پچھلے چند سالوں میں وطن عزیز کی فضا ئیں دہشت گردی سے ہراساں اور پراگندہ ہیں۔، مہنگائی ، سیاسی بے یقینی اور عدم ستحکام کے بعد ہماری پوری قوم ایک گھٹن کا شکار ہے۔اور ہر اس موقعہ کو جس سے تازگی اور خوشی کا احساس ہو ، اپنانے کیلئے فوراً تیار ہوجاتی ہے۔ وہ خواہ کرکٹ میچ ہو یا کوئی میٹرو بس سروس کا آغاز کا افتتاح، نئے سال کی تقاریب ہوں یا عید کی خوشیاں ، وہ ان دنوں کو لیکر مسرت اور شادمانی کے اپنے اظہار کیلئے ہر دم تیار نظر آتے ہیں۔ ان ہی دنوں میں ایک دن چودہ فروری کا ہے جس کو منانے کیلئے نوجوان طبقہ خصوصی طور پر بے چین نظر آتا ہے لیکن دلوں میں شگوفے ہر عمر کے لوگوں میں پھوٹتے ہیں ۔ میڈیا کے ذریعے جس طرح اس دن کی تشہیر ہو رہی ہے اس کے بعد یہ دن ایک باقاعدہ تہوار کی شکل اختیار کر گیا ہے اور اس نے شہروں سے نکل کر قصبوں اور دیہاتوں کا بھی رخ کر لیا ہے ۔محبت کے لئے مختص اس دن کی تیاریاں مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ اب اگر حبس زدہ ماحول سے نکلنے کے لئے بے چین یہ نوجوان نسل اپنی محبت کا اظہار کرنے کیلئے اس دن کو استعمال کرنے کوشش کرتے ہیں تو محبت کے اس مقدس جذبے میں مذہبی رنگ ڈال کر سارے مزے کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب بھلا اسلام نے خوشیاں منانے پر کب پابندیاں لگائی ہیں او ر یہ تو خالص ذاتی معاملہ ہوتا ہے جس کا مذہب سے کیا تعلق؟ کیا اسلام نے اولمپک میں شرکت پر پابندی لگائی ہے؟۔ کیا کرکٹ کھیلنے یا ہاکی کھیلنے سے پہلے کسی ملا سے فتوی لینا پڑے گا؟ ہارس اینڈ کیٹل شو اور اور بسنت کو مذہبی رنگ دینے سے کیا بہار کی آمد رک جائے گی؟ سرخ پھول دینے سے یا کارڈ بھیجنے پر زنا کے فتوے کس طرح جائز ہیں؟ ایسے ہی بے شمار دلائل ہیں جو ویلنٹائن ڈے منانے کے حق میں دیئے جاتے ہیں۔ اور بادی النظر میں یہ دلائل اس دن کو منانے کے لئے کافی ہیں۔ نہ تو مجھے اس دن کو منانے پر اعتراض ہے اور نہ ہی میں دنیاوی دلائل سے اس کی حرمت کا قا ئل ہوں ۔ چونکہ یہ ہماری ثقافت سے میل نہیں کھاتا، چونکہ یہ دن مغربی تہذیب کی پیدوار ہے، چونکہ اس سے نوجوان بے راہروی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے کتنے ہی بے ضرر دلائل ہیں جن سے اس دن کو منانا غلط ثابت کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ دن منانے سے پہلے چند باتوں کو نظر انداز مت کریں ۔ جنسِ مخالف کیلئے کشش، اس کی طرف میلان اور اس کے لئے دل میں نرم پہلو رکھنا انسانی جبلت ہی نہیں بلکہ اس کائنات کی شائد سب سے بڑی اور واضح حقیقت بھی ہے۔ اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ جو لطف اور مزہ جنس مخالف کی صحبت میں ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا۔لیکن زندگی گزارنے کے ڈھنگ فطرت یا جبلت کے تابع نہیں ہوتے بلکہ ان قوائد وضوابط کے تحت ہوتے ہیں جو اس کے خالق نے متعین کئے ہیں۔انسان اور حیوان کے درمیان فرق پیدا کر کے اگر حضرت انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا جاتا ہے تو وہ یہی اصول اور قوائد و ضوابط ہیں جن پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے وہ دوسرے جاندروں سے جدا گانہ حیثیت اختیار کرتا ہے۔اگر ہم اسلام کو مکمل ضابطہ حیات مانتے ہیں اور اسلام کی حقانیت پر یقین رکھتے ہیں تو پھر اپنی خوشیاں منانے سے پہلے، تہوار وں کا اہتمام کرنے سے پہلے،کسی جشن کا حصہ بننے سے پہلے، کسی فنکشن میں جانے سے پہلے، اس بات کا علم ضرور حاصل کر لیں کہ ہمارے رب کی اس بارے میں کیا خواہش ہے؟۔ غموں کی نوبت آئے تو ذہن میں پہلا خیال یہ آنا چاہئے کہ جب ہمارے محبوب ﷺ پر غم ٹوٹتے تھے تو وہ کیسے اس کا سامنے کرتے تھے ؟ ۔ کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کا تعین کرنے کا حق صرف اور صرف اسی ذات کو ہے جس کے ہاتھ میں ہماری جان ہے اور وہ احکام جس مقدس ہستی کے ہاتھوں ہم تک پہنچے اس کو سرور کائنات ﷺ کہا جاتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے ، اس کے ماں باپ،بہن بھائی، اولاد ، اسکی اپنی جان اور کائنات کی ہر چیز سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں۔ کوئی بھی دین یا مذہب جب پابندیاں لگاتا ہے تو اسکا مطلب لوگوں کو تنگ کرنا یا تکلیف پہنچانا نہیں ہوتا۔ بلکہ معاشرے میں اس ڈسپلن کو قائم کرنا ہوتا ہے جو کہ اس کی بقا کیلئے ضروری ہے ۔ وہی ڈسپلن جو سڑکوں کے چوڑاھے پر ٹریفک سگنل کی ذریعے پیدا کیا جاتا ہے۔جو آپ پر ناگوار تو ضرور گزرتا ہے لیکن ٹریفک کو رواں رکھنے کیلئے ناگزیر ہوتا ہے۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ صحابہ کے ساتھ تھے آپ نے ایک چھڑی کی مدد سے ایک لکیر زمین پر کھینچی اور پھر دو لکیریں اس کے ساتھ مزید کھینچیں اور کہا یہ درمیان والی لکیر صراط مستقیم ہے اور ساتھ والی لکیر یں شیطان کا رستہ ہے اور جو شخص صراط مستقیم والی لکیر سے ہٹتا ہے شیطان اس اچک کر دور لے جاتا ہے۔ اور صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا ہر قدم ہمیں شیطان کے ہاتھوں ہمارے اصلی رستے سے بہکا کر اتنا دور لے جاتا ہے کہ ہم گمراہی کے صحرا میں نخلستان ڈھونڈنے کے چکر میں بار بار سراب کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔انبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’’ جس نے کسی قوم کی شباہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔‘‘ اس رسم کی جو بھی حقیقت ہو ، جو بھی پس منظر ہو ۔ ہمیں اس سے غرض نہیں لیکن یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ یہ رسم ہم تک کہاں سے پہنچی ہے۔ اگر ہم اس دن کو منائیں گے تو ہمارا شمار یقیناًیہود و نصاری سے ہو گا۔ہمارا اس دن کو منانے کیلئے بڑھنے والا ہر قدم اللہ کے رسولﷺ کی نافرمانی پر ہوگا۔ نکاح سے پہلے ایسے دن منانا،دراصل حیا کا جنازہ اٹھانے کے مترادف ہے۔ وہ حیا جس کے بارے میں صحیح مسلم میں مروی ہے کہ ہر دین کی ایک پہچان ہے اور دین اسلام کی پہچان حیا ہے۔ بخاری میں ایک اور حدیث میں مروی ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔جس دین کی پہچان ہی حیا ہو تو اس دین میں بے حیائی کے کاموں کی گنجائش کیسے ہوسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کو سرخ پھول دینے میں کوئی قباحت نظر نہ آتی ہو۔ لیکن مرد وخواتین کے اختلاط کی ممانعت سے وہ یقیناً بے خبر نہیں ہونگے کیونکہ سورۃ احزاب میں ارشاد ہوتا ہے۔ ’’عورتوں سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگیں‘‘ اور سورۃ نور میں ارشاد ہوتا ہے ’’ اے نبی ﷺ اپنے مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظروں کو نیچا رکھیں‘‘ کیا ان آیتوں کے بعد کھلم کھلا رومانوی جملے ادا کرنے کی گنجائش باقی رہتی ہے؟ حیا کا تقاضا ہے کہ ہر اس رستے کو بند کیا جائے جو برائی کی طرف لے کر جاتا ہو۔ اور۔ وہ حیا جس کی عدم موجودگی میں و ہ فطری جھجک ختم ہوجاتی ہے جو ہر شخص کی جبلت میں ہے ، وہ حیا جو معصومیت کی ضامن ہے، وہ حیا جو انبیا کا شیوہ ہے۔ وہ حیا جس کو قرآن نے بار بار پرہیز گار مردوں اور عورتوں کا وصف قرار دیا ہے۔وہ حیا جو فرشتوں کی خوبیوں میں سے ہے ، وہ حیا جسے رب نے اپنے لئے پسند کیا ہے ۔ وہ حیا جس کی حفاظت نہ کی جائے تو زنا کو جانے والے تمام رستے کھل جاتے ہیں۔ وہ آنکھ کا ہو، کان کا ہو یا ہاتھ کا، وہ زنا ہی ہے جس سے بچنے کا سخت حکم ہے۔ حیا سے اعراض کرنے والے کے بارے میں اللہ کے نبیﷺ نے یوں لاتعلقی فرمائی ہے ’’جب تم حیا نہ کرو تو ، جو تمہارا جی چاہے کرو‘ ‘ تو کیا ایک حیا سوز دن منانے کی خاطر ہم کائنات کے سب سے پیارے شخص کی ناراضگی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟
Tuesday, February 12, 2013
Sunday, February 10, 2013
میٹرو بس سروس لاہور
اور بالآخر ستائیس کلومیٹر فاصلہ طے کرنے والی میٹرو بس سروس نے آغاز کر دیا۔شاہدرہ سے لیکر گجومتہ تک ہر کلومیٹر کے بعد ایک سٹاپ پر رکتی ڈیڑھ سو میٹر لمبی ڈیڑھ ارب مالیت کی بسیں یہ فاصلہ پہلے پنتالیس اور اب پچپن منٹ میں مکمل کیا کریں گی اور ایک گھنٹے میں آٹھ ہزار افراد کو اور دن میں صبح چھے بجے سے لیکر رات ساڑھے گیارہ بجے تک ڈیڑھ لاکھ افراد کو سفر کی سہولتیں دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ گیارہ ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے والے پنجاب گورنمنٹ کے اس انقلابی اقدام کو پوری ملک میں سراہا جا رہا ہے۔تعمیرات کی اس شاندا ر اور لازوال مثال کو نہ سراہا جا نا یقیناًز یاد تی ہو گی اور اگر اس کی افادیت اور مستقبل کی ضرورتوں اور ترقی یافتہ ممالک میں اس کے کردار کو دیکھنے کے بعد اس کو حدف تنقید بنا یا جائے تو یہ بھی انصا ف پر مبنی نہیں ہوگا۔ تاج محل کی عظمت ، روح پرور مناظر ، اس کی وجاہت اور خواب ناک حسن سے شائد ہی کوئی انکار کرسکتا ہو لیکن اگر تاج محل پر آنے والے خرچے اور اس سے حاصل ہونے فائدے کو زیر بحث لایا جائے تو اس میں بہت سی قابل اعتراض باتیں اور بحث طلب معاملے نظر آئیں گے او رہندستان کی مفلوک اور غریب عوام کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر مغلیہ بادشاہ کی عیاشی اور فضول خرچی گردانی جائے گی۔اگر ایک شخص کی تنخواہ بیس ہزار ہے تو اس سے مہران گاڑی تو وہ رکھ بھی سکتا ہے اور اس کا خرچہ بھی برداشت کر سکتا ہے لیکن اگر وہ کرولا خریدے تو تنقید اس گاڑی پر نہیں بلکہ اس کی مالی حیثیت سے تجاوز کرنے پر ہو گی۔اگر میں کسی دفتر میں سرکاری ملازم ہوں لیکن کھانا کھانے کیلئے کسی فائیو سٹار ہوٹل کا رخ کروں گا تو لوگ یقیناً اعتراض اس ہوٹل پر نہیں بلکہ میری عقل اورفیصلے پر انگلیاں اٹھائیں گے۔اسلم موچی اگر اپنی بارات مرسیڈیز پر لے جانے کی ضد کرے تو اعتراض گاڑی کی کو ا لٹی یا اس کی قیمت پر نہیں بلکہ اسلم موچی کی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر ہوگا۔اسلئے اعتراض منصوبے کی افادیت پر نہیں بلکہ اس کی لاگت اور اور اس کی افا دیت کے توازن پر ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کے اس دعوی پر کہ یہ منصوبہ تیس ارب روپے سے مکمل ہوا ہے، ذہن بے اختیار ڈرامہ بلبلے کے جملوں اور لفظوں کے ہیر پھیڑکی طرف اٹھ جاتا ہے ۔ پنجاب حکومت کے اعداد و شمار سوائے گمراہی ، غلط بیانی اور لفظوں کے ہیر پھیڑ کے علاوہ کچھ نہیں۔ کیا گھر مکمل ہونے کے بعد اس کی مجموئی مالیت کا تعین صرف کھڑے ڈھانچے سے کیا جاتا ہے ؟اصل قیمت جاننے کیلئے اس میں زمین کی قیمت شامل نہیں کریں گے؟ یا دروازوں اور کھڑکیوں کی قیمت کو یہ کہ کر ، یہ بھائی بشیر کی دکان سے آئے تھے شامل نہیں کریں گے؟ یا المونیم کے کام کو ،ٹائلوں اور فرش کے خرچ کو مجموئی لاگت سے الگ رکھیں گے ؟ کیا برقی آلات اور اس کی آرائیش پر اٹھنے والے اخراجات اس کی مجموئی قیمت کی مد سے باہر رکھیں گے؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس منصوبے پر مجموعی خرچ ہونے وا لی رقم ایک سو ارب کے لگ بھگ ہے جو مجموعی پنجاب بجٹ کا نصف ہے۔ گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہونے کی حقیقت تو چند ماہ پہلے ایک سڑک بنانے والا ٹھیکیدار ، ایک نیوز چینل پر دے چکا ہے جس سے جب سڑک پر سست روی سے ہونے والے کام کے بارے میں پوچھا گیا تو اس جواب دیا تھا کہ اگر ہمارے بھی واجبات لاہور میں انڈر پاس کے منصوبوں کی طرح بروقت ادا کر دئے جائیں تو ہم بھی یہ سڑک ریکارڈ مدت میں بنا دیتے ہیں۔ اپنے پاس سے رقم خرچ کر کے ہم کتنے دن کام جاری رکھ سکتے ہیں؟ پنجاب میں چھتیس اضلاع ہیں اور اگر ان کے ترقیاتی بجٹ بھی ایک ہی ضلع پر لگا دیے جائیں تو کیا اس احساس محرومی کو دوسرے اضلاع محسوس کئے بغیر رہ سکیں گے؟ ایک بادشاہ شاہی حجام سے ناراض ہو گیا تو اس نے تحفے میں اسے ہاتھی دے دیا تھا ۔ اب مرتا کیا نہ کرتا ، قبول کرنا پڑا اور گھر کی روٹی جو پہلے ہی مشکل سے پوری ہوتی تھی اب اور بھی کٹھن ہوگئی۔ اس ہاتھی کا پیٹ کہاں سے پالتا؟ ابھی سستی روٹی اور سستا بازار جیسے ناکام منصوبوں سے بڑی مشکل سے جان چھڑائی تھی کہ یہ میٹرو کا ہاتھی خرید لیا گیا ہے۔ روزانہ تیس ہزار لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے بعد اربوں روپے لاگت کا یہ منصوبہ کیسے ایک کروڑ سے زائد آبادی والے لاہور کے ٹریفک کے مسائل حل کر پائے گا؟کیا لاہور صرف فیروز پور روڈ اور لوئر مال کے ارد گرد آباد ہے کہ میٹروو بس سروس شروع کر کے پورے لاہور کی ٹریفک کے مسائل کے حل کی نوید سنائی جا رہی ہے؟ کیا گو رنمنٹ سیکٹر ۵۴ جنریٹروں کو قابل عمل حالت میں رکھنے کی اہل ہے ا ور ان کے ڈیزل کی چوری کے خدشوں کا بھی کوئی سدباب ہے؟ لاہور کے بڑے بڑے تجارتی مرا کز میں نصب کئے گئے برقی زینے اب صرف سیڑھیوں کا کام دیتے ہیں۔ کیا حکومت پنجاب ان قیمتی زینوں کی فعال حالت کو یقینی بنا پائے گی؟ ۔ لاہور میں ڈیزل ویگنوں کا جوکرایہ متعین کیا گیا تھا وہ ایک روپیہ فی کلومیٹر تھا۔اور اس لحاظ ستائیس کلومیٹر کا ویگن کا کریہ بھی ستائیس روپے بنتا ہے اور میٹرو بس جیسی لگزری سروس پر دس روپے مسافروں سے لینے کے بعد باقی رقم کتنے عرصے تک گورنمنٹ اپنی جیب سے ادا کرتی رہی گی؟ کیا پنجاب بجٹ ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی کا متحمل ہو سکے گا؟ْ ۔کیا پنجاب کے ترقیاتی بجٹ پر ضلع بہاولنگر، ضلع بھکر، ضلع راجن پور، ضلع خوشاب، ضلع مظفر گڑھ، ضلع رحیم یار خان جیسے بیسیوں دوسرے اضلاع کا کوئی حق نہیں ہے؟ کیا ان پسیماندہ ضلعوں کو خصوصی توجہ دے کر لوگوں کے بڑے شہروں کو نقل مقانی کے رجحان کو روکا نہیں جا سکتا تھا؟ کیا جتنی توجہ لاہور کی ترقی اور اس کے مسائل کے حل پر دی گئی ہے اتنی توجہ ضلع ڈیرہ غازی خان، لودھراں یا خوشاب کو بھی دی گئی۔؟ اگر حکومت نے پچھلے پانچ سالوں میں لو کل گورمنٹ سسٹم پر سنجیدگی سے کام کیا ہوتا تو آج لاکھوں افراد کی لاھور نقل مقانی اور سفر کو یقیناً روکا جا سکتا تھا ،جو لاھور کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے بے ہنگم مسائل کے ذمہ دار ہیں۔پنجاب میں صنعتی زون قائم کر کے ان پر بھی میٹرو بس جیسی توجہ دی جاتی تو لاہور سے لوگ نکل کر جنوبی پنجاب اور دوسرت اضلاع کا رخ کرتے تو لاہور کے ٹریفک کے مسائل خودبخود کم ہوجاتے۔اور میں ان افراد سے بھی عرض کروں گا جو اس منصوبے کو شک کی نظر سے دیکھنے کے باوجود اس بات پر راضی ہیں کہ چلو دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب میں ترقیاتی کام تو ہو رہا ہے۔ صرف اتنا عرض کرو نگا کہ اپنا تقابل کرنا ہے تو بھارت کے صوبہ پنجاب، ہریانہ، چندی گڑہ ، گجرات اور مہارشٹرا جیسے صوبوں کے وزرائے اعلی سے کیجئے جنہوں نے نا مسائد حالات کے باوجود وہاں اداروں کو استحکام دیتے ہوئے اتنے ہی عرصے میں وہ منصوبے شروع کئے ہیں جن سے ناصرف عام آدمی مستفید ہو رہا ہے بلکہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود وہ ختم نہیں ہو سکتے۔ اور پنجاب میں شروع ہونے والے ہر منصوبے کا آغاز شہباز شر یف سے ہوتا ہے اور ان کی مدتِ عمر بھی ان کے ہی دور حکومت تک ہے۔آج اگر وہ وزیر اعلی نہیں رہتے تو ان کا مستقبل بھی وہی ہے جو ییلو کیپ سکیم کا بنا تھا
Saturday, February 9, 2013
جاوید چوہدری کے نام
کل جاوید چوہدری کا کالم پڑھا تو افسوس بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی۔ افسوس اس بات کا کہ شوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے جس طرح حقائق کو انہوں نے چھپایا اور جس ڈھٹائی کے ساتھ میڈیا کے کردار کا دفاع کیا، کم از کم میں ایک سینئر صحا فی ا ور ایک کامیاب تجز یہ نگار سے توقع نہیں کر سکتا تھا اور ہنسی اس بات پر کہ الزامات کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی بچہ ان کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ چھین کر لے گیا ہو اور وہ اب دنیا کے سامنے اپنی مظلومیت اور بے بسی کا رونا رو رہے ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ شوشل میڈیا اور میڈیا کا آپس میں تقابل ہی مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا قیام پاکستان بننے سے بھی کئی دھائیاں پہلے وجود میں آچکا تھا۔ اور ایک دھائی پہلے الیکٹرونک میڈیا کا آغا ز ہواتھا۔ جو دراصل پرنٹ میڈیا کی ہی ایک میچو ر یا ایڈوانس حالت ہے۔ جبکہ شوشل میڈیا کو پاکستا ن میں وجود میں آئے بمشکل دو سال ہوئے ہیں ۔ جس کی بھاگ دوڑ ایسے ہاتھوں میں ہے جو ہمارے معاشرے کے صحیح عکاس تو ضرور ہیں لیکن ، ابھی تربیت کے انتہائی ابتدائی دور میں ہیں یا یوں سمجھیں کہ ابھی تو حروف تہجی سیکھ رہے ہیں ۔ اسلئے ان کی غلطیوں پر سیکھ پا ہونے کی بجائے ان کی اصلاح کیلئے تدابیر ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ گھر کے سب سے چھوٹے بیٹے کی ہر بات پراعتراض اور ہر اقدام کو حرف تنقید بنایا جائے۔مجھے جن لفطوں نے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا ہے وہ ان کہ یہ الفاظ ہیں کہ کیا برما کے مسلما ن صرف ہمارے بھائی ہیں؟ کیا ہمارے علاوہ ۵۷ ممالک کا کوئی فرض نہیں؟ اور کیا پاکستانی میڈیا حکومت ہے؟ یا ایوان صدر ، وزیر اعظم ہاؤس ، یا وزارت خارجہ ہے؟ ہم سے پہلے حکومت کو بولنا چاہیئے۔ ہائے جاویدصاحب آپ نے تو میرا کئی سالوں کا بھرم ہی توڑ کے رکھ دیا۔ آپ نے تو اپنے ہاتھوں میڈیا کے اصولوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ کیا آپ کے کہنے کا مطلب یہ لیا جائے؟ کہ صحافی کا کام صرف وہ لکھنا ہے جو اس سے کہا جائے۔ کیا صحافت بھی کوئی حکومتی ادارہ ہے، جیسے فوج حکومت کے ماتحت ہے اور وہ صرف اس کام میں ہاتھ ڈالتی ہے جس کا اس کو کہا جائے ۔چونکہ کشمیر کا مسئلہ، فلسطین کا مسئلہ ، چیچنیا اور ہر جگہ پستے مسلمانوں کا لہو کا تعلق سفارت کاری سے ہے اس لئے پاکستا نی میڈیا میں ایسے مسائل کو پیش کرنا دراصل حکومتی معاملات میں مداخلت ہے اور ایک ذمے داری صحافی کے کے طور پر وہ اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ہلاک ہونے والے لوگوں کو سب سے زیادہ کوریج میڈیا نے ہی دی اور اتنی بڑی بات کرتے ہوئے ذرا ندامت محسوس نہیں کی کہ ان کے نزدیک دہشت گردی کا شکارافراد صرف وہی ہیں جن کو حکومت تسلیم کرتی ہے اور اتحادی ان پر تصدیق کی مہر لگاتے ہیں۔ کیا میں یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ ہمارے میڈیا نے ڈرون حملوں میں بے گور وکفن لا شوں کو کتنی بار دکھایا ہے؟ چارپائیوں پر جلے نو جوانوں اور ماؤں کے سینوں سے چمٹے بچوں کی تصاو یر کتنی بار دکھائی گئیں؟ کتنے بیگناہ ہلاک ہونے والے افراد کے خاندان والوں کے انٹرویو پیش کئے گئے ؟ مغربی میڈیا میں ڈرو ن حملوں کے خلاف مظاہروں کو کتنی کو ریج دی گئی۔ ؟ اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کا رونا رونے والے شہباز شریف کی بیٹی کی خبر کو نام ظاہر کئے بغیر ایک اہم شخصیت کی بیٹی کا حوا لہ کیوں دیتے رہے؟ ۔ اگر کوئی سونیہ نامی خاتون ایک ڈی ایس پی پر زیادتی کا الزام لگا دے تو اس کیلئے آدھا گھنٹہ کی رپورٹ اور اگر عائشہ احد کا معاملہ ہو تو اس پر آپ اخلا قیات کا سبق دینے لگتے ہیں؟۔ میڈیا کی ذمہ د ار رپو ر ٹنگ کا تو یہ عالم ہے کہ ہسپتالوں میں سیروسز کا قریب المرگ مریض ایمرجنسی میں مر جائے تو اسے ڈاکٹروں کی لاپرواہی اور سفاکی قرار دی جاتی ہے۔ اور اگر کوئی بہروپیا یہ د عواکرے کہ اس کی کمر پر کلمہ اور اسکی روٹیاں جل کر اللہ لکھ جاتی ہیں ۔ تو اس کیلئے ایک گھنٹے کی خصوصی نشریات۔ سوات سے نکلنے والی ویڈیو کو شائد ہر زاویے سے پڑکھنے کے بعد میڈیا کی زینت بنا یا گیا تھا؟ ۔اور کوہستان میں زندہ دفنا دینے والی خواتین کی خبر بھی سپریم کورٹ کے بنائے گئے کمیشن کی منظوری کے بعد پیش کیا گیا تھا؟۔ کیا میڈیا کئی روز تک اجتمائی طور پر سیالکوٹ میں ہونے والے نوجوانوں کے قتل پر لوگوں کے جذبات سے نہیں کھیلا تھا؟اگر جنرل پاشا سربراہ ہو ں تو یہ آزاد میڈیا تحریک انصاف کی کارنر میٹنگز کو بھی لائیو دکھاتا ہے اور اگر وہ نہ ہوں تو تحریک کے بندے ٹالک شوز میں اس لئے شرکت نہیں کر سکتے کہ ان کے پاس قومی یا صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی نہیں ہے۔ جاوید صاحب نے ملکی بد امنی کی بات کی ہے۔ تو کیا کسی میں اخلاقی جرات ہے کہ کراچی میں نامعلوم قاتلوں کو نام سے پکار سکیں۔ کیا ان میں اتناحوصلہ ہے کہ وہ الطاف حسین کے خطاب کو لائیو دکھانےسےانکار کرسکیں۔ لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے چھاپے کے دوران ایم کیو ایم کے سیکریٹیریٹ کا نام لینے پران کے پر کیوں جلتے تھے؟ آزاد میڈیا کے دعوے دار تیزاب سے متاثرہ گنتی کی چند خواتین پر بننے والی فلم پر آسکر آوارڈ ملنے پر تو لڈیاں ڈالتی نظر آئے۔لیکن کسی کو ملکی وقار پر لگا سیاہ دھبہ کیوں نظر نہ آیا جس نے ساری دنیا میں پاکستانیوں کے سر جھکا دیے۔میرا سوا ل تو یہ ہے کیا کل کلاں اگر فیصل آباد میں میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے والے دو لڑکیوں کی آپس میں شادی کے معاملے پر کوئی فلم بنائے اور یہ فلم آسکر آوارڈ حاصل کرتی ہے تو ہم اسے بھی اسی طرح جشن منائیں گے؟ آخر موضوع جو بھی ہو پاکستان کا اعزاز تو ہے ۔کیا ملالہ کے مسئلے پر میڈیا نے پوری قوم کو یرغمال نہیں بنائے رکھا؟ کیا طاہر القادری کا لانگ مارچ اتنی توجہ کا مستحق تھا۔؟ ملکی سالمیت کی بات آتی ہے تو پراپیگنڈہ چینل بی بی سی اور وائس آف امریکہ کے پروگرام پاکستانی عوام کو دکھانے پر کس صحافی نے احتجاج بلند کیا تھا؟ بمبئی واقعات کے ملزم اجمل قصائی کو پاکستانی ثابت کرنے کیلئے کون پیش پیش تھا؟ رشیا ٹو ڈے سے نشر ہونے والی یہ رپورٹ کہ امریکہ نے اپنا امیج بہتر بنانے کیلئے پاکستانی میڈیا کو کر وڑوں ڈالرتقسیم کئے گئے ہیں ،کو کس پروگرام میں موضوع بحث بنایا گیا تھا؟ آخر میں جاوید چوہدری میرا صرف ایک سوال ہے۔ اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے مہمانوں کو آپس میں لڑانا، ان کی بیہودہ گفتگو پر خاموشی اختیار کرنا ،مہمانوں کے ساتھ بد تمیزی کی آخری حدوں کو چھو جانا اخلاقیات کی کس درسگاہ میں پڑھایا جاتا ہے؟۔ ہمیشہ اپنی دیانت اور ایمانداری کا رونا روتے ہوئے کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہاگر آپ کی مزدوری پانچ سو بنتی ہو اور کوئی آپ کو پانچ ہزار ادا کرنے کا اصرار کرے تو معاملہ صرف مقابلہ بازی میں سبقت لے جانا کا نہیں ہوتا ۔کبھی ان کے اسرار اور بھید ڈھونڈنے کی بھی کوشش کریں جو اس کے پیچھے کار فرما ہوتے ہیں ۔صرف اپنی قابلیت اور کارکردگی کے نشے میں ان بھیانک ہاتھوں میں کھیل کر ان کے مزموم عزائم کا حصہ نہ بنیں ۔ جو اس ملک کی جڑوں کو ہر وقت کھوکھلہ کرنے کی سازش میں مصروف رہتی ہیں۔
Thursday, February 7, 2013
فرشتے
آپ شائد میری ذہنی حالت پر شک کریں یا میری بات کو مذاق میں اڑا دیں۔ کسی دیوانے کی بڑھک سمجھیں گے یا کسی تخیل پسند کا کوئی خواب لیکن میں جو بتانے جا رہا ہوں وہ حقیقت ہے ۔میں نے فرشتوں کو دیکھا ہے ، ہاں ایک بار نہیں دو بار۔یا شائد اس سے بھی زیادہ مرتبہ مگر تب میں ان کو پہچان نہیں پایا ہونگا۔ یہ چند دن پہلے کی بات ہے۔ میں صبح سویرے کمالیہ سے نکلا ہوں لیکن جب دریا بل کے قریب پہنچا ہوں تو گنے کی ٹرالی الٹی پڑی تھی اور رستہ مکمل طور پر بند تھا اور گنے کی ٹرالی پر جتنا وزن ڈالا ہوتا ہے اس کا اندازہ تو آپ کو ہوگا ۔اور اس کوہٹانے میں شام لگ ہو جانی تھی۔ ابھی میں اسی شش وپنج میں تھا کہ ۔ وہاں کھڑے آدمیوں نے ایک راستے کے بارے میں رہنمائی کی کہ اس پر تھوڑا چلنے کے بعد ایک گاؤں آئے گا اور پھر اس سے نکل کر ایک پکی سڑک شروع ہو گی جو آپ کو دوبارہ اسی سڑک پر لے آئے گی۔ اور میں نے گاڑی ان کی بتائی ہوئی سمت موڑ دی۔ کچے رستے پر کوئی دو کلومیٹر چلنے کے بعد ایک گاؤں کے آثار نظر آنا شروع ہوگئے اور پھر کچھ مکانوں کا سلسلہ۔ بتائی ہوئی ہدائت کے مطابق میں چلتا رہا اور جب گاؤں کے اندر سے تنگ سے رستے سے گزر رہا تھا کہ ایک بکری کے بچے کو رستے میں بیٹھے پایا۔ میرے بار بار ہارن دینے پر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اور مجھے بریک لگا کر اترنا پڑا ۔ جب میں آگے بڑھا ہوں تو مجھ سے پہلے ایک چار یا پانچ سال کی بچی جو شائد کسی مدرسے میں پڑھنے جا رہی تھی ، جس کی ماں نے بڑی تیاری سے اس کے سر پر رومال باندھ رکھا تھا فراک پہنے ہاتھ میں قاعدہ لئے جھک کر بکری کے بچے پکڑکر اٹھا لیا اور جونہی اس کی نظریں میرے ساتھ چار ہوئیں ۔ تو مجھے اس غیر متوقع جگہ پر دیکھ کر اسکے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ’’ ڈاکٹر جی، تسی ‘ ‘ اس کے کہنے کے انداز میں اس قدر بے ساختگی اور معصومیت تھی کہ میں نے بے اختیار اسے اپنی گود میں اٹھا لیا ۔ بکری کا بچہ اس کے ہاتھوں سے نکل کر بھاگ گیا ۔ ہوا میں ایک عارضی سکون تھا۔کہیں کہیں سے چڑیوں کے چہچہانے کی آواز آ رہی تھی۔اس نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے سے مجھے حیرت سے دیکھا جیسے صبح رات کی آغوش سے بیدار ہو رہی ہو۔اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور چہرے پر معصومیت کروٹیں لے رہی تھی۔ میرا دل کسی دریا کی طرح امنڈ آیا تھا۔محسو س ہو رہا تھا قدرت کائنات کو گدگدا رہی ہے۔رشک صد گلزار بنا رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں صدا بہار پھول کی شادابی تھی کسی فاختہ کی سی معصومیت۔ میں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تو، چند لمحوں کیلئے وقت اور جسم کی قید سے آزاد ہو گیا ۔مجھے یوں لگا جیسے میں نے کسی فرشتے کوچوم لیاہے۔ ۔ ۔اس دن دوپہر کو والد صاحب کا فون آیا کہ ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے اور میں نے اسی وقت گھر کا قصد کیا۔جولائی کا مہینہ تھا اور سخت گرمی کا موسم۔ چھوٹی گاڑی کا ائرکنڈشنر تو گرمی کا نام سن کر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔۔ جب تک تو نئی سڑک رہی تو کوئی مشکل درپیش نہ آئی ۔لیکن جونہی پرانی سڑک کا آغاز ہوا ،جو خاصی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی ، گاڑی نے ہچکولے لینے شرو ع کر دیے، بڑے بڑے گڑھوں سے تو بچتا رہا لیکن ایک چھوٹے گڑھے پر کلچ ، بریک اور ریس کا بیلنس خراب ہو گیا اور گاڑی ایک جھٹکے سے بند ہو گئی۔ بار بار سلف دیا لیکن گاڑٰ ی نے سٹارٹ ہو نا تھا اور نہ وہ ہوئی اور پسینے میں شرابور باہر نکلا تو لو بھی ایک سرد جھونکے کی طرح محسوس ہوئی ۔ دور دور تک کوئی سایہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کوئی دو فرلانگ پر شائد کوئی پانی کی کھال تھی جس پر چھوٹے بچے کھیلتے دکھائی دیے لیکن اتنے کمسن کہ میری مدد کیلئے بیکار۔ بونٹ کھول کر اٹکل پچو مارنا شروع کر دیا۔ حل ایک ہی تھا کہ گاڑی کو دھکا لگا کر سٹارٹ کیا جائے۔لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی،کہاں سے دھکے کیلئے مدد ڈھونڈوں۔اتنے میں ایک آواز آئی مولوی صاحب ! کیا گاڑی کو دھکے کی ضرورت ہے ؟ میں نے بے اختیار بونٹ کے اوپر سے جھانکا تو ایک کوئی سات سال کا بچہ صرف نیکر پہنے ، گیلے جسم کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔ میرا جواب سن کر اس نے کھیلتے بچوں کی طرف دوڑ لگا دی اور کچھ دیر بعد دو سال سے سات سال کے درمیان ننگ دھرنگ بچے شور مچاتے جمع ہوگئے ۔ کچھ نے نیکرپہن رکھی تھی ، کوئی جانگیہ میں اور کچھ فطری لباس میں تھے۔ میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور انہوں نے گاڑی کو دھکا لگانا شروع کر دیا ۔ گاڑی کھڑ، کھڑ کرتی سٹارٹ ہو گئی ۔ اسے سٹارٹ حالت میں چھوڑ کر باہر نکلا میرا ارادہ تھا کہ ان کو کچھ پیسے دوں ۔جو میری مدد کو دوڑے چلے آئے تھے۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر اچنبھا ہوا کہ سب غائب ہو چکے تھے۔سب سے پہلے مدد کو آنے والا بچہ نظر آیا تو میں نے اسے آواز دی ۔ اس نے مڑ کر دیکھا اور میرے ہاتھ میں پرس دیکھ کر انکار میں سر ہلاتا الٹے قدموں لوٹنے لگا ۔ اس کے انکار میں ہلتے سر، اس کی آنکھوں سے ابھرتے شرارت کے شرارے دیر تک میری آنکھوں کے سامنے جلتے رہے۔گرم ہوا کے بگھولے کسی خوشگوار جھونکوں میں بدل گئے تھے ۔ میں خود کو کسی لازوال رشتے میں بند ھا محسوس کر رہا تھا ۔ یگانگت کا ایک ا حساس تھا جو میرے سارے جسم میں رقصاں تھا۔اس کی دلنواز مسکراہٹ اور ادائے لا تعلقی میرے دل پر اثر کر گئی۔ اسکی روح کی لطافت کا احساس کسی الہام کی طرح میرے اندر اتر رہا تھا۔اس کے بے لباس جسم میں بھی ایک ادا تھی ایک بے ساختگی تھی۔ وقت کی گھڑیاں تھم گئی تھیں اور زندگی منجمند ہو گئی تھی ۔وہ چند لمحے تھے یا شائد چند ساعتیں ، لیکن میرے لئے صدیاں بن گئیں ۔ میں جانتا تھا آج کے بعد اس بے نشان کا نشان ڈھوندنا مشکل ہوگا۔لیکن میں ایک فرشتے سے مل چکا تھا۔
Wednesday, February 6, 2013
صبح نو
کبھی کبھی جب انسانی رشتوں سے اعتماد اٹھ جاتا ہے تو طبیعت میں ایک جھنجلاہٹ اور چڑچڑاپن ہر وقت ڈسنا شروع کر دیتا ہے۔ ذہن ایک بنجر زمین کا منظر دکھائی دینے لگتا ہے۔ شخصیت کی عمارت کسی ریت کی بنیادوں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے انسانیت سے بیزاری، مذہب سے، روح سے ،جسم سے، اپنے آپ سے بیزاری ،اپنے کام سے بیزاری۔ٍ ۔ کل جب کلینک کیلئے گھر سے نکلا ہوں تو سبزی والے کا ٹھیلہ دیکھ کر رک گیا۔ یہ سوچ کر محنت کر کے کمانے والے ایسے لوگوں کا ہم پر بہت حق ہے ،کچھ سبزیوں کے پیسے دے کر اسے کہا کہ انہیں گھر پکڑا دینا ۔ شام کو جب گھر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ وہ چن چن کر گلی سڑی سبزی گھر پر دے گیا ہے ۔ غصہ تو حمید صاحب پر بھی آرہا ہے ۔ جودو دن کا کہہ کر ادھار لیکر گئے تھے اور میں نے بجلی اور ٹیلیفون بلوں کی ادائیگی کیلئے رکھے گئے پیسوں میں سے یہ سوچ کر ان کو دے دئیے تھے کہ دو دن کی تو بات ہے۔اور ایک ہفتے بعد جب مجھے بل وصول ہوئے ہیں تو یاد دہانی پر ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں۔ جنریٹر ٹھیک کرنے کیلئے آئے مستری ندیم کو جب کسی پرزے کی ضرورت پڑی تو وہ بازار سے لینے کی غرض سے چند منٹ کا کہہ کر چلا گیا اور شام کو خالی ہاتھ واپس آگیا کیونکہ وہ دوست کے ساتھ کسی جھگڑے کیلئے بنائی گئی پنچائیت کا اکٹھ دیکھنے گاؤں چلا گیا تھااور اب دکانیں بند ہوگئیں تھیں۔ میں نے میاں الیکٹرونکس والوں سے جب مائیکرو ویو کے بارے میں دریافت کیا تو میرا مطلوبہ ماڈل فوری طور پر دستیاب نہ تھا او انہوں نے صرف دو دن کی مہلت لی کہ پرسوں آپ کو مل جائے گا۔اور جب پندرہ دن بعد دوبارہ فون کیا تو صرف دو دن کی مزید مہلت مانگ رہے تھے۔ ر مضان کے پہلے ہفتے ہی بشیر درزی کو عید کے کپڑے سلوانے کیلئے دے دئیے کہ رش کی وجہ سے بعد میں دیر سویر ہوجاتی ہے اور اس کا ایک ہفتے کا وعدہ جمعۃ الوداع میں تبدیل ہوچکا تھا ۔ گھر میں مرمت کا کچھ کام کروانا تھا اور ایک مستری سے بات ہوئی تو اس نے جمعہ کا وعدہ کیا اور میں سارے کام چھوڑ کر دن بھر اس کا انتظار کرتا رہا اور اسے آنا تھا او نہ وہ آیا ۔ اگلے دن جب اس سے رابطہ ہوا تو اس نے معذرت کی کہ اسے کسی کام پر جانا پر گیا تھالیکن اس میں مجھے اطلاع نہ پہنچانے کی شرمندگی کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔ اس دن شام کو کلینک سے نکلنے لگا تو ایک فون آیا کہ ایک ایمرجنسی ہے۔ آپ ہمارا انتظار کریں اور اگلے دن جب وہ آئے تومعذرت تو دور کی بات یہ بتانا بھی گوارہ نہیں کیا کہ کل وہ کیوں نہیں پہنچ پائے تھے۔ ابھی کل ہی بیکری سے کچھ فاسٹ فوڈ لیکر گھر گیا جس کے تازہ ہونے کے بارے میں دکاندار نے قسمیں اٹھا کر یقین دھانی کروائی تھی لیکن جب گھر جا کر بدبودار نکلے اور واپس بھیجے تو یہ کہتے ہوئے اسے کوئی شرمندگی نہیں تھی کہ غلطی سے پرانا مال آپ کو چلا گیا تھا۔ دودھ والے کو آپ جتنی مرضی شکائیات لکھوا دیں مگر اس کے پاس آپ کی ہر شکائیت کا معقول جواب ہوتا ہے۔ بھینس کو کل ہی منہ کھڑ کا ٹیکہ لگا تھا۔چارہ پر روزانہ سپرے ہو رہا ہے۔ مکئی دستیاب نہیں اسلئے برسن دینا پڑتا ہے اور آپ کو تو پتا ہی ہے ، خوراک صحیح نہ ہو تو دودھ میں فرق تو آئے گا ۔ اسلم موچی نے جب بیٹی کی رخصتی پر آنے والے اخراجات اور اپنے ہاتھ کی تنگی کا رونا رویا تو مجھے خاصا ترس آگیا اور جتنا ہو سکا ، اس کی مدد کی ۔ لیکن اتفاق سے اس کے گھر کے قریب سے گزر ہوا تو اس کے گھر پر لگی لائیٹیں اور گھر کے باہر مہندی کیلئے جمع مہمانوں کے ہجوم کو دیکھ میرے دماغ کا کھولنا کوئی اچنبھے والی بات نہیں تھی۔مقصود دھوبی مجھ سے صرف اسلئے ایک سال سے ناراض ہے کہ میں نے اسکی ماں کے چالیسویں کیلئے پکنے والی دیگوں میں اپنا حصہ ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔محمد موسی کے ساتھ مالی تعاون کیا گیا تو پیسے اس نے پیر صاحب کے لئے بکرا خرید کر خرچ کر لئے کیونکہ ان کی خدمت میں کچھ پیش کئے مدت بیت گئی تھی۔ رمضان ایک دیہاڑی دار مزدور ہے ۔ گھر میں باتھ روم کی تعمیر کیلئے ہاتھ بٹایا تو اس میں ٹائیلیں لگوا کر اس کے خرچے میں مزید اضا فہ کرلیا۔ محبت اور رحم، دین کی اساس بھی ہے اور بنیاد بھی لیکن اہل مذہب ، صاحبان ثروت کے ہاتھوں چڑھ کر کچھ ایسے سنگدل ہوگئے ہیں کہ اس دین کی قسمت میں صرف محرومیاں رہ گئی ہیں۔ دینی مدارس اور مساجد کسی اقتصادی ہلچل کا حصہ بن چکے ہیں۔دین تو قوت فکر کا نام تھااور ضرورت اس بات کی تھی کہ وہ طلب اور جستجو کی وادیوں میں اپنے گھوڑے دوڑاتے پھریں ۔ مگر ہمارے مذہبی حلقے کسی افیون کا شکار ہو کر سوئے ہوئے ہیں ۔مساجد کی تعمیر شروع ہو جائے تو اس غرض سے اگر تعمیر رک گئی تو چندہ بند ہوجائے گا، کوئی نہ کوئی حصہ زیر تعمیر رکھا جاتا ہے۔ صدقہ اور خیرات کے استعمال میں خیانت کا کبھی احساس تک بیدار نہیں ہوا۔ گھروں میں جا کر قران پڑھ کر مردہ کو بخشانا اور عوض میں دیگوں کے منہ کھول کر دیکھنا مذہب کا افیون نہیں، تو کیا ہے؟۔ ایسے ہی کتنے معاملات ہیں جن میں ہماری غیر ذمہ داری ، لاپرواہی اب بے حسی میں بدل چکی ہے۔ میرا اعتماد انسان سے اور اسکی انسانیت سے اٹھتا جا رہا تھا۔میں گویا خیالات کا قیدی بن چکا تھا ، وحشت کا مارا۔ طبیعت میں ہر وقت ناگواری، بے چینی، اتنا فہم او رضبط کہاں سے لاؤں کہ میں محسوسات کے حد سے بڑھتے حبس کو توڑ سکوں ۔ بجز خاموشی اور برداشت کے کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی ۔ اور میری جھنجلا ہٹ اور بے چینی میں ہر روز اضافہ ہوئے جا رہا تھا۔ لیکن جب یہ گھٹن اور یہ حبس حدِ جنوں کے کناروں کو چھونے لگا تو منظور حسین ایک تازہ ہوا کا جھانکا بن کر آگیا۔ کئی دن کے حبس کے بعد موسم کھل گیا اور ذہن پر بچھی خزاں ایک دم بہار میں بدل گئی ۔کل جب میں کلینک میں مریض دیکھ رہا تھا تو وہ کمرے میں داخل ہو اور ایک لفافہ میری طرف بڑھایا کہ یہ رکھ لیں ۔ آپ نے یقیناً مجھے پہچانا نہیں ہوگا ۔ پانچ سال پہلے میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے پورا سال میری ٹی بی کا علاج اپنے پاس سے کیا تھا۔ اور اب جب میں اپنے پیروں پر کھڑ ا ہوچکا ہوں تو یہ پانچ ہزار اسلئے لایا ہوں کہ جو سلسلہ آپ نے شروع کیا تھا اس کو جاری رکھیں۔
میم۔ سین
میم۔ سین
Sunday, February 3, 2013
کونج
کونج
جناح ہسپتال کے آؤٹ ڈور سے نکل کر نیا تعمیر ہونے والا برن یونٹ دیکھنے کی غرض سے باہر آیا تو میری نظر اس پر پڑی۔ سفید شلوارقمیض ، سفید جیکٹ، سیاہ بوٹ ،سر پر سفید ڈوپٹہ، ایک لمحے کو اس سے میری نظریں ٹکرائیں تو چند لمحوں کیلئےمیں وقت کی قید سے نکل گیا۔لیکن وہ رکی نہیں۔ چند قدم چلنے کے بعد مڑی اور ایک بار میری طرف دیکھا تو ہم دونوں کے قدم رک گئے ۔ اس کے بال ابھی بھی کالے تھے ۔ قدرتی سیاہ بھی ہوسکتے تھے لیکن ، اس کے چہرے کی زردی اور تھکاوٹ اسکی عمر کی چغلی کھا رہی تھی ۔
میں اس سے حمید لطیف ہسپتال میں اس دن ملا تھا جب پرفیسر عزیز صاحب کی اہلیہ کا کیمو تھراپی کا تیسرا سائیکل تھا۔ ۔ میں جب ہسپتال پہنچا ہوں تو ڈاکٹر زیبا ہدایت دے کر رخصت ہو رہی تھیں۔میں نے آنٹی کو سلام کیا اوراور کرسی کھینچ کر ان کے قریب بیٹھ گیا۔ ابھی حال چال پوچھ رہا تھا کہ وہ کمرے میں داخل ہوئی اور آتے ہی دوائیوں والا لفافہ نکالا اور اس میں سے ٹیکے ، ڈرپیں ، سرنجیں، برینولا نکال کر ان کو میز پر ترتیب سے رکھنا شروع کر دیا۔
تمہارا نام کس نے رکھا تھا ؟ میں نے پوچھا تو وہ ایک دم چونک گئی، آپ کو میرا نام کیسے پتا چلا ؟
اس کی نظریں بے اختیار سینے کے بائیں جانب لٹکے آئی ڈ ی کارڈ کی طرف اٹھ گئیں۔
ڈاکٹر زیبا آنٹی سے کہہ کر گئیں تھیں کہ آ پ فکر مت کیجئے گا، سسٹر گل ناز آپ کا بہت خیال رکھے گی۔ میری وضاحت پر اس کے چہرے کا تناؤ کچھ کم ہوا۔
لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور اپنا کام جاری رکھا۔ ایک ٹیکے کو توڑ کر سرنج میں بھرا اور ڈرپ اٹھا کر سٹینڈ کے ساتھ لٹکانے لگی۔ میں کچھ دیر تو خاموشی سے اسے دیکھتا رہا اور جب اس نے ٹیکے نکال نکال کر سرنج میں بھرنے اور پھر ان کو ڈرپ میں منتقل کرنا شروع کیے تو میں نے پوچھا کب سے یہاں کام کر رہی ہیں ؟
اس بار غیر متوقع طور پر فور اً بولی۔ میں جناح ہسپتال میں کام کرتی ہوں۔ سسٹر طاہرہ شادی کے بعد ایک مہینے کی چھٹی پر تھیں تو ڈاکٹر زیبا کے کہنے پر ہسپتال سے چٹھی لے کر ایک ماہ کیلئے یہاں آئی ہوں ۔
اوہ‘ ،آپ جناح میں ہوتی ہیں!! میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ۔میں بھی علامہ اقبال میں تیسرے پراف کی تیاری کر رہا ہوں ۔
میری بات سن کر بے یقینی میں ایک بار میری طرف دیکھا۔ اور بولی میں آنکولوجی میں ہوتی ہوں ۔
اس نے بڑھ کر آنٹی کا ہاتھ پکڑا اور ان کے منہ سے ہلکی سی ُ اف کی آواز نکلی اور برینولا لگ چکا تھا۔ جس سرعت سے سوئی لگائی اتنی ہی پھرتی سے ٹیپیں لگا نے کے بعد ڈرپ چالو کردی اور گھڑی ہاتھ میں پکڑ کر گرتے قطروں کا حساب لگانے لگی۔۔ جب اس کام سے فارغ ہوئی تو دوبارہ ٹیکے بھرنے لگی۔
اس نے بڑھ کر آنٹی کا ہاتھ پکڑا اور ان کے منہ سے ہلکی سی ُ اف کی آواز نکلی اور برینولا لگ چکا تھا۔ جس سرعت سے سوئی لگائی اتنی ہی پھرتی سے ٹیپیں لگا نے کے بعد ڈرپ چالو کردی اور گھڑی ہاتھ میں پکڑ کر گرتے قطروں کا حساب لگانے لگی۔۔ جب اس کام سے فارغ ہوئی تو دوبارہ ٹیکے بھرنے لگی۔
میرے دوبارہ پوچھنے پر کس شہر سے ہیں؟ تو مختصر سا جواب دیا، قصور سے، لیکن اس بار آواز میں جھجک کچھ کم تھی۔
کتنے بہن بھائی ہیں میں نے حوصلہ پا کر ایک اور سوال داغ ڈالا
ہم سات بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔اور میرا نام میری امی نے رکھا تھا‘‘ ایک ہی سانس میں سب کچھ بتا کر اس نے آنٹی کو تھوڑا کروٹ لینے کو کہا اور انجکشن لگا کر دوبارہ ان کے کپڑوں کو سیدھا کیا۔
والدکیا کرتے ہیں ؟ میں نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کی۔
امی تو چھوٹے بھائی کی پیدائش پر فوت ہو گئی تھیں اور ا بو ٹی بی کے مرض سے تو نکل آئے ہیں لیکن اب بستر پر زیادہ وقت گذرتا ہے۔
امی تو چھوٹے بھائی کی پیدائش پر فوت ہو گئی تھیں اور ا بو ٹی بی کے مرض سے تو نکل آئے ہیں لیکن اب بستر پر زیادہ وقت گذرتا ہے۔
مجھے وہ سائبریا سے گرم خطوں کو ہجرت کر کے آئی، کوئی پرامید کونج دکھائی دی تھی۔کسی گرم آبی خطوں کے رقص کرتے پرندے کی طرح، کسی دھن میں کھوئی ، کسی امید میں گم۔ وہ ساحل پر کھڑی تھی اور میں کشتی میں کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا۔ وہ بیل پر لگی پہلی کلی تھی جو کھلنے سے پہلے مجھ سے مل رہی تھی۔ اسکی باتوں کا انداز خشک مٹی پر پڑنے والی بوندوں کے بعد اٹھنے والی مہک کا سا تھا۔یا شائد وہ کسی شاداب وادی سے ٹکرا کر میدانی رستوں کو آتی ہوا تھی۔
لیکن اس سے پہلے میں کوئی اور بات کرتا وہ آنٹی سے طبیعت کا پوچھ کر دوبارہ آنے کا کہہ کر چلی گئی ۔ میں کچھ دیر پاس رکھے اخبار کو لے کر ورق گردانی کرتا رہا۔ پھر اٹھ کر باہر کوریڈور میں آگیا۔ کینٹین دیکھ کر چائے پینے رک گیا ۔ چائے پی کر جب دوبارہ کمرے میں پہنچا تو وہ بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی۔ کوئی گولی کھانے کو دی اور سٹول کھینچ کر اس پر بیٹھ گئی۔
کتنے عرصے سے نرسنگ فیلڈ میں ہیں؟
میرے پوچھنے پر بولی ’’سات سال ہو گئے ہیں
شادی ہو گئی ہے؟ میرے غیر متوقع سوال پر وہ ایک دم چونکی اور پھر کچھ دیر چہرے کے غیر یقینی تاثر کے ساتھ بیٹھی رہی ، گرداب میں پھنسنے کے بعد اس کی کشتی نے ہچکولا کھایا اور جب تھوڑا سا سنبھلی تو بولی،امی کی وفات کے بعد سارے گھر کی ذمہ داری اب میرے اوپر ہے۔ میری چھوٹی دونوں بہنوں کی نسبت ٹھہر چکی ہے ۔ ان کی ذمہ داری ادا ہوگی تو پھر ان سے چھوٹی بہنوں کے بارے میں سوچوں گی۔
اور اٹھ کر دوبارہ بلڈ پریشر چیک کرنے میں مصروف ہوگئی۔ ڈرپ مکمل ہونے میں کتنی دیر لگ جائے گی؟ میں جانتے ہوئے بھی کہ ابھی تو ڈرپ شروع ہوئی ہے اور اگر کوئی مسئلہ درپیش نہ بھی آیا تو بھی چھ سات گھنٹے لگ جانے ہیں۔ لیکن میں اس کے منہ سے جواب سننا چاہتا تھا۔
وہ جب بولتی تھی تو اس کی آواز میں ایک ٹھہراؤ تھا، متانت تھی، وقار تھا، ایک اعتماد تھا ایک سوچ تھی۔" یہی کوئی چھ گھنٹے" یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئی۔لیکن ایک دم پلٹی اور بولی آ پ اس دوران یہیں رہیں گے؟
ہاں ، پروفیسر صاحب کو سیکریٹیر یٹ کا م ہے اس لئے انہوں نے شام تک یہاں ٹھہرنے کیلئے میری ذمہ داری لگائی ہے، اور وہ ’ہوں‘ کہ کر کمرے سے نکل گئی۔
وہ صحرا میں تپتی دھوپ کا بادل تھی یا کسی مہیب غار کا رستہ۔ وہ جستجو کے سفر کا ایک قدم تھی یا بند دریچوں کا اکلوتا روزن۔ میں دیر تک اس کے بارے میں سوچتا رہا۔ آنٹی گہری نیند میں جا چکی تھیں کیونکہ ان کے خراٹوں کی آواز اب سنائی دے رہی تھی۔ اور میں اخبار نکال کر اس میں محو ہو گیاجب آنٹی نے الٹی کے لئے زور لگایا تو میں ایک دم گھبرا گیا اور بھاگ کر نرسنگ کائونٹر پر اطلاع دی اور اگلے لمحے گل ناز وہاں موجود تھی، نبض دیکھی اور بلڈ پریشر چیک کیا اور کچھ انجکشن نکال کر لگا ئے اور وہیں بیٹھ کر طبیعت کے سنبھلنے کا انتظار کرنے لگی۔
گھر کتنے عرصے بعد جانا ہوتا ہے میں نے گفتگو جاری رکھنے کی کوشش کی۔
یہی کوئی ایک ماہ بعد ، اکثر تنخواہ ملنے کے بعد۔لیکن کئی بار دو دو ماہ بھی نہیں جا ہوتا۔ اب کی بار اس کی آواز میں پہلے سے زیادہ اعتماد اور بات کو جاری رکھنے میں دلچسپی کا میلان بھی نظر آیا۔
یہی کوئی ایک ماہ بعد ، اکثر تنخواہ ملنے کے بعد۔لیکن کئی بار دو دو ماہ بھی نہیں جا ہوتا۔ اب کی بار اس کی آواز میں پہلے سے زیادہ اعتماد اور بات کو جاری رکھنے میں دلچسپی کا میلان بھی نظر آیا۔
بڑی ہونے کے نا طے گھر میں تو ہیڈ مسٹرس والی سختی چلتی ہوگی؟
اس نے چہرے پر بے اختیا ر امڈآنے والی ہنسی کو دبایا تو میرے بھی چہرے پر دبیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کھلتی تو بہار آجاتی ، وہ چاندنی کی ٹھنڈک تھی۔ کسی دیے کا ڈبڈبا تا شعلہ ۔اس کی آنکھوں میں بلا کی گویائی تھی۔ چہرے پر مسکراتی دھنک کے رنگ ، ہونٹوں پر کسی معصوم بچے کی مسکراہٹ کا ترنگ ۔
کیا روزانہ یہاں تک ٹیکسی پر آتی ہو؟ میں نے پوچھا۔
نہیں ، ہوسٹل سے بس پر بیٹھ کر مسلم ٹاؤن موڑ والے سٹاپ پر اتر جاتی ہوں اور وہاں سے پیدل ہسپتال تک مارچ کرتی ہوں اور ایسے ہی شام کو روانگی ہوتی ہے۔ ۔ اس نے ایک ہی سانس میں ساری تمہید یوں باندھی کہ کہیں میں سفر پر کوئی اور سوال نہ کر ڈالوں۔
’’ مشکل تو ہوتا ہو گا ، روزانہ کا آنا جانا‘‘۔ میں نے ہمدردی کی تو بولی
’’ ایک ماہ کی تو بات ہے، ابھی تو بہت مزہ آرہا ہے کام بھی کم ہے ‘‘۔ اس کی بات سن کر میں مسکرایا اور کہا تو اگرسہل طبیعت کی عادت پر گئی تو ؟
اس نے کوئی جواب نہ دیا اور بلڈ پریشر چیک کر کے دوبارہ چلی گئی۔
آنٹی دوبارہ نیند میں چلی گئیں اور میں کچھ دیر دوائیوں سے پمفلٹ نکال کر اپنی پتھالوجی کو آزماتا رہا اور چائے کی غرض سے کینٹین آگیا۔ کچھ دیر ادھر ادھر گھوم کر دوبارہ کمرے میں آگیا ۔
ؔخاموشی دیواروں سے لگی تھی ۔ ایک سناٹا تھا ،ایک سکون تھا۔ میں ڈرپ سیٹ میں گرتے قطروں کو گنتا گنتا سو گیا ۔دروازہ کھلنے کی آواز نے مجھے بیدار کیا تو گل ناز بلڈ پریشر چیک کر رہی تھی اور ڈرپ آدھی سے زیادہ ختم ہو چکی تھی۔ آنٹی جاگ رہی تھیں اور میرے پو چھنے پر کوئی مسئلہ تو نہیں ، کمزور سی آواز میں بولیں نہیں۔ اب متلی والی کیفیت بھی کچھ سنبھل گئی ہے۔ جسم میں بہت درد ہو رہا ہے۔
میرے جواب دینے پہلے وہ بولی ابھی میں نے درد کیلئے انجکشن نہیں لگایا ۔ابھی لگائے دیتی ہوں ۔
آپ کے ایگز یمز کب شروع ہو رہے ہیں ؟‘‘۔ پہلی بار اس نے میرے بارے میں پوچھا۔
اگلے ماہ کی انیس تاریخ سے۔
اگلے ماہ کی انیس تاریخ سے۔
کون سے شعبے سے دلچسپی ہے ؟ اس نے مزید کریدا تو اس کے پوچھنے کا انداز مجھے بہت اچھا لگا
جیسے آفتاب سمٹ کر کرہ ارض کی آغوش میں آکر اس چھوٹے سے کمرے میں چھپ رہا ہو۔جیسے کوئی باکمال ہستی اپنا لافانی گیت گنگنا رہی ہو۔پانی کی لہریں پتھروں سے ٹکراتی، شور مچاتی ساز بجا رہی ہوں۔ ابھی تو اس بارے میں کچھ نہیں سوچا۔ فی ا لحال تو صرف پیپروں کی فکر ہے ۔ ۔
اس کے بیٹھنے کے انداز سے مجھے یوں لگا جیسے وہ بھی میری طرح اس گفتگو کو جاری رکھنا چاہ رہی ہے۔ گھر والوں کا رویہ تمہارے بارے میں کیسا ہے؟
میرے سوال نے یکدم اس کے چہرے پر ایک کرب سمو دیا۔ دریا کے آگے لگے سارے بند ٹوٹ گئے۔تند موجوں کے مقابل پل ایک دم بہہ گیا۔ تناور درخت جو کتنی دیر سے آندھیوں کے آگے کھڑے تھے، اپنی جڑوں سمیت اکھڑ گئے۔بے بسی، بے کسی، نا امیدی کی ایک یلغار تھی جس نے میرے سارے جسم کو ، میری ساری روح کو ہلا کر رکھ دیا۔
وہی جو دبئی گئے شخص سے اس کے گھر والوں کا ہوتا ہے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کا انتظار اور بس۔ انہیں اس سے کیا غرض؟ ، میں تندرست ہوں یا بیمار ، خوش ہوں یا اداس، میری حسرتیں کیا ہیں ؟ میری چاہتیں کیا ہیں ؟ میرے بھی کچھ خواب ہیں ، میرے بھی کچھ سپنے ہیں ، میں بھی دل رکھتی ہوں ، میری بھی کوئی آرزوئیں ہیں میں بھی جذبات کی خریدار ہوں۔ شعور و خرد کی طمع مجھے بھی ہے۔یہ نفسانی خواہشیں نہیں ہیں ۔انسان آخر انسان ہے ۔ اس کی ایک فطرت ہے۔وہ فطرت جو کہیں نہ کہیں بیدار ہوتی ہے ، شعور کو مغلوب کرتی ہے ۔ یہ ۔۔۔۔۔
وہ بولے جا رہی تھی اور ہاتھ سے اپنے بازو پر چڑھے کنگن کو انگلیوں سے گھمائے جا رہی تھی۔۔ بات کرتے کرتے وہ ایک دم گھبرا گئی جیسے سر بازار اسنے خود کو برہنہ کر دیا ہو۔ اپنی بات نامکمل چھوڑتے ہوئے تیزی سے اٹھی اور کمرے سے نکل گئی۔ میں اس ساری ساری صورتحال کو ناسمجھتے ہوئے آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ بے خبر سو رہی تھیں ۔میں بے یقینی کی کیفیت میں ہراساں ہورہا تھا۔۔ تھوڑی دیر میں پروفیسر صاحب بھی آگئے اور ڈرپ بھی ختم ہو گئی ۔
وہ خاموشی سے کمرے میں آئی ۔ ڈرپ ہٹائی، بلڈ پریشر چیک کیا، ایک انجکشن لگا کر ، برینولہ نکال دیا اور جتنی خاموشی سے آئی، اتنی خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ میں نے ان نیم جان آنکھوں میں ایک بار جھانک کر روشنی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن اس وقت صرف اندھیروں کے سواکچھ دکھائی نہ دیا۔ پروفیسر صاحب کو ٹیکسی میں سوار کراکے میں پیدل ہی مسلم ٹاؤن موڑ کی جانب روانہ ہو گیا۔
اتنے سالوں بعد کل شام جب پیڈیاٹرک وارڈ سے نکل کر جناح ہسپتال کے آؤٹ ڈور والے حصے سے گزرا تو اسے دیکھ کر قدموں کو روک لیا۔اتنے سالوں میں اس پر کیا بیتی میں نہیں جانتا لیکن اس خزاں لئے زرد چہرے کو دیکھ کر صدیوں سے سہے جانے والے دکھوں کے بوجھ کا اندازہ ضرور ہوتا تھا۔ میں گومگو کیفیت میں اس کے پیچھے تو گیا لیکن پھر وہاں سے ایمرجنسی کو جانے والی سڑک پر چلنے لگا۔۔
میم۔ سین
Saturday, February 2, 2013
یا جوج ماجوج
سائیں کو سب لوگ پاگل کہتے ہیں ۔ کوئی تیس پینتیس سال عمر ہو گی، نشہ کرتا ہے، سارا دن شہر میں آوارہ گردی اور شام کو کبھی قبرستان میں،اور کبھی اپنے گھر کے باہر سو جاتا ہے۔ اس کہ ماں اسے جھلا اور کبھی سودائی کہ کر پکارتی ہے۔ میرے خیال میں نہ تو وہ پاگل ہے نہ ہی دیوانہ بلکہ نشہ کی لعنت میں خود کو گرفتار رکھ کر وہ حقیقتوں سے فرار چاہتا ہے۔۔ سائیں کے بارے میں مشہور ہے جب اس کی منگیتر مر گئی تھی تو جب لوگ اسے قبرستان میں دفنا کر آئے تو وہ رات کو اس کی لاش کو قبر سے نکال لایا تھا۔ ایک بار جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو کہنے لگا، وہ مری نہیں تھی، گاؤں والوں نے اسے زندہ دفنا دیا تھا۔ میں نے ہنس کر پوچھا، تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ زندہ تھی؟۔ میرے سوال پر ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔ وہ دفن ہونے کے بعد مری تھی۔ پہلے اس کے سانس چل رہے تھے۔ ڈاکٹر کبھی عشق کیا ہے؟ تو نے کبھی عشق کیا ہوتا تو تجھے علم ہوتا ،کیسے سانسوں کا دور سے پتا چل جاتا ہے۔ لیکن لوگوں کے نزدیک سائیں کے پاگل پن کی وجہ کوئی عشق وشق نہیں بلکہ گھر میں آنے والے صدمے تھے۔ پہلے بھائی کو کینسر ہو گیا ۔ ابھی جمع پونجی لٹاکر اسے دفنایا تھا کہ باپ بھی قبر میں اتر گیا۔اور پھر مسائل کا مقابلہ کرنے کی بجائے نشہ کی لعنت کا شکار ہو گیا۔وہ بیس روپے لینے کیلئے دوسرے تیسرے دن شام کو کلینک کے باہر انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ جس دن زیادہ پیسوں کی ضرورت ہو اس دن کوئی خبر یا انکشاف سنبھال رکھا ہوتا ہے جو کبھی سچ ثابت ہوتاہے اور کبھی ایسی افواہ جس کی کبھی تصدیق نہ ہوسکی ہو ۔ لیکن سائیں کے انکشافات کا انداز بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ جب میں کلینک سے نکلتا ہوں تو سائیں میرے ساتھ ساتھ چلناشروع کر دیتا ہے۔ آپ کو پتا ہے انورپٹواری کی بیٹی ٹائیفائیڈ سے نہیں مری تھی بلکہ اسے قتل کیا گیاتھا۔، قتل اس کے باپ نے کیا تھا کیونکہ اس نے قصائیوں کے لڑکے سے چھپ کر شادی کر لی تھی۔ اور جو علی پنساری والوں کا لڑکا اغوا ہوا تھا ۔ وہ سب ڈرامہ تھا۔پاکستان کے کرکٹ میچ پر جوا ہار گیا تھا۔ جب پیسے اکھٹے نہ ہوسکے تو یہ اغوا کا کھیل کھیلا تھا۔ اور سکینہ کی دھی چھت سے گر کر نئی مری تھی ۔ بچہ ضائع کرانے گئی تو دائی سے خون زیادہ ضائع ہوگیا تھا۔محمد حسین کی کھڑی فصل کو آگ ،اس کے بھتیجے نے رشتے سے انکار کی وجہ سے لگائی تھی۔ اگر میں ان واقعات کی تصدیق مانگوں تو سائیں کا ہمیشہ جواب ہوتا ہے، آ پ بھی بھولے انسان ہیں سارے شہر کو پتا ہے ۔ بس کوئی بولتا نہیں ہے۔سائیں کی اکثر باتیں صحیح ثابت ہوتی ہیں جیسے برکت مسیح کے گھر کے باہر سے بالن عیسائیوں کے لڑکے نے چرایا تھا، کلثوم بی بی کی بہو کو کھیت کے بنے پر نمبردار کے بیٹے نے چھیڑا تھا۔ منظور کی بھینس کو زہر کس نے ڈالا تھا۔ زبیدہ کی بیٹی کے گھر سے بھاگنے میں اس کی مدد کس سہیلی نے کی تھی۔ اسلم سائیکل ورکس والے کی دکان کے تالے کس نے توڑے تھے۔ ایسے ہی بیشمار واقعات جن کو لے کر جب بیٹھتا تو ان سے جان تبھی چھوٹتی تھی ، جب اسے سو کا نوٹ دیا جاتا ۔ لیکن کل جب میں کلینک سے باہر نکلا ہوں تو ایک دم سے میرے سامنے آگیا۔ اور بولا ڈاکٹر صاحب جو بات میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں وہ اتنا بڑا انکشاف ہے کہ آپ مجھے دو سو سے سے کم نہیں دیں گے ۔ میں کچھ جلدی میں تھا ۔ یہ سوچ کر ابھی تازہ تازہ سوٹا لگا کر آیا ہو گا اس لئے ابھی ترنگ میں ہے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔۔ لیکن اس نے یہ کہ کر میرے قدم روک لئے میں نے یا جوج ماجوج قوم کو ڈھونڈ نکالا ہے۔’’ کہاں دیکھ لیا تم نے ؟ ‘‘ میں نے پوچھا تو بولا ڈاکٹر صاحب وہ مخلوق ہم ہی ہیں ۔ میں نے ایک قہقہ لگایا یہ آج تمہیں کہاں سے وہم ہوگیا ہے کہ ہم ہی یاجوج ماجوج ہیں ۔ کہنے لگا ۔ آپ کو یا د ہے رمضان میں پیرزادہ صاحب نے تحریک انصاف میں شمولیت کی خوشی میں سارے شہر کو افطاری کی دعوت دی تھی اور لوگوں نے افطاری سے آدھا گھنٹہ پہلے ساری دیگیں ختم کر ڈالی تھیں۔ لیکن یہ تو کوئی دلیل نہ ہوئی، میں نے کہا عوامی جگہوں پر ایسا ہو ہی جاتا ہے۔’’اور جو سستا آتا سکیم کی بوریاں چھین کر لے گئے تھے‘‘ ۔ سائیں جھنجلاکر بولا۔ میں نے کہا یہ بھی کوئی انہونی نہیں ہے۔ مال مفت دل بے رحم۔ہر ملک میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں ۔ سائیں کو میری بات پر غصہ آگیا اور بولا یہ بھی معمول کی بات ہے کہ ملک پیک والے جان بوجھ کر سرف، گھی، سنگ مر مر کا پاؤڈر ملا دودھ خرید رہے ہیں ، ۔ یہ بھی کوئی اہم بات نہیں جو ہم اپنے بچوں کو پانی ملا گوشت کھلا رہے ہیں، کیمیکل والی ٹافیاں دے رہے ہیں۔ گھروں میں گھٹیا کوالٹی پیک کر کے جوس پلا رہے ہیں۔بُھس والی مرچیں ، پانی والے سپرے، اور جعلی کھادیں ، یہ سب کام انسان نہیں کر سکتا،اپنے جسم کو اپنے ہاتھوں سے انسان نہیں کاٹ سکتا۔ ابھی وہ کچھ اور بولنا چاہتا تھا لیکن میں نے ٹوکتے ہوئے کہا۔ یہ سب لالچ میں اندھی قوم کا شاخسانہ ہے۔مہنگائی اور افراط زر نے لوگوں کو شارٹ کٹ مار نے کا عادی بنا دیا ہے۔ جب کوئی بات نہ بنی تو سائیں گویا ہوا۔ آپ کو علم ہے آج صبح منیر دودھ والا اپنے موٹر سائکل پر جا رہا تھا تو ایک ٹریکٹر کے ساتھ ٹکڑا کر مر گیا ہے؟۔ ہاں مجھے معلوم ہوا ہے۔ ٹریکٹر کے ساتھ سہاگہ باندھا ہوا تھاتیز رفتاری کی وجہ سے جھولتا سہاگہ موٹر سائکل سے ٹکرا گیا تھا۔ میں نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ ’’ پولیس کے جائے وقوع پر دیر سے پہنچنے کی وجہ سے اس کی لاش دو گھنٹے سڑک پڑی رہی تھی‘‘۔ سائیں کو غصہ آنے لگا تھا۔ میں نے کہا محکمانہ مجبوریوں میں دیر سویر ہو ہی جاتی ہے آخر وہ بھی انسان ہیں۔ اس پر سائیں پھٹ پڑا ۔ اچھا یہ سب انسان ہیں ؟ کیا وہ بھی انسان تھے جنہوں نے منیرے کی ہاتھ سے گھڑی اور اور جیب سے موبائل نکال لیا تھا جب ابھی اس کی سانسیں ختم نہیں ہوئیں تھیں؟ اور اب سائیں کی منطق کے آگے میرے پاس جواب ختم ہو چکے تھ
میم ۔ سین
میم ۔ سین
Subscribe to:
Posts (Atom)