Monday, December 31, 2012

نئے سال کے لئے

آج نئے سال کا پہلا دن ہے۔نئی روشنیوں، نئی تمناؤں، اورخواہشوں کے ساتھ نئے سال کا سورج دھند کی اوٹ میں چھپا رہا۔او ر اس کی کرنین زمین کے باسیوں تک پہنچنے کی سعی کرتی رہیں اوراسی آنکھ مچولی میں دن بیت گیا۔
کل جب تک دو ہزار دس کا سورج ڈوب گیا،میں اپنے پس منظر میں وسیع کینوس سنبھالے، نئے سال سے کچھ امیدیں باندھنے کی کا ارادہ رکھتا تھا مگر منٹو کے نئے آئین کی مانند کوئی روشنی نظر نہ آئی۔لیکن رات میں جب سرد دھندلکوں میں میں دیر تک سوچوں کے پر پیچ رستوں پر سرگرداں رہا تو صبح کو میری رائے رات سے مختلف تھی۔نئے سال میں کیا ہو گا؟شائد وہی ہوگا جو ہر سال ہوتا چلا آیا ہے؟ نیا کیلنڈر اور نئے سال کی نئی تاریخ ؟ کیا پھر گھنٹے دنوں میں اور دن مہینوں میں اور مہینے پھر سے نئے سال مں ڈھل جائیں گے؟
دریا جب اپنے بہاؤ میں اپنے حصار توڑتے ہیں توجہاں بے شمار بستیاں برباد ہوتیں ہیں وہاں پر بے شمار زرخیزی بھی لاتے ہیں۔ میناروں کی بنیادوں میں مزدور کا پسینہ بہتا ہے تو وہ بلندیاں دیکھتا ہے۔قطرہ اپنی انا کو ختم کر کے گوھر میں ڈھلتا ہے۔کندن آگ کی تپش پا کر سونے سے ڈھلتا ہے۔ہاں میں بہت پر امید ہوں۔آنے والے سال کے نئے دنوں کی سواگت کیلئے بہت بے چین ہوں۔بہت سی بستیوں نے محلات کیلئے اپنے وجود کو زمین سے صاف کیا ہے ۔بہت سا خون ہے جو جو مٹی میں مل کر نئی عمارتیں کھڑی کر نے کیلئے بے چین ہے ۔میں نئے سال کی نئی امیدوں کے تعاقب میں ہوں۔جنگلوں کو آگ نے راکھ بنایا، اب یہی راکھ زندگی میں ڈھلے گی۔نیا گلستان آباد کرنے کیلئے۔وہ گھر جو جل گئے تھے، اب وہ پھر سے آباد ہونگے۔میری نظر لہو کے ان قطروں پر ہے جونئی روحوں کو جنم دیں گے۔مجھے یقیں ہے، آنے والا سال کائنا ت کی ہر نعمت لئے چشم راہ ہوگا۔لذتِ آفرینی ہوگی،جو روحوں کی کثافت دھو ڈالے گی۔مجھے یقین ہے نئے سال کا شعور پچھلے سال کے شعور سے بہتر ہوگا۔میرے گمان حقیقت پائیں گے، میرے خواب زندگی میں ڈھلیں گے۔میری ساری خواہشات میرے ہاتھ میں ہونگی۔
لیکن میں اتنا پرامید کیوں ہوں؟میرا تصور اتنا اثر انگیز کیوں ہے؟میرے خواب اتنے قابلِ رشک کیوں ہیں؟ہاں یہ حسرتیں ہیں میری، جو برس ہا برس محنتوں سے پائیں ہیں۔میری مضطربانہ کیفیت جو شائد میرا مقدر ہے، نے مجھے زندگی کی شعریت سے روشناس کرایا ہے۔مجھے رموزِ حیات سے آگاہ کیا ہے۔میری روح کی تشنگی نے مجھے امید سے سرشار کیا ہے۔میں خواب اور حقیقت کی معنویت سے باخبر ہو گیا ہوں۔ ہاں مجھے گاڑی کا ایک پرزہ رہنا ہے جس نے گاڑی کو چلانا ہے۔ مجھے سٹیرنگ پر نہیں بیٹھنا ۔ مجھے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ہاں مجھے یقین ہے میں نے قطرہِ حیات کو پا لیا ہے۔نیا سال میری نئی جہد کا آغاز ہے۔ میرے نئے خوابوں کا سلسلہ ہے۔
میم ۔ سین

قسمت


ہم اور تم
ایک ہی چھت تلے
پلنے بڑھنے والے
بادشاہ اور وزیر کے
دو جوان بچے
ایک ہی استاد
ایک ہی ماحول
لیکن
دونوں کی قسمت۔۔
ایک ہی راہِ سفر
دو مختلف منزلیں
میم ۔ سین

Sunday, December 30, 2012

وہ آنکھیں


باباجی باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو میری قوتِ مدافعت جواب دے جاتی ہے۔ میرا دل چاہتا ہے میں ساری باتیں اپنے اندر جذب کرلوں۔،ایک انجانی سی سرشاری محسوس کرتا ہوں اس تعلق اور اس لگاؤ کا سرور محسوس کرتا ہوں،جو میرے اور بابا کے درمیان ہے۔جب وہ باتیں کرتے ہیں تو میری روح وجد میں آجاتی ہے۔میرا مطالعہ اور میرا مشاہدہ ان کے سامنے ہیچ نظر آتا ہے ۔میں اپنے جسم سے نکل کر کسی پرواز کیلئے بے تاب ہو جاتا ہوں۔مجھے ایسے لگتا ہے کسی نے میرے اندر سے اختلافِ رائے کی حس چھین لی ہوخوشی اور مسرت کے جام انڈیلے جا رہے ہوں۔وہ چپ بھی ہو جائیں تومیرا وِجدان ا ن کی روح و قلب کے تعاقب میں سرگرداں رہتا ہے۔یہ ان کی باتوں کا حسن ہوتا ہے یا لبوں کی گویائی کی تاثیرکہ میرے سارے اصول، قانون اورضابطے دھرے کے دھرے رہ رہ جاتے ہیں۔کسی طلسماتی کشمکش کے تعاقب میں اپنی روح کو مضطرب پاتا ہوں۔بابا کی محفلیں نوازشیں ہیں جس نے بے نیازی کے عرفان سے آشنا کر دیا ہے۔ بابا کی آنکھوں میں ایک حجاب ہے، ایک پراسراریت ہے ۔کون جانے ان پردوں کے پیچھے کیا ہے۔کون سے بھید ہیں مگر بابا کی متجسس آنکھیں بتاتی ہیں کہ و ہ اس حجاب کو بے نقاب کرنے کوتیار ہیں۔ مگر اس کیلئے جو ان بھیدوں کے اسرار جاننے کیلئے بے قرار ہیں،تیار ہیں 
مگر میں جو ہمیشہ تلاش میں بٹھکتا رہتا ہوں،پا لینے کے معنی کیسے جان سکتا ہوں۔میرے لئے تو جو لمحہ گزر رہا ہے وہی زندگی ہے۔،وہ فریب ہے یا حقیقت۔لمحوں کے معنی جاننے کے چکر میں ،زندگی کے یہ حسین پل بیکار گزارنا نہیں چاہتا۔ میں ان لمحوں کو ،بنا ان کے معنی جانے، اپنے اندر سمو لینا چاہتا ہوں۔
میں نے چائے کپ میں انڈیل کر بابا جی کی طرف بڑھا دی۔وہ چائے سے بے خبر دریا سے آتی ٹھنڈی ہوا کے تازگی کواپنی سانسوں میں سمونے میں مصروف تھے۔
میرے چائے کہنے پر چونکے اور میری طرف دیکھا۔ ہماری نگاہیں ٹکرائیں تو میری روح وجد میں آگئی۔جھیل سی پراسرار آنکھیں، چہرے پر ایک بے ساختہ پن ،بچوں کی سی معصومیت۔میرے اندر ایک زبرست خواہش پید ا ہوئی کہ جسکی شدت سے میری روح کانپ گئی۔ مجھے دنیا میں کوئی چیز نہ ملے، میں ساری دنیا سے بیگانہ ہو جاؤں۔مجھے میسر ہو توصرف بابا جی کی قربت، ان کی باتوں کی قربت ،ان کے نام کی قربت۔
’’ نفسیاتی الجھنوں کے سائے میں پلنے والے کردار مکمل کیوں نہیں ہو تے ان کے افکار او ر ان کے کردار میں تضاد کیوں ہوتا ہے؟‘‘ میں نے نظروں کو جھکا لیا اور ان کے جواب کا منتظر رہا۔
 کپ ہاتھ میں پکڑے ،چند گھونٹ پینے کے بعدانہوں نے بہتے پانی پر ایک نظر ڈا لی ا ور کچھ بڑبڑائے، پھر گویا ہوئے
’’ جس تخلیق میں قلبی اور روحانی شعور نہ ہو وہ نامکمل رہتی ہے، وہ ہمیشہ تلاش میں رہتی ہے ۔ان محرومیوں کے متبادل کیلئے جو اس کے اندر کسی کنجینٹل فزیکل ڈیفکٹ 
 کی طرح ہمیشہ کیلئے اس کے وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔‘‘
 ’’ اس کا کوئی حل بھی ہوگا؟‘‘ میں نے اپنا کپ ختم کرتے ہوئے پوچھا’’
 یہ اس وقت تک چلتا ہے، جب تک زندگی کی معنویت، منفی رہے گی۔جب تک انتشار زندگی کی پہلی قدر رہے گا۔جب تک معیار کا پیمانہ تم معاشرتی ضرورتوں اور خواہشوں کو دیکھ کر منتخب کرتے رہو گے۔ جب تک ذہانت کا فلسفہ قلب سے نہیں ذہن سے سمجھتے رہوگے۔جب ان دنیاوی معیاروں سے کنارہ کش ہو جاؤ گے تو وہ سب خلا پر ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔
وہ کیا کہے جا رہے تھے میں ان آنکھوں کے پیچھے گہرے سمندر میں جھانکنے کی کوشش کر رہا تھاکچھ دیر پہلے بچوں کی طرح گول گول آنکھیں اب مجھے کسی بیقرار روح کی بے عقیدہ آنکھیں نظر آئیں۔ مجھے لگا یہ آنکھیں نہیں ہیں تشنہ کاموں کی پیاس ہے کسی عفریت کے خوف میں روح کی بالیدگی کی تلاش میں ہیں۔کسی فاتح کی زہنی مسرت کا خمار ہیں۔یہ آنکھیں نہیں مہیب غار ہیں، یہ آنکھیں نہیں کائینات کا اسرار ہیں۔ناقابلِ فہم ہیں بے پایاں وسعتیں ہیں،نہ ختم ہونے والے فاصلے ہیں۔امنگوں او ر ولولوں کے سفر میں پہلا سنگِ میل ہیں۔یہ آنکھیں نہیں ہیں انکشافات کا پہلا قدم ہیں۔زہنی بالیدگی کا انتہا اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ ۔یہ آنکھیں نہیں ہیں لعزشِ ماہ وآفتاب ہیں جو زندگی کی معنویت ڈھونڈ ھ رہی ہیں۔انسانی مقام کو ارفع و اعلی دیکھنا چاہتی ہیںیہ آنکھیں نہیں ہیں جمالیات اور تخلیقات کی علامت ہیں۔ گوشہ عافیت کا شعور ہیں جنوں کی تسخیر ہیں مسرتوں کا جزو ہیں۔۔۔
اگر بابا جی نے مجھے اٹھنے کا نہ کہا ہوتا تو میں شائد ان آنکھوں کی پراسرایت کے بھید جاننے کیلئے ایلس ان ونڈرلینڈ کے ایڈونچر کا آغاز کر چکا ہوتایا ہیپناٹائز ہو کر جنگلوں میں نکل جاتا یا کسی گیان میں لگ جاتا یا کسی ان دیکھے سفر پر نکل جاتا
 ’’ چلو پانی کے بہاؤ میں اس کا ساتھ دیں‘‘ اور بابا جی اٹھ کر چل پڑ ے اورمیں ان کے پیچھے ہولیا ، ان نشانوں پر اپنے قدم جماتا، جو وہ اپنے پیچھے چھوڑے جارہے تھے 
میم۔سین 

Saturday, December 29, 2012

وہم


سلمی نے بھی کیا خوب کہی تھی
میرے مرنے کے بعد 
میری حسرتوں پر فسانہ لکھنا 
میرے شب و روز کی حقیقتوں پر
میری غم زدہ محبتوں پر
میری سانسوں کی نفرتوں پر
صرف ایک فسانہ لکھنا
لکھنے سے پہلے، مگر یاد رکھنا
ایک بار مجھے دیکھنا
یہ وہی آنکھیں ہیں 
جنہوں نے خواب دیکھے تھے
پھرنہ کہنا خبر نہ ہوسکی
وہموں کے عذاب دیکھے تھے
غم بے حساب دیکھے تھے
دیکھ لینا صرف ایک بار
ڈوبتی آنکھوں میں تیرتے آنسو
مدہم سی روشنیاں
شفق کا مانند ہوتا رنگ
سلمی بھی عجیب لڑکی تھی
مرنے سے پہلے، وہ رو نہ پائی
اس کے آنسو پتھر نکلے
پتھروں پر میرا نام تھا
میم ۔ سین

Friday, December 28, 2012

خودی


یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم میڈیکل کالج میں پڑھا کرتے تھے ۔ پنجاب یونیورسٹی والی نہر کی جانب جامن کے درختوں کے نیچے ایک چائے والے نے اپنا بسیرا لگا لیا۔ وہ چائے بڑی مزے کی بناتا تھا۔ اور تھوڑے ہی عرصے میں اس کی چائے اس قدرمشہورہوگئی کہ لوگ اس کی چائے پینے دور دور سے آنا شروع ہوگئے۔ کچھ لوگوں کو اس کی چائے کے شوقین افراد کو دیکھ یہ شک بلکہ یقین ہو چلا تھا کہ وہ چائے میں کوئی نشہ آور چیز ملاتا ہے کہ جو کوئی ایک بار اس کی چائے پی لیتا ہے تو پھر وہ اس کا دیوانہ ہو جاتا ہے ۔کچھ کا خیال تھاکہ لوگ خالص دودھ کے عادی نہیں ہیں اسلئے جب خالص دودھ کی چائے ملی ہے تو کوئی اور چائے ان کی زبان پر اپنا ذائقہ نہیں چھوڑتی ۔ خیرجتنے منہ اتنی باتیں۔مگر اس کے اس چھوٹے سے کھوکھے سے لوگوں کا رش تبھی ختم ہوتاتھا، جب وہ دودھ ختم ہوجانے کی اطلاع دیتا تھا۔
لوگوں کی کیا بات کرنی،ہم تو خود اس چائے کے نشے کے عادی تھے۔ ہم کیا، پورا ہوسٹل ہی۔۔ دوپہر کا کھانا کھا کر شائد ہی کوئی لڑکا ایسا ہو گا جو چائے پینے اس کے کھوکھےپر نہ پہنچتا ہوگا۔
ایک دن ہم اپنے چائے کے کپ کے انتظار میں نہر پر بنے پل کی منڈیر پر بیٹھے تھے کہ ایک بابا جی، یہی کوئی ستر سال کے پیٹے میں ہونگے، سڑک سے گزر رہے تھے۔ چلتے چلتے ہمارے پاس رکے اور پوچھنے لگے بیٹا ٹھوکر نیاز بیگ یہاں سے کتنا دور ہے؟
ہم میں سے ایک لڑکے نے لاپرواہی سے جواب دیا ۔ یہی کوئی چھ کلومیٹر!!
بابا جی کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا اور کچھ لمحے کے لئے سوچا اور شکریہ ادا کر کے چل دیے۔ بابا جی کے جانے کے بعد ایک دوست کہنے لگا، لگتا ہے بابا جی کو شائد پتا نہیں ہے کہ یہاں سے ویگنیں بھی ٹھوکر تک جاتی ہیں۔
ابھی بابا جی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ ہم دوست دوڑ لگا کر ان کے پاس پہنچ گئے۔ اور بتایا کہ بابا جی آپ یہیں پر انتظار کرلیں ۔ٹھوکر جانے والی ویگن یہیں سے گزرتی ہے۔ آپ اس پربیٹھ کر چلے جائیں۔
بابا جی نے ہماری بات پر کوئی غور نہیں کیا اور چلتا رہا۔ ہم نے پھر اصرار کیا کہ اتنی گرمی میں آپ کہاں پیدل اتنا سفر کرتے پھریں گے۔ ابھی ویگن آجائے گی اور آپ اس پر بیٹھ کر چلے جائیں۔
بابا جی چلتے چلتے رک گئے اور نگاہیں نیچی رکھے بولے بیٹا مجھے اوکاڑہ جانا ہے اور میرے پاس صرف اتنے پیسے ہیں کہ میں ٹھوکر سے اوکاڑہ کا کرایہ ادا کرسکوں۔اس لئے مجھے ٹھوکر تک کا فاصلہ پیدل ہی طے کرنا پڑے گا۔۔
بابا جی کی بات سن کر ہم سناٹے میں میں آگئے اور ہر روز جگہ جگہ، بھیک مانگتے اپنی مجبوریاں سنا کرمظلومیت کا لبادہ اوڑھے لوگ نگاہوں کے سامنے آگئے۔ 
ایک دوست نے بڑی مشکل سے کچھ پیسے دے کراس شرط پر ان کو راضی کیا، جب کبھی آپ یہاں سے گذریں تو ہمیں واپس کر دیجئے گا۔
بابا جی تو چلے گئے لیکن ان سے مل کر خودی کا جو مفہوم سمجھ میں آیا وہ بڑی بڑی کتابیں اورلیکچر سن کر بھی سمجھ میں نہیں آ سکتا تھا۔
میم سین

Thursday, December 27, 2012

خوش فہمیاں

مجھے ابن انشاء کی طرح اس بات کا دعوی تو نہیں ہے کہ فیض کی تخلیقات دراصل ان کے خیالات ہیں جو فیض نے ان سے ادھار لئے تھے ۔لیکن مجھے کافی عرصے سے وہم تھا بڑے بڑے جتنے بھی ادیب اور شاعر ہیں وہ میری سوچ سے متاثر ہیں میرے خیالات ان کی ادبی تخلیقات کا سبب ہیں وہ میری سوچ سے متاثر نظر آتے ہیں۔لیکن چند دن پہلے میر تقی میر کو پڑھا تومیرا وہم، یقین میں ڈھل گیا اگرچہ یار لوگوں کو میری اس بات سے اتفاق نہیں ہے لیکن ان کی رائے کو میں زیادہ اہمیت نہیں دے سکتا کیونکہ ان کے ساتھ اور بھی بہت سے معاملات میں اختلاف چل رہا ہے ۔اگرچہ میں میں اپنے یقین کی کوئی خاص وجہ تو بیان نہیں کر سکتا لیکن میرے یقین کی کے لئی یہی کافی ہے کہ میں صاحب کتاب نہیں ہوں۔قلم کا نشتر بہت تیز ہوتا ہے، بڑے بڑے مربی اور بزرگ پیدا کرتا ہے کسی بھی صاحبِ کتاب کو دیکھ لیں اس سے بڑا فقیہء شہراور مجدد کسی نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ہوگا۔ وہ نہ ہوتے تو شائد تاریخ کا دھارہ کہیں اور بہہ رھا ہوتا۔ ساری زندگی مجرا کراؤ اور آخری عمر میں سوانح عمری لکھ ڈالو معلوم ہو گا یہ صاحب نہ ہوتے تو دنیا گناہ کی دلدل ہوتی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہماری فلمی صنعت کی پریاں بھی صاحبِ قلم ہو جائیں تو ہم ان کو بی بی پاک دامن کا درجہ دے ڈالیں اس لئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں اگر میرے پاس قلم کی تیز دھار ہوتی تو زمانے کو بتاتا کہ دنیائے ادب میں میرا کیا مقام ہے۔ غالب سے میرتک کتنے ادیب اور شاعر میرے محتاج ہیں۔اقبال سے فیض اور فرحت سے سعد تک ، زمانے نے کتنا قرض لے رکھا ہے مجھ سے ۔پہلے پہل میں سمجھتا رہا کہ شائد یہ میرا وہم کہ میں جس بھی مصنف کو پڑھتا ہوں اس کے خیالات میرے خیالات سے اتنے ملتے جلتے کیوں ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ وہ میرے ہی خیالات لے کر شہرت حاصل کر رہے ہیں طبیعت میں عاجزی اور انکساری کا یہ عالم ہے کہ کبھی یہ بات حسد بن کر میرے ذہن میں نہیں آئی۔دوسروں کی غیرت اور عزتِ نفس کا اتنا پاس ہے کہ ذاتی شہرت پر دوسروں کی عزت کو ترجیع دی۔ سو آج سے ہم ہر مصنف کے نام کی جگہ اپنا نام دیکھتے ہیں اور ہرپیش لفظ کو اپنے نام سمجھتے ہیں
میم۔ سین

میّت

’’ جب میرے ابا یہ کام کرتے تھے تو حالات اتنے اچھے نہیں تھے۔آبادی کم تھی اور لوگ بھی کم مرتے تھے۔ کئی کئی دن ہمارے گھر فاقہ رہتا تھا۔جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو سارا دن قبرستان میں بیٹھے کھیلتے رہتے اور قبر ستان کی طرف آنیوالے ہر شخص کو کسی نئے مرنے والے کا عزیزسمجھ کر، کام آیا، کام آیا کا نعرہ لگاتے ،اس کی طرف دوڑ لگا دیتے۔کام آیا تھا یا نہیں ہماری یہ دوڑ دھوپ ہمارا کھیل بن جاتی تھی۔اب تو اللہ کا بڑا فضل ہے۔ آبادیاں بڑھ گئی ہیں اورلوگ اتنے مرنے لگے ہیں کہ ہم میّت کے آنے کا انتظار ہی نہیں کرتے۔ صبح آکر دو چار قبریں کھود ڈالتے ہیں۔ اور جب گاہک آتا ہے تو اس کو پسند کروا دیتے ہیں ہیں اور جگہ کے لحاظ سے پیسے وصول کر لیتے ہیں۔‘‘اللہ بخش بولتا چلا گیا۔اللہ بخش مقامی قبرستان میں گورکن ہے، ابھی تھوری دیر پہلے کسی موٹر سائیکل والے سے ٹکرا کر چوٹیں لگوا کر میرے کلینک پہنچا تھا۔بستیوں سے ہٹ کر رہنے والے لوگوں کی زندگی کی پراسریت جاننے کا تجسس ہمیشہ ہمارے دلوں میں ہوتا ہے۔مرہم پٹی کروا کر دوائی لکھوانے میرے پاس پہنچا تو میرا تجسس بھی امڈ آیا تھا
’’ قبر کھودنے میں کبھی دشواری بھی آتی ہے؟ جیسے کہانیاں مشہور ہوتی ہیں کہ میں جہاں سے بھی قبر کھودنا شروع کرتا، سانپ نکل آتا تھا یا قبر ڈھے جاتی تھی وغیرہ وغیرہ‘‘ میں نے پوچھا
’’ ہا ہا،ہر وہ جگہ جو انسانی دسترس سے دور ہو۔جہاں آنا جانا لوگوں کا کم ہو۔ وہاں کے بارے میں ایسی آسیبی اور ماورائی کہانیاں بن ہی جاتی ہیں۔ ہم تو جوان ہی اس قبرستان میں ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھ تو کبھی ایسے وقعات نہیں ہوئے۔ ویرانہ ہے، جھاڑیاں ہیں گند ہے۔ ایسی جگہوں پر سانپ تو نکل ہی آتے ہیں۔ باقی رہا قبروں کا منہدم ہونا تو برسات کے موسم میں اکثر ہو جاتا ہے۔ ادھرہم قبر مکمل کر کے ہٹتے ہیں اور کچھ دیر بعد وہ ڈھے جاتی ہے۔اور کبھی ہم قبر کے اندر ہی ہوتے ہیں تو مٹی اپنی جگہ چھوڑنے لگتی ہے اور ہمیں بار بار مٹی کو سہارا دینا پڑتا ہے۔‘‘ اللہ بخش نے وضاحت کی
’’ جب کوئی بڑا شخص مرتا ہے اس کی قبر کیلئے تو بہت اہتمام کرتے ہو گے‘‘ میں نے پوچھا
اللہ بخش نے ایک قہقہ لگایا اور بولا ’’ڈاکٹر صاحب ، یہ عہدے تم دنیا والوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ قبرستان میں سب میّت ہوتے ہیں۔قبرستان سے باہرتم چاہے سیٹھ ہو یا فقیر، قبرستان کے اندر میّت ہوتا ہے۔ ہمارے نزدیک وہ جو کوئی بھی ہے ، ہماری تو روزی ہے وہ چوھدری محمد فاضل مرے یا شیدا نائی‘‘
اللہ بخش تو چلا گیا مگر ایک ان پڑھ شخص کے منہ سے کسی بزرگ لکھاری کے قلم سے نکلے جملے سن کر میں دیر تک سناٹے میں رہا اوریک سوال دیر تک میرے زہن میں گونجتا رہا۔کیا دنیا میں اس سے بڑی حقیقت بھی کوئی ہے ؟کہ،کفن میں لپٹا، قبرستان میں آنے والا ہر شخص صرف میت ہوتا ہے۔
میم ۔ سین