Thursday, November 14, 2013

ادھورے خواب


ہم ادھورے معاشرے کے ادھورے لوگ ہیں۔ جن کی خواہشیں بھی ادھوری اور خواب بھی ادھورے ہیں۔ ہم برائی کے خلاف لڑنا بھی چاہتے ہین تو ادھورے منصوبوں کے ساتھ، نیکی بھی کمانا چاہتے ہیں لیکن ادھورے جذبوں کے ساتھ۔ ہم کب مکمل ہوں گے؟ ہم کب احساس کے سمندر سے پانی کی بوندیں کو اپنے جسموں پر بہانے کے قابل ہونگے، شائد ایک یہی سوال ہے جس کا جواب ابھی تک تشنہ لب ہے۔ بات جہیز  لینے کی نہیں ہے بلکہ معاشرے کے  اس تضاد کی ہے جس میں ہم سانسیں لے رہے ہیں۔ بات جہیز دینے کی نہیں ہے بلکہ ان سماجی رسوم کی ہے جس کے ساتھ ہم جکڑے ہوئے ہیں۔جہیز کی لعنت معاشرے کی تکمیل کے بغیر ختم نہیں ہوسکتی۔ اور معاشرہ نام ہے انصاف، عزت نفس اور شرافت کے ساتھ رہنے کا۔معاشرے کی تکمیل اس وقت تک  نہیں ہوسکتی جب تک اس کی تہذیبی اکائی کی بنیاد انسانیت پر نہ ہو۔ تہذیب خوبصورت ہوگی جب ہم زندگی کے ہر پہلو کو خؤبصورت بنائیں گےلیکن جس تہذیب کی بنیاد میں جھوٹ اور فریب کی چھینٹے ہوں ، جس ثقافت پر ناانصافی اور نظریاتی الجھنوں کے بادل ہوں، وہاں تہذیبی قدروں کی بات کرنا ہی بے معنی ہے ، تکمیل انسانی کا درس  لاحاصل ہے۔  جہیز کو لعنت قرار دینے سے پہلے ، جہیز پر تنقید کرنے سے پہلے معاشرے کے ان پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے جس نے ہمارے گرد کسی آسیب کی طرح ایک ھیولہ بنا رکھا جس میں ہمارا اجتماعی اور انفرادی کردار کسی دھندلکے کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسی ان دیکھی رویات ہیں جن سے دامن چھڑانا ہمارے بس میں نہیں رہتا۔ ایسے ہی بے شمار رشتے ہیں جو ہمیں مجبور کر دیتے ہیں۔ جہیز کے خلاف نعرہ بلند کر دینے سے پہلے ہم ایک حقیقت نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ہم نہ تو ایک فلاحی معاشرے مین رہ رہے ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس اسلامی حمیت اتنی ہےکہ ہم اس کی خاطر ان رسم ورواج کے خلاف  علم بلند کر سکیں۔ اور جب معاشرتی حقائق کا ادراک کئے بغیر ہم تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر جو نتائج حاصل ہوتے ہیں وہ بہت بھیانک اور درد سے بھرپور ہوتے ہیں۔ایک ایسا انجام جو عورت کو اس کی اپنی ہی نظر میں حقیر بنا دیتا ہے ۔جو اس کی زندگی کو ہر جذبے اور احساس سے خالی کر دیتا ہے۔اور ایک انتقام کی جلن کسک بن کر اس کے وجود میں پروان چڑھتی رہتی ہے۔عورت کی سب سے بڑی دشمن عورت ہے اور عورت ہی اس بیماری کا کوئی حل ڈھونڈنے میں رکاوٹ ہے۔ بات صرف لڑکے کی جانب سے قدم اٹھانے کی نہیں ہے، بات صرف جہیز لینے سے انکار کا حوصلہ پیدا کرنے کی نہیں ہے۔ بات تو اسی معاشرے میں ان دلیرانہ اقدام کے بعد رہنے کی ہے۔رائج قوانین سے رو گردانی سے معاشرتی قوانین کی رگ حمایئت کے بھڑک اٹھنے پر ان کا سامنا کرنے کی ہے ۔ بڑے بھائی کی بیوی جب جہیز کا ٹرک گھر لیکرآتی ہے اور چھوٹا بھائی جہیز کو لعنت قرار دے کر لینے سے انکار کرتا ہے تو کیا بھابھیاں  جینے دیں گی؟؟؟ کیا ساس کے طعنے اس کی فطرت سے نکل سکیں گے؟ جہیز کا المیہ عورت کا ہے اور عورت کا ہی پیدا کیا ہوا ہے۔ اور اس کا حل مرد کیسے ڈھونڈ سکتا ہے؟؟ مسئلے کا حل صرف جہیز سے انکار نہیں ہے بلکہ اپنی خاندانی روایات کے خلاف بغاوت بھی ہے۔ عورت کو ایک الگ گھر لیکر دینے کیلئے بھی مہم سازی کی ضرورت ہوگی۔جہیز سے انکار سے پہلے لڑکے کو اپنی مالی حیثیت کو بھی اتنا مضبوط کرنا ہو گا جس میں وہ لڑکی کو خاندانی مایوسی اور طعنوں سے تحفظ بھی دے سکے۔اسے اپنی وارفتگی سے آگاہ کرنا ہوگا۔معاشرے کی طرف سے دلائے گئے احساس محرومی کے ازالے کیلئے اس کی دکھی روح کو سہارا بھی دینا ہوگا۔لیکن کیا ہم میں اتنا حوصلہ ہے کہ ہم ہوا کی مخالف سمت سفر کر سکیں؟سماج کے بنائے ہوئے اصولوں کو چیلنج کر کے ان کا دفاع کر سکیں؟ آندھیاں آئیں یا طوفان ان کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹ جانے کا حوصلہ ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جہیز کے شکنجہ کی ایک بڑی وجہ مشترکہ خاندانی نظام ہے۔ کیا مشترکہ خاندانی نظام کے خلاف لڑنے کا بھی کوئی عزم ہے ؟مشترکہ خاندانی نظام کی خواہشوں، تمنائوں، اور امیدوں کا گلا گھونٹنے کی بھی سکت  ہے؟؟ ۔ عورت نے اسی معاشرے میں رہنا ہےاسی دوغلے اور منافق معاشرے کی موشگافیوں کے ہمراہ جینا ہے ۔ مرد مضبوط ہو بھی جائے تو کیا ہوا؟ عورت نے تو معاشرے کے بے آبرو اور بے پردہ درد کو سہنا ہے۔ ماں باپ سے لیکر سسرال کے طعنوں کو جھیلنا ہے، بھابھیوں ، دیور ، جیٹھ، کے ساتھ معرکہ آرائی میں نبرد آزما ہونا ہے۔ لڑکے کے تایا ، چچا، پھوپھیاں بھی  میدان میں ہونگی ۔ دور کے رشتوں کا تو ابھی ذکر ہی نہیں ہے۔ اور لڑکی کے والدین نے بھی خاندان والوں کو جواب دینا ہے۔۔کیا سماج کی سیاہ چادر میں دفن ہونے سے وہ خود کو روک پائی گی؟  ہمیں صرف جہیز کے خلاف ہی نہیں بلکہ صدیوں سے قائم رویات کو بھی توڑنا پڑے گا۔ ۔لیکن کیا لڑکے کے یہ سارے انقلابی اقدام ان سارے لوگوں کی زبان بند کر سکے گا جن کے سوالیہ لہجوں میں طنز کا زہر زیادہ غالب اور آگہی کی طلب کم ہوتی ہے لڑکی کے گر دکسی پر آشوب اژدھے کی طرح پھن پھیلائے ساری عمر تعاقب کرتے ہیں۔
میم سین
نومبر 14، 2013

Thursday, November 7, 2013

بلا عنوان

ایک مشہور مصنف نے کہیں لکھا تھا کہ "اپنا پہلا افسانہ لیکر ایک ادبی مجلے کے ایڈیٹرسے ملنے گیا تو ، افسانہ پڑھنے کے بعد ایڈیٹر نے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے چھاپنے کا عندیہ دیا ۔ میں نے جب معاوضے کی بات کی تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو قارئین کی پسند اور تنقید پر منحصر ہے۔اور میں نے واپس آکر اپنے دوستوں کو اس کام پر لگا دیا کہ وہ افسانہ کے بارے میں تعریفی کلمات اور مراسلے ایڈیٹر کے نام بھیجیں۔اور جب ایڈیٹر صاحب سے دوبارہ ملاقات کیلئے گیا تو مجھ سے مخاطب ہو کر اپنی حیرت سے آگاہ کیا کہ ہمارا رسالہ اتنا بکتا نہیں ، جتنا پڑھا جاتا ہے اور مجھے باقاعدگی سے لکھنے کی درخواست کی تو مجھے ان کی بات سمجھ میں آگئی کہ میری ترکیب کامیاب ہوگئی ہے
کچھ ایسی ہی کہانی  ہمارے ایک عالم دین کے ساتھ جوڑی جاتی ہے۔جن کو ایک اہم شخصیت کی مداخلت پر پی ٹی وی پرایک دینی پروگرام پیش کرنےکی ذمہ داری سونپی گئی۔لیکن جس دن پہلی قسط نے نشر ہونا تھا ، کچھ ناگزیر وجوھات کی بنا پر نشر نہ ہوسکی۔لیکن اگلے چند دنوں میں بوریاں بھر کر تعریفی خطوط پروڈیوسر کو پیش کئے گئے تو پروڈیوسر کا ایک بار ماتھا ضرور ٹھنکا۔
کچھ ایسی ہی صورتحال ہمارے ہمسائیہ ملک میں ٹی وی پر ہونے والے گائیکی اور دوسرے مقابلوں کی ہے جس میں جب سامعین کے ووٹ کو کلیدی جگہ دی گئی تو پھر موبائل کی سموں کی فروخت میں اضافہ ہوگیا تھا۔بلکہ جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں کیلئے لوگ مہیا کرنے والوں کی طرح مقابلوں میں ووٹ مہیا کرنے کیلئے بھی ادارے وجود میں آگئے جو پیسے لیکر مطلوبہ ووٹ فراہم کرتے تھے
مجھے یہ سب باتیں اسلئے یاد آگئیں کہ چند دن پہلے ایک دوست کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا ۔ اسے کچھ کام تھا مجھے ڈرائینگ روم میں بٹھا کر خود کہیں چلا گیا ۔جہاں اس کا چھوٹا بھائی  لیپ ٹاپ پر مصروف تھا۔میں نے غور سے دیکھا تو چا رمختلف براؤذر کھلے ہوئے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی اور ان براؤذر کا مقصد پوچھا تو اس نے جواب دیا ۔ اس لئے کہ ایک براؤذر میں فیس بک کا  صرف ایک ہی اکاؤنٹ کھل سکتا ہے۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا تو اس کامطلب ہے کہ فیک اکاؤنٹ آپریٹ ہورہے ہیں ؟ ہم سے تو ایک اپنا اکاؤنٹ ہی سنبھالا نہیں جاتا اور  تم چار چار اکاؤنٹس کا انتظام کیسے سنبھالتے ہو؟ اس پر وہ مسکرادیا اورایک فائل کھول کر دکھائی جس میں کوئی پندرہ بیس کے قریب آئی ڈیز لکھی ہوئی تھیں اور ان کے سامنے ان کے پاسورڈ درج تھے۔ ابھی اسی ذہنی کشمکش مبتلا تھا کہ اس کے پیچھے کون سا راز پنہا ہے، اس نے خود ہی وضاحت کر دی کہ وہ ایک سیاسی تنظیم کے یوتھ ونگ کیلئے کام کرتا ہے ۔الیکشن سے پہلے ساری آڈیز استعمال میں تھیں لیکن آجکل صرف چار تک محدود ہے ۔
"سیف" انداز جہاں کا رنگ بدل جاتا ہے 
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نئی ہے
میم سین

Wednesday, November 6, 2013

بلا عنوان

ایک میاں بیوی بچے کو اٹھائے میرے کمرے میں داخل ہوئے اور پوچھا ڈاکٹر مبشر آپ ہی ہیں ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔ تو مرد نے سلام لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھا دیا ۔ اور بتایا کہ میں ہڑپہ سے آیا ہوں اور مہر بہادر علی کے منشی نے بھیجا ہے ۔اس سے پہلے پوچھتا کہ وہ کون ہیں؟ اس نے خود ہی جواب دے دیاکہ اس کے بیٹے کی بیماری کو آپ سے آرام آیا تھا۔انہوں نےبہت سے ڈاکٹروں سے اپنے بچے کا علاج کروایا تھالیکن کہیں سے بھی شفا نصیب نہیں ہوئی تھی لیکن آپ سے صرف ایک بار چیک اپ کروایا تو وہ ٹھیک ہوگیا تھا۔ بڑی تعریف سنی ہے آپ کی!! اس سے پہلے کہ وہ اپنے قصیدے کا رنگ کچھ اور بڑھاتا، میں نے مداخلت کی کہ کیسے آنا ہوا ہے ؟ تو اس نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو چیک کروانے آئے ہیں۔ میں نے اپنائیت کے ساتھ بیٹھنے کو کہا اور پوچھا کہ بچے کو کیا تکلیف ہے؟تو کہنے لگا کہ آپ کی بہت تعریف سنی ہے خود ڈھونڈ کر بتائیں کہ بچے کو کیا مسئلہ ہے؟ ۔سمجھانے کی کچھ کوشش کی کہ بیماری کی نوعیت کے بارے میں کچھ تو بتا دیں لیکن وہ مصر رہے کہ آپ خود پتا لگائیں۔پھر اپنے تجربے کی بنیاد پر پوچھنا شروع کیا کہ کوئی نہ کوئی سرا ہاتھ آہی جائے گا
 بخار تو نہیں ہو رہا؟
نہیں
کھانسی؟
نہیں
دستوں کی شکائیت؟
نہیں ہے
الٹیاں تو نہیں کرتا؟
نہیں
مٹی تو نہیں کھاتا 
نہیں
دودھ کون سا پیتا ہے؟
 بھینس کا پیتا ہے 
اب مجھے تشویش ہونے لگی کہ بظاہر کوئی بیماری بھی نہیں ہے اور صحت بھی اچھی ہے تو پھر کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ اور میرے سوالوں کے جواب میں زیادہ لب کشائی کے وہ قائل نہیں تھے۔ بلکہ میرے سوال ان کوناگوار گزر رہے تھے۔
کوئی خارش یا الرجی کی شکائیت تو نہیں ہے؟ 
نہیں
بھوک ٹھیک لگتی ہے؟
جی اسکا تو سارا دن منہ بند ہی نہیں ہوتا 
رات کو سکون سے سوتا ہے؟
جی ہاں ساری رات میں صرف ایک بار اٹھ کر فیڈر پی لیتا ہے۔
اب میں اپنی ناکامی اوراپنے  اوپر اعتماد اور یقین کے درمیان ملزم بنا بیٹھا تھا ۔ اور اس یقین کے بھرم کو قائم رکھنے کی خاطر بتایا کہ آپ کا بچہ بالکل ٹھیک ہے پھر بھی یہ ایک ٹانک لکھ رھا ہوں، کچھ عرصہ استعمال کروائیں ۔
مرد نے پرچی میرے ہاتھ سے پکڑی اور کچھ کہے بغیر بیوی اور بچے کے ہمراہ باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد وہ مرد میرے ڈسپنسر کے ساتھ دوبارہ اندر آیا۔ اور کہنے لگا فیس کس بات کی؟ ساری باتیں تو ہم سے پوچھیں اور اصل بیماری پھر بھی ڈھونڈ نہیں سکے۔ ہم لوگ تو اس لئےآئے تھے کہ اس کی پھوپھی نے شک کا اظہار کیا تھا کہ بچے کو تندوا ہے،جس کی وجہ سے  یہ زیادہ باتیں نہیں کرتا، اورآپ صحیح تشخیص نہیں کر سکے۔ میں نے ایک سرد آہ بھری اور ڈسپنسر کو کہا انہیں جانے دو۔ مرد نے میرا لکھا ہوا نسخہ میری میز پر پھینکا اور کمرے سے نکل گیا۔ اور میں دیر تک بیٹھا سوچتا رہا کہ میری غلطی کہاں پر تھی؟؟ کیا میں واقعی تشخیص کرنے میں ناکام ہوگیا تھا یا پھر اس کا ذمہ دار شعبہ طب کا وہ نظام ہے جو ڈاکٹرز کو نبض کے علوم  سکھانے میں ناکام ہے؟ نبض بھی مریض کی نہیں اس کے باپ کی
میم سین

تندوا= tongue tie

Wednesday, October 30, 2013

ارتقا (I)

جذباتی یا پھر نفسیاتی طور پر مرعوبیت ہماری فطرت میں شامل ہوچکی ہے یا پھر ہمارے اعصاب پر طاری ہے۔ہم لوگ اس قدر سہل پسند ہوگئے ہین کہ زندگی کے ہر معاملے میں Template کا سہارا مانگتے ہیں۔ اپنی کوئی سوچ نہین ہے، اپنا کوئی شعور نہیں ہے۔ہماری سرشت کی وسعت سرنگوں ہے۔ ہمارا شعور سوالی بن چکا ہے۔ ہمارا کردار حقیقتوں سے بے خبر ہے۔ تجزیے، تجربے، نتیجے سب قیاس پر مبنی ہیں۔ حقیقیتیں ہوتیں تو دیر پا ہوتیں، خیر لاتیں، ذہنی بالیدگی سے ہمکنار ہوتے۔ گلوبل ویلیج کے فلسفے پر عمل پیرا ، مسرتوں کے طالب جو نہیں جانتے کہ روح کی تسکین بھی کوئی معنی رکھتی ہے،کچھ جذبات جبلی ہوتے ہیں۔ روحانیت کی بھی ایک سیڑھی ہوتی ہے۔لیکن یہ سیڑھی ہمیشہ طبعی ضرورتوں کے ساتھ چڑھتی ہے۔معنویت اور مقصدیت سے بے خبر۔جن کے صرف جذبات مغلوب ہیں لیکن حقیقت سے خالی ہیں،جن کی سوچ صرف خواہشوں کے تابع ہے اوراپنی ان کے خواہشوں کے تعاقب میں بھٹکتا پھرتا ہے۔سرگرداں ہے۔جب خود صاحب رائے بن جائیں تو رستے اور منزلیں کہاں ملتی ہیں ؟ اور بھول جاتے ہیں کہ مرعوبیت کا شکار لوگ صرف شکوک و شہبات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ وہ کبھی تخلیق کے منظر کی لذت آفرینی سے آشنا نہیں ہوسکتے۔ وہ تو کھونٹے سے بندھے بیل ہیں۔لگام پکڑا کر چلنے کے عادی۔ لیکن جس دن کشش ثقل کے ساتھ سفر کی بجائے برعکس سفر کا آغاز ہوگیا اس دن اسباب بھی مل جائیں گے، تخلیق کا عمل بھی شروع ہوجائے گا، روح اور جسم کا رشتہ بھی قائم ہوجائے گا
میم سین

Monday, October 28, 2013

ارتقاء سے پہلے

سوال ہی سوال ہیں اور جواب بھی سوال ہیں
حیات جاودانی کیسے ملتی ہے؟
آب حیات کے حصول سے
آب حیات کہاں سے ملے گا؟
جہاں زیست اور موت میں تفاوت باقی نہیں رہتی
یہ لمحے کب نصیب ہوتے ہیں؟
جب خوابیدہ شبستانوں میں نیند تکلف کے معنوں سے آزاد ہوجائے
دوام زندگی کا پہلو پھر کیسے حاصل ہوگا؟
خرمن صبر و استقلال سے
یہ تو حدود وقیود کا تعین ہوا؟
بیش بہا بھید کھل جائیں تو شان دلربائی کیسی
پھر تو حیات جاودانی ، پیرھن کاغذی ٹھہرا؟
زندگی کسی سربسیدہ رازوں کی طرح پراسرارکیوں ہے؟ کبھی کسی قابل ستائش جذبوں سے ہمکنار تو کبھی کسی مہیب غار کی تاریکی کو لئے ہوئے کوئی گھمبیر خاموشی،کبھی ایسی شان بے نیازی کہ پاس کھڑے بھی قرب کا احساس نہیں تو کہیں سنگلاخ چٹانوں میں گم آ بلہ پا لیکن کسی آتشیں جذبے سے مغلوب۔ کبھی محبت کے جذبے کا ساتھ اور وجود کے دردیوار سحر زدہ، تو کبھی کبھی اداسی کسی منحوس طلسم کی طرح ایک ھالہ بنائے اداسیوں کی تہوں کی ایک قطار بساتی جارہی ہو۔لیکن زندگی کے مدوجذر نے تخریب کے عمل کو اس قدر مائل بہ عمل کررکھا ہے کہ جذبات کسی گلیشئر سے آتی سرد ہوا کے زیر اثر اپنا وجود یوں کھو بیٹھے ہیں کہ زندگی ، بقا، طلب، مقصد کسی سوالیہ نشان کی طرح ہر وقت نگاہوں کا تعاقب کرتے نظرآتے ہیں۔
عورت کا وجود ایک ٹشوپیپر کی طرح ہونا چاہیئے کسی سیاہی چوس کی طرح جو سب کچھ جذب کر لے لیکن احساس نہ ہونے دے۔ اسے صرف جذب کرنا چاہیئے لیکن وہ جب عمل اور ردعمل کے فلسفے کے ساتھ الجھ بیٹھے تو الزام کس کو دیا جائے؟؟۔ عورت تو دیوار گریہ ہے جس کے ساتھ لگ کر چند لمحوں کیلئے اپنے حزن ،ملال ، بے تابی ، کو اس دیوار میں جذب کر دینے کے بعد روح اور جسم کے رشتے کو برقرار رکھا جاسکے۔ خود فراموشی کی داستانیں کہاں گئیں۔؟
وصل کیا ہے؟ فراق کیا ہے ؟ کوئی ناطاقتی ہے یا فنا کا سفر ہے؟ شکست سے آگہی ہے یا پھر فتح کا خمار ہے ۔آرزو کیا ہے ؟ ، جستجو کیا ہے؟ وصل کی تمنا رکھیں یا فراق کی طلب کریں ۔وصل ایک گرد ہے جو تھم گئی ہے، فراق وہ قطرہ جو سیپ کا رستہ ڈھونڈتا ہے۔وصل وہ تناور درخت ہے جو اپنی شاخوں کو مٹیالی چادر بن کر اڑتے بادلوں کا سینا چیڑ کر گرتے قطروں کے آگے خود کو مجبور سمجھتا ہیے، اپنی ٹہنیوں کے ساتھ ،پہاڑوں کو تھپڑے لگاتی ،وادیوں ڈھلانوں کو چھوکر آتی  تیز ہوا کے جھونکوں کے آگے سر کو جھکا دیتا ہیں۔ فراق وہ بیج ہے جو شکست آشنا تو ضرور ہے لیکن ہار ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔کسی پر کی طرح تیرتا ہوا کسی نئی منزل کی تلاش میں لیکن ارادوں کو نگل نہیں سکتا۔ کیا یہ زندگی کا تضاد نہیں ہے ہم دریا دلی کی تو بات کرتے ہیں لیکن خود کوخش وخاک کی طرح بہہ جانے نہیں دیتے۔ہم فراق سے خوفزدہ ہیں لیکن وصل کی لذت کو بھی فانی سمجھتے  ہیں ؟ 
ذہنی بالیدگی بھی ایک المیہ ہے اور ایک لافانی المیہ۔ جب آپ زندگی کو مضبوطی سے دبوچ کر کرب سے نجات سے تگ دو کر رہے ہوتے ہیں۔چہرہ تھکن سے چور اور اعصاب کسی لڑکھڑاتے غمگین لہجے سے دوچار ہو اور سستانے کیلئے ایک جھٹکے سے زندگی سے دامن کو چھڑا کر پل بھر کو سانس لینے کیلئے آزاد ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس فرط وانسباط کیلئے آپ کا رواں رواں پھڑک رھا تھا۔وہ سب کسی اجنبی دیس کے مکین ہیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر آپ کسی نئی سمت کو نکل گئے ہیں اور اب تنہائی اور اداسی کا ایک لامتناہی سلسلہ آپ کیلئے دامن پھیلائے ہوئے ہے۔ خوداعتمادی کس بات کی؟ ہم تو قسمت کی لکیروں پر ناچ رہے ہوتے ہیں۔کیا ایسی دلربا چیزیں بھی اس دنیا میں آباد ہیں جن پر کبھی خزاں نہیں آتی، جو غیر فانی ہو؟ سب کچھ تباہ ہوجائے لیکن ان کی دلکشی برقرار رہے ان کا تناسب انتشار زدہ نہ ہو؟ہماری کوتاہیاں ہیں، کمزویاں ہیں یا شائد تساہل پسندی کہہ لیں لیکن ہم بھانجھ ہیں ۔ خیالات کے معاملے میں، جستجو کے ارادوں میں ، طلب کے حصول میں۔لیکن ہم پھر بھی زرخیز میدان دیکھنا چاہتے ہیں۔کیکڑ کے درخت سے سایہ مانگتے ہیں۔سرخ وسفید گلاب کے پھولوں کو ہمیشہ کھلا دیکھنا چاہتے ہیں ۔نیلگوں آسماں کے بہت قریب جاکر کسی حسینہ کی زلفیں سمجھ کر اپنے ہاتھوں سے چھونا چاہتے ہیں۔حسرتوں کی ایک آگ ہے جو دھک رہی ہے۔جن ذہنوں میں صرف خواہش ہو، وہاں تعبیر کی جستجو بھی ہوتی ہے وہ نہ ہو تو پھر وہاں صرف وہم ہوتے ہیں۔تو کیا اس شعوری بھانجھ پن کی موجودگی میں خواہشوں  کے آلاؤں جلانا حرص کے منہ زور گھوڑوں کی باگیں چھوڑ دینا ہے؟ طمع کی شعاؤں کو دھند لکوں سے نکال کر اسے وادیوں میں بکھیر دینا ہے ؟؟
میم سین

گیان ، دھیان، اور وہم

آجکل دل آوارہ گردی کیلئے مجبور کر رھا ہے۔ اپنی پہچان کھو کر کسی بھیڑ میں گم ہوجانے کو دل چاہتا ہے۔ خودساختہ ذمہ داریوں کو میں مانتا نہیں اور میرے اس فرار کو کوئی مانتا نہیں۔ میں نے زندگی میں کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے، حساب کتاب کا قائل نہیں ہوں لیکن پھر بھی اپنے ہونے یا نہ ہونے سے دنیا کو کیا فرق پڑتا ہے، جاننے کا خواہاں ہوں۔ موسم تبدیل ہورھا ہے ایک دوست کا کہنا ہے کہ انٹیکچوئل بننے کا زکام ہوگیا ہے، چند دن میں ٹھیک ہوجائے گا۔ لیکن یہ سلسلہ تو ایستھما یا السر کی طرح بڑھتا ہی جارھا ہے۔ مسئلہ بیزاری کا ہے جس نے فلسفہ کا سہارا لے لیا ہے۔ صوفیت کا للکارہ ہے ، گیان دھیان کا بندہ نہیں ہوں لیکن پھر بھی تشکیک کا شکار ہوں۔ زندگی کی معنویت سے ہمکنار تھا لیکن ذہنی بالیدگی نے تنہاہی کا شکار کر دیا ہے، ایک اجنبیت ہے،زندگی کے دوھرے معیار نے ایک کردار میں ڈھال دیا ہے۔ جو بغیر کسی سکرپٹ کے اپنا کردار ادا کر رہا ہو۔ کہانی کچھ اور ہے اور میں شائد کچھ اور ادا کر رھا ہوں۔ تماشائی تو شائد اس سے باخبر ہوں نہ ہوں لیکن مجھے احساس ہورھا ہے میں میں غلط سیٹ پر غلط کردار نبھا رھا ہوں۔اور میں اپنا کردار دوبارہ لکھنے کی کوشش کررھا ہوں۔ عمل تجدید سے گزرنا چاہ رھا ہوں۔ لیکن سرا ہے کہ کہیں کھو گیا ہے، رستے نظر آتے ہیں، لوگ بھی، کردار بھی، لیکن ان تک پہنچنے کا رستہ کہیں بند ہے ہے۔۔انسان کیا ہے؟ شعوری تجسس اور خودآگہی کا مرکب؟ وہ تو صرف دریافت کرتا رھتا ہے، اپنے آپ کو ، اپنی امنگوں اور خواہشوں کی حدوں کو؟ اس کی جستجو تو صرف ان بھیدوں کی تلاش ہے جو اس کے نذدیک نامعلوم ہیں۔۔ وہی اسرار جو ایک بعد ایک نئی چادر اوڑھے اس کے تجسس کو بھڑکاتے رھتے ہیں۔کہیں علم کی دنیا کو اپنے قلب پر ھاوی کرتا ہے تو کبھی وہ اپنے احساس، یا ایمان سے کام لیتا ہے۔ اس کیلئے تو اپنے آپ سے پڑے ہر چیز ایک راز ہے۔ وہ جنس مخالف ہو یا اس کا اپنا وجود، اس دھرتی کا وجود جس میں اس نے جنم لیا یا اس میں پائے جانے والے ارواح۔ ایک طرف اس مادیت کا کھوج ہے جس کیلئے استدلال ذہن سے ڈھونڈتا ہے اور دوسری طرف فکری کشمکش ہے جو حق اور باطل کے نام سے جاری ہے۔خواہشات کے تضاد کے ساتھ جنم لینا والا انسان گومگوں کے عالم میں تنہا سرگرداں نظر آتا ہے۔وہ اس علم پر یقین رکھے ؟جو اس کے حواس خمسہ دے رہے ہیں یا اس وجدان پر یا اس ایمان پر جو اس کے اندر سے بیدار ہورھا ہے یا اس کی گٹھی میں ڈال دیا جاتا ہے۔زندگی کیا ہے اور اس کی ضروریات کیا ہیں؟ بدمستیاں کہاں سے شروع ہوتی ہیں اورعیاشی ضرورت کو کب عبور کرتی ہے؟ہمارا علم اس قدر باریکیوں میں تقسیم ہے کہ ہمارے اندر نافہمی کا ایک سمندر موجزن ہے۔تقلید کی اندھا دھند پیروی پر تنقید کرتے ہوئے جب ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دے، حواس جب علم سے بہرہ ور نہ ہوسکیں تو تقلید نہ ڈھونڈیں تو کب تک مخمصوں میں پھنسے رہیں۔علم تو وہی ٹھہرا جو ترقی کا سفر دکھاتا ہو، جن کی تصدیق حواس خمسہ کی گواہی ہو۔تپنے صحراؤں ، گھنے جنگلوں ، صعوبتوں کے صحرا کے سفر کس کام کے؟؟؟
میم۔سین

شادیاں

ان دنوں شادیوں کا سیزن اس قدر عروج پر ہے کہ لگتا ہے اس بار کوئی کنورہ باقی نہیں رہے گا۔ چند روز سے ان شادیوں کی وجہ سے سڑکوں پر صرف بارات کی گاڑیوں کا راج ہے۔ کسی بھی شعبہ زندگی کے متعلق کوئی کام درپیش آجائے تو جواب ملتا ہے چند دن انتظار کر لیں بس یہ ایک دو شادی والے گھروں کے کام نبٹا لیں پھر آپ کا کام بھی کئے دیں گے۔ ابھی کل کی بات ہے ،دو تین کے ہاں حاضری لگائی اور مبارک باد دے کر رخصت چاہی۔لیکن پھر بھی تین جگہ میزبانوں کے اصرار پر کھانا کھائے بغیر نہ بنی۔ ایک نوجون دلھے سے پوچھا کہ سناؤ بھائی کیسا لگا شادی کے بعد ؟ دلھا میاں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو رھے تھے فوراً بولے میں تو اتنا شاداں ہوں کہ سوچتا ہوں ،پہلے شادی کیوں نہ کی۔ دلھے کی یہ بات سن کے میز پر بیٹھے ایک بزرگ بڑبڑائے کوئی بات نہیں بیٹا چھ ماہ بعد جملے میں سے "نہ" کا لفظ بھول جاؤگے 
میم سین