Saturday, March 9, 2013

کھونٹے سے بندھے بیل


خدا بخش کے کھونٹے سے بندھے بیل دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ ان کی بھی کیا زندگی ہے۔ پیدا ہوئے ، کھونٹے سے باندھ دیا گیا اور پھر ساری عمر انہی کھونٹوں کے ساتھ گزر گئی۔ ان کو کیا خبر انسان خلا میں چلا گیا ہے۔روس کب کا سپرپاور  کی کرسی سے دستبردار ہوچکا ہے۔ انہیں کیا خبر نائن الیون کے بعد دنیا کی سیاست تبدیل ہوگئی ہے۔وہ تو یہ بھی نہیں جانتے پیزہ ہٹ کئی سالوں سے پاکستان میں اپنی برانچیں کھول چکا ہے۔ کے ایف سی اور میکڈونلڈ کھانے کیلئے یورپ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو اس بات کی بھی خبر نہیں رکھتے ہونگے کہ دیوار برلن ڈھا دی گئی ہے اور اب  فلسطین والوں کیلئے دیوار ممنوعہ کھڑی کر دی گئی ہے۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے ہونگے کہ پاکستان بنانے پر اب لوگ اعتراض کرنے لگے ہیں۔اور شائد اس بات سے بھی بے خبر ہونگے کہ کچھ لوگوں کو پاکستان کے نام کے ساتھ اسلامی لکھنے پر اعتراض ہوگیا ہے۔لیکن وہ بھی کیا کریں کھونٹے سے جو بندھے ہوئے ہیں
سیتا سے صرف محبت کی ہوتی، تو اور بات تھی۔ میں نے تو اس سے عشق کیا تھا۔ عشق بھی ایسا کہ اپنے وجود کے درو بام پر صرف اس کی تصویریں سجا رکھی تھیں۔ اس کا وجود  میرا خمار تھا۔ اس سے بات چیت  کا خمار ۔اس کی موجودگی کا خمار، اس سے تعلق اوراس  سے وابستگی کے احساس کا خمار۔وہ انسانی جذبوں کا اظہار تھی۔ وہ مجھے زندگی کے اس نقطے پر دکھائی دیتی تھی جہاں پر میری سوچ ختم ہوتی تھی۔ یہ اس کی شخصیت کا بے ساختہ پن تھا یا زندگی کے متعلق اس کا غیر سنجیدہ طرز عمل کہ میرے لئے وہ ایک ماڈل کا روپ اختیار گئی۔ میں یقین سے نہیں کہ سکتا میں اس کے حصار میں کس دن اور کس طرح آگیا تھا لیکن مجھے اپنی بے خودی کا اندازہ اس دن ہوا تھا جب میں نے پہلی بار بات کرتے ہوئے غور سے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا۔جب میں نے اس سے زندگی کے معنی پوچھے تھے۔
 ہوئے تم دوست جس کے‘ ،ڈاکٹر حقی حق نے کس نظریے کے تحت لکھی تھی اس کا تو مجھے بہت بعد میں علم ہوا لیکن یونیورسٹی میں کتاب میلے  میں اس کتاب کا صرف ایک ہی نسخہ بچا تھا ۔گرچہ کتاب پسند میں نے کی تھی لیکن میں اس کی قیمت ادا کرنے میں کچھ تذبذب کا شکار تھا اور اس نے کوئی بحث کئے بغیر اس کی قیمت ادا کردی۔ ایسی نایاب کتاب کو کھونے کے بعد جب میں نے اس سے درخواست کی کہ کیا یہ ممکن ہے کہ جب آپ اسے پڑھ لیں تو چند دنوں کیلئے مجھے مل سکے اور مجھے خوشگوار حیرت ہوئی جب اس نے مجھے ماس کمینیکیشن کا پتہ بتاتے ہوئے کہا آپ اپنے ڈیپارٹمنٹ کا بتا دیں میں پڑھنے کے بعد آپ تک پہنچا دوں گی۔جب میں نے اسے بتایا کہ میں میڈیکل کالج سے آیا ہوں اسلئے آپ کو مشکل ہوگی ، تو اس نے بے یقینی میں میری طرف دیکھا ۔ اور دو ہفتے بعد ملنے کا وعدہ کرکے ہم اگلے سٹالوں کی طرف بڑھ گئے۔کچھ ٹسٹ شروع ہو گئے اور پھر کچھ دوسری مصروفیات او ر ’ہوئے تم دوست جس کے‘ میرے ذہن سے  مہوہو گئی۔اس دن اپنے کالج کے ڈاکخانے ایک پارسل بھیجنے کیلئے گیا تو معلوم ہوا کہ عارضی طور پر بند ہے اور مجھے یونیورسٹی کا رخ کرنا پڑا۔ ڈاکخانے سے نکلا ہوں  تو ایک نسوانی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اسے دیکھ کر مجھے کتاب یاد آگئی ۔اس نے مجھے دیکھا تو پہچان کر بولی کتابیں جمع کرنے کا شوق ہے یا پڑھنے کا بھی ؟ اور میں اس کی بات پر صرف مسکرا دیا۔ اور وضاحت میں اپنی تعلیمی مجبوریاں بتائیں تو کہنے لگی کوئی بات نہیں اگر آپ کو پڑھنے سے واقعی لگاؤ ہے تو میں آپ تک کتاب خود پہنچا دوں گی۔ اس کے اعتماد اور اس کے رویے میں موجود والہانہ پن نے مجھے اپنے سحر میں اسی لمحے گرفتار کرلیا تھا۔ اسے آپ محبت تو نہیں کہہ سکتے لیکن  اسکا شخصی رعب ایسا ضرور  تھا   کہ جس کے حصار میں  آگیا تھا۔ اور پھر جب وہ گلے دن کتاب دینے کالج کی لائبریری آئی تو اس کی خود اعتمادی نے اگر میرے اندر کوئی ہلچل پیدا نہیں کی تو اس سے تعلق  قائم رکھنے کی امنگ ضرور بیدار کر دی تھی ۔ کینٹین سے چائے پینے کے بعد جب دو گھنٹے بعد ہم باہر نکلے تو دونوں ایک ایسے رشتے میں بندھ چکے تھے جسے دوستی اور محبت کے بیچ کا رستہ قرار دے سکتے ہیں۔ اس میں خال وخد کا کوئی جمال تھا اور نہ ہی وہ کوئی ایسے درو دیوارپھلانگ کر آئی تھی جہاں دن کو عید اور راتوں کوجشن منائے جاتے ہوں ۔ لیکن میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک غیر معمولی لڑکی تھی۔زندگی کے ولولوں اور امنگوں سے بھرپور، امید اور یاس کی پہلی کرن۔وہ ذہنی اختراؤں پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ جس طرح مجھے کتاب پہنچانے کالج چلی آئی تھی اس سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ زندگی کے ڈسپلن کو مصنوعی سمجھتی ہے۔ وہ خود اعتمادی کا پہلا لفظ تھی تو خود آگہی کا پہلا جملہ بھی۔وہ جس طرح زندگی کے مصنوعی اصولوں اور اقدار کو روند جاتی تھی اس سے مجھے وہ ایک سرکش لڑکی دکھائی دیتی تھی لیکن اس کی حد سے بڑھی خود اعتمادی اور سرکشی نے میرے وجود کے گرد ایک ہیولہ کھڑا کر دیا تھا جس کی قید مجھے بھلی بھی لگتی تھی اور سرشاری بھی محسوس ہوتی تھی۔ کتاب کے بہانے شروع ہونے والی یہ ملاقاتیں ایک ایسے تعلق میں بدل گئیں جس کو توڑنا  آسان نہیں رھا تھا۔ ایک دن گرمی اور حبس نے جب ذہن اور دماغ کو مفلوج بنا رکھا تھا تو تیز آندھی اور بارش نے ہر چیز جل تھل کر دی ۔ میں اور سیتا  بارش کے بعد کے نظارے دیکھنے باہر نکلے تو باتیں کرتے بہت دور تک نکل گئے ۔ حالات حاضرہ ، فلسفہ ، تاریخ ، منطق جیسے موضوعات تک محدود ہماری گفتگو نے اس دن پہلی بار اپنا رخ تبدیل کیا۔
 میرے پوچھنے پر کیا وہ واقعی ہندو ہے ؟ اس نے ہنس کر کہا ،آپ کو کیا لگتا ہے۔ میرے ماتھے پر سندور اور جسم پر ساڑھی ہوتی تو پھر یقین کرتے؟
 میں نے بھی بات کو مزاح میں ٹالتے ہوئے کہا ہاں جب اس حلئے میں دیکھوں گا تو یقین اسی دن کروں گا۔ کہنے کو تو میں کہہ دیا تھا لیکن میرے اندر جلتا دیا چند لمحوں کیلئے ڈبڈبایا لیکن پھر سنبھل گیا۔ ہماری اقدار مصنوعی صحیح، ہمارا سماج بھی شائد فطری نہیں ہے لیکن اس سے الگ ہو کر رہنے کی ہمت ابھی ہم میں نہیں ہے۔ہمارے ہاں تو برادریاں اور فرقے رشتوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں اور یہاں تو مذہبی وبستگیوں کے وسیع خلیج دکھائی دے رہی تھی ۔ دیر تک  اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں اور کچھ میں اپنے بارے میں بتاتا رہا۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ شائد میرے قدم منوں وزنی ہو گئے ہیں۔ میں لاکھ آزاد منش انسان سہی لیکن ایک مذہبی قیدی میرے اندر کہیں جکڑا ہوا تھا ۔
 میرے ذہن میں اللہ کا تصور مائی پھاتاں کے تنور جیسا تھا جہاں اگر کوئی سلیقے سے بیٹھے تو اس کیلئے روٹیاں اور جو کہنا نہ مانے اس کیلئے تنور کی آگ ۔بس اس سے زیادہ کبھی مذہب کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔میر ے اندر مذہب کا قیدی ہمیشہ سویا رہتا تھا ۔ جب سیتا کا مذہبی پس منظر واضح ہوا تو میرے اندر کا قیدی ایک دم بیدار ہوگیا۔ میں نے بہت چاہا اسے سلا دوں لیکن اس نے مجھ سے میری نیندیں چھین لیں۔ میں  لاکھ بہانے ڈھونڈتا لیکن وہ میری کسی بات پر راضی نہیں ہوتاتھا۔ کسی ضدی بچے کی طرح ۔میں نے بہت سمجھایا ۔ مذہب کی تفریق صرف عبادت کیلئے ہے۔ اپنے رب کے سامنے حاضری کا ہمارا اپنا انداز ہے اور اور ان کا اپنا ۔ اب جس کا دل جیسے چاہے ، وہ ویسا ہی کرے ، کوئی مجبور تھوڑی کر سکتا ہے۔ لیکن میری ساری منطق میری ساری دلیلیں اس مذہبی جنونی کے سامنے بے کار تھیں۔
 اور بھر اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک دن اس سے پوچھ بیٹھا کیا تم مسلمان ہوسکتی ہو؟ ۔ اور اس نے وہی الفاط یہ کہہ کر میری طرف دھکیل دئیے کہ تم میرے مذہب میں آجاؤ اور میرے پاس کوئی دلیل نہیں تھی ۔ میں نے بھاگنا شروع کردیا۔ اندھا دھند بولتا رہا لیکن کسی ایک ہی مرکز کے گرد، جہاں سے میں چلتا تھا وہیں آ کھڑا ہوتا ۔ اس نے اپنے مذہب میں آنے کی دعوت دے کر میری جیب کاٹ ڈالی تھی اور میں سڑک پر کھڑا ہراساں، اس بات پر پریشان تھا کہ سفر جاری رکھوں یا واپس لوٹ جاؤں ۔
 میرا وجود تو مذہب کے معاملے میں کورا کاغذ تھا جو کسی نے اسلام کی الماری میں سجا دیا تھا۔ مذہب کی روح سے تو وہ بھی خالی تھی لیکن وہ ایک ایسا درخت تھی جس کی جڑوں نے زمین کو مضبوطی سے جکڑ رکھا ہو اور وہ ایک قدم بھی اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تھی۔۔ لیکن میرے اندر سیتا کے نام کی بیشمار فائلیں جمع ہوچکی تھیں جن کو میں اتنی آسانی سے ضائع کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔ میں تو بچپن سے ہی قیمتی قرار دی گئیں چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کا عادی تھا ، سیتا کی محبت سے اتنی آسانی سے دستبردار کیسے ہو سکتا تھا؟ اور میں نے اپنے مذہب کے کورے کاغذوں کو بھرنے کا ارادہ کر لیا۔ میرا سارا وقت شہر کی لائبریریریوں میں گزرنے لگا، میڈیکل کی تعلیم بھول کر مذہب اور اس کے تقابلی جائزوں میں مصروف رہتا۔ اور  پہلی بار اسلام کی حقانیت سے روشناس ہوا۔ ابتدا میں باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ میرا ذوق، میرے عقائد اور افکار اس تیزی سے تغیرات کا شکار ہوئے کہ میں واضح طور پر اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کرنے لگا۔میر ا مطالعہ، میری معلومات بڑھاتا رہا اور میں ایک مستقل ذاتی فکر اور رائے پر پہنچ چکا تھا۔میں جو پھول چنتا ،اس کی خوشبو سنگھانے سیتا کے پاس لے جاتا لیکن وہ تو نہ جانے کس دیس کی رہنے والی تھی؟ کس مٹی کو گوندھ کر اس کی مورتی کو سجایا گیا تھا ؟کہ نہ تو اس میں کوئی نفرت یا وحشت دکھائی دیتی تھی اور نہ ہی وہ اس حالت میں دکھائی دیتی تھی جسے میلان یا ہمدردی کہا جا سکے۔ میرا مطالعہ جہاں پر ہمارے تعلقات کیلئے ہلاکت خیز ثابت ہو رہا تھا۔ وہیں پر میرے لئے انقلاب آفریں  بن رھاتھا۔جہاں شعور کا اعتدال دل ودماغ کی قوتوں کو بیدار کر رہا تھا وہیں محبت میں بڑھے قدموں کی واپسی کا خوف ایک آسیب بن کر ڈرا رہا تھا۔
کبھی مجھے لگتا میری کوشش دریا میں بے بس تنکے سی ہے اور میں دریا کے بہاؤ کیسا تھ کہیں دور نکل جاؤں گا اور کبھی مجھے لگتا میں کسی مہیب غار میں بند ہوگیا ہوں جہاں صرف اندھیروں کا پہرہ ہے جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہیں دیتا لیکن میری مسلسل جدوجہد ایک روشنی کی کرن بن مجھے رستہ دکھانے آگئی تھی۔اسلام کے احساسات وخیالات اور اساس وبنیاد کو سمجھنے لگا۔ میں نے روح کی رفعت کو پا لیا تھا۔ زندگی اور مذہب کے درمیان ہم آہنگی کو ڈھوند نکالا تھا ۔ میر ے ذہن کی بنجر زمین ایک سرسبز کھیتی میں تبدیل ہو گئی تھی۔
 لیکن سیتا وہیں کھڑی رہی۔ وہ بہت دلیر تھی اپنے افکار میں بہت صاف تھی لیکن وہ کسی بند کمرے میں پڑی بے جان مورتیوں میں روح پھونکنے کیلئے قائل نہیں ہوئی۔ میں سمجھتا تھا محبت میں امید اور کامیابی کی سرشاری بہت سے کام آسان کر دیتی ہے لیکن زندگی کے حسین اور خوشگوار تجربات نے بھی اسے خواہشوں کی پرورش کیلئے مجبور نہیں کیا ۔ میں کبھی نہیں جان سکا وہ کون سا وجدان تھا جو اسے مدافعت پر ابھارتا تھا۔لیکن اس کی مزاحمت نے مجھے صداقتوں کی راہ پر ڈال دیا تھا۔
وہ ایک اداس شام تھی جس دن میں نے اس سے آخری ملاقات کی تھی۔بہار کی آمد آمد تھی۔ میرے اندر بھی بہار کے پہلے پھولوں نے کھلنا شروع کر دیا تھا۔ طوفان نوح تھم چکاتھا۔ احمد شاہ ابدالی کی فوجیں تھک گئی تھیں، ایک خاموشی تھی ایک ٹھہراؤ تھا ۔ میں نے دیوار گریہ ڈھا کر مسجد اقصی تک رسائی حاصل کر لی تھی لیکن اس کے سامنے کوہ طور پر آگ جلتی رہی لیکن وہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی ۔اور ہمارے درمیان تعلق کا سورج غروب ہوگیا۔ ہم دونوں ہی کھونٹے سے بندھے بیل تھے لیکن فرق یہ تھا کہ میں نے بیمار ہو کر شہر کی روشنیاں دیکھ لی تھیں۔اور وہ  وہیں کھونٹے پر کھڑی رہی
میم۔ سین

Friday, March 8, 2013

تضاد

چند دنوں سے میرے عاجزی نے انکار کا درجہ اختیار کرنا شرع کر دیا ہے۔ اضطرابیت کا طوفان ہے اور بے سکونی کی موجیں تھپڑے مار رہی ہیں۔یہ درست ہے مایوسی کو اتنی آسانی سے، میں قبول نہیں کرتا لیکن جب آپ کو شدت سے اس بات کا احساس ہو رہا ہو۔کہ آپ کی سب سے قیمتی متاع چرا لی گئی ہے تو جتنے مرضی دعوی کر لیں کہ آپ بہت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، لیکن بالآخر یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ شخصیت کے توڑ پھوڑ سے بچاؤ کے سارے ہتھیار بیکار ہوچکے ہیں ۔ سارے استدلال بے معنی ہوگئے ہیں۔ہاں شائد اس بات کا اقرار مجھے پھر سے میرا یقین واپس لادے کہ میں آج شکست وریخت کا شکار ہو گیا ہوں۔ میرے شخصیت کے بت پاش پاش ہوگئے ہیں اور اس سلسلہِ انتشار میں، میری ذات بھی ریزہ ریزہ ہوگئی ہے۔ قاری محمد حسین صاحب سے میری پہلی ملاقات اس دن ہوئی تھی جب میں علی محمد نمبردار کے گھر کھانے کی دعوت پر گیا تھا جو انہوں نے ریڑھ کی ہڈی کے کامیاب آپریشن کے بعد صحت یابی کے شکرانے کے طور پر کی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد چائے کے انتظار میں بیٹھے ، باتوں میں مشغول تھے کہ اذان کی آواز بلند ہوئی تو کسی نے مشورہ دیا پہلے نماز ادا کر لیتے ہیں۔ چائے واپسی پر پیتے ہیں اور سب نے بات سے اتفاق کیا اور گھر سے نکل کر قریبی مسجد کا رخ کیا۔ جماعت کے دوران امام صاحب کی قرات نے جو سرور باندھا اس نے ایک بار تو ہم سب کو یہ بھلا دیا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور کہاں کھڑے ہیں۔ قاری صاحب سے تعارف ہوا تو یہ سن کر ان سے عقیدت اور احترام کا جذبہ مزید بڑھ گیا کہ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور ایک سکول میں پڑھاتے ہیں۔ مسجد اور ساتھ ملحقہ مدرسے کی ذمہ داری بھی سنبھال رکھی ہے۔ جس قدر خوبصورت آواز کے مالک تھے اتنے ہی پیارے مزاج کے مالک اور شائستہ گفتگو کے ماہر بھی ہیں۔ ایسی دلکش شخصیت کے حامل ہیں کہ پہلی ہی ملاقات میں دل موہ لیا۔ اور مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔دین سے خاص لگاؤ اور مسائل کو بیان کرنے کا انداز انتہائی سہل اور دلچسپ ہوتا ہے کہ دل کرتا ہے کہ وہ بولتے رہیں اور ہم سنتے رہیں۔ ان سے محبت اور اور عقیدت اس دن اور بڑھ گئی جس دن میں نے انہیں پہلی بیٹی کی پیدائش پر مبارک باد دی تو بولے امام احمد حنبل جب کسی کو بیٹی کی پیدائش کی مبارکباد دیتے تو کہتے تھے انبیا بیٹیوں کے باپ تھے۔ کچھ عرصے بعد اللہ نے انہیں ایک اور بیٹی سے نوازا، تو میں نے مبار ک باد دی تو جس انداز میں بیٹی کی فضیلت اور اسلام میں دئیے گئے مرتبے اور اہمیت کو اجاگر کیا میں دیر تک مہبوت بنا ان کی باتیں سنتا رہا۔ ان کی باتوں سے ایک خوشبو محسوس ہورہی تھی کہ دو بیٹیوں کی بلوغت تک پرورش اور کفالت کرنے والا ، قیامت والے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے کھڑا ہوگا جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں۔ پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیا کہ جس شخص کو اللہ نے دو بیٹیاں دیں اور جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں وہ ان پر احسان کرتا رہے ۔ تو وہ دونوں بیٹیاں اسے جنت میں داخل کرا دیں گی۔ کہنے لگے بیٹیوں کی پیدائش پرخفا ہونا جاہلانہ دور کی عادتیں اور اور قرآن مجید میں اس کی سختی سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور بیٹی کی اہمیت یوں اجاگر کی ہے کہ قرآن مجید میں بیٹیوں کا ذکر بیٹوں سے پہلے آیا ہے اللہ کے نبی کی بیٹیوں سے والہانہ محبت کا اندازہ اس بات سے لگاؤ کہ ایک دفعہ فرمایا کہ اولاد میں برابری کی بنیاد ہر چیز کو تقسیم کرو لیکن اگر میں تقسیم کے معاملے میں کسی کو ترجیع دیتا تو لڑکیوں کو دیتا۔ بچوں کی پیدائش کے بعد انہوں نے گاؤں چھوڑ کر رہائش شہر میں اختیار کرلی لیکن گاؤں کے مدرسے کا انتظام اپنے ہاتھوں میں رکھا۔ شہر آنے کا اگر چہ  گاؤں والوں کو نقصان ہوا تھا لیکن میری ملاقاتیں ان سے پہلے سےبڑھ گئیں اور ہمارا تعلق آپس سے میں بہت مضبوط ہو گیااور جب ایک مقامی مسجد میں جمعہ پڑھانا شروع کیا تو ان کے ان کے علم اور خلوص سے سارے مکاتب فکر کے لوگ متاثر نظر آنے لگے ۔ ان کی فصاحت و بلاغت کا ہر شخص قائل نظر آتا ہے۔ان کا بیان کرنے کا ایک اپنا اسلوب ہے۔بیان اور اس سے اخذ نتائج میں ایک ترتیب ہوتی ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جو ایک بار ان کا جمعہ کا خطبہ سن لے وہ اگلی بار خطبہ کے وقت سے پہلے مسجد میں بیٹھا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کبھی مغرب کے بعد میرے پاس کلینک آجاتے تو ان سے دینی مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے۔یوں میر ا ان سے عقیدت کا ایک گہرا تعلق قائم ہوتا چلا گیا۔ لیکن اس تعلق میں پہلی ضرب اس دن پڑی جب وہ مٹھائی لیکر آئے اور اولاد نرینہ کی نعمت سے نوازے جانے کی خوشخبری سنائی۔چونکہ بیٹیوں کی پیدائش پر انہوں نے ایسی کسی خوشی کا اہتمام نہیں کیا تھا اس لئے مجھے کچھ اچنبھا ہوا۔لیکن جب انہوں نے ایک حدیث مبارکہ سنائی تو میرے دل سے غلط فہمی کا بیج اگنے سے پہلے ہی اکھڑ گیا جب انہوں نے ایک واقعہ سنا کر دین پر قائم رہنے کی درخواست کی۔ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہو اتھا اس کا بیٹا آیا تو اس نے اس کو پکڑ کر بوسہ دیا اور اپنی گود میں بٹھا لیا۔ پھر اس کی بیٹی آئی تو اس کو پکڑ کر اس کو پہلو میں بٹھا لیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے دونوں کے درمیان عدل نہیں کیا۔ایک بوسہ دینے اور پاس بٹھانے میں تفریق کرنے سے اگر عدل کا ترازو ہل جاتا ہے تو دعا کریں اللہ ہمیں اپنے بچوں کے درمیان انصاف اور عدل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور یوں ان کی شخصیت کا طلسم میرے اوپر قائم رہا۔لیکن کل جب چھ ماہ کی عمر میں پہلی بار بیٹے کو چیک کروانے آئے تو ان کے ہمراہ ان کی بیٹی بھی تھی۔ بیٹے کے بارے میں خاصے متفکر تھے کہ سفر کیا تھا اور اور صبح سے چھینکیں لے رہا ہے۔ میں نے چیک اپ کے بعد کہا کوئی فکر والی بات نہیں ہے۔ ابھی دوائیوں سے محفوظ ہی رکھیں تو بہتر ہے۔ میری بات سے مطمئن نظر نہ آئے لیکن میری تسلی دینے کے بعد مسلسل کھانستی بچی کو آگے کرتے ہوئے بولے اسے بھی کوئی کھانسی کا شربت دے دیں پورا ہفتہ گزر گیا ہے سونے نہیں دیتی ،ساری رات کھانسی کرتی رہتی ہے
میم۔ سین

Sunday, March 3, 2013

بسنت

انسان کی ہمیشہ سے پرندوں کی طرح اڑنے کی خواہش رہی ہے، آسمانوں کو چھونے کا جنون طاری رہا ہے۔ہوا میں اڑتے تیرتے پرندوں نے ہمیشہ سے انسان کو مسحور کیا ہے۔ جب خود اڑنے کے قابل نہ ہوسکا تو پھر کاغذ کو ،کبھی کپڑے کو دھاگے سے باندھ کر اڑانے لگا۔ اور نہیں معلوم اڑنے والے اس اس خاکے کو پتنگ کا نام کس نے دیا۔
 تاریخ میں چین میں سرنگ کی کھدائی کے لئے اگر مدد لی گئی تو کوریا میں فوج کا مورال بلند کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔جاپان والوں کیلئے تو نشہ ثابت ہوا اور اسے صرف شاہی خاندان کیلئے مختص کر دیا گیا۔ مارکو پولو نے یورپ والوں کو اس کے سحر کے بارے میں بتا یا ۔ تو ہندستان والوں نے تو اسے صنعت کا درجہ دے ڈالا۔
کل جب آسمان پر ایک گلابی رنگ کی پتنگ اڑتے دیکھا تو میرے ماضی کے دریچوں میں سے ایک دریچہ یوں کھلا کہ میں وقت کی قید سے آزاد ہو کر اپنے آبائی گھر کی چھت پر جا پہنچا۔جہاں چھٹی والے دن ، میں شاپر کاٹ کر ان میں جھاڑوکے تنکے باندھ کر کپڑے سینے والے دھاگے کی مدد سے پتنگ اڑایا کرتا تھا۔ ہوا میں بلند کر کے اس کو دیر تک تیرتے دیکھنا اور اس کو ہوا میں رقص کرانا میرا شوق ہی نہیں جنون بھی تھا۔ میرے نزدیک اس میں ایک شاعری چھپی ہوتی تھی جسے میں اپنے ہاتھوں کی حرکت سے پیدا کرتا تھا۔اور یوں میں تخلیق کے ایک تجربے سے خود کو گزار کر محظوظ ہوتا تھا۔ لیکن جب میری پتنگ ہوا میں بلند ہوتی توپیشہ ور پتنگ باز اپنی ڈور کی دھار چیک کرنے کیلئے میری پتنگ پر سڑک پر چلتی تنہا دوشیزہ پر غنڈوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ۔ کبھی تو وہ کامیاب ہوجاتے اور میری ہاتھ سے بنی پتنگ ہواؤں میں کہیں کھو جاتی اور کبھی میں ان سے بچا کر اسے واپس اتارنے میں کامیاب ہوجاتا۔
جب یہ حملے بڑھ گئے تو میں نے بھی ڈور کا استعمال شروع کر دیا لیکن پہلے ہی دن ابھی میری پتنگ نے ساتھ والے گھر کی چھت کو عبور کیا تھا کہ ماسٹرفضل کے صحن میں لگے نیم کے درخت سے ایک طوطا اڑا اور میرے پتنگ کی ڈور میں پھنس گیا میں نے تیزی سے ڈور کو کھینچا لیکن میری کوشش بیکار گئی اور ڈور میں پھنسا طوطا ہمسائیوں کی چھت پر آگرا۔ اس ناگہانی آفت سے، کچھ لمحوں کیلئے تو میں پریشان ہوگیا لیکن پھر طوطے کو پانے کی خوشی میں دوڑا دوڑا گیا اور اپنے دادا کے فوج کے زمانے سے سنبھالے چمڑے کے دستانے پہن کر پہلی بار غیر قانونی طور پر ہمسائیوں کی چھت پر کود نے کا رسک لے لیا ۔ ۔ ڈور سے خود کو آزاد کرانے کی کوشش میں طوطا مکمل طور پر جکڑا گیا تھا۔
 بڑی مشکل سے اس ڈورسے رہائی دلا کر اسے برتنوں کی ڈولی سے چیزیں نکال کر اس میں بند کر دیا۔ اور میں اپنی پتنگ بازی بھول کر اپنے طوطے کے منہ سے باتیں سننے کیلئے بے چین رہنے لگا۔ خصوصی پنجرہ خریدا گیا، امرود، سیب، سبزیاں اور سب سے بڑھ کر دیسی گھی کی چوری کھانے کو لا کر دیں لیکن پہلے دو دن تو اس نے کسی کی طرف دھیان نہیں دیا۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ کھانے پینے لگ گیا ۔جوں جوں پنجرے کے ماحول سے مانوس ہوتا گیا ، اس کی حرکتوں اور اس کی چہچہاہٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کے منہ سے باتیں سننے کیلئے میں نے سارا سارا دن اس کو پڑھانا شروع کر دیا ، گھنٹوں اس سے باتیں کرتا کبھی سیٹیوں کی آوازیں نکالتا لیکن اس نے ٹیں ٹیں کے علاوہ کوئی لفظ ادا نہ کئے۔ کسی نے کہا اس کو سبز مرچیں کھلاؤ، کسی نے کہا اس کے اوپر ٹھنڈہ پانی ڈالا کرو۔ کسی نے بتایا اس کے پنجرے میں روشنی بند کر دو، گھپ اندھیرہ رکھو، کسی نے مشورہ د یا کہ روزانہ ٹین کے برتن اس کے سر پر بجایا کرو۔سارے ٹوٹکے کر ڈالے، سارے مشورے آزما کر دیکھ لئے لیکن اسے باتیں کرنا تھیں اور نہ اس نے کیں۔ ایک دن ایک بزرگ مہمان آئے ان سے مشوہ کیا تو بولے۔ طوطوں کی ساری نسلیں باتیں نہیں کرتی ہیں۔ اور جس نسل یہ طوطا تعلق رکھتا ہے اسے تو تم علی گڑھ یونیورسٹی میں بھی داخل کرا دو تو یہ باتیں نہیں کرے گا۔اور میں ان کی باتو ں سے اتنا مایوس ہوا کہ پنجرہ اٹھا کر سکول کے گراؤنڈ لے جا کر اس کا دروازہ کھول دیا۔
طوطے کے ساتھ گزارے وقت نے پتنگ بازی کا نشہ ذہن سے بھلائے رکھا ۔لیکن جب دوبارہ پتنگ اڑانے کی کوشش کی تو اب وہ پہلے والی بات نہیں تھی۔ اڑانے سے زیادہ چھت پر لیٹ کر آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں کو دیکھتا رہتا۔ کبھی کبھی خیالوں میں، میں بھی اڑنے لگتا۔ اڑتا اڑتا کسی دور کی بستی پہنچ جاتا ،جہاں بیٹھ کر میں کہانیاں بنتا، کردار تخلیق کرتا اور ان کرداروں کو لیکر دنیا بھر میں گھومتا پھرتا۔ کبھی بادلوں پر بیٹھ کر جنوں کے قلعے ڈھونڈتا۔کبھی کوہ قاف کی پریوں کی تلاش میں نکل پڑتا۔کبھی اڑتا ہوا کسی جھیل کنارے پہنچ جاتا اور کبھی کسی دشت نوردی میں خود کو ہلکان کرتا پھرتا۔
لیکن پھر آسمان پر ان رنگ برنگی اڑتی پتنگوں کو نظر لگ گئی ۔ بسنت کے نام سے بہار کی آمد پر چند دنوں کیلئے ایک آندھی اٹھتی تھی جو اس معصوم سی پتنگ پر سینکڑوں الزام چھوڑ جاتی۔ااور وہ اپنی ذات پر لگے ان الزاموں کو سارا سال دھونے میں لگی رہتی۔ لیکن ہر سال اس آندھی کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اس نے ایک طوفان بدتمیزی اختیار کر لیا۔صرف لاہور یا شائد کسی حد تک گوجرانوالہ میں منایا جانے والا بسنت کا میلہ ملٹی نیشنل کمپنیز نے یرغمال بنا لیا۔ تراش خراش کراسے نئے کپڑے پہنا کر ہر شہر میں کسی بازاری عورت کی طرح سجا کر بٹھا دیا۔ جب رئیس زادوں ،نودولتیوں اور کمپلکس کے مارے لوگوں کے ہاتھوں اس معصوم کی عزت اچھالی جانے لگی تو یہ معصوم سی پتنگ ایک بدکردار اور فاحشہ کا روپ اختیار کر گئی۔جس کے خاطر گردنیں کٹنے لگیں، خون بہنے لگا، کتنی ماؤں کی گود اجر گئی اور کتنے سروں سے سایہ اٹھ گیا۔کتنے چولہے خاموش ہوگئے او ر کتنے مسکراتے چہروں کی خوشیاں ہمیشہ کیلئے روٹھ گئیں۔
کھیل تو کھیل ہوتا ہے۔ وہ کھیل چاہے کرکٹ کا ہو یا ہاکی کا، سکواش کھیلی جائے یا سنوکر۔کشتی کا اکھاڑہ ہو یا فٹبال کا میدان۔کچھ اصول ہوتے ہیں، کچھ ضابطے اور کچھ اخلاقی پہلو ہوتے ہیں۔نظم و ضبط ہوتا ہے ۔کچھ سیکھنا مطلوب ہوتا اور کچھ سکھانے کی جستجو ہوتی ہے۔لیکن جب کھیل کے نام پر ، سماجی اور مذہبی اقدار کی دھجیا ں بکھیری جانے لگیں۔جب ثقافت کے نام پر ایک طوفان بدتمیزی کھڑا ہونے لگے۔جب خوشیوں کے نام پر لوگوں کیلئے اذیت کا سبب بننے لگ جائے،تہذیب و اخلاق کی حدیں عبور ہونے لگ جائیں۔ راستوں پر خوف کے بادل منڈلانے لگ جائیں تو وہ کھیل نہیں رہتا۔ وہ کھیل کے نام پر ایک دھبہ بن جاتا ہے۔ایک ڈراؤنا خواب بن جاتا ہے،بے حسی اور بے بسی کی ایک مثال بن جاتا ہے۔ کسی خون آشوب کہانی کا کوئی باب دکھائی دینے لگتا ہے۔
کچھ ایسا ہی حشر چین کی ہواؤں میں پہلی بار بلند ہونے والے پتنگ بازی کے اس کھیل کے ساتھ ہم نے کیا۔کھیل اورجشن کے نام پر مدہوش ہو کر کر ہم اس قدر اندھے ہوگئے کہ نہ تو ہمیں اپنا دین لٹتا نظر آیا اور اور نہ ہی وطن کی تباہی کا کوئی خیال کبھی ذہن میں آیا۔
اور آج یہ معصوم سی ، خوابوں کو بیدار کرتی ، دلکشی پھیلاتی آسمان پر پرندوں کی طرح تیرتی پتنگ اپنی عصمت یوں گنوا بیٹھی ہے کہ میں اس سے اپنے رومانس کا ذکر کرنے بیٹھوں تو انگلیاں میری جانب یوں اٹھ جاتی ہیں کہ میں کسی طوائف سے محبت کا دعوی کر بیٹھا ہوں۔
میم۔ سین

Saturday, March 2, 2013

تفریق


ملک نعیم میرا سابق محلے دار بھی ہے اور عمر کے خاصے فرق کے باوجودکسی حد تک دوستوں کی صف میں بھی شامل ہے۔ جب ہم اپنے آبائی محلے فاضل دیوان میں رہتے تھے تو ان دنوں وہ ہمارے ساتھ والی گلی میں رہتےتھے۔لیکن محلے دار ہونے کے باوجود میری اس سے پہلی باقاعدہ ملاقات لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں ہوئی تھی جہاں وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ کھانا کھانے آئے تھے۔کیمپس کی اپنی یادوں کو دہراتے ہوئے وہ اچھا خاصا جذباتی ہو گئے تھے۔ لیکن جس چیز نے ہمارے درمیان دوستی کی بنیاد رکھی وہ ان کا چائے کے ساتھ رکھ رکھاؤ تھا۔کھانے کے بعد  چائے پینے سے انکار کردیا کہ یہاں جو چائے پیش کی جاتی ہے وہ چائے کے نام پر ایک دھبا ہے۔ صبح سے آگ پر رکھے برتن میں دودھ ڈال کر پرانی پتی کو بار بار کھولنے کے بعد اسے چائے کا نام دینا صرف زیادتی ہی نہیں بلکہ ناقابل تلافی جرم بھی ہے۔امجھے  سے پوچھا کہ اگر آپ کے پاس وقت ہو تو ایک کپ چائے پیتے ہیں ۔ میرے ہامی بھرنے پر وہ ہمیں نیو کیمپس سے انارکلی لے گئے اور پاک ٹی ہاؤس سے میراپہلی بار تعارف ہوا۔ اور جو مزا چا ئے پینے کا اس کےرومانوی ماحول میں آیا اور جو اثر وہاں چائے پیش کرنے کے انداز نے دیا ، اس نے جہاں پاک ٹی ہاؤس سے ایک مستقل تعلق قائم کر دیا وہاں ملک نعیم سے بھی دوستی کاایک رشتہ پیدا کردیا۔جب پہلی بار برڈ فلو نے پولٹری کی صنعت کو متاثر کیا تو ان دنوں ملک نعیم کھدر کا کام کر رہا تھا۔گھر کے قریب ہی کچھ کھڈیاں لگا رکھی تھیں ۔ لیکن شہر میں ڈائینگ کا میعار بہتر نہ ہونے کی وجہ سے کپڑا ملتان بھیجنا پڑتا تھا۔ اور واپسی پر کپڑے کی لاگت میں اتنا اضافہ ہو جاتا تھا کہ کاروبار کو جاری رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔اور جونہی برڈ فلو نے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لیا۔  ملک نعیم نے اپنی کھڈیاں بیچ کر ساری رقم پولٹری کی صنعت میں لگا دی۔جب لوگوں نے اس سے اس حماقت کی وجہ پوچھی تو تو اس کی لاجک میں بڑا وزن تھا ۔ سولہ ارب کی آبادی نے کہاں سے کھانا ہے؟ یہ آج ڈری ہے لیکن کل جب کھانے کو کچھ نہیں ملے گا تو یہ برڈ فلو زدہ مرغیاں تو کیا کوے بھی کھانے لگی گی۔ اور اس کے اس نازک لمحے میں کئے گئے فیصلے نے اسے کروڑ پتی نہیں تو ایک متمول انسان میں ضرور بنا دیا تھا۔ چائے کے بہانے شروع ہونے والی ملاقاتیں ہمارے درمیان اکثر بحث و مباحثے میں تبدیل ہوجاتی تھیں ۔ ملک نعیم کے دلائل میں تجربے کا وزن ہوتا تھا۔اور میں اپنے اخبار بینی کے شوق سے سے مدد لیتا۔ ایک دن جب کیمپس کے پل سے گزرتے ہوئے ایک سنگترے بیچنے والے کے پاس رکے تو اس سے بھاؤ پر بحث شروع کر دی ۔مجھ سے رہا نہیں گیا۔میں نے کہا ملک صاحب کبھی آپ نے ان بڑے بڑے برانڈ کی دکانوں پر جا کر بھی بحث کی ہے؟۔یہ جو آپ نے پولو کی شرٹ پہن رکھی ہے اور جو مارک اینڈ سپنسر کی ٹائی لگا رکھی ہے اور ان کا کوٹ پہن رکھا ہے۔ ان پر کتنی ڈسکاؤنٹ کروائی تھی؟۔ اور جب آپ نے یہ کرولا خریدی تھی تو اس کی قیمت کم کروانے کیلئے کتنی بحث کی تھی؟۔ جنہوں نے تو ایمپائرز کھڑی کرنی ہوتی ہیں ۔ اقتصادی حبس پیدا کرنا ہوتا ہے اور ان سے آپ رعائیت کروا نہیں سکتے اور جنہوں نے صرف اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنا ہو تا ہے اور اپنے گھر کا نظام چلانا ہوتا ہے ان سے آپ لاگت کا اندازہ لگا کر ایک ایک روپے کا حساب لے رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے آپ سے کوئی ناجائز منافع لے بھی لیا تو کون سا پلازہ کھڑا کردیں گے۔ ملک صاحب نے تحمل سے میری بات سنی اور بولے یہ جو برانڈ ہوتا ہے یہ ایسے ہی وجود میں نہیں آجاتا۔ یہ کوالٹی اور معیار کا ضامن ہوتا ہے۔ اگر وہ اس کی قیمت لیتے ہیں تو وہ اس معیار کی سند فرہم کرنے کی لیتے ہیں جووہ اپنے صارف تک پہنچا رہے ہوتے ہیں۔جو کولٹی نائکی دیتی ہے وہ کوئی پاکستانی کمپنی کہاں دے سکتی ہے۔ جو معیار تھامس نیش کے گارمنٹس کا ہے وہ پاکستانی کپڑوں کا کہاں؟ جو سٹائل ورساچے، گوچی، ارمانی کے جوتوں کا ہے وہ ہمارے مقامی جوتوں میں کہاں۔ جو وقار راڈو، ٹائمکس، اور سواچ کی گھڑیوں کا ہے ، وہ کسی اور گھڑی میں کہاں؟اس دن مجھے ان کی شخصیت کے اس نئے پہلو کا اندازہ ہوا کہ وہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سحر میں کس قدر گرفتار ہیں۔ اور گاہے بگاہے اپنی ملٹی نیشل اشیا کی نمائش کرتے رہتے۔ اور ان کی افادیت ، ان کی انفرادیت اور ان کی خصوصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ،جہاں اپنے سٹیٹس کا اظہار کر جاتے وہاں ان کی باتوں سے اپنی اقدار سے لاتعلقی کا اظہار بھی ملتا۔ میرا نقطہ نظر ہمیشہ مختلف ہوتا اور اپنی رائے کو دلائل کے سہارے دیتا رہتا۔ اس معیار کو برقرار رکھنے کی جو قیمت صارف سے وصول کی جاتی ہے کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ کیا یہ سرمایہ درانہ نظام کا حصار نہیں ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ جب ہم تازہ دودھ بیس روپے لٹر لے کر پیتے تھے تو ہماری صحت بھی ٹھیک تھی اور بیماریاں بھی کم تھیں۔اور دھوکہ دھی کی عادتیں بھی۔اب ہمیں ڈبے کے دودھ کی عادت ڈال کر ہم سے وہی دودھ بیس روپے میں لیکر ساٹھ روپے میں بیچنے لگے ہیں۔ ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہے یا نہیں یہ اس کا محتاج بنا کر اس کا عادی بنا دیتی ہیں۔ اور پھر اس کی منہ مانگی قیمت لیتی ہیں۔ لیکن ملک صاحب میری بات سے زیادہ متاثر نظر نہیں آئے اور ریٹ طے کرکے کچھ پھل خرید لئے۔ ان کو ان برینڈ ز کی اصل قیمت دکھانے کیلئے علامہ اقبال ٹاؤن کی کریم بلاک میں واقع مارکیٹ بھی لیکر گیا ۔ اور ہنجروال میں واقع کپڑے کی مارکیٹ بھی دکھائی لیکن ان کوقائل نہ کرسکا۔ ہم نے کبھی اس نظر سے برانڈ کے شکنجے کو محسوس نہیں کیا ، جس کی ضرورت تھی۔ایک طرف اگر سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کو سودی کاروبار میں جکڑ رکھا ہے تو دوسری طرف برانڈ کا طلسم پھونک کر لوگوں کو گرفتار کرکھا ہے جس نے نا صرف معاشرے میں ایک طبقاتی تفریق کی واضح لائن کھینچ رکھی ہے۔بلکہ وہاں مقابلے کی دوڑ میں شامل نئے کھلاڑیوں کی حو صلہ شکنی کی جاتی ہے بلکہ اس کا رستہ بھی روک رکھا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ امیر غریبوں پر حکومت کرتے تھے امیر غریبوں کا استحصال کرتے تھے لیکن برانڈ کے ذریئے جو طبقاتی تفریق پیدا کر دی گئی ہے وہ اس سے کہیں سنگین اور مہلک ہے اور اب  یہ استحصال اس طبقاتی تفریق سے کیا جاتا ہے جس نے ایک قسم کی طبقاتی جنگ پیدا کردی ہے لیکن یہ جنگ دوسرے کو شکست دینے کیلئے نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کیلئے ہے۔ وہی تفریق جو ہم نے اردو اور انگلش میڈیم سکولوں میں زبان اور کلچر کا کمپلکس رائج کر کے شروع کی تھی۔اور کوئی فریق اس جنگ سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں ہے۔ معاشرے میں ایک وسیع خلیج حائل ہوتی جا رہی ہے ۔ غیر فطری اور غیر منطقی تقسیم۔ خواہشات کا جزو ہمارے خون کا حصہ ہے ۔ ہم اس جزو کو اپنے آپ سے الگ نہیں کر سکتے لیکن برانڈ کے نام پر اس جڑی بوٹی کو ایک فصل کے طور پر اگایا جاتا ہے ۔ اور پھر اسے منہ مانگے داموں فروخت کر کے خواہشوں کے نئے انبار لگائے جاتے ہیں۔ جس طرح کریڈٹ کارڈ کے نام سے خواہشوں اور تمناؤں کو ہوا دی جاتی ہے اور جب راکھ میں دبی چنگاریاں شعلوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو پھر اس آگ کوسارے معاشرے میں پھیلا دیا جاتاہے ایسے ہی برانڈ کے نام پر حسرتوں کو بھڑکایا جاتا ہے ۔تہذیبوں کے سودے کئے جاتے ہیں ۔بے مقصد جستجو ، لاحاصل جدوجہد۔ روح سے خالی ڈھانچے ۔ پھر ان کی ثقافت پر یلغار کرو یا ان کے مذہب پر۔ کسی کو اس بات کی کیا خبر ،کسی کو اس بات سے کیا لینا دینا کہ بے خبری میں ہماری تہذیب ، ثقافت اور مذہبی اقدار میں کتنی دراڑیں پر چکی ہیں ۔معاشرے میں درجہ بندی دراصل مساوات کا قتل ہے ، انصاف کا قتل ہے۔انسانی جبلت میں خود غرضی داخل کرکے لا شعوری طور پر اسے ان دیکھی قوتوں کے اشارے پر ناچنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ لیکن ملک صاحب میری کسی د لیل سے قطعی طور پر متاثر نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنی خودنمائی کا چلتا پھرتا احساس تھے و ہ اپنی ذات پر تو تنقید برداشت کر سکتے تھے لیکن نظریات کی قربانی نہیں دے سکتے تھے ۔ میں نے کلینک شروع کر دیا اور ملک صاحب اپنا کاروبار وسیع کرتے ہوئے پنڈی شفٹ ہو گئے اور اسلام آباد کے قریب کوئی ہیچریاں لگا لیں ۔ اور ہمارے درمیان مصروفیات نے وسیع خلیج حائل کر دی۔ پچھلے دنوں اتفاق سے میرا پنڈی جانا ہوا تو سوچا ملک صاحب سے بھی شرف ملاقات حاصل کر لوں ۔ جب ان کے دفتر پہنچا تو ان کو کھدر کے لباس میں دیکھ کر خوشگوار دھچکہ پہنچا۔ بڑے خلوص سے ملے ۔ جب اپنے ملازم کو چائے لانے کا کہہ چکے تو میں نے ملک صاحب سے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تو مسکرا دئے۔ ڈاکٹر صاحب آپ کی کوئی دلیل تو مجھے اس سرمایہ دارانہ نظام کے اس چہرے  سے بد ظن نہیں کر سکی لیکن جس دن میں اپنے ابا کیلئے کفن لینے گیا تھا تو اس دن مجھے احساس ہوا کہ لباس تو سب نے یہی پہننا ہے۔ لیکن اس کیلئے برانڈ کی کیا ضرورت ہے؟
میم ۔ سین

Tuesday, February 26, 2013

ذلت اور رسوائی ہمارا مقدر ہے؟؟؟

جمعہ کے بعد امام صاحب نے کچھ بیماروں کا حوالہ دیکر جب ان کی صحت یابی کیلئے دعا شروع کی تو وہ لمبی ہوتی چلی گئی ۔ بات بیماروں سے نکل کر مسلمانوں کی ضروریات، ان کی پریشانیوں ، اور انکی ہدائت کی طرف نکل گئی۔میرے ساتھ سعد بیٹھا تھا جو قائد اعظم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور ڈاکٹرپرویز ہود بھائی کا ’مرید‘ بھی ہے۔ جب دعا کچھ لمبی ہوگئی تو اس سے نہ رہا گیا اور بولا ایک تو ان مولویوں نے اللہ کو بھی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ جیسے وہ ان کیلئے فارغ بیٹھا ہے۔ اب بتاؤ، بھلا جو دعائیں نہیں کرتے ان کو شفا نہیں ملتی ۔ کیا وہ بھوکے ننگے ہیں۔یہ اللہ بھی مولویوں کا بنا یا ہوا ایک کردار ہے۔اگر یہ اتنے سچے ہوتے تو پھر وہ ان کی سنتا کیوں نہیں ہے؟۔نماز سے فارغ ہوکر جب میں نے اس سے پوچھا کہ جب تمہارا اللہ پر یقین اتنا متزلزل ہے تو پھر نماز پڑھنے کیوں آتے ہو تو ؟ اس کے جواب سے میں دیر تک محظوظ ہوتا رہا۔’’اگر مرنے کے بعد سچ میں اللہ نکل آیا توکیا کروں گا ؟۔ ہاتھ میں کچھ تو ہونا چاہئے‘‘ بات مزاح کی نظر ہو گئی ۔لیکن دیر تک اس کے الفاظ میرے  ذہن میں گونجتے رہے کہ اگر یہ اتنے سچے ہوتے تو پھر وہ ان کی سنتا کیوں نہیں ہے؟۔کیا اسلام اللہ کا پسندیدہ دین نہیں ہے۔؟ کیا اسلام دنیا کا کا بہترین دین نہیں ہے؟ اگر یہ باتیں جھوٹ نہیں ہیں تو پھر ہم پوری دنیا کے سامنے وضاحتیں کیوں کرتے پھر رہے ہیں؟، ملامت اور ذلت ہمارا مقدر کیوں بنا ہوا ہے؟ ہمارا رب ابابیلیں بھیج کر ہمارے دشمنوں کو نیست ونابود کیوں نہیں کرتا؟ آندھیاں اور تیز ہوائیں بھیج کر ان کے پیر وں کو اکھیڑتا کیوں نہیں ہے؟۔ جب اسلام سلامتی کا دین ہے اور پوری نسل انسانی کی رہنمائی کیلئے آیا ہے  تو ہم کیوں دنیا میں ذلیل وخوار ہو رہے ہیں؟ یا تو ہم غلط ہیں یا پھر ہمارے سمجھنے میں کہیں غلطی ہے۔ لیکن شائد مسئلہ ہمارے رویوں میں ہے ، مسئلہ اس چشم پوشی میں ہے جو ہم نے ہمیشہ سے روا رکھا ہے، مسئلہ اس غیر ذمہ داری میں ہے جو ہماری گھٹی میں بیٹھ چکی ہے، مسئلہ لاتعلقی کا وہ رویہ ہے جو ہمیشہ سے ہم نے اس دین کے ساتھ رکھا ہے۔ کبھی سوچاہے؟ الیوم اکملت لکم دینکم کی آیات جب اتری تھیں تو صحابہ کرام کی آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے تھے؟ دلوں پر غم و الم کے بادل کیوں چھا گئے تھے؟   کیونکہ رب نے اس بات کا اعلا ن کرکے اس دنیا سے لاتعلقی اختیار کرلی تھی کہ اب تمہارا دین مکمل کر دیا گیا ہے اور اس میں زندگی گزارنے اور رہن سہن کے اصول وضع کر دیے گئے ہیں ۔ اب کامیابی کا دارومدار معجزوں پر نہیں ہوگا۔دعاؤں پر نہیں ہوگا۔اللہ سے قربت کے د عوؤں پر نہیں ہوگا۔اب فیصلے اللہ کی رسی یعنی قرآن کرے گا اور قرآن کی سمجھ نبی اکرم ﷺ کی زندگی سے ملے گی۔ اب نہ تو کوئی عذاب اتریں گے، نہ کوئی ابابیلیں آئیں گی ۔جہاں ر ہنے سہنے کیلئے قوانین متعین کر دیے گئے و ہاں دعاؤں کی قبولیت اور معجزوں کے حصول کیلئے بھی اصول بنا دیے گئے ہیں۔ قرآن اگر منشور ہے تو نبی اکرم ﷺ کا اسوہ حسنہ ، اس کی عملی صورت۔ جس میں اگرزندگی گزارنے اور عبادت کے طریقوں کے بارے میں ہدائتیں دی گئیں ہیں تو وہاں ماں کی ممتا بھری نصیحتیں بھی۔ سونے سے پہلے بستر جھاڑ لو، جوتے دونوں پاؤں پہن کر پھرو، پردے کے بغیر والی چھت پر مت سویا کرو، سونے لگو تو آگ بجھا لو، راستوں پر خیمہ مت لگاؤ۔ وہ نبی جوبچہ رو رہا ہو تو اپنی نماز مختصر کر دیتا ہو، رستہ بتانے والے کو صدقہ کا ثواب بتاتا ہو ۔اس نبی سے ہماری محبت کے دعوے محض دعوے ہیں اگر ان میں حقیقت ہوتی تو ہم اپنی شادیوں اور مرگ کے موقع پر راستے بند کر کے لوگوں کا چلنا پھرنا دشوار نہ کرتے ۔ شادیوں کا جشن منا تے وقت یہ بات نہ بھولتے کہ محلے میں کوئی اور بھی رہتا ہے۔ گھر کے سامنے کھڑے ہو گھر والوں کو مطلع کرنے کیلئے کار کا ہارن دے کر سارے محلے کو نہ جگا تے۔دعوی نبی ﷺ سے محبت کا  ہے جو رشوت کو جہنم میں لے جانے والا رستہ بتاتا ہو، جو سفارش کی حوصلہ شکنی کرتا ہو، جو حرام کا لقمہ پیٹ میں جانے پر چالیس دن دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وعیدسناتا ہو۔ لیکن ہمارے ہاں کھاد کی بلیک سے ہونے والی آمدن کو پاک کرنے کیلئے یا تو دیگیں پکائی جاتی ہیں یا عمرہ کی سعادت حاصل کی جاتی ہے۔سرکاری ملازم کے نزدیک پانچ وقت کی نماز تو فرض ہے لیکن اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی اور وقت کا ضیاع ، اس کی کمائی کو حرا م نہیں کر سکتا ہے۔ مزدور جب مالک سے کئے گئے معاہدے میں قدغن لگاتا ہے تو اس کے نزد یک آمدن حلال ہی ہے۔ جب فصل کا ریٹ توقعات کے مطابق نہ ملے تو اسے کولڈ سٹوریج یا گھروں میں سنبھال کر رکھا جائے تو اسے ذخیر ہ اندوزی میں شامل نہیں کیا جاتا۔اور شائد بجٹ سے پہلے گوداموں کو بھر لینا بھی ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں نہیں آتا۔ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صرف خبر سن کر ان کی قیمتوں کے ٹیگ بدلے جائیں تو یہ بات بھی جائز سمجھی جاتی ہے۔ ہم اپنی دکانوں کے آگے سامان بڑھا کر پیدل چلنے والوں کا رستہ روکیں اور خود کو پھر بھی عاشقِ رسول کا نام دیں، راستوں میں گاڑی کھڑی کر کے اپنے کام نبٹانے لگ جائیں تو کسی کی مجال جو اخلاقیات کا درس دے سکے ، دودھ پیک کرنے والی کمپنیوں کو، غیر معیاری اشیاء ڈال کر گاڑھا کیا ہوا د ودھ بیچ کر اس بات پر خوشیا ں مناتے پھریں کہ غیر ملکی کمپنی بھی ان کی دھوکہ دہینہیں پکڑ سکتی، جب ہم گاہک کی مجبوری یا لاعلمی سے فائدہ اٹھا کر مہنگی چیزیں بیچیں اور پھر شکوہ بھی کریں کاروبار میں پہلے جیسی برکت نہیں ہے۔ کیا جعلی ادویات، جعلی مصنوعات ، ملاوٹ ، ذخیرہ خوری کے غلط ہونے میں دو رائے ہو سکتی ہیں۔لیکن کس کو فکر ہے؟۔ کون پرواکرتا ہے؟ ۔جب رستے بتانے والے غلط راستوں پر ڈالنے لگیں۔ جب ہر شخص شیطان کو گالیاں دے اور خود اس کے قدموں پر چلے، تو بھلا رحمتیں کہاں سے آئیں ، دعاؤں کی قبولیت کہاں سے ہو ؟ کہاں گئیں وہ محمد عربی ﷺ کی باتیں ۔؟ کہ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر حرام کر دئے گئے ہیں۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے، بزرگی اور فضیلت کا معیار صرف تقوی ہے، اپنے غلاموں کا خیال رکھو ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ، مردے کا بھی استحقاق ہے اسے گالی مت دو، کسی کی آبرو کو زبان کی قینچی سے مت کاٹو، مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو، مظلوم کی بد دعا سے بچو، لیکن جہاں منافقت ہمارا دستور بنے وہاں انسانیت پرسوز ہی ہوگی۔ جب آدمیت کا آدمیت سے اعتماد کا رشتہ ختم ہو جائے تو پھر رب کا بھرم کیسا؟ ، جب سڑک پر کسی غریب کا سائیکل گاڑی سے ٹکرا جائے تو ہمیں ہوش کھو جاتا ہے، جب ہمارا ملازم کوئی نقصان کر ڈالے تو ہماری زبان اور ہاتھ ہمارے اختیار میں نہیں رہتی۔ ، جب رشوت والے محکموں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے ، جب انسانی عزت اور وقار کا معیار اس کا پیسہ اور اس کا عہدہ بن جائے، جب منافقت اور جھوٹ ترقی کے اصول بن جائیں۔جب زندگی میں کامیابی کیلئے سفارش کا اکلوتا زینہ ہو۔ تو پھر اپنے رب سے کیا شکوہ ؟، اپنی بے بسی کا رونا کیوں؟۔کیا یہ تلخ حقیقت نہیں ؟کہ آج بھی لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دینے کی بجائے ان کو جہیز کی صورت میں فارغ کر دیا جاتا ہے اور آج بھی بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ ، انصاف کا ترازو آج بھی پیسے اور عہدے کے سامنے جھک جاتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟کہ آج بھی سڑک پر محنت مزدوری کرنے والا اور دفتر میں بیٹھ کر حکم چلانے والا برابری کا دعوی نہیں کر سکتے۔کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے ؟کہ قانون معاشرے میں ہر شخص کو ایک آنکھ سے نہیں دیکھتا۔ کیا یہ بھی حقیقت نہیں ہے ؟کہ ہم آج بھی برادری، صوبائیت اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ جب انصاف کا قتل گھر سے لیکر ریاست کی سطح تک ہورہا ہو۔ جب مساوات کا درس صرف تقریروں اور کتابوں میں ہو۔ تو پھر کہاں کی دعائیں؟ اور کہاں کا معاشرہ ؟۔ذلت اور رسوائی نہ ملے تو ہماے مقدر میں کیا لکھا جا ئے؟ دین مکمل ہوچکا ہے اب نہ کوئی نبی سمجھانے آئے گا نہ ہی کوئی فرشتے رستہ دکھانے اتریں گے۔ اب صرف حساب ہوگا قیامت کے دن اِس قرآن کی باتوں کی بنیاد پر ، سرور کائنات سے محبت کے دعووں کی بنیاد پر

Friday, February 22, 2013

ایک سفر داستان



دسمبر کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو میں نے بھی ہوسٹل سے گھر جانے کی ٹھانی۔ ان دنوں پنجاب بھر کو جانے والی ویگنوں اور کوسٹروں کے اڈے لاہور کے ریلوے اسٹیشن کے ارد گرد پھیلے ہوئے تھے اور میں بھی گھر جانے کیلئے ایک کوسٹر میں سوار ہو گیا۔ کوسٹر کو اڈے پر کھڑا رکھنے کیلئے مختص ٹائم ختم ہو رہا تھا ۔لیکن مسافر وں کی مطلوبہ تعداد مکمل نہیں ہوئی تھی ا ور اڈے کا منشی بار بار گاڑی کو نکالنے کا کہہ رہا تھا اور ڈرائیور اس امید پر تھاکہ ایک آدھ مسافر اور مل جائے تو پھر نکل پڑیں گے۔ اتنے میں کوسٹر کے کنڈیکٹر نے ایک نئے شادی شدہ جوڑے کو کوسٹر میں سوار کروایا اور خود ان کا سامان چھت پر رکھنے لگا۔
لڑکا شکل سے سے کوئی پچیس سال اور لڑکی یہی کوئی سترہ اٹھارہ سال کی دکھائی دے رہی تھی ۔ سنہری کڑھائی والے لال سوٹ اور چمکدار ڈوپٹے کے ساتھ لڑکی اور نیا کلف والا کاٹن کا سفیدسوٹ پہنے لڑکا، میری اگلی خالی سیٹ پر آکر بیٹھ گئے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور حواس اڑے ہوئے تھے۔ اور سیٹ پر بیٹھنے کے بعد بھی دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ 
جونہی وہ اپنی سیٹو ں پر بیٹھے ڈرائیور نے گاڑی اڈے سے نکال لی۔ کچھ دیر بعد ان کے حواس کچھ بحال ہوئے تووہ ایک دوسرے میں ایسے کھو چکے تھے کہ انہیں کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں ہیں اور کون کون ان کو دیکھ رہا ہے
جس گھر میں ہم گئے تھے کیا یہ تمہاری خالہ کا اپنا ہے ؟"لڑکے نے اپنی ساتھ بیٹھی لڑکی سے پوچھا" 
 ہاں ۔ یہی نہیں بلکہ ان کا ایک گھر جوہر ٹاؤن میں بھی ہے۔"لڑکی نے جواب دیا۔"
تیری خالہ نے تیرے گھر والوں سے تیرا رشتہ کیوں نہیں پوچھا ؟ محمد علی بھی تو جوان ہے ۔ اپنا کاروبار ہے"۔" 
لڑکے نے پھر کریدا ۔لیکن لڑکی نے لاپرواہی سے جواب دیا 
مجھے کیا پتا؟ مجھے تو صرف یہ پتا ہے کہ میں اب تمہارے ساتھ ہوں "اور لڑکے کے چہرے پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔"
گھر کب پہنچیں گے؟" اب کے لڑکی نے بے چینی سے پوچھا"
"مجھے کیا پتا میں تو خود پہلی با ر لاہور آیا ہوں ،آتے ہوئے تو تین گھنٹے لگ تھے۔"
لڑکی نے ایک بار نظر بھر کر باہر پھنسی ٹریفک کو دیکھا اور پھر اپنا رخ لڑکے کی طرف موڑ کر بیٹھ گئی اور بولی
 لہور تو بہت بڑا شہر ہے جب میں بہت چھوٹی تھی شائد دوسری یا تیسری میں پڑھتی تھی تو اس وقت پہلی بار خالہ کے گھر آئی تھی۔ تب وہ سمن آباد والے گھر میں رہتے تھے جو کرائے پر تھا۔ لیکن جب خالو جی د بئی چلے گئے تو یہ علامہ اقبال ٹاؤن والا گھر خرید لیاتھا۔ خالہ نے ہمیں لہور کی خوب سیر کرائی تھی۔ چڑیا گھر بھی گئے تھے، اور بادشاہی مسجد بھی دیکھی تھی اماں نے داتا دربار پر دیگ بھی چڑھائی تھی اور انار کلی سے مجھے چوڑ یاں بھی لے کر دیں تھی۔ مینار پاکستان کو بس دور سے دیکھا تھا۔ جب اگلی بار تیرے ساتھ لہور آؤں گی تو پھر خا لہ کو ساتھ نہیں لائیں گے۔اور ہم دونوں خوب سیر کریں گے 
لڑکی بولتی رہی اور لڑکے نے لڑکی کا ہاتھ تھامے رکھا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا رہا ۔
 تو مجھے یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑکے کیوں دیکھ رہا ہے ؟ "۔" 
لڑکی نے بات کرتے کرتے رک کر پوچھا تو لڑکا ایک دم شرما گیا اور نیچی نظروں کے ساتھ بولا "
"میں سوچ رہا تھا میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میری شادی تیرے جیسی سوہنی لڑکی کے ساتھ ہوگی" 
اور لڑکی ایک ہاتھ سے لڑکے کے کندھے کو جھٹکتے ہوئے بولی" زیادہ مکھن نہ لگا تو بھی تو اتنا سوہنا ہے۔ جب پھوپھی نے میری منگنی توڑی تھی تو میں نے قسم کھائی تھی میں نے اب کسی سے بیاہ نہیں کرنا۔ کیا پتا تھا مجھے تیرے جیسا چاہنے والا ملنے والا ہے۔ اماں کو اعتراض تھاکہ تمہارا اپنا گھر نہیں ہے۔ پر ابا نے تیرا دل دیکھ لیا تھا کہ تو میرا کتنا خیال رکھے گا اس لئے اماں سے لڑ کر ہاں کر دی تھی 
"لڑکی نے گردن گھما کر شیشے سے باہر دیکھا اور بولی "رمضان، جب ہم آئے تھے تو یہ اتنی اونچی والی اور خوبصورت عمارت آئی تھی؟
تجھے کو نسا ہوش تھا؟" لڑکے نے ہنس کر کہا اور لڑکی نے شرما کراپنا ہاتھ لڑکے کے ہاتھ سے چھڑا لیا۔"
" شادی والے دن مہندی کس نے لگائی تھی اب کے لڑکے نے بات کا آغاز کیا" 
"میری سہیلی صائمہ نے ۔" 
لڑکی نے اپنا ہاتھ دوبارہ لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا۔ 
کونسی؟ "لڑکے نے تھوڑا سا بے تکلف ہوتے ہوئے پوچھا"
 "وہی جس نے تمہارا جوتا چھپایا تھا"
لڑکی نے تھورا سا جھجک کر جواب دیا تو لڑکے نے قہقہ لگا یا اور بولا
شیطان کہیں کی! پورے پانچ سو میں واپس ملا تھا مجھے"۔"
جب ہم لہور آئے تھے تو اتنے بڑے پل سے گزرے تھے؟ "لڑکی نے تھوڑا ساپریشان ہو کر پوچھا اور جسم گھما کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔" 
لڑکے نے کندھے سے پکڑ کر اسے ااپنی طرف گھما یا اور بولا ۔ 
تو کون سا روز سفر کرتی رہی ہے جو تجھے راستے یاد رہتے ہونگے؟"۔"
"تو یہ بتا جب دودھ پلائی کی رسم ہو رہی تھی تو وہ لال سوٹ والی لڑکی جو بار بار آکر تیرے کان میں کچھ کہتی تھی وہ کون تھی"
لڑکی نے حیرانی سے پوچھا کون ؟
وہ جس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس گرکر ٹوٹ گیا تھا؟ رانی نام ہے۔ہمارے محلے کی ہے۔ باجی کلثوم کی بھانجی ہے جنہوں نے مجھے شادی والے دن تیار کیا تھا۔
"اچھا۔ تو وہ بار بار تیرے کان میں کیا کہتی تھی؟"
لڑکے نے تھوڑے سے والہانہ انداز میں پو چھا تو لڑکی شرما کر بولی
"میں کیوں بتاؤں اور گھوم کر کھڑکی سے باہر دیکھا اوربولی رمضان ،جب ہم آئے تھے تو یہ نرسریاں، تو نے دیکھی تھیں؟"
لڑکے نے اسے اپنی طرف کھینچا اور ہنس کر بولا
"مجھے تیرے علاوہ کسی چیز کی ہوش ہوتی تو میں باہر کی کوئی خبر رکھتا"
لڑکی نے پرس میں سے بسکٹ کا ایک پیکٹ نکالا اور اس میں سے دو بسکٹ نکال کر لڑکے کو دیتے ہوئے بولی۔
"منیر کو فوج میں بھرتی ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟ اس کی شادی کب کرنی ہے۔"
لڑکے نے اسی پرس میں سے جوس نکالتے ہوئے کہا
"ابھی تو بچہ ہے مجھ سے پور ے سات سال چھوٹا ہے۔ کچھ سال نوکری کر لے پھر دیکھیں گے۔ تو ہمیشہ لال کپڑے پہنا کر یہ رنگ تجھے بڑا سوٹ کرتا ہے" 
اور لڑکی کے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا اور یہ مہندی کبھی مدہم نہیں پڑنی چاہئے ۔ مجھے مہندی بہت پسند ہے۔ 
لڑکی شرما کے بولی" تیری ماں نے کہا تھا ایک مہینہ تک وہ مجھے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دے گی تب تک تو ٹھیک ہے لیکن پھر تو کام کرنا پڑے گا نا ۔ ہاتھوں پر مہندی تھوڑی رہے گی
۔ لڑکے نے جوس میں سے چند گھونٹ لینے کے بعد ڈبہ لڑکی کو تھما دیا اور بولا
" میں تمہیں کوئی کام کرنے ہی نہیں دوں گا۔ بس ہر وقت دلہن بنا کر رکھوں گا ۔ اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر زور سے ہنسے۔"
لڑکی نے گھوم کر کھڑکی سے باہر دیکھا اور بولی رمضان یہ جو سڑک کے ساتھ ریل کی پٹری جا رہی ہے ، جب ہم لاہور گئے تھے تب تو نہیں تھی
اور اب کی بار لڑکے کا بھی رنگ فق ہوگیا ۔ لیکن پھر تھوڑا سا سنبھل کر بولا
"جب ہم لہور گئے تھے تو ساتھ والی سیٹوں پر بیٹھے ہونگے اس لئے ہمیں یہ نظر نہیں آئی ہو گی" 
لیکن اس بار اس کی آواز میں پہلے والا اعتماد نہیں تھا۔اچانک ان سے آگے والی سیٹ سے ایک آدمی جو شائد لاہور سے ہی ان کی باتیں سن رہا تھا۔اٹھ کر بولا
"بھائی جی تسی کتھے جانا آ؟" 
۔ لڑکا تھوڑا سا سہم گیا اور پھر بولا ۔
"وہ جی ہم سیالکوٹ جا رہے ہیں"  
اس پر وہ آدمی اونچی آواز میں بولا 
 استاد جی گڈی روکو۔"
"تسی سیالکوٹ دیاں سواریاں ساہیوال جان والی کو سٹر وچ بٹھا چھوڑیاں نے
میم سین

Tuesday, February 19, 2013

اتفاق

ماضی کے کچھ نقوش خیالی پیکروں میں یوں اتر جاتے ہیں کہ تخلیقی مسرت میں ایک اضافہ ہو جاتا ہے۔تحریری اسلوب کو ایک تازگی مل جاتی ہے اور تخیل کے تارجب چھڑتے ہیں تو ان میں سے ایسی ایسی یادیں ساز بجاتی ابھرنے لگتی ہیں کہ دل بے اختیار ان تصویروں کو اپنی نگاہوں کے سامنے جھومتے گاتے دیکھنے میں محو ہو جاتا ہے ۔ ایسے ہی کچھ نقوش میرے زمانہ طالب علمی سے  ہیں۔گورنمنٹ نارمل سکول کا شمار علاقے کے ممتاز اور تاریخی اہمیت کے حامل اداروں میں ہوتا ہے۔ کئی دانشوروں، ادیبوں ، انجینئروں ، ڈاکٹروں، آرمی اور بیوروکریسی کے افسروں کو میں جانتا ہوں ،جنہوں نے اس ٹاٹ والے سکول میں پڑھنے کے بعد زندگی میں نمایاں شعبوں تک رسائی حاصل کی ۔ حافظے کو کھنگالنے سے زندگی کی جو تصویر ذہن میں بنتی ہے اس میں ایک طلسمی کشش پیدا ہو جاتی ہے اور میں اس کشش کے زیر اثر فخر محسوس کرتا ہوں کہ مجھے بھی جہاں اپنی پرائمری تک تعلیم اسی سکول کے ماسٹر عطا محمد، ماسٹر رشید ، ماسٹر ولی محمد جیسے شفیق اساتذہ سے حاصل کرنے کا موقع ملا ، وہیں پر عثمانی صاحب کے صبح کی دعا میں دیے گئے درس قرآن سے مستفید ہونے کا موقع بھی ملا۔ اور شائد یہ انہی دروس کا کمال تھا جس نے ذہن میں قرآن کی عظمت اور محبت کا ننھا سا بیج بو دیا تھا جس نے آنے والے دنوں میں نمی پا کر جڑیں نکالیں اور ایک سدابہار پودے کی شکل اختیار کر لی۔۔ اس سکول کی ایک خاص بات یہاں پر پانی کا ایک تالاب تھا جس میں ہم اپنی تختیاں دھوتے تھے۔ چند دن پہلے وہاں جانے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ اب وہ تالاب اپنی یادوں کے ساتھ ختم ہوچکا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کسی سانحے کے نتیجے میں اس کو ختم کیا گیا یا سکول میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے اس کو ہموار کردیا گیا لیکن آج بھی اس میں تختیوں کو دھو کر ان کو جلدی خشک کرنے کیلئے ہوا میں تختیاں لہراتے اور ساتھ ساتھ پنجابی یا اردو میں ماہیے کی طرز پر نظمیں پڑھتے بچے میری نظروں کے سامنے دوڑتے نظر آتے ہیں۔اور میں زندگی کے دائمی بہاؤ میں ٹھہر سا جاتا ہوں۔میری اندرونی کیفیتیں جیتی جاگتی تصویروں میں ڈھل جاتی ہیں۔میں اپنی بصیرت میں ان گزرے زمانوں کو اپنے اندر سمو کر ایک لطیف احساس میں تبدیل کر لیتا ہوں۔ اس سکول کی ایک اور خاص بات اس کے پھولوں کے باغیچے تھے۔ جہاں پر چڑیوں کی چہچہاہٹ صبح سے لیکر شام تک ایک لمحے کو بند نہیں ہوتی تھی۔فضا ، سیاہ بھنوروں اور شہد کی مکھیوں کی کی بھنبھناہٹ سے گونجتی رہتی تھی۔پھولوں کی رنگت اور ان کی خوشبو دونوں دلوں کو بہلاتے تھے۔ بیلا ، موتیا، چنبیلی، ڈھلیا، گلاب ، گل داؤدی ، گل لالہ ،نرگس ۔۔پھولوں کی وہ کونسی قسم تھی جو ان باغیچوں میں موجود نہ تھی ۔ خاص طور پر بہار کے موسم میں تو جو روح پرور مناظر دیکھنے کو ملتے تھے ان کو میرا قلم لفطوں میں ڈھالنے سے عاری ہے ۔اور صبح جب ہماری کلاسیں شروع ہوتی تھی تو ایک کوئل کی کوک سے گونجتے سارے سکول کو میں آج بھی اپنے کانوں میں محسوس کرتا ہوں ۔ کوئل کی کوک میں جو جذ بات کی شدت ہوتی ہے اسے محسوس کرنے کیلئے کوئی صاحب ذوق ہونا ضروری نہیں ہے ۔جب ہم پانچویں جماعت میں پہنچے تو وظیفہ کے امتحان کی اہمیت کو اس طرح پیش کیا گیا تھا کہ مجھے وہم کی حد تک یقین ہو گیا تھا کہ بس اس امتحان سے گزر گئے تو باقی زندگی میں بس آرام ہی آرام ہے۔ماسٹر عطا محمد صاحب نے ناصرف سال کے شروع میں اس امتحان میں بیٹھنے والے بچوں کا سیکشن الگ بنا کر ان پر خصوصی توجہ دینی شروع کر دی تھی بلکہ ان بچوں کو سکول ٹائم ختم ہونے کے بعد بھی پڑھاتے تھے۔ اور ریاضی اور املا جیسے مضمون اتنی بار دھراتے تھے کہ ہمیں ہر حرف اور ہر سوال کا صفحہ تک زبانی یاد ہو گیا تھا۔ وظیفہ کا یہ امتحان جہاں تعلیمی استعداد اور قابلیت جانچنے کا ایک پیمانہ تھا۔ وہاں طلبا میں اردو کی بہتری کا بھی ایک ذریعہ تھا کیونکہ اس امتحان میں املاء پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے کے لئے، پہلے اپنے زون اور اس کے بعد تحصیل کے سکولوں کے طلبا کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑ تا تھا۔ اور ان میں سے کامیاب امیدوار وں کو وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے کا موقع ملتا تھا۔ اس امتحان کی تیاری کیلئے سکولوں کے درمیان زبردست مقابلہ ہوتا تھا اور اس میں سبقت لے جانے والے سکولوں کے اساتذہ کی قدر وقیمت پورے شہر میں کی جاتی تھی۔ یہ اس دن کی بات ہے جس دن عطا محمد صاحب نے وظیفے کے امتحان سے ایک دن پہلے تحصیل لیول پر کامیاب ہونے والے طلبا کو جمعہ والے دن بھی سکول بلا رکھا تھا۔ ہم کوئی بیس کے قریب طلبا ایک گراؤنڈ میں جمع تھے ۔ ماسٹر صاحب نے ایک ٹسٹ حل کرنے کو دیا ، جو میں نے چند منٹ میں حل کر ڈالا اور حل کرنے کے بعدبہار کی آمد پر کھلنے والے پھولوں اور فضا میں بسی ان کی خوشبو کو محسوس کرنے لگا۔ کچھ دور میناؤں کا ایک گروہ کسی کھانے والی چیز پر لڑ رہا تھا ۔ مینا کو ہماری عام زبان میں شارق کہا جاتا ہے۔پندرہ بیس شارقیں کبھی زمین پر جھپٹتیں اور کبھی ایک دوسرے پر اور ان کی آپس میں لڑائی اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے اور چیختی چلاتی ایک دوسرے کو اپنی چونچوں سے  ماربھگانے کا منظر دیکھنے کے لائق تھا۔۔ ایک زمانے میں ہمارے گھروں میں بکثرت دکھائی دینے والا یہ پرندہ فصلوں پر  جراثیم کش ادویات کے بے تحاشہ  استعمال سے اب ناپید ہوچکا ہے بلکہ اس کو دیکھے مدتیں بیت جاتی ہیں۔ شارقوں کی دو قسمیں ہوتی تھیں ایک جس کی چونچ کے اختتام پر چھوٹی سی سفید کلغی ہوتی ہے اور دوسری قسم میں اس کی کلغی کی رنگت پیلی ہوتی ہے۔ پیلی والی کے بارے میں لوگوں میں مشہورہے کہ یہ حرام ہے۔ شائد اس کوکو حرام قرار دینے کی وجہ وہ ہمدردی ہے جو اس کی چھوٹی جسامت اور اس کی کی شکل میں معصومیت کی وجہ سے پائی جاتی ہے۔ لیکن سفید والی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا شکار کیاجاسکتاہے اور کھایا بھی جا سکتا ہے۔حقیقت کیا ہے ؟ اس بارے میں کبھی نہیں جان سکا۔ ایک بار ایک دوست نے ایک گوند لا کر دی کہ اگر کسی گتے پر لگا کر اس کے اوپر روٹی کے ٹکڑے ڈال دئے جائیں ۔ تو جب پرندہ کھانے کیلئے اس پر بیٹھتا ہے تو اس کے پاؤں اس میں چپک جائیں گے۔ لیکن میں نے جس گتے پر وہ گوندرکھی اس پر شارق آکربیٹھی بھی اور اس کے پاؤں بھی چپک گئے تھے لیکن اس نے زور لگایا اور میری حد سے نکل گئی۔بعد میں اس کے ساتھ کیا بیتی، مجھے نہیں معلوم لیکن شارق پکڑنے کی میری حسرت کبھی دوبارہ پوری نہیں ہو سکی۔میں دیر تک ان شارقوں کو آپس میں لڑتے جھگڑتے دیکھتا رہا۔یکایک شاقوں کے اس گروہ کی حدود میں ایک کوا گھس آیا ۔ شارقوں نے آپس میں لڑنا ختم کر دیا اور مل کر اس کوے پر حملہ کر دیا اور اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔کچھ دیر بعد شائد وہی کوا اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ آگیا اور مال غنیمت میں حصہ کا دعوی کرنے لگا۔ لیکن شارقوں نے اس شدت سے ان پر حملہ کیا کہ سارے کے سارے کوے بھاگنے پر مجبور ہو گئے ۔ اور میں آج بھی ان شارقوں سے حاصل کئے گئے اس سبق کو بھول نہیں پایا کہ آپس میں لاکھ رنجشیں سہی مگر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا ہے۔ کیا ہم بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے ان پرندوں سے بھی کمتر ہیں کہ ہمارا دشمن بھی ہمیں متحد نہیں کر پاتا۔
میم۔ سین