ہیر سے بھی کیا۔

ایک دن رانجھا جوگی کے روپ میں ہیر کے گھر جاپہنچا اور اللہ کے نام کی صدا لگائی۔سہتی نے اس کے کشکول میں اناج ڈالا تو اس نے گرا دیا جس پر دونوں کے درمیان تکرار ہوگئی جسے سن کر ہیر باہر نکلی تو دونوں کی نگائیں چار ہوگئیں اور ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ہیر نے اپنی نند کو ساری بات بتائی اور رانجھے سے چھپ کر ملنے لگی۔ایک دن ہیر سہیلیوں کے ساتھ کھیتوں میں گئی ہوئی تھی کہ اس کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا۔ لیکن اس کی نند نے شور ڈالا کہ زہریلا سانپ کاٹ گیا ہے. اس لیئے کسی جوگی کو بلایا جائے۔ یوں رانجھے کو بلایا گیا۔ جس نے ہیر کے کمرے سے کنواری لڑکیوں کے علاوہ سب کو نکل جانے کا کہا۔ یوں ہیر سہتی اور رانجھا اکیلے کمرےمیں رہ گئے۔مراد بلوچ سے بھی ربطہ کرلیا گیا اور یوں دم کے بہانے فرار ہونے کا پروگرام مکمل بنا لیا گیا۔صبح جب ناشتہ کیلئے کمرے پر دستک دی گئی تو ان کے فرار کی اطلاع پورے گاؤں میں پھیل گئی اور گھوڑوں پر ان کا پیچھا کیا گیا۔ مراد بلوچ کی مدد کو ان کا قبیلہ پہنچ گیا اور ان کو پناہ میں لے لیا لیکن رانجھے کو پکڑ کر خوب مارا گیا اور ہیر کو لیکر واپس چلے گئے۔ رانجھا روتا پیٹتا وہاں کے راجہ عدلی کے پاس جا پہنچا۔ جہاں کھیڑوں کو بلایا گیا اور دونوں فریقوں کی بات سن کر قاضی نے فیصلہ کھیڑوں کے حق میں دے دیا۔ جس پر رانجھے نے بددعا دی تو سارے شہر کو آگ لگ گئی۔جس پر راجہ ڈر گیا اور کھیڑوں کو بلا کر ہیر کو رانجھے کے حوالے کر دیا گیا۔ جب رانجھا واپس تخت ہزارہ کو جانے لگا تو ہیر کے گھر والوں نے کہا اس طرح تو تیرے گھر والے ہیر کو قبول نہیں کریں گے تو ایسا کر اپنے گھر جا اور بارات لیکر جھنگ آ۔جو سب ایک بہانہ تھا۔

جھنگ لیجا کر ہیر کو زہر دے کر مار دیا اور مشہور کردیا گیا کہ بیمار ہوکر ہیر چل بسی ہے اور رانجھا بارات لیکر تخت ہزارے سے نکلنے لگا تھا جب اسے ہیر کی موت کی خبر ملی .اسے یقین نہ آیا لیکن جب قبر دیکھی تو زمین پر گرا اور دوبارہ نہ اٹھ سکا
میم.سین

گردوارہ چووا صاب اور ہمارا ذوق جمال


آوارہ گرد کی ڈائری..
..

مجھے نہیں معلوم استھیٹک سینس کو اردو میں کیا کہتے ہیں ۔ شائد احساس جمال ؟ جمالیاتی ذوق یا پھر رعنائی خیال
خوراک انسان کیلئے ضروری ہے اور اس کا پہناواہ بھی ۔ لیکن جو ضرورت انسان کو ممتاز بناتی ہے وہ ہے احساس جمال ۔

بات کو کچھ گہرائی سے دیکھنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا یونانیوں نے نیکی اور حسن کو ایک ہی چیز کانام دیتے ہوئے کہا کہ حسن روحانی اضطراب کی تسکین کیلئے ضروری ہے اور نیکی زندگی کی بقا کے لیئے۔حسن ہماری خوشی کی معروضی شکل ہے یعنی ہمارے احساسات کا حصہ۔اس حسن اور اس حسن کی اہمیت کو سمجھنے کانام ایستھیٹک سینس ہے ۔ جمالیاتی ذوق

سبزہ گل کہاں سے آئے ہیں

ابر کیا ہے ؟ ہوا کیا ہے؟

رضائے فطرت کیا ہےْ؟

ادائے زیست کیا ہے؟

تقاضائے بشریت کیا ہے؟

محبت خدا کا ہی ایک روپ ہے۔اس روپ کو کیسے دیکھیں گے؟

فطرت لذت آفریں احساس ہے اس احساس تک رسائی کیونکر ممکن ہوگی

سربکف پہاڑوں کے کیا معنی؟ دریاؤں سمندروں کے سینوں میں چہل قدمی کیا معنی؟ کائنات کا سارا دم خم کہاں ہے؟ روح کی سرشاری کیا ہے؟ روح سے ہمکلامی کیسے؟

لیکن ٹھہریئے۔پہلے ایک واقعہ سن لیں۔

سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے اپنے زندگی میں پیدل پانچ بڑے سفر کیئے تھے۔ اپنے چوتھے سفر کے دوران اپنے بہت قریبی دوست اور عقیدت مند بھائی مردانہ کے ہمراہ سفر کررہے تھے۔جب وہ ٹلہ جوگیاں سے کچھ آگے پہنچے تو بھائی مردانہ کو پیاس لگ گئی لیکن اس علاقے میں پانی بہت کمیاب تھا اور جب کہیں سے پانی نہ مل سکا تو بابا گرونانک نے اپنی عصا زمین پر مار کر ایک پتھر کو ہٹایا تو ایک چشمہ بہنے لگا۔ اس چشمے کا پانی اتنا زیادہ تھا کہ جب اس کے قریب قلعہ روہتاس تعمیر ہوا تو اس کے پانی کو قلعے کے اندر پہنچانے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔چرت سنگھ نے اس جگہ ایک عبادت گاہ تعمیر کروائی اور پانی کو محفوظ بنانے کیلئے تالاب بنوادیا گیا۔ گرو نانک سے نسبت کی وجہ سے راجہ رنجیت سنگھ نے اس پر ایک گردوارہ تعمیر کروادیا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔

اب آئیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔ اس واقعہ میں ساری اہمیت اس چشمے کی ہے. جس کی نسبت بابا گرو نانک سے ٹھہری۔

لیکن تزئین و آرائش کے نام پر سیمنٹ سے پلستر کرکے اس کو ایک کنواں نما کی شکل دے دی گئی ہے ۔ گوردوارے کی عمارت کا مرکزی دروازہ ایلومینئیم کا لگا دیا اور اور بحالی کا اسلم مستری سے کروا کر تاریخ کے ساتھ جس طرح کا مذاق کیا گیا ہے اس پر ذہن سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس قوم میں ایستھیٹک سینس ہی موجود نہ ہو ۔اسے تاریخ کے حسن کا شعور کیسا؟
میم سین

کچھ شاہی حمام کے بارے میں


...

دھلی گیٹ سے داخل ہوں تو کوتوالی تک کی سڑک کو شاہی گزرگاہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ یہ راستہ بہت سے بادشاہوں کے زیراستعمال رھا ہے۔ یہ راستہ کس قدر اہم تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب شاہجاں نے لاہور شہر میں پہلی بڑی مسجد کی خواہش کا اظہار کیا تو اس وقت کے گورنر وزیر خان نے اس سڑک کا انتخاب کیا۔

مسجد کے انتظام کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے شہر کے داخلی مقام پرہی حمام قائم کئے گئے۔ جن کو شاہی حمام کا نام دیا گیا لیکن حقیقت میں یہ صرف شاہی استعمال کیلئے مختص نہیں تھے بلکہ عام لوگ بھی اس سے مستفید ہوتے تھے۔دروازے کے ساتھ حمام بنانے کی وجہ مسافروں کو شہر میں داخل ہوکر تروتازہ ہونے کا موقع دینا تھا۔حمام کے ساتھ ایک سرائے بھی تعمیر کی گئی تھی لیکن اس کے آثار اب کہیں نظر نہیں آتے۔

شاہی حمام محض سادہ حمام نہیں تھے بلکہ بھٹیوں کے انوکھے نظام، پانی کی پیچیدہ گزرگاہوں،گرمی کو محفوظ کرنے والی اینٹوں ، بھاپ کے انتظام، پانی کے فواروں پر مشتمل قدیم انجینئرنگ کا حیرت انگیز کارنامہ تھے۔

اگرچہ عدم توجہی اور غفلت کی وجہ سے حمام اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں رہے ہیں ۔پہلے سکھوں نے اس کو نقصان پہنچایا ، پھر انگریزوں نے من مانی تبدیلیاں کیں۔ اور رہی سہی کسر ہمارے ارباب اختیار نے یہاں ایک سکول کھول کر اور شادی حال قائم کرکے کر دی۔ لیکن 2012میں ناروے کی مدد سے آثار کو کافی حد تک محفوظ کرلیا گیا ہے۔شاہی حمام کی بحالی کے دوران ایک حیرت انگیز دریافت مغلیہ عہد کے زیر زمین نکاسی آب کے اصل نظام کا پتا چلنا تھا۔
میم.سین

ایک المناک داستان کے نقوش




یہ کوئی ایک صدی پہلے کی بات ہے۔ ایک بہت امیر شخص تھا۔ جس کی دولت کا کوئی حساب نہیں تھا۔ ایک دن اس کو ایک ہنر مند کے بارے میں پتا چلا جس کی شہرت بکنگھم پیلس تک پہنچی ہوئی تھی۔اس نے ہنر مند کو بلا کر ایک گھر تعمیر کرنے کو کہا جو شان و صورت اور خوبصورتی کا ایسا امتزاج ہو ۔ جو اپنی مثال آپ ہو۔ پیسوں کی بوریوں کے منہ کھول دیئے گئے۔ چودہ مرلے پر واقع پانچ منزلوں پر مشتمل اس عمارت کی تعمیر کے بعد اس کے اندر لکڑی کا کا ایسا باریک کام کیا گیا کہ انسانی آنکھ دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی۔ اٹلی سے رنگین شیشہ منگوا کر بام ودر کوسجایا گیا۔ ستونوں سے لیکر برجیوں تک اور چٹخنیاں، دروازے کھڑکیاں، روشندان ہنرمندوں کی صناعی کی منہ بولتی تصویر پیش کررہے تھے۔رنگوں کی پچی کاری، لکڑی پر نقش ونگاری دیواروں سے لیکر ہر چوکھٹ کاریگروں کی شاعری کا نمونہ پیش کررہی تھیں ۔
نو سال بعد جب محل کی تعمیر مکمل ہوگئی تو ایک سال کے اندر ہی مالک جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ کچھ عرصے بعد بیوہ ماں نے بیٹے کی شادی کا اہتمام بڑی دھوم دھام سے کیا۔ لیکن ولیمے کے روز بیٹا غسل خانے میں نصب حمام میں دم گھنٹے سے انتقال کر گیا۔ ماں صدمے سے ایسی گری کہ ایک سال بعد وہ بھی چل بسی ۔۔۔

یہ کہانی ہے چنیوٹ شہر کے بیچ وں بیچ ریختی محلہ میں واقع عمر حیات محل کی۔ جس کو اس کے مالک شیخ عمر حیات نے بہت چاہت کے ساتھ بنوایا اور بیٹے کے نام پر گلزار منزل رکھا۔ الہی بخش برجھا وہ کاریگر تھا جس نے اس عمارت پر اپنے فن کا جادو جگایا۔ بیٹے اور ماں کو انتقال کے بعد اسی گھر کے مرکزی کمرے میں دفن کر دیا گیا گھر کے باقی ورثا نے نحوست قرار دے کر اس میں رہنے سے انکار کردیا۔ پہلے ایک یتیم خانہ کھلوا گیا پھر اس پر قبضہ گروپ مافیہ کا راج رھا۔ جس کے بعد ایک ڈپٹی کمشنر کو اس کی تاریخ اہمیت کا احساس ہوا تو اس کی تزئین و آرائش کا کام کروا کر اس کو ایک لائبریری کا درجہ دے دیا گیا۔۔

عمارت کے اندر داخل ہوکر پہلی اداسی تو ماں اور بیٹے کی قبروں کو دیکھ چھا جاتی ہے۔ ۔لیکن پھر رنگوں اور میناری کاری کا طلسم آپکو جلد ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ لیکن مرکزی کمرے سے نکل کر سامنے کے کمرے میں داخل ہوں تو آتش دان پر عمارت کی تعمیر کے تکمیل کے موقع پر کھینچی گئی تصویر فریم میں لگی دیکھ کر دل ایک دم سے بوجھل ہوجاتا ہے۔ تصویر میں نظر آنے والی عمارت کی بالائی منزلیں اب گر چکی ہیں۔
حسرت خواب اور خواہش۔ زندگی اور بے ثباتی، نامہربانی ، نزاکت احساس کا روگ۔ استددلال۔ فسوں کے جال۔۔
میم سین

قلعہ روہتاس (حصہ اول)




ہندوستان کی تاریخ میں جس نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ شخصیت سیر شاہ سوری کی ہے۔ بہت دلیر، زیرک انسان۔ بہترین کمانڈر بلکہ بہترین منصوبہ ساز۔ ناصرف دشمن کی طاقت پر نظر رکھتا تھا وہیں پر علاقائی جغرفیہ پر بھی گہری نظر تھی اور جغرافیہ کے علم کو اپنی دفاعی حکمت عملی میں ھرپور انداز میں استعمال کیا۔ شیر شاہ نے ناصرف عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے کام کیئے بلکہ ان کی فلاح بہبود پر جس قدر توجہ دی اس کی مثال نہیں ملتی ۔۔۔

صوبہ بہار میں ایک بہت بڑا قلعہ تھا جس کا نام روہتاس تھا۔ مغلوں کے ساتھ ابتدائی لڑائیوں میں جب کچھ پسپائی اختیار کرنا پڑی تو دشمن سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی فیملی کو روہتاس بھیج دیا۔ اور اس کا یہ فیصلہ بہت درست ثابت ہوا۔ ہمایوں کو ہندوستان سے نکالنے کے بعد اسے خدشہ تھا کہ پوٹھوہار کے علاقے سے گکھڑوں کی مدد سے وہ دوبارہ حملہ آور ضرور ہوگا۔ اور مقامی جنگجوؤں اور ہمایوں کا راستہ روکنے کیلئے ٹلہ جوگیاں سے کچھ آگے ایک قلعہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا۔شیر شاہ بہار قلعہ روہتاس کی طرز تعمیر سے بہت متاثر ہوا تھا۔ اس لیئے اسی قلعہ کے نقشے کو سامنے رکھتے ہوئے پوٹھوہار میں قلعے کی تعمیر شروع کی گئی ۔۔ شیر شاہ کی زندگی میں جو قلعہ اس جگہ مکمل کیا گیا تھا اسے قلعہ اندر کوٹ کہا جاتا ہے ۔ لیکن جب شیر شاہ سوری اس قلعے کے معائینے کیلئے آیا تو اس نے ایک بڑے قلعے کی تعمیر کا حکم دیا جس کا نام روہتاس رکھا گیا جو شیر شاہ کی وفات کے بعد مکمل ہوا۔ لگ بھگ آٹھ سال میں اور تین لاکھ مزدوروں کی محنت کے بعد وجود میں آنے والا یہ قلعہ عہد رفتہ کی ایک عظیم یادگار اور فن سنگ تراشی کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔جاہ وجلال کی ایسی مثال بہت کم قلعوں میں نظر آتی ہے۔ قلعے کی تعمیر میں بڑے بڑے پتھر استعمال کیئے گئے ہیں جو عام طور پر قلعوں کی تعمیر میں استعمال نہیں کیئے جاتے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس علاقے کی قوم بڑی جنگ جو تھی اور ان پتھروں کو چوری کرکے لیجاتی تھی جس پر قلعے کی تعمیر کے اخراجات میں خاصا اضافہ ہوگیا تھا۔

اگرچہ روہتاس قلعہ عالمی ورثہ میں شامل ہے لیکن اس کی تزئین آرائش کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ کم ازکم مرمت کا کام اس قدر ذمہ داری سے کیا جارھا ہے کہ اس کی اصل شناخت قائم رہے۔
میم سین(جاری ہے)