Wednesday, June 17, 2015

معرفت

ہمارے علاقے میں روحانیت اتنی عام ہے کہ مرنے کے بعد ہر تیسرے بندے کے بارے میں انکشاف ہوتا ہے کہ وہ معرفت کی ساری منزلیں عبور کرگیا تھا۔ جس کا ادراک ہمیشہ مرنے کے بعد ہی کیوں ہوتا ہے اس بات کی کبھی سمجھ نہیں اآئی۔ یہ بھی شائد معرفت کی ہی بات ہے اور میں ٹھہرا وہابی۔ کیا سمجھوں دلوں کے حال :( اور اسی وجہ سے گھر گھر آستانے کھلے ہیں۔ سیاست، ثقافت، سماج، روایات، رسم ورواج ہر جگہ ان کے اثرات نظر اآتے ہیں۔ اس لئے پیری مریدی کے یہ سلسلے ایک منفعت بخش کاروبار کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ لیکن شکر ہے ابھی کلینک سے دال روٹی چل جاتی ہے اسلئے اس طرف آنے کے بارے میں سوچا نہیں ہے۔ 

ملاقات کی داستان

بات صرف دوستوں کے مل بیٹھنے کی یا اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانے کی نہیں ہے بلکہ.ہم خیال ، لوگوں کے اجتماع اور ان کے اکٹھے ہونے کا ہے. اور وجہ بنی ہے یہ چورنگی جس نے موقع دیا اکٹھے ہونے کا.اپنے خیالات کے اظہار کا، دوسروں کے ساتھ گفتگو کا. ایک گھر کی شکل دی.ایک خاندان بنایا.جہاں روایات کو برقرار رکھتے ہوئے وہ ماحول دیا جس میں شادی شدہ جوڑے بھی موجود ہیں اور کنوارے بھی.لیکن ایسے سلجھے ہوئے اور ایسے تہذیب یافتہ کہ کبھی کسی نے اخلاقیات کی حدود کو عبور نہیں کیا.ایک یہی اعتماد ہے جس نے سائیبر ورلڈ کو حقیقی روپ دینے پر اکسایا.مینو کا بھی ذکر خؤب چھیڑا ہے، مجلس کا حسن اور مزہ اتنا زیادہ تھا کہ کھانے سے زیادہ گفتگو کے خؤاہاں تھے، میزبان اصرار کرتے رہے کہ کیا منگوایا جائے لیکن مہمان باتوں کا چسکا لیتے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے تھے، پھر سوئے دار پر ایک دیسی مرغ کو دیسی گھی میں سے گزارنے کا درخواست کی گئی اور ایک عدد بکرےکے دماغ کی بھجیا بنوائی گئی، لوازمات کے ساتھ کھانے کا جو مزہ آیا اس کے بارے میں الفاظ نہیں ہیںاتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت، ساری رات فرشتے وضو کیلئے پانی ڈھونڈتے ریے ہونگے :) ہمارے ایک بزرگ تھے جو کہا کرتے تھے کہ دنیا کی خوبصورتی کا تعلق دل کی خوبصورتی سے ہے۔ آپ خؤد خوبصورت ہیں تو سب لوگ خؤبصورت نظر آئیں گے۔ اب ذاقی بھیا خود اتنی پیاری شخصیت ہیں کے ان کی دیدہ بینا، ہر طرف خوبصورت لوگ دیکھتی ہے۔ یہ انہی کی محبت اور خلوص کی کشش تھی کہ میں ان سے ملاقات پر مجبور ہوگیا ورنہ میرے جیسا تساہل پسند اور کاہل الوجود شخص کہاں اتنی جستجو کرتا کہ ایک قلمی شخص کیلئے اپنے سفر کو موڑ سکتا۔ بار بار کا اصرار اور سارے سفر کے دوران مسلسل رابطے نے مجبور کردیا کہ ایک گوہر نایاب سے ملاقات کیونکر نہ کی جائے؟ ایک گھنٹہ تک ٹھوکر کے قریب ٹریفک میں پھنسے رہنے اور شب بھر جاگتے رہنے کے بعد یہ ذوقی بھیا کی محبت اور خلوص تھا جس نے کوئی بہانہ نہیں بنانے دیا اورملاقات کے التوا کا کوئی شوشہ دل میں بیدار نہیں ہونے دیا اور بھلا ہو ابوذر کا، مرید ہوں تو ایسے کہ ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے ساری مصروفیات ترک کرکے جہاں کہا وہاں پہنچ گئے، پوچھا بھی نہیں کہاں جانا ہے؟ کس کے پاس جانا ہے۔؟ اور یہ ابوذر کا ہی مشورہ تھا جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک صاحب ذوق کیلئے کیا تحفہ لیجایا جائے تو انہوں نے اریبین ڈیلائیٹس کا رستہ دکھایا ۔کہ نفیس اور شائستہ لوگوں کئلئے معمول کے تحفے زیب نہیں دیتے۔ 
لکھاریوں کے بارے میں عام خیال یہ پایا جاتا ہے کہ ان کا قلم جو شخصیت آپ کے ذہن میں ڈھالتا ہے وہ نہیں ہوتی جس میں وہ خود جی رہے ہوتے ہیں۔ اور جب آپ ان سے ملاقات کرتے ہیں تو اکثر شخصیات کا طلسم اور بھرم ٹوٹ جاتا ہے لیکن ذوقی بھیا کی جو شخصیت کا خاکہ ذہن میں ڈھال رکھا تھا ، وہ اس سے بڑی اور بھاری نکلے۔ارادہ تو رضوان بھائی سے بھی ملاقات کا تھا لیکن کچھ ناگزیر گھریلو نوعیت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے ملاقات کو التو میں ڈالنا پڑا۔ لیکن انشاللہ جلد ملاقات کی صورت نکالی جائے گی 
ذوقی بھیا تجسس کا صحرا ہیں،شعوری وجدان پر اتنا یقین رکھتے ہیں کہ ان کی تجسس کی رگ بھڑکتی رہتی ہے۔ وہ خوبصورت ہیں، ان کی باتیں خوبصورت ہیں، وہ جب بات کرتے ہیں تو قلب کو دماغ پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔گفتگو میں کفائیت شعار ہیں ، لیکن سنہری حروف کا استعمال کوئی ان سے جانے۔ خلوص، چاہت، پریت،الفت،محبت، یگانگی،کا ایک وسیع منبع ہیں۔ اھالیان چورنگی میں سے جو بھی لاھور جائے اور ان سے نہ ملے سمجھو سفرِ بےکار  ہے۔ رخصت ہوتے وقت جس خلوص اور پیار سے اہل خانہ کے ساتھ اپنے گھر آنے کی دعوت دی اس میں ذرا برابر تکلف یا بناوٹ نہیں تھی۔ مجھے تو لگتا ہے وہ اس لفظ اور اس کے استعمال سے ہی ناوقف ہیں ۔ ان سے مل کر لگا کہ ہم صدیوں سے ملتے رہے ہیں،ہم سناشا ہیں، کسی ایک گھاٹی میں پہاڑ کے دو اطراف میں آباد رہے ہیں ۔ کوئی ججھک کوئی تکلف آڑے نہیں آیا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذوقی بھیا آپ کی محبت کیلئے نا الفاظ ہیں اور نہ انداز کہ ان کا شکریہ ادا کیا جاسکے۔ اور ابوذر آپ کی محبتوں کو سلام ۔آللہ سے دعا ہے آپ کو ڈھیروں خوشیاں دے اور دنیا وآخرت میں کامیاب کرے آمین
میم سین

جستجو


سب سے پہلے میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ  تکمیل کا موضوع  ہمارے معاشرے سے ہے جس میں میں رہ رہا ہوں ۔ اگر اس کامغرب کے ساتھ تقابل کیا جائے تو شائد انصاف نہ ہوسکے۔ ایسے ہی جیسے کالاہاری صحرا میں آباد کسی قبیلے کے تمدن کے حوالے سے اس موضوع پر بحث کی جائے۔ ہاں مغرب کے ہاں اگرتکمیل کے فلسفے سے انکار پایا جاتا ہے تو میں اس  کو میں رد کروں گا۔ کیونکہ تکمیل کے بنیادی فلسفہ کی پیدائش کا ذمہدار دراصل مغرب ہے۔ جب مرد نے تکمیل کی راہ میں حائل عورت کے کردار کو محسوس کیا تو اس پر فیصلہ یہ دیا کہ عورت کا کو جب تک مرد کی برابری تک نہ لایا جائے تب تک وہ اپنے تکمیل کا سفر مکمل نہیں کر سکتا۔ اور اس سے اس نے کیا حاصل کیا ،؟یہ ایک الگ بحث ہے۔ دوسرا یہاں پر آئیڈیل انسان کی بات کیجائے تو آئیڈیل انسان کی تلاش تکمیل کے سفر کا ایک سنگ میل تو ہوسکتا ہے لیکن سفر کا اختتام  نہیں۔

اکیسویں صدی کی عورت


اکیسویں صدی میں جب ہم نے مغرب کی اندھا دھند تقلید شروع کی تو ہم نے عورت کی آزادی کی بات کی اور اس کو اس کے حقوق سے آشنائی دلانا شروع کی لیکن اس کی جملہ ذمہ داریاں بتانے سےاحتراز کیا۔ ہمارے مرد کا ایک مسئلہ یہ کہ وہ آج بھی ڈپٹی نذیر احمد والی آیڈیل خاتون کے سحر میں گرفتار ،اکسویں صدی کی عورت کو تلاش کر رہا ہے۔اور شائد اسی وجہ سے عورت کو سمجھنا اس کیلئے آج بھی مشکل ہورہا ہے۔۔۔۔بیسویں صدی تک عورت کو سمجھے بنا گزارہ ہوسکتا تھا۔کیونکہ وہ برابری کے نعرے سے نا آشنا تھی۔لیکن اکسویں صدی کی عورت  مرد کی برابری تو چاہتی ہے لیکن ایک عورت  کے  روایتی استحقاق سے دستبردار ہونے سے انکاری ہے۔اس کی بنیادی وجہ وہ آج بھی اپنا دفاع خود کرنے میں ناکام ہے۔ مرد کی بھیڑ میں وہ اپنے تحفظ کیلئے الگ قطار کی خواہاں ہے۔ گاڑی میں اپنی سیٹ کیلئے وہ آج بھی مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے پر مجبور ہے۔ اور عورت اپنی تکمیل کیلئے مرد کو ادھورا دیکھنا چاہتی ہے۔ کیونکہ وہ خوفزدہ ہے۔ ہاں بات یہاں سے شروع ہونی چاہیئے کہ کیا اس میں حقیقت ہے کہ وہ خوفزدہ ہے یا وہ اپنی تکمیل کے بعد مرد کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ اور مرد اپنی تکمیل کیلئے تمدنی ڈھانچوں اور الہامی احکامات کے درمیان الجھ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔

شائد کچھ لوگوں کے نذدیک تکمیل کا لفظ ایک فریب یا سطحی ہو۔ لیکن میرے نذدیک جستجو کا ایک سفر ہے۔ خون کو گرم رکھنے کا بہانہ۔سو بات کو آگے بڑھانے کیلئے مرد و زن کی ذمہ داریوں اور حقوق کے درمیاں بیلنس پر غور کرنا ہوگا۔ یہ اسلئے بھی ضروری ہوچکا ہے کہ مرد کی حاکمیت میں دراڑ آچکی ہے، وہ مظلوم تو نہیں لیکن اپنے اختیارات سے محروم ضرور ہوا ہے۔ لیکن کیا عورت نے وہ حقوق حاصل کرلینے کے بعد اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا ہے؟؟؟

سپیڈ بریکر


یہ مذہب کا سپیڈ بریکر ہی تو ہے، جو ہمیں روکتا ہے، مذہب ہی تو ہماری زندگی کے راستوں پر سگنل لگاتا ہے، یہ مذہب ہی تو ہے جو کچھ راستوں پر یہ شاہرہ عام نہیں ہے کا بورڈ لگاتا ہے۔ کسی بھی فلاحی معاشرے کی بنیاد اقدار اور اس کی سماج پر ہوتی ہے، اور سماج کے قوائد و ضوابط ہمیشہ وہی زیادہ احسن طریقے سے کرسکتا ہے جو اسے بہتر جانتا ہے۔ اور مذہب سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ ایک معاشرے کیلئے کون سے قوانین زیادہ بہتر رہیں گے۔یہ رکاوٹیں اور پابندیاں ہی تو ہیں جو ایک سلجھا ہوا سماج جنم دیتی ہیں ، وہ سماج جو آگے چل کر ایک معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جو انسانیت کیلئے فلاح اور نجات دیتاہے۔ آخر مذہب ہی کیوں ؟؟؟؟ 


ہر انسان کی خواہشات ہوتی ہیں ، اور کچھ چیزیں اس کی جبلت میں ہوتی ہیں۔لیکن یہ مذہبی پابندیاں اور قوائد ضوابط ہوتے ہیں جو ان جبلی تقاضوں کی ضروریات کا تعین کرتا ہے۔مرد و عورت کا ایک دوسرے کی طرف میلان اس کی سرشت میں ہے ۔ایک دوسرے کے قرب اور باتوں میں ایک تسکین پائی جاتی ہے۔ لیکن جہاں خونی رشتے آجاتے ہیں ، وہاں یہ سرشت سو جاتی ہے۔ آخر کیوں ؟؟ کیونکہ یہ سماج کے وہ قوائد ہیں جو ہمیں مذہب سکھاتا ہے۔اس لئے ایسے میلوں ٹھیلوں رسوم سے اختلاف کبھی بھی دنیاوی تقاضوں یا رجحانات کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی حدود کی وجہ سے ہی کیا جاسکتا ہے ۔اس لئے مذہب کو نکال دیں تو پھر تو اعتراض ہی ختم ہوجاتا ہے
میم سین

ڈیپریشن


اپنی روزمرہ کی پریکٹس کے دوران مجھے کئی بار یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بیماریاں بہت کم ہیں اور ذہنی امراض بہت زیادہ۔ ہر دوسرا شخص ڈیپریشن، انزائٹی میں مبتلا ہے یا پھر کسی خودساختہ بیماری کے حصار میں ہے۔ معاشی اور معاشرتی مسائل، کمزور خاندانی نظام ،فرسٹیشن، حقائق سے فرار اور ایسے ہی دوسرے مسائل نے ہر شخص کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ 

ہمارا معاشرہ ایک کنفیوز معاشرہ بن چکا ہے۔ جو زندگی میں ہر معاملے میں کنفیوز نظر آتا ہے۔ مذہب ہو یا سیاست، تعلیم ہو یا صحت کا کوئی مسئلہ، ہمیشہ بھیڑ چال سے متاثر ہوجاتا ہے اور ڈیپریشن کی سب سے بڑی وجہ یہی کنفیوزنز ہیں
میم سین

مٹی پائو


دھاندلی کے الزامات پر الیکشن کمیشن کو اپنی پوزیشن فوری طور پر کلیئر کرنی چاہیئے۔۔ آخر کب تک بشیر موچی کی بیٹی کے اغوا کا معاملہ یہ کہہ کر دبایا جاتا رہے گا کہ اب لڑکی مل بھی گئی تو کونسا عزت واپس آجانی ہے۔۔۔۔۔۔ مٹی پائو جی ہن۔۔۔۔ ملک کی ترقی کا کام شروع کرو۔ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہو گے ؟ یا ملک کے لئے بھی کچھ کرو گے ؟۔۔مٹی پائو جی۔۔۔۔ مٹی پائو جی ۔۔۔ جو ہونا تھا ہو چکا ، جو رزلٹ آنا تھا آچکا۔۔۔ گڑے مردے اکھیڑنے سے کیا ہوگا؟ آخر کب تک ہم انصاف کا قتل اس طرح کی باتیں کر کے کرتے رہیں گے۔۔ جس عمارت کی بنیاد ہی بے ایمانی اور انصاف کے قتل پر ہو ، اس کی مضبوطی کی کیا گارنٹی؟؟؟؟ یہ کہہ کر ایوب خان کو تحفظ۔ ضیاالحق کو بھی تحفظ۔ مشرف کو بھی۔۔۔ اور ان تحفظات کے ذریعے ایک اور مارشل آ کی بنیاد رکھ دی جاتی ۔۔۔اور مٹی پائو پالیسی کے تحت اگلے الیکشن کو مشکوک بنانے کی بنیاد آج سے رکھ دی گئی ہے

اور یہ مطالبہ کوئی ممی ڈیڈی یا کسی برگر فیملی کا فرد نہیں کر رہا اور نہ ہی ڈیفنس کالونی کا رہایشی ہے۔ ایک دور افتادہ ، پسیماندہ قصبہ مامونکانجن کا رہاشی ہے جو بھوک لگے تو کسی ٹرکوں کے ہوٹل سے کھانا کھا لیتا ہے اور پیاس لگے تو سڑک کنارے کسی ریڑھی سے سکنجبیں یا ستو پی لیتا ہے۔۔۔۔
میم سین