Wednesday, June 17, 2015

خوف



کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہم ایک خوفزدہ معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ ایک ایسے انجانے خوف میں مبتلا ہیں جس نے ہمارے ذہنوں کو کچھ اس طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ ذرا سی بات پر تلواریں نیام سے نکال لیتے ہیں ۔ہمیں کسی نے سچ بولنے سے منع نہیں کیا لیکن اپنے اس سچ کو بیان کرنے کیلئے تلوار ہاتھ میں پکڑ کر دوسروں کے ذہنوں میں زہر گھولنے سے بچنا چاہیئے۔ایسا سچ جس سے ارد گرد کے لوگ بھی ہم سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ہمیں پہلے تو اپنے اس خوف سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور دوسرا بحث کی رسی کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھنا چاہیئے کہ جہاں سے فضا خیالات کے دھویں سے بھرنا شروع ہوجائے اور منظر دھندلانا شروع ہو جائیں وہیں سے اس  رسی کو ڈھیلا کرنا شروع کر دیں تا کہ بحث کا رخ تبدیل ہوجائے یا پھر وہ دھواں اس فضا سے نکل جائے۔جب ہم دوسروں کا لفظوں سے شعوری یا غیر شعوری طور پراستحصال شروع کردیتے ہیں تو ہمارے پاس برف کا پانی رہ جاتا ہے ، برف تو کبھی کی پگھل کر ضائع ہوچکی ہوتی ہے۔ہمیں اپنی نفسیاتی اور جبلی انا پسندی کے زہر کو خیر خؤاہی کے جذبے سے دور رکھنے کی ضرورت ہے
میم سین


Sunday, June 7, 2015

قلم


آپ نے جتنی بھی رپورٹس  مجھےدکھائی ہیں اورجو پرانے نسخے آپ کے پاس ہیں ان کے مطابق آپ کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ 

بس آپ سوچا مت کریں اور تنہائی سے بچیں۔ گھر والوں سےباتیں کیا کریں اور اپنے آپ کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔
میری بات سن کے پینتیس چھتیس سال کی مریضہ نے جواب دیا۔ سب ڈاکٹر یہی کہتے ہیں۔ لیکن میں خود کو خوش کیسے رکھوں؟
میں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بولیں
میرا شوہر۔
انہیں میرے ساتھ کوئی رغبت نہیں ہے
مجھے توجہ نہیں دیتے
اور نہ ہی میرا کوئی خیال رکھتے ہیں



اچھا تو یہ بات ہے۔
بچے کتنے ہیں آپ کے؟ میں نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے پوچھا
تین بیٹے اور ایک بیٹی  حیات ہیں۔ ایک بیٹا چھٹے مہینے فوت ہوگیا تھا۔
میم سین

Friday, June 5, 2015

قلم

 کلینک کے تجربات   مسلسل قلمبند کرنے کے بعدارادہ تھا کہ اگلی بار کسی نئے موضوع پر طبع آزمائی کروں گا۔ لیکن آج ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہےکہ ایک بار پھر اپنے کلینک کے حوالے سے لکھنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔
ایک سال کے انتہائی لاغر اور کمزور بچے کو میرے پاس لایا گیا ۔ جب میں اس کا چیک اپ کر رھا تھا تو نظر اس کے گلے میں پڑے لاکٹ پر پڑی جس میں ایک نوجون کی تصویر تھی۔ سیاہ بڑے بڑے بال، چھوٹی سے داڑھی اور موچھیں معمول سے کچھ بڑھی ہوئیں۔ 
میں نے پوچھا ۔اس کے گلے   میں کس کی تصویرلٹکا رکھی ہے؟
یہ ہمارے پیر صاحب ہیں۔

انہی پیر صاحب کی دعا سے اللہ نے یہ بچہ ہمیں عطا کیا تھا۔جب بھی بیمار ہوتا  تھا۔پیر صاحب کا دیدا رکروا دیتے تھے تو یہ شفا یاب ہوجاتا تھا۔ لیکن پچھلے تین مہینے سے یہ بار بار بیمار رہنے لگ گیا تو پیر صاحب نے اپنی تصویر عنائیت کر دی۔ چند دن تو یہ بالکل ٹھیک رھا۔لیکن کچھ دن بعد دوبارہ بیمارہونا شروع ہوگیا۔آج پیر صاحب نے کہا ہے کہ بچے کے اندر کمزوری زیادہ ہوگئی ہے اس لئے میری دعائوں کا اثر نہیں ہورھا۔ اسے کوئی ڈرپ لگوا کر لائو۔ کمزوری کچھ کم ہوگئی تو  اسےشفا نصیب ہوجائے گی۔ 

آپ کے پاس اسی کام سے آئے ہیں۔

میم سین

Wednesday, June 3, 2015

میرا قلم

ہمارے پٹھان بھائی بھی بڑے دلچسپ لوگ ہیں۔ کل ایک پٹھان اپنی دو سال کی بچی کو چیک کروانے آیا۔
میں نے نام پوچھا تو کہنے لگا 
کالگہ
مجھے نام سن کر کچھ اچنبھا ہوا اور پوچھا 
خان صاحب اس نام کا مطلب کیا ہے؟
مطلب کا تو ہم کو پتا نہیں
ادھر ہمارے گھر سے صوابی کی طرف جائیں توراستے میں ایک گائوں آتا ہے۔
 ہم کو اس کا نام اچھا لگتا تھا 
اس لئےہم نے اپنی بیٹی کا رکھ دیا
میم سین

Thursday, May 21, 2015

قلم 3

ڈیڑھ ماہ کے بچے کے معائنے کے بعد ساتھ آنے والے جوڑے کو میں نے بتایا کہ بچے کو کوئی بیماری نہیں ہے بس کچھ سنبھالنے کی غلطیاں ہیں ۔ اکثر پہلے بچے میں مائوں سے ایسی غلطیاں ہوجاتی ہیں ۔
 ویسے اس سے پہلے آپ کے کتنے بچے ہیں؟
ساتھ آئے  نے بتایا
!!!!ماشااللہ یہ ہمارا تیرھواں بچہ ہے
میم سین

قلم2

اماں جی کو دوائیاں لکھ کر دیں اور جب میں تاکید کر رھا تھا کہ یہ دوائیاں جاری رکھنی ہیں۔ایک ماہ سے پہلے دوائی بند نہیں کرنی ہے
۔ تو اماں جی بولیں کہ بیٹا کوئی قبض کیلئے بھی دوائی لکھ دو۔ کئی کئی دن پخانہ نہیں آتا۔
 اماں کچھ اونچا سنتی تھیں اسلئے جب میں نے کہا کہ آجکل خربوزوں کا موسم ہے وہ کھایا کریں ۔قبض کیلئے اچھا ہوتا ہے۔
 پوچھنے لگیں کیا کھاؤں؟؟ 

اس سے پہلے میں اپنی بات دھراتا۔اس کی بہو جو پاس ہی بیٹھی تھی اس کے کان میں اونچی آواز میں بولی۔ چاچی کل شام بھنڈی پکائی تھی اور تم نخرے کر رہی تھی۔ ڈاکٹر کہہ رھا  ہےکہ بھنڈی زیادہ کھا یا کرو۔
میم سین

قلم

پانچ چھ ماہ کے بچے کو چیک کرنے کے بعد اس کی ماں کو بتایا کہ بچے کو  داخل کرنا بڑے گا .ایک تو بیماری زیادہ ہ پرانی ہے اوپر سے بچہ بھی بہت کمزور ہے۔پانی کی کمی ہے اس لئے بوتل اور انجکشن لگانا پڑیں گے۔ میری بات سن کر بچے کی ماں کے ساتھ آنے والی عورت فوراً بولی ۔ڈاکٹر صاحب آپ نے جو کرنا ہے وہ کریں ہمیں آپ پر بڑا اعتماد ہے۔ میں نے اپنے بچے کا علاج آپ سے کروایا تھا ۔ بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا۔ لیکن آپ کے علاج سے ماشااللہ آپ کی طرح موٹا ہوگیا ہے۔
آج ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔کھانے کا لقمہ میرے حلق سے نیچے نہیں اتر رھا۔۔۔
میم سین