Thursday, May 21, 2015

قلم 3

ڈیڑھ ماہ کے بچے کے معائنے کے بعد ساتھ آنے والے جوڑے کو میں نے بتایا کہ بچے کو کوئی بیماری نہیں ہے بس کچھ سنبھالنے کی غلطیاں ہیں ۔ اکثر پہلے بچے میں مائوں سے ایسی غلطیاں ہوجاتی ہیں ۔
 ویسے اس سے پہلے آپ کے کتنے بچے ہیں؟
ساتھ آئے  نے بتایا
!!!!ماشااللہ یہ ہمارا تیرھواں بچہ ہے
میم سین

قلم2

اماں جی کو دوائیاں لکھ کر دیں اور جب میں تاکید کر رھا تھا کہ یہ دوائیاں جاری رکھنی ہیں۔ایک ماہ سے پہلے دوائی بند نہیں کرنی ہے
۔ تو اماں جی بولیں کہ بیٹا کوئی قبض کیلئے بھی دوائی لکھ دو۔ کئی کئی دن پخانہ نہیں آتا۔
 اماں کچھ اونچا سنتی تھیں اسلئے جب میں نے کہا کہ آجکل خربوزوں کا موسم ہے وہ کھایا کریں ۔قبض کیلئے اچھا ہوتا ہے۔
 پوچھنے لگیں کیا کھاؤں؟؟ 

اس سے پہلے میں اپنی بات دھراتا۔اس کی بہو جو پاس ہی بیٹھی تھی اس کے کان میں اونچی آواز میں بولی۔ چاچی کل شام بھنڈی پکائی تھی اور تم نخرے کر رہی تھی۔ ڈاکٹر کہہ رھا  ہےکہ بھنڈی زیادہ کھا یا کرو۔
میم سین

قلم

پانچ چھ ماہ کے بچے کو چیک کرنے کے بعد اس کی ماں کو بتایا کہ بچے کو  داخل کرنا بڑے گا .ایک تو بیماری زیادہ ہ پرانی ہے اوپر سے بچہ بھی بہت کمزور ہے۔پانی کی کمی ہے اس لئے بوتل اور انجکشن لگانا پڑیں گے۔ میری بات سن کر بچے کی ماں کے ساتھ آنے والی عورت فوراً بولی ۔ڈاکٹر صاحب آپ نے جو کرنا ہے وہ کریں ہمیں آپ پر بڑا اعتماد ہے۔ میں نے اپنے بچے کا علاج آپ سے کروایا تھا ۔ بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔ لیکن آپ کے علاج سے ماشااللہ آپ کی طرح موٹا ہوگیا ہے۔
آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔کھانے کا لقمہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رھا۔۔۔
میم سین

Wednesday, April 1, 2015

ایک انکشافی کالم


سوشل میڈیا کی آمد کے ساتھ ایسی ہوا چلی ہے کہ دانشوروں کی لائن لگ گئی ہے۔بڑے بڑے مفکر پیدا ہوگئے ہیں۔شاعر اور ادیب دھڑادھڑ جنم لے رہے ہیں۔جن افراد کو بھی دن بھر بے کار پھرتے دیکھا کرتے تھے، وہ اب اپنے بے لاگ تبصروں اور تجزیوں سے خوب داد سمیٹ رہے ہیں۔۔ایسے افراد بھی جنہیں گھریلو معاملات میں مشورے کے وقت کمرے سے باہرنکال دیا جاتا تھا، اب بہت بڑے تجزیہ  نگار بن چکے ہیں۔یمن پر سعودی حملوں کے بعد پاکستانی فورسز کی شمولیت کی خبروں کے بعد بدلتی صورتحال کے پیش نظر سوشل میڈیا میں مفکرین اور تجزیہ نگاروں کے تبصرے پڑھنے کے بعد میں بھی اس وبا سے خود کو محفوظ نہ رکھ سکا اور فری لانس تجزیہ نگار ہونے کا ٹھپہ لگوانے کا فیصلہ کرلیا۔
اس کے باوجود کہ ہر طرح کے تجزیے اور تبصرے تیار شدہ حالت میں دستیاب ہوتے ہیں اور انہیں الفاظ کے ہیرپھیر اور چند جملوں کے ردوبدل سے آپ اپنے نام سے قابل اشاعت بنا سکتے ہیں لیکن میں نے صحافتی دیانت داری کا ثبوت دیتے ہوئےحقائق جمع کرنے کیلئے عوام تک رسائی کا فیصلہ کیا۔

چونکہ میرےعلاقے کی معیشت کی بنیاد زرعت پر ہے اور گندم کی فصل ابھی پکنے میں کچھ وقت لگےگا اس لئے معاشی حالات کچھ اچھے نہیں ہیں ۔اور علاقے میں ہونے والی چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعدیمن کا اصل مسئلہ سمجھنے کیلئے لوگوں کی کسی بین الاقوامی مسئلے پر رائے حاصل کرناداعش کے کسی مقبوضہ علاقے کی رپورٹنگ کرنے سے کم خطرناک نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی حقائق اور انکشافات تک پہنچنے کیلئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہوئے یہ رسک لینے پر تیار ہوگیا۔
سب سے پہلے مہر امین سے رابطہ کیا ۔ کیونکہ یمن کی صورتحال کے حوالے اس سے مستند رائے کسی اور کی نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ امین صاحب عمان میں پورے اٹھارہ سال تک ویلڈنگ کا کام کرتے رہے ہیں اور یمن کے ہمسائے میں رہنے کی وجہ سے وہاں کی سیات پر ان کی گہری نظر رہی ہوگی۔میرے پوچھنے پر انہوں نے انکشاف کیا کہ معاملہ نہ سنی شیعہ کاہے اور نہ ہی کوئی حملے کا خطرہ ہے بلکہ یہ سعودی اور یمنی شاہی خاندانوں کے درمیان بچوں کے رشتوں کا تنازعہ ہے جس نے عالمی جنگ کارخ اختیا رکر لیا ہے
سولہ سال تک سعودی عرب میں ٹرک چلانے والے محمد بشیر نے ایرانی مداخلت کو یکسر مسترد کر دیا اور بتایا کہ ایران اور یمن کے درمیان، سعودی عرب میں سے کوئی سڑک نہیں گزرتی۔
خانہ کعبہ کے سامنے سب سے زیادہ سیلفیاں بنوانے کا اعزاز حاصل کرنے والے محمد اسد نے اسے یہودی سازش قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکومت سے شاہین میزائل فوری طور پر سعودی عرب پہنچانے کیلئے کی درخواست کی۔ 
دوبئی میں مقیم علی عباس صاحب جو آجکل چٹھیوں پر پاکستان آئے ہوئے ہیں ،ایرانی مداخلت کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی تو کوئی سرحد نہ تو سعودی عرب سے ملتی ہے اور نہ ہی یمن کے ساتھ۔ ایران کو اس معاملے میں گھسیٹنا انتہائی بچگانہ الزام ہے۔
محمد پرویز صاحب تھانوں کچہریوں کے معاملات میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے۔ سعودی عرب کو چا ہیئے جیسے جنرل ضیا نے ہیروئین کا جہاز بھر کر امریکہ بھیج دیا تھا ایسے ہی امریکہ کے اندر انتشارپھیلانے کیلئے کوئی کام کرے۔
چاچا پسوڑھی کے نام سے مشہور ہر دلعزیز شخصیت سے رائے لینے گئے تو اپنے بچے کا پیمپر تبدیل کر رہے تھے اس کام سے فارغ ہوئے تو ان کے انکشافات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یمن اور سعودی عرب کے بارڈ پر ایک پہاڑ دریافت ہواتھا جو کہ مکمل سونے کا تھا۔ ایران نے جب یمنی سرحد کی طرف سے اس پر قبضہ کرنے کی سازشیں شروع کیں تو سعودی عرب یمن پر حملہ کرنے مجبور ہوگیا۔
اسلم صاحب جو کئی سالوں سے علاقے میں حمام چلا رہے ہیں۔نے اس معاملے پر رائے دینے کیلئے بیوی کی مداخلت کے ڈر سے مجھے اپنے گھر سے باہر لے آئے اور اسے عالمی صیہونی سازشوں کا ایک حصہ قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ امریکہ عربوں کو جنگ میں پھنسا کر ویتنام کی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔
لیکن اکرم جٹ کے لڑکے نے جو کئی سالوں سے علاقے میں سبزی کی چھابڑی لگا ررھا ہے حیرت انگیزانکشاف کیا کہ صدام حسین نے امریکی حملے سے پہلے ایٹم بم یمن کو فروخت کر دیے تھے جو اب باغیوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ اور سعودی خفیہ اداروں کو جونہی اس بات کا علم ہو ا انہوں نے فوراً یمن پر حملہ کر دیا۔
لیکن بشیر پنکچر شاپ والے کی رائے کچھ مختلف ہے ۔اس کا کہنا ہے نیا سعودی شیخ سلمان پہلے حکمرانوں سے بہت مختلف ہے۔ یمن پر سعودی حملہ دراصل اسرائیل کی طرف سعودی پیش قدمی کا پہلا قدم ہے۔ جونہی یمن پر قبضہ مکمل ہوا تو وہ اسرائیل پر حملہ آور ہوجائے گا۔
چوہدری کریانے والے رفیق صاحب کا کہنا ہے سارا کھیل امریکی اسلحے کی فروخت ہے۔ چونکہ سعودی عرب نے پاکستانی وزیراعظم کو بلا کر پاکستانی اسلحہ خریدنے کی پیشکش کی تھی بلکہ ایڈوانس پیسے بھی پکڑا دیئے تھے ۔لیکن امریکہ نے غلط اطلاعات دے کر اسے یمن میں پھنسا دیا ہے۔اب یمن سعودی عرب کیلئے افغانستان ثابت ہوگا۔انکشافات تو ابھی اور بھی بہت سے موجود ہیں لیکن کالم کا  حجم زیادہ بڑھنے کے ڈر سے آئیندہ کسی کالم میں شائع کئے جائیں گے
ضروری نوٹ

اس کالم میں چھپنے والے تمام انکشافات کے حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں۔ کسی بھی تجزیے یا تبصرے میں شامل کرنے سے پہلے مصنف سے اجازت لینا ضروری ہے۔ بلا اجازت استعمال کی صورت میں کسی بھی قانونی کاروائی کا حق مصنف محفوظ رکھتا ہے ۔
میم سین

Saturday, March 28, 2015

میرے قلم سے

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ممتا کے مسائل بھی عجیب ہوتے ہیں جن کو سمجھنا آسان کام نہیں ہے ۔وہ اپنے بچوں کو ہمیشہ پہلے درجے پر دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔بچوں کی ناکامی ماں اپنی ناکامی سمجھتی ہے۔۔لیکن مقابلہ بازی اور غیر صحت مندانہ تقابل کی وجہ سے غیر ارادی طور پر ممتا شدت پسندی کا روپ ڈھال کر ایک مضحکہ خیز شکل اختیار کر لیتی ہے۔۔۔
اس کے چچا کے بیٹے کے دانت تو ساتوں مہینے نکل آئے تھے لیکن ہمارا ببلو تو نو مہینے کا ہوگیا ہے لیکن ابھی تک ایک بھی دانت نہیں نکالا۔
ہمارا مون دو لفظ بھی صحیح طرح سے ادا نہیں کرتا اوراس کی پھوپھو کی بیٹی  اس کی ہم عمر ہے اور فر فر بولتی ہے۔
حامد صاحب کا بچہ چھ سال کا ہے اور دوسری جماعت میں ہے لیکن ہماراچاند بھی تو اس کا ہم عمر ہے لیکن ابھی پہلی جماعت میں ہے۔
ایک خاتون اپنے بچے کو میرے پاس لیکر آئی اور کہنی لگی کہ اس کو کیلشیم کی کمی ہے کوئی اچھا سا کیلشیم کا شربت تو لکھ دیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ محترمہ آپ کو اس کمی کا کہاں سے علم ہوا ؟تو تو کہنے لگی یہ مٹی جو بہت کھاتا ہے۔
ایک خاتون کا کہنا تھاکہ بچہ ویسے تو سب کچھ کھا لیتا ہے لیکن انڈہ شوق سے نہیں کھاتا کوئی ایسی دوائی دیں کہ یہ انڈہ شوق سے کھانا شروع کردے۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا ، ہوسکتا ہے یہ اپنے ننہیال سے پیار کم کرتا ہو اس کی دوا بھی ساتھ ہی لکھ دیتا ہوں۔
ایک خاتون اپنی تین سالہ بچی کیلئے دوائی لینے آئیں کہ یہ بستر پر پیشاب کر دیتی ہے۔ میں نے پوچھا تو آپ چاہتی ہیں کہ یہ کموڈ کا ستعمال شروع کردے؟

ایک خاتون کا کہنا تھا اس کے بچے کیلئے کوئی ایسی دوائی تجویز کریں کہ اس کا دل پڑھائی میں لگنا شروع جائے۔ میں نے بے ساختہ پوچھا کونسے مضمون میں دل نہیں لگتا تاکہ اس کے مطابق دوائی تجویز کروں۔
آٹھویں جماعت کی ایک بچی کے بارے میں جب اس کی ماں نے انکشاف کیا کہاس کی بھوک پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے اور سونے سے پہلے اپنا فیڈر مکمل نہیں کرتی۔ میں نے بے ساختہ پوچھا پہلے یہ بتائیں۔ اس کے ابا نے فیڈر چھوڑ دیا ہے؟
ایک خاتون چھ ماہ کے ایک بچے کے ساتھ جس کاوزن دس کلو تھا ۔ اس شکائیت کے ساتھ لائی تھی کہ اس کی بھوک پہلے سے بہت کم ہوگئی ہے اور صحت بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔
میم سین

Wednesday, March 4, 2015

کچھ پرانی باتیں

پچھلے پندرہ سالوں  کے دوران ہمارے رویے، ترجیحات اور اقدار بہت کچھ بدل گیا ہے۔زندگی کا قدرتی پن اور بے ساختگی پہلے جیسی نہیں رہی ہے۔لیکن یہ زمانہ طالب علمی کی بات ہے۔ اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر بچوں کی کمنٹس بک سے متاثر ہو کر ایک سروے بنایا ۔جس میں ہر شعبہ زندگی سے متعلق سوال رکھے گئے تھے۔جیسے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ نظام یا عوام؟ اگر آپ کو پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں رہنے کی آپشن دی جائے تو کس ملک کا انتخاب کریں گے؟اگر آدھی رات کو آپ کے گھر کے دروازہ پر گھنٹی بجے اور دروازہ کھولنے پر کوئی اجنبی لڑکی ہوتو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ امتحان سے ایک دن پہلے پیپر آپ کے ہاتھ لگ جائے تو کیا کریں گے؟ اگر ایک دفتر میں کلین شیو اورایک باریش کلرک موجود ہو تو مدد کیلئے کس سے رجوع کریں گے؟ اگر ایک دن گداگری کرنی پڑے تواچھی کمائی کیلئے لاہور میں کس جگہ کا انتخاب کریں گے؟ مرد اور خواتین اساتذہ میں سے کس کے ساتھ اپنے مسائل پر تبادلہ خیال میں آرام دہ محسوس کرتے ہیں؟ کسی مسئلے پر ننھیال یا ددھیال میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے توکس کا انتخاب کریں گے؟ 
یہ سوال نامہ اپنے دوستوں اور قریبی حلقہ احباب میں تقسیم کیا گیا ۔ کچھ نے واپس کئے کچھ نے نہیں۔ اگرچہ نتائج بھی تیار کئے تھے لیکن وقت کی گرد میں کہیں کھو گئے۔چند دن پہلے پرانی فائلیں جھاڑتے ہوئے اس سروے فارم کے کچھ بچے  کھچے اوراق ملے تو باقی نتائج اپنی جگہ لیکن ایک نتیجے نے مجھے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ۔اگر ایک دفتر میں کلین شیو اورایک باریش کلرک موجود ہو تو مدد کیلئے کس سے رجوع کریں گے؟تو پچپن میں سے ترپن نے باریش کے حق میں رائے دی تھی۔ کل ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں سوال اور اس کے نتائج پراپنی حیرت کا اظہار کیا تو میرے دوست نے بڑی مختصر لیکن بڑی جامع بات کی۔ کہنے لگے۔اس سوال پر آج بھی رائے عامہ شائد زیادہ مختلف نہ ہو۔آج بھی ایک عام آدمی دکانوں پرمعاملات ہوں، رستہ پوچھنے کی باری ہو، یا پھر کوئی مشورہ درکار ہو۔ہمیشہ باریش انسان کو ترجیع دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ فطرت کی طرف جھکتا ہے۔اور داڑھی فطرت سے ہے۔اسی لئے اسلام میں داڑھی رکھنے کی ترغیب اور حکم دیا گیا ہے کیونکہ اسلام خود دین فطرت ہے
میم سین

Tuesday, March 3, 2015

ایک مردِ درویش کی وضاحت

میں مزاح پر یقین رکھتا ہوں۔اس لئے اگر میری اپنی  کوئی حرکت ایسی ہو جس سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آجائے تو میں اسے سنانے سے دریغ نہیں کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوںمزاح دوسروں کے تجربات کے ایسے مشاہدات ہوتے ہیں جو ہمیں مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں تو وہ تجربات دوسروں کے ہوں یا پھر میرےاپنے ہوں۔اگر وہ ایک اچھا مزاح جنم  رہےہیں۔تو مسکرانے میں تعصب کیسا؟
ایک محفل میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ بات برادریوں اور ان کی عادات اواطوار کی طرف نکل گئی۔ اور ارائیں گھرانے سے تعلق کے باوجود، جب میں نے ارائیوں کے بارے میں بھی کئی لطیفے اور ایسی باتیں سنائیں جن کو سن کر سب خوب محظوظ ہوئے تو وہاں سےرخصت ہوتے ہوئے ایک دوست نے میرے کان میں سرگوشی کی۔ میں تو آج تک آپ کو ارائیں سمجھتا رھا ہوں۔

میاں بیوی کے لطیفے سن کر اکثر عورتیں اس نتیجے پر پہنچتی ہیں کہ شائد مرد اپنی زندگیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ یا شائدایسی لطیفوں کا مقصد مرد کو مظلوم بنا کر پیش کرنا ہوتا ہے۔یا پھر ایسی باتوں سے بیویوں کی توہین مقصود ہوتا ہے۔لیکن یہ سب باتیں سچ نہیں ہیں۔
 مزاح ادب کا ایک لطیف پہلو ہے۔ ادب کی تخلیق کا تعلق بڑی فہم وفراست سے ہوتا ہے۔اور جو روزمرہ کے لطائف ہم سنتے ہیں وہ اسی تخلیقی ادب کا ایک حصہ ہیں،روز مرہ کے مشاہدات  ہیں۔لیکن کیا کیا جائے قلم کا توازن مرد نے اپنے حق میں کر رکھا ہے اس لئے مزاح کا ایک ہی پہلو سامنے آتا ہے۔جس میں مرد ہمیشہ مظلوم اور عورت ایک جابر انسان کےروپ میں نظر آتی ہے۔عورت نے اگرچہ ہر میدان میں خوب مقابلہ کیا ہے لیکن اس میدان میں بحرحال ابھی بہت پیچھے ہے اس لئے میری تو بڑی شدت سے خواہش ہوتی ہے کہ مردوں کے لطیفے سننے میں ملیں۔ملتے بھی ہیں لیکن ابھی آٹے میں نمک کے برابر۔۔ ۔
لیکن ہمارا ادب کچھ عرصے سے آزاد اظہار اور حقوق نسواں کا  جس طرح پرچار کر رھا ہے وہ بھی تو نامناسب ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ موجودہ دور میں افسانہ لکھنے کیلئے آزاد خیال اور مذہب بیزار ہونا بہت ضروری ہے۔لیکن بحرحال موجودہ ادبی رجحان جس معاشرے کا تاثر دے رھا ہے اس  کے وجود سےبھی کلی طور پر اتفاق ممکن نہیں ہے۔۔


میاں بیوی کے رشتے کے ساتھ مزاح کیوں؟؟
میاں بیوی کا رشتہ ایک روحانی تقاضا ہے۔یہ رشتہ بھی کتنا عجیب ہوتا ہے۔ترغیب کا جزو ، پاکیزگی کے عنصر کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے اورایک شگفتہ جیون جنم لیتا ہے۔ جس کے تحت الشعور میں کیسے بھی جذبے کارفرما ہوں لیکن شعوری قوتیں انہیں کسی لطیف اور حسین احساس میں ڈھال دیتے ہیں۔شادی سے پہلے عموماً مرد کیلئے عورت کے ساتھ سے زیادہ ،اس کے جسم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن شادی کا رشتہ جلد ہی جسم کی چاہت کو کہیں تحلیل کر دیتا ہے۔ایک دیوانگی جنم لیتی ہے جو جسم میں خون کی حرارت بن کر عورت کے  دلفریب اور دلکش پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے۔اس رشتے کے اس آفاقی پہلو کو بحرحال کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ شادی کے بعد دو اجنبی انسان ایک دوسرے کے بہی خواہ اور سچے ہمدرد بن جاتے ہیں۔
کتنا حیا پرور رشتہ ! خود سپردگی کے ایک منفرد احساس کے ساتھ ایک عزت ، احترام کا رشتہ۔ قلبی تعلق۔ایک بے ریا خلوص ہے۔۔جو قربت، جو محبت، ، جو بے تکلفی، جو اپنائیت اس رشتے میں پائی جاتی ہے کیا وہ کسی اور رشتے میں ممکن ہے؟ یہ رشتے کا تقاضا ہے کہ جس قدر دونوں کے درمیان بے تکلفی بڑھے گی اسی قدر محبت کی فطرت پہاڑ کی طرح ٹھوس اور سخت ہوگی۔ لیکن اگر اس رشتے کو بھی مصلحتوں کا شکار رکھیں گے، تکلفات کی دھیمی آنچ پر سجائے رکھیں گے تو پھر یہ رشتہ بھی روایتی رشتوں کی طرح محبت کا دھوکا ہوگا۔ذہنی اور روحانی طور پر انتشار کا شکار۔ایک ایسی بانجھ زمین میں تبدیل ہوجائے گا جس میں صرف شک کے بیج اگ سکیں گے۔میرا مشاہدہ ہے سب سے گہرا رشتہ ان دوستوں کے درمیان ہوتا ہے جن کے درمیان حد سے زیا دہ بے تکلفی ہوتی ہے۔۔ مرد و زن دونوں میں۔۔ اگر کوئی غلط فہمی جنم بھی لےتو وہ بھی  جلد زائل ہوجاتی ہیں۔

یہ سچ ہے کہ انسان زندگی کے ہر موڑ پر محبوب بننا پسند کرتا ہے اورجو اسے محبوب کا درجہ دیتا ہے اس کیلئے اس کے دل میں عزت کا مقام خود ہی پیدا ہوجاتاہے۔بلکہ محبت کا صلہ بھی محبت کی صورت میں دیتا ہے۔اور یہی فطری جذبہ شادی کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔لیکن شادی کے بعد محبت کے اظہار بدل جاتے ہیں۔ اٹھنے والے قدم اور ایک دوسرے کیلئے برداشت  اور قربانی کے جذبے لفظوں کی جگہ سنبھال لیتے ہیں۔شادی کے بعد یہ بات بے معنی ہوجانا چاہیئے کہ مرد یا عورت جب تک ایک دوسرے کے زانوں پر اپنا سر نہیں ٹکائیں گے اور اپنی زبان سے محبت کا دعوی نہیں کریں گے تو اسے محبت نہیں سمجھا جائے گا۔ بالکل بیکار کی باتیں ہیں۔

میاں بیوی کے درمیاں مزاح اکثرترجیحات کے فرق کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔مرد کی زندگی کیلئے پہلی ترجیع کئی دفعہ بیوی کیلئے عیاشی کے ضمرے میں آتی ہے۔ اور بیوی کے ناگزیر امور ، میاں کیلئے ہنسی کھیل سے زیادہ نہیں ہوتے۔اور جو زندگی کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے قائل ہوتے ہیں وہ ان  ترجیحات کے فرق سے محظوظ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس میں شامل کر لیتے ہیں۔ لہذا ایسی باتیں پر تلملانا محض اس رشتے کے راستے میں کانٹے بکھیر نے سے زیادہ کچھ نہیں۔ نہ تو ترجیحات تبدیل ہوسکتی ہیں اور نہ ایک دوسرے پر انحصار کم ہوسکتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا جارھا ہے۔اور یہی ایک دوسرے پر انحصار اس رشتے کا حسن بھی ہے اور لطیف پہلو بھی۔
اور ایسے مسائل کا واحد حل ایک دوسرے کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے ان کو اہمیت دینے میں ہے۔۔
ایک گھر سے ہمیشہ قہقوں اور ہنسنے کی آوازیں آتی تھیں۔ایک دن کسی نے صاحب خانہ سے پوچھا۔اتنی خوشگوار زندگی کا  راز کیاہے؟ ؟۔صاحب نے جواب دیا۔جب ہماری لڑائی ہوتی ہے تو میری بیوی  برتن مجھے مارتی ہے۔اگرمجھے وہ نہ  لگے تو میں ہنستا ہوں اور اگر وہ مجھے لگ جائے تو وہ ہنستی ہےاور یوں ہنستے ہنستے ہماری زندگی گزر رہی ہے۔
میم سین