Wednesday, May 28, 2014

ڈائری کے اوراق

لوگ کہتے ہیں میری روح میں ایک بوڑھا   انسان چھپ گیا ہے۔ میری سوچوں میں ایک تھکن ہے۔ میرے ارادوں میں پہلے جیسی تڑپ باقی نہیں ہے۔میں الجھا رہتا ہوں ۔کہیں کھویا رہتا ہوں. میری باتوں میں دل دھڑکتا تھا۔لیکن اب وہ دھڑکن سنائی نہیں دیتی ۔میرے ارادے ہمالیہ کے پہاڑوں سے بلند تھے۔میرے خیالات میں پہاڑی چشموں کی سی تازگی تھی۔ میرے نظریات سحرانگیز تھے۔ لوگ کہتے ہیں، تمہیں قدرت نے ایک امتیاز بخشا تھا۔ سوچ میں، سمجھ میں ۔ ایک فطری فنکار کی طرح بن مانگے ,لوگوں کے حصے کی شمعیں روشن کر دیتے تھے۔ میں تنہائی کے لمحوں کے لہجے کو محسوس کر سکتا  تھا۔محرومیاں کہاں سے جنم لیتیں؟ لیکن وہ روشنیاں کہاں چلی گئیں جو میرے ذہن سے پھوٹتی تھیں؟۔
تیرہ مئی 1998
معلوم نہیں آج میں کیسے ٹی وی روم جا پہنچا جہاں واجپائی صاحب ایٹمی دھماکوں کے بعد تقریر کر رہے تھے۔ ا س کی تقریر کا ایک ایک لفظ زہر میں لپٹا ہوا تھا ۔ اس کی آواز میں ایک غرورتھا۔ اس کے لہجے میں ایک تمسخر تھا۔ایک حقارت تھی۔ اس کی تقریر نے میرے اندر ایک آگ لگا دی ہے۔ ایک ہلچل مچا دی ہے۔ میں اپنے ہی اندر سلگ رھا ہوں۔ ایک تڑپ ہے. ایک کسک ہے جس نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بے چینی ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے، تڑپ ہے کہ میں اس کی شدت کونظرانداز نہیں کر پا رھا ہوں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم جواب ضرور دیں گے۔ پاکستان جلد حساب چکا دے گا 
بائیس مئی 1998
جوں جوں دن گزرتے جا رہے ہیں، شہبات جنم لینے لگے ہیں۔ توہمات نے میرے یقین کی جگہ لینا شروع کر دی ہے۔ بے چینی میں کیسے کیسے خیالات نے میرے گرد ہالے بننا شروع کر دیئے ہیں۔وسوے ہیں کہ میرا پیچھا چھوڑ نہیں رہے ۔ میرا ذہن بھاری بھر کم خیالات سے بوجھل ہورھا ہے۔ میں اندیشوں کے سائے تلے محرومیوں کی فصل تیار کرنے میں محو ہوں۔ کون کہاں جا رھا ہے مجھے کوئی پروا نہیں ۔ کالج، کالج کی فضا، دوست ، احباب سب کسی مضمہل صبح کی طرح تھکے تھکے دکھائی دے رہے ہیں۔ کوئی ہنس رھا ہے یا رو رہا ہے مجھے کوئی خبر نہیں ہے۔ کوئی شادمانی میں گنگنا رھا ہے یاپھر کوئی آنکھوں سے آنسوؤں کی پھیلجڑیاں سجا رھا ہے۔ مجھے کچھ سجائی نہیں دے رھا ۔ انتظار میں ہر دن قیامت کا سماں لئے ہوئے ہے ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ میرے وہم کا غار تاریکی میں ڈوبتا جا رھا ہے ۔ کمتری کا ایک احساس ہے جو بڑھتا جا رھا ہے ۔ میں ہر آنے والے دن کے ساتھ خود کو حقیر سمجھ رھا ہوں۔میں جو ہمیشہ رفعتوں کو چھونے کی باتیں کرتا تھا کسی گھپ اندھیرے میں گم ہوتا جارھا ہوں۔
چھبیس مئی 1998
زندگی مین یہ وحشت کہاں سے آگئی ہے؟ لوگ زندگی میں کیوں مصروف ہیں؟ انہیں افق پر پھیلی محرومیت کا احساس کیوں نہیں ہورھا؟ یہ اداسی کا غبار انہیں دکھائی کیوں نہیں دے رھا؟ میں کیسے یقین کر لوں کچھ نہیں ہوگا۔ کوئی معجزہ ہونے والا نہیں ہے۔ یہ فرض کر لینا کتنا مشکل ہے کہ ہم صلاحیت نہیں رکھتے، ہماری کوششیں سب بیکار کی تھیں۔ میرے سب خواب محض خواب تھے ۔کتنا مشکل ہے دل کو سمجھانا ۔ احساس کمتری کے اس جذبے سے کیسے جان چھڑا پاؤں گا؟۔ اپنے حصے میں آئی حقارت کو کیس دھو سکوں گا؟ میں یہ سب کچھ کیسے مان لوں ؟ دل چاہ رھا ہے اپنی بے بسی کا ڈھنڈورہ پیٹوں۔ اتنا روؤں کہ اپنے آنسو خشک کر لوں۔ زندگی شائد میرے لئے زندگی نہ رہے۔ لوگ کہتے ہیں زندگی میں کچھ بعید نہیں ہے لیکن میں کوئی انہونی نہیں دیکھ رھا۔میں تاریکی سے نہیں ڈرتا میں موت سے بھی کبھی خوفزدہ نہیں ہوا لیکن میں اس احساس کمتری میں زیادہ دیر جی نہیں سکتا جس میں تیرہ مئی سے مبتلا ہوں۔
اٹھائیس مئی 1998
ٓآج میں سوئمنگ پول میں اکیلا ہی خود کو بہلانے کی کوشش کر رھا تھا جب کسی کی مسرت وشادمانی میں ڈوبی آواز میں نعرہ بلند ہواکہ پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کر دیئے ہیں۔کون کہتا ہے کہ صرف حسن اور عشق کی شیرینی کا مزہ دیدنی ہوتا ہے، جو سرشاری ،احساس برتری میں ہوتی ہے اس کابھی کوئی جواب نہیں ۔کتنا حسین تصور ہے اور کتنا انوکھا اور عجیب احساس تھا۔ شدت جذبات سے آنسو میری آنکھوں سے نکل آئے۔ دنیا ناچتی ہوئی نظر آرہی تھی اور کائنات کسی جنوں میں رقصاں ۔میرا انگ انگ خوشی سے سرشار تھا۔ میرا رواں رواں کسی نشے میں دھت۔
اٹھائیس مئی کو میں نے اپنے خوابوں کی  ایک عمارت قائم کی تھی۔ایک ایسی عمارت جو ناقابل تسخیر تھی۔ اس شجر کی مانند تھی جس کا سایہ ابدی تھا۔ جس کی بنیاد میں میرے جذبے تھے، امنگیں تھیں۔ جس میں میرے ارادوں کی پختگی شامل تھی جس میں میرے رویوں کی سچائی شامل تھی۔میں نے اپنی فطرت کی ساری سچائیاں اس عمارت میں لگا دیں تھیں۔
لیکن بیس اگست انیس سو اٹھانوے ے کو میری اس عمارت پر پہلی ضرب پڑی تھی جب امریکی میزائل پاکستان کی فضا کو عبور کرکے خوست میں گرے تھے۔ ابھی لرزتی اس عمارت کو تھام رھا تھا کہ کارگل سے فوجیں واپس بلانے کا اعلان سامنے آگیا۔اور پھر نائن الیون اور ملا عمر کی حکومت کی بے دخلی نے اس کو ہلا کر رکھ دیا۔ میزائل بغداد کی فضائیں چیر رہے تھے اور عمارت میرے خوابوں کی لرز رہی تھی۔ لیکن میں نے کبھی حوصلہ نہیں چھوڑا۔ میں پھر بھی امید کی اس کرن کے ساتھ بندھا رھا جو میں نے اٹھائیس مئی کو دیکھی تھی۔ بارود کی بدبو کابل سے نکل کر میرے ملک کی فضاؤں میں پھیلنے لگی ۔ میرے ہی وطن کے گھر گھر سے لاشیں اٹھنے لگیں۔ کہیں بم دھماکوں کے دھویں نے میری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا تو کبھی ڈرون حملوں نے اس کی سالمیت کو سوالیہ نشان بنائے رکھا۔ میری روح جھلسنے لگی۔میں دیوانہ وار اپنی عمارت کو شکست وریخت سے بچانے کیلئے تگ ودو کرتا رھا۔وہ لمحے کتنے اذیت ناک تھے جب ساری سرشاری، گرم جوشی اس عمارت کو سنبھالنے میں لگ گئی تھی۔وہ عمارت، جس میں میری زندگی کا حاصل جمع ہے۔میں ٹوٹ گیا ، میں بکھر چکا  رھا ہوں۔میری زندگی کی کلی مرجھا  رہی ہے۔ زندگی بے معنی ہو رہی ہے۔ آج میرے جذبات اور احساسات کا محور صرف اور صرف وہ شکستہ عمارت ہے جس کو میں نے تھام رکھا ہے۔ وہ میرا بھرم ہے اور میں اپنے بھرم کو اتنی آسانی سے ٹوٹنے نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں شائد لوگ ٹھیک کہتے ہیں ۔میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ آگہی کا شعور انسان کو بوڑھا کر دیتا ہے ۔میں تنہا تھا مگر دلیر تھا۔ میں زندگی کی دوڑ میں شریک تھا مگر مستقل مزاج تھا۔میں خود اعتمادی کی نعمت سے مالا مال تھا۔ میں ساری کائینات کو للکارنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔لیکن حقائق و واقعات نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے ۔ماضی کے شعور سے رشتہ توڑنے کی میری کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔کوئی امنگ کوئی ترنگ میرے پاس زیادہ دیر ٹھہرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔میں ذہنی اور قلبی طور پر منتشر ہوں۔
آج  پھر  اٹھائیس مئی ہے۔مجھے ایسی بانہوں کی تلاش ہے جن میں آغوش مادر کی تسکین ہو۔جسے میں اپنے دکھوں میں شریک کر سکوں۔جو آگے بھر کر میری اس عمارت کو مجھے سے تھام لے اور میرے کان میں دھیرے سے کہے۔ بہت تھک گئے ہو کچھ دیر آرام کر لو۔ اور میں ان بانہوں سے لپٹ کر زاروقطار رو دوں۔ایک بار اپنےدل کی بھراس نکال لوں۔
میم سین

Sunday, May 25, 2014

کیا کروں ۔۔۔۔۔

میاں صاحب کرائے کے گھر سے اپنے نئے گھر منتقل ہوئے تو جب میں  ان سے پہلی بار ملنے گیا تو پانچ مرلے کے چھوٹے سے گھر کو جس کو ابھی مرمت کی کافی ضرورت تھی، دیکھ کر کافی حیرت ہوئی اور پوچھا میاں صاحب کرائے کے عالی شان گھر سے اس پانچ مرلے کے کھنڈر میں آنا کیسا لگا؟ تو مسکراتے ہوئے بولے جیسا بھی ہے، اپنا توہے۔۔۔۔۔۔۔
الطاف اور اس کے بھائی کے درمیان لڑائی گھر سے نکل کر محلے تک پھیل گئی تھی لیکن ان کے بیٹے کی شادی پر دونوں بھائیوں کو اکھٹا دیکھ کر اپنی حیرت کا اظہار کیا تو کہنے لگے خوشی کے ایسے موقع پر کیسے نہیں مناتا، آخر بھائی تو میرا ہی ہے۔۔۔۔۔۔ 
شریف صاحب کے بیٹے کی حوالات میں بندش پہلی بار نہیں ہوئی تھی لیکن اس بار مجھ سے رہا نہیں گیا اور کہ ہی دیا کہ ایک بار اس کو رسو اہونے دیں۔  کہنے لگے کیا کروں؟    میں بھی یہی سوچتا ہوں۔ لیکن آخر بیٹا تو میرا ہی ہے۔۔۔۔۔ 
کرپشن، لاقانونیت، رشوت ستانی، چوربازاری، رسہ گیری، لسانیت، فرقہ واریت، قتل وغارت ،تعصب، جاگیرداری نظام ، ناانصافی، سفارش ۔۔۔۔ لیکن آخر ملک تو اپنا ہی ہے نا
میم سین

Tuesday, May 20, 2014

میرے قلم سے (part 6)

مجھ سے پوچھا جا رھا ہے کہ میں اتنا مایوس کیوں ہوں؟  لیکن میں سمجھتا ہوں یہ مایوسی نہیں، بے زاری ہے لیکن اس کو مایوسی کہیں یا بے زاری، بات ایک ہی ہے۔ اگر میں کوئی کارٹون کریکٹر ہوتا تو اب تک کئی بار کسی چھت سے کود چکا ہوتا لیکن میں کارٹون تو ہوسکتا ہوں لیکن کریکٹرہرگز نہیں۔ اگر کسی ڈرامے کا کوئی کردار ہوتا تو اپنا سر کتنی بار کسی دیوار کے ساتھ پھوڑ چکا ہوتا۔لیکن یہاں بھی مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں جیتی جاگتی زندگی کا حصہ ہوں۔میرے غمگین ہونے کا سبب ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں کوئی عظیم انسان بننے کو خواب دیکھ رھا ہوں کیونکہ ہر عظیم انسان زندگی میں غمگین اور اداس رھا کرتا تھا۔ ۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ چند دنوں سے مجھے احساس ہورھا ہے کہ میں اپنی جملہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہوچکا ہوں۔اگر یہ احساس وہم کی حد تک ہوتا تو شائد میں اس کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا کیونکہ جتنے وہم میری بیگم کو میرے بارے میں ہیں اور اگر ان میں کوئی حقیقت ہوتی تو میں اب تک دوسری شادی کر        چکا ہوتا ۔اورمیں کوئی پہیلیاں بھی نہیں  بجھوا رھا کیونکہ شادی شدہ انسان زیادہ پہیلیاں بجھوانے کا متحمل نہیں ہوسکتا تصدیق کیلئے کسی بھی شادی شدہ شخص کی گواہی کافی ہے۔

میں بھی ناکام مری سعی عمل بھی ناکام

یہ  رات کا کوئی ایک بجا تھا جب میرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔جب فون اٹھا یاتو کرخت لہجے میں ایک آدمی بولا
 علشباہ شام سے روئے جارہی ہے۔چپ ہی نہیں کر رہی۔۔۔ 

کون علشباہ؟ 
کہاں سے بول رہے ہیں؟ 
جی جمعہ کے روز آپ کو چیک کروایا تھا  
یاد رہے جمعرات کا دن شروع ہوچکا تھا۔بڑی مشکل سے پوری بات کو سمجھنے کے بعد ان کو ایک دو ٹوٹکے بتائے تو دوسری طرف سے یہ کہہ کر فون بند کر دیا گیااپنے مریضوں کو یاد بھی رکھا کریں

اور اس دن جب ایک آدمی اپنے بچے کو بخار کے ساتھ لیکر آیا تو میری اس وضاحت کو ایک طرف کردیا کہ کہ جب دوائی پلائی ہی نہیں تو آرام کیسے آسکتا ہے؟؟؟  اور
بار بار ایک ہی جملہ دھرائے جارھا تھاآخر ایک ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا کچھ تو آرام آنا چاہیئے تھا۔
 

اور اس دن جب ایک آدمی نے کمرے میں آتے ہی شکوہ کیا کہ آپ کی لکھی ہوئی دوائی دو بار خرید کر پلا دی ہے لیکن ذرا بھی آرام نہیں آیا ۔ لیکن میرے اس سوال کا جواب دینا گوارہ نہیں کیا کہ یہ تو چھ ماہ پرانی پرچی ہے؟ اورایک ہی بات پر ضد قائم رکھی کہ اس وقت  بخار تھا۔اس دوائی سے پہلے دن ہی بخار اتر گیا تھا  اوراب بھی بخار ہے تو یہی دوائی دو بار استعمال کر ڈالی ہے لیکن بالکل بھی آرام نہیں آیا۔

اماں جی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی احسان جتایا ، ڈاکٹر صاحب آپ ہمیشہ شکوہ کرتے تھے میں وقت پرچیک اپ کروانے نہیں آتی۔ آپ نے پانچ دن بعد آنے کا کہا تھا میں پانچویں دن آگئی ہوں۔
میں نے کہا اچھی بات ہے ۔تشریف رکھیں۔ 
 پرچی ہاتھ میں پکڑی اور پوچھا  کہ طبیعت کیسی ہے؟ 
کہنے لگی بیماری کو تو کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا لیکن آپ نے کہا تھا پانچویں دن ضرور آنا ہے اس لئے میں آگئی ہوں۔ 
اچھا دوائیاں ختم ہوگئی ہیں؟ میں نے پوچھا
تو جواب آیا دوائیوں والا شاپر تو میں اس دن میڈیکل سٹور پر ہی بھول گئی تھی لیکن آپ نے تاکید کی تھی کہ میں پانچویں دن ضرور آؤں اس لئے آج آگئی ہوں۔

ایک صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور اپنے موبائل فون سے ایک نمبر ڈائل کرنے کے بعد میری طرف بڑھا کرکہنے لگے، یہ جی بات کرلیں۔ 
میں نے فون کاٹ کر پوچھا پہلے بتائیں تو سہی آپ کون ہیں؟ اور کس سے بات کروا رہے ہیں؟
۔ اس پر وہ صاحب بولے میری رشتے کی پھوپھی ہیں۔ان کو فالج ہوگیا ہے ۔ ان کو یہاں لانے والا کوئی نہیں ہے۔
میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک مریض کو جو اتنا شدید بیمار ہو ، بغیر دیکھے کیسے دوائی دی جاسکتی ہے۔لیکن اس کا اصرار بڑھتا رھا۔جب مجھے قائل کرنے میں ناکام ہوئے توکہنے لگے ۔
ڈاکٹر صاحب آپ ڈبل فیس لے لیجئے گا

اورمیاں بیوی چھ ماہ کے بچے کو دستوں کی بیماری کے ساتھ میرے پاس دوبارہ لائے تو میں پوچھا کہ اس کو ڈبے کا دودھ شروع کیا تھا وہ کیوں بند کر دیا تو کہنے لگے نہیں جی  دودھ تو وہی استعمال کر رہے ہیں اور قمیض کی دائیں  جیب میں ہاتھ ڈال کا پلاسٹک کے شاپر کی ایک پوٹلی نکالی جس میں دو تین چمچ خشک دودھ کے تھے اوردوسری جیب سے کھانسی کے سیرپ کی خالی بوتل نکالی، جس کے اوپر نپل لگا ہوا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس کا فیڈر کہاں ہے۔جواب آیا وہ تو گھر رکھ آئیں ہیں کہیں سفر میں گم نہ ہوجائے
اور ایک دن ایک صاحب ایک موٹی فائل کے ساتھ میرے پاس الٹراساؤنڈ کروانے آئے ۔فائل میں پہلے سے کوئی دس بارہ کے قریب الٹراساؤنڈ کی رپورٹس موجود تھیں۔جن میں دائیں گردے میں پتھری کی تشخیص کی گئی تھی۔بڑے مایوس لہجے میں کہنے لگے دس بارہ الٹرہ ساؤنڈ کروا لئے ہیں لیکن ابھی تک پتھری اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔میرے سمجھانے پر کہ الٹراساؤنڈ کا کام تشخیص میں مدد دینا ہے اور آپ کے مرض کی تشخیص تو ہوچکی ہے اب اس کے علاج کیلئے بھی کوشش کریں۔کہنے لگے جے تیرے کول الٹراساؤنڈ نہیں ہے تو دس دے ایویں ، بہتیاں پہیلیاں نا بجھا(اگر تمہارے پاس الٹراساؤنڈ نہیں ہے تو بتا دو ۔ ادھر ادھر کی باتوں میں وقت ضائع مت کرو)
میم سین

Wednesday, April 9, 2014

میرے قلم سے

اسے میں سادگی کہوں، بھولپن یا پھر جہالت سے تعبیر کروں ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب بھی ملک پاکستان کا ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے تو میں ہنس دیتا ہوں ۔ہم کس دور اور کس زمانے کے شعور میں جی رہے ہیں اور کونسی توقعات ان سے وابستہ کئے بیٹھے ہیں
کل میرے پاس تین دن کا ایک بچہ کافی سیریس حالت میں آیا۔جس کےجسم پر خاصی سوزش تھی اور کوئی خاص حرکت بھی نہیں کر رھا تھا۔ بچے کی صحت کے حوالے سے ان کو ساری صوتحال سے واضح کرنے کے بعد علاج شروع کر دیا۔دو گھنٹے بعد ڈسپنسر نے مجھے آگاہ کیا کہ بچے کے لواحقین بچے کو کوئی چیز سونگھا رہے ہیں۔ میں نے ان کو بلا کر جب اس ٹوٹکے کی وجہ پوچھی تو  اپنی ہنسی نہ روک سکا اور بےاختیار  بی بی سی کی چند دن پہلے معالجوں کی طرف سے غلط نسخے لکھنے والی رپورٹ کی طرف دھیان چلا گیا۔ ۔وہ بے چارے بھی اب کیا کریں!!! جب ان کا واسطہ ایسی سوچ کے ساتھ پڑتا ہو جو ابھی دسویں صدی میں جی رہے ہوں۔ ،بچے کا والد کہنے لگا ہمارے خاندان میں ایک عورت ہے وہ اکثر بے ہوش ہوجاتی ہے اور جب اسے امونیا سونگھایا جاتا ہے تو ہوش میں آجاتی ہے۔ ہم نے سوچا بچے کو بھی امونیا سونگھا کر دیکھ لیتے ہیں شائد اس کو بھی ہوش آجائے۔
میم سین

Thursday, March 27, 2014

یاد دھانی حصہ دوئم

ایک لمحے کو سوچ دل میں آتی ہے اورزندگی اپنی نزاکتوں کے ساتھ ،سامنے ڈگمگاتی ہوئی نظر بھی آتی ہے لیکن پھر بھی ہم موت سے اپنی نظریں چرا لیتے ہیں۔وقت ہماری زندگیوں کو کسی دیمک کی طرح کھا رھا ہے،جب کوئی چیز کم ہورہی ہو تو پھر وہ ایک دن ختم بھی ہوجاتی ہے۔جب موت اس قدر برحق ہے اور زندگی اس قدر غیر یقینی ہے تو پھر ہم کس لئے اس دنیا میں آئے ہیں؟
 ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟
 ہمیں کیوں پیدا کیا گیا ہے؟؟

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ، نہ تو میں ان سے روزی مانگتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ یقیناًاللہ تعالیٰ تو خود سب کو روزی دینے والا ، صاحب قوت اور زبردست ہے ‘‘ ( الذاریات : 58۔56  
لیکن دنیا کتنی قیمتی جگہ ہے؟ اس میں کس طرح رہا جائے؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کریگا ؟ تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرنے لگے : آقا صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ اور فرمایا آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کس قدر پانی آتا ہے۔ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسا کہ انگلی کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے قطرے کی سمندر کے مقابلے میں
۔ہاؤس جاب کے دوران دس بارہ سال کی ایک بچی فاطمہ مرگی کے دوروں کے ساتھ ایمرجنسی میں داخل ہوئی۔اس کے دوروں کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ کوئی بھی دوائی اس پر اثر نہیں کر رہی تھی۔ مارکیٹ میں موجود ہر دوا اور ہر کمبینیشن استعمال کر ڈالا لیکن اسے افاقہ نہیں ہوتا تھا۔ اپنی مرضی سے جھٹکے شروع ہوجاتے اور اپنی مرضی سے رک جاتے۔ اور کوئی لگ بھگ ڈیڑھ سے دو ماہ کا عرصہ گزر نے کے بعد اس کے جھٹکے کنٹرول ہونا شروع ہوئے تو ہسپتال سے رخصتی ہوئ۔ میں جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارکہ کو سنتا یا پڑھتا ہوں کہ دنیا اس طرح بسر کرو جیسے کوئی پردیسی یا مسافر تو مجھے فاطمہ اور اس کی بیماری یاد آجاتی ہے۔ڈیڑھ دو ماہ کے اس دوران نہ تو اس کے گھر والوں نے ضرورت سے زائد کوئی چیز ہسپتال میں لے کر آئے اور نہ ہی لمبے قیام کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ جمع کرکے رکھا اور اتنے طویل قیام کے باوجود بھی ہمیشہ ان کی نظر وہاں سے جانے پر ہوتی تھی
ہم اپنا بچپن گزار چکے ہیں، کچھ جوانی گزار رہے ہیں اور کچھ بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں۔ سنی سنائی باتیں نہ سہی لیکن جو وقت ہم گزار چکے ہیں، اس کے گواہ تو ہم ہیں۔ اوراس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ موت برحق ہےتو پھر اس کو یاد رکھنے میں کیا مضائقہ ہے۔نہ تو مولویوں کو برا بھلا کہنے سے رکنے والی ہے اور نہ ہی اس حقیقت سے نظریں چرا لینے سے ٹلے گی۔ لیکن ڈر تو اس بات سے لگتا  کہ کہیں  کل قیامت کے روز ہمارا شمار ان لوگوں میں تو نہیں ہوگا جن کے بارے مین قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے ۔
قیامت کے روز مجرم قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم تو بس ایک پَل کیلئے دنیا میں گئے تھے۔  
( الروم : 55 ) 
اور میں اس حقیقت کو کیسے نظر انداز کرسکوں گا جب میرا قرآن یہ کہ رھا ہے
 اور موت کی بیہوشی برحق خبر لے کر آئی ، یہی وہ حقیقت ہے جس کے اعتراف سے تو راہ فرار اختیار کرتا تھا۔
 ( ق : 19 ) 
 ایک لمحے کو آنکھیں بند کر لیں اور تصور کریں کہ جب لوگ ہمیں مٹی کے حوالے کرکے خود لوٹ جائیں گے،کوئی دوست ، والدین، اولاد ہماری کوئی مدد کرنے سے قاصر ہونگے۔ مٹی میں دبے جانے والوں کےقدموں کو سن رہے ہونگے۔ چیخیں، پکاڑیں۔۔۔ لیکن کوئی سن نہیں پائے گا۔کتنا سخت اور ہولناک منظر ہوگا۔ساری خواہشیں اور تمنائیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔کاش ہمارا معاملہ ہماری موت کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ۔ ساری کوتاہیوں اور سستیوں پر پردہ پر جاتا۔ لیکن ایسا نہیں ہونے والا۔وہاں تو حساب دینے ہیں۔۔اللہ سے دعا ہے ہمیں اس دن کی سختی سے بچائے۔ قبر میں آسانی نصیب فرمائے۔روزآخرت کے دن جہنم سے نجات فرمائے آمین۔
میم سین

Friday, March 21, 2014

افراطِ زر

پرسوں ایک محفل میں بیٹھا تھا ۔جہاں گفتگو کا موضوع حالات حاضرہ اور ملکی صورتحال تھی۔ بار بار گفتگو میں مہنگائی اور افراطِ زر کا زکر آرھا تھا ۔ایک بزرگ نے افراط زر کے بارے میں  پوچھا کہ یہ کیا بلا ہے؟  تو سب کو سانپ سونگھ گئے کیونکہ کوئی بھی اس کے بارے میں واضح لفظوں میں نہیں جانتا تھا۔اور جب میں نے تھوڑی سی وضاحت کی تو سب کی سمجھ میں آگیا۔ سوچا اس مختصر سی معلومات کو دوستوں سے شیئر کرلوں
ہمارے کرنسی نوٹ کی مالیت کا انحصار ہمارے پاس موجود سونے کے ذخیروں پر ہوتا ہے۔ بات کو سمجھنے کیلئے ایک مثال دوں گا کہ اگر ہمارے پاس ایک کلو سونا ہے اور سٹیٹ بینک اس کے بدلے میں ایک ہزار نوٹ چھاپ دیتا ہے۔یعنی ایک گرام سونے کے بدلے ایک روپیہ۔اگر آپ کوئی ایسی چیز خریدتے ہیں جس کی قیمت ایک گرام سونا ہے تو آپ اس کو ایک گرام سونے کی جگہ پر ایک روپیہ دے دیں گے۔ لیکن اگر سٹیٹ بینک ایک کلو سونے کے بدلے دو ہزار کے نوٹ چھاپ دیتا ہے تو  آپ کو ایک گرام سونے والی چیز کے بدلے دو روپے کے نوٹ دینا پڑیں گے۔ اسی طرح سونا ایک کلو ہی ہے اور سٹیٹ بینک پانچ ہزار کے نوٹ چھاپ دیتا ہے تو ایک گرام سونے والی چیز کیلئے آپ کو پانچ نوٹ دینا پڑیں گے۔یعنی اگر سونے کی مقدار بڑھائے بغیر نوٹ چھاپتے رہیں گے تو آپ کو چیز خریدتے وقت زیادہ نوٹوں کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ اور یہی روپے کی مالیت میں کمی کا نام افراط زر ہے۔کہنے کو تو میں نے کہ دیا ہے کہ کرنسی کی مالیت کا دارومدار سونے کی مالیت پر ہے لیکن عملی طور ایسا نہیں ہے بلکہ 1944کے بریٹن وڈزکے معاہدے کے بعد ڈالر کو کرنسی کا معیار بنا دیا گیا تھا۔ جس کے مطابق ایک اونس سونے کی قیمت پینتیس ڈالر مقرر کر دی گئی تھی اور دنیا میں جتنی بھی کرنسی کا کاروبار ہونا تھا اس کیلئے ڈالر معیار بنا دیا گیا۔ویتنام کی جنگ کے بعد جب ڈالر مشکلات کا شکار تھا تو جرمنی نے اس معاہدے سے انکار کرتے ہوئے امریکہ سے سونے کا مطالبہ کر دیا تھا اور جرمنی کی دیکھا دیکھی یورپ کے کئی دوسرے ممالک نے بھی ڈالر کی بجائے سونے میں کاروبار شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا جن میں فرانس سرفہرست تھا۔
انیس سو اکہتر میں آخری شائع ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ اپنے اصل سونے کی قیمت سے تین گنا زیادہ نوٹ چھاپ چکا تھا ۔ لیکن اس کے بعد کتنے نوٹ چھپے ہیں کسی کو کچھ علم نہیں۔ اور عربوں سے تیل کی ساری تجارت ہی نوٹ چھاپ کر کی گئی ہے۔2007 کے معاشی بحران سے لیکر آج تک تو کھربوں کےحساب سے ڈالر چھاپا جا چکا ہے ۔لیکن امریکہ نے پوری دنیا میں دھونس اور دھاندلی مچا کر ساری دنیا کو ڈالر کی اصل مالیت سے بے خبر رکھا ہوا ہے۔اگرچہ جرمنی کی جانب سے معاہدہ توڑے جانے کے بعد بریٹن وڈز کا معاہدہ ختم ہوگیا تھا اورآج ہر ملک اپنی کرنسی چھاپ سکتا ہے لیکن آج بھی بین الاقوامی کرنسی کا درجہ امریکہ کے ڈالر کو حاصل ہے۔اسلئے کسی ملک کی مضبوط معیشت کا اندازہ اسکے پاس موجود امریکی ڈالر کے ذخیروں سے لگایا جاتا ہے
سونے کی بات آئی تو معلومات کیلئے عرض کروں کہ سونے کے معیار کی اکائی قیراط ہوتی ہے اور خالص ترین سونا چوبیس قیراط کا ہوتا ہے لیکن عملی طور پر دستیاب نہیں ہوتا۔مشرق وسطی میں زیورات میں بائیس قیراط والاسونا استعمال ہوتا ہے جب کہ یورپ میں زیورات میں اٹھارہ قیراط سے کم اور امریکہ میں چودہ قیراط سے کم کا سونا استعمال کیا جاتا ہے۔دس قیراط سے کم کے سونے کو سونا نہیں کہا جاتا
میم سین

Monday, March 17, 2014

یاد دھانی

طب کے شعبے سے منسلک ہونے کی وجہ سے میں نے زندگی اور موت کے درمیان جس قرب کو  محسوس کیا ہے، اس نے زندگی کی نزاکت اور بے ثباتی کا احساس بارہا دل میں ڈالا ہے۔ موت کے ساتھ پہلی بار واسطہ محمد موسی کے انتقال کے وقت ہوا تھا۔ محمد موسی،  لگ بھگ اسی برس کے قریب ایک بھرپور بڑھاپا گزار رہے تھے، ہمارے بزرگوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اکثر کلینک پرآجاتے اور چائے کی فرمائش ہوتی تھی۔لیکن ان کی آمد ہمیشہ مغرب کی نماز کے بعد ہوا کرتی تھی۔ اپنے ماضی کے قصے، کچھ حالات حاضرہ پر تبصرہ ، کچھ اپنی طبیعت کا موضوع۔ لیکن اس دن ظہر کی نماز کے بعد آئے تو مجھے کچھ اچنبھا ہوا۔ سلام دعا کے بعد کہنے لگے کہ آج جب میں نماز پڑھ رھا تھا تو مجھے ایسے لگا جیسے میرا جسم ایک لمحے کو سن ہوگیا ہے،لیکن پھر سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ میں نے مذاق سے کہا کہ آپ نے میرے ساتھ چائے پینے میں کافی غیر حاضریاں کر ڈالی ہیں ،اسلئے ایسا ہوا ہوگا۔ پہلے چائے پیتے ہیں ، پھر طبیعت بھی چیک کر لیتے ہیں۔ لیکن ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ کہنے لگے بالکل ایسے ہی ہوا تھا اور ان کا جسم ڈھلک گیا، ڈسپنسر کی مدد سے بستر تک لے کر گیا تو ان کا جسم روح سے خالی ہوچکا تھا۔
اس دن بیس بائیس سال کے نوجوان کو سینے میں معمولی درد کے ساتھ لیکر آئے تو چیک اپ کے بعد میں نے بتایا کہ دل کے اٹیک عموماً اس عمر میں نہیں ہوتے لیکن اس کی ساری علامات کچھ غیر معمولی ہیں۔اس لئے ایک بار دل والے ہسپتال ضرور چیک کروا لیں۔لیکن جونہی نوجوان کمرے سے نکلنے لگا توگر گیا ۔اٹھا کر بسترتک لیجایا گیا تو اس کی روح اور جسم کا ناطہ ٹوٹ چکا تھا۔ 
لیکن جس موت نے میرے احساسات کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا وہ ایک ایسے نوجوان کی موت تھی،جس نے گھریلو جھگڑے کے بعد گندم میں رکھنے والی زہریلی گولیاں کھا لی تھیں اورمیں کرب کے ان لمحوں کو زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتا جب تکلیف اور اذیت میں وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر منتیں  کر رہا تھا کہ میری جان بچا لو۔ ابا مجھے معاف کر دو۔ اماں میرے لئے کچھ کرو۔ڈاکٹر مجھے سے غلطی ہوگئی مجھے بچا لو۔۔۔لیکن اگلے چند لمحوں میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا۔
ایسے ہی کتنے ہنستے بستے لوگوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے اس دنیا سے رخصت ہوتے دیکھ چکا ہوں۔ کچھ اتنے اچانک اور کچھ عمر کے اس حصے میں جب ابھی زندگی کی کونپلیں بھی صحیح طرح سے نہیں کھلی تھیں ۔بیس سالہ عائشہ میرے کلینک سے دوا لیکر نکلی ابھی کچھ دور ہی گئی تھی کہ ڈوپٹہ موٹر سائکل کے پہیے میں آگیا اور سر سڑک سے ٹکڑایا اور زندگی کا ساتھ ختم۔
 ننھا مہتاب اس دنیا میں آیا توسارے آنگن میں روشنی پھیل گئی۔کیس گھر پر ہی ہوگیا۔سب بچے کی خوشیوں میں لگ گئے لیکن جب ماں کے زرد چہرے پر نظر پڑی تو سب کے اوسان خطا ہوگئے۔ میرا کلینک قریب تھا، اٹھا کر میرے پاس لے آئے، لیکن اس وقت تک ممتا روٹھ چکی تھی۔
  پتا ہی نہیں چلا کہ عثمان کھیلتے کھیلتے کیسے پانی کے ٹب تک جا پہنچا، جب ماں کی نظر پڑی تو ننگے پاؤں لیکر دوڑی۔ لیکن میرے سامنے اس نے اپنی آخری سانس لی تو میرے اندر اس کی ماں کو کچھ بھی بتانے کا حوصلہ نہیں تھا۔
عبدللہ اپنے باپ کی دوائی کے بابت پوچھنے میرے پاس آیا۔ اورکچھ دیر بعد ڈکیتی کی وادات میں اس کے قتل کی خبر سنی تو دیر تک، میں سکتے میں رھا۔
پندرہ سولہ سالہ فاطمہ کو اپنے باپ کے ساتھ گنے کی ٹرالی کے ساتھ موٹر سائیکل کے ایکسڈینٹ کے بعد جب کلینک پر لایا گیا تو ابتدائی طبی امداد کے بعد سی ٹی سکین کیلئے ریفر کیا تو وہ خود اپنے قدموں پر چل کر بیرونی گیٹ تک  گئی۔ لیکن پھر چکر کھا کر ایسی گری کہ دوبارہ اٹھ نہیں پائی۔افضال صاحب کا گھر میرے کلینک کے بالکل قریب ہے۔ جب لائٹ اپنے مقرہ وقت پر نہیں آئی تو جنریٹر سٹارٹ کرنے لگے تو اچانک بجلی آگئی اور کرنٹ لگنے سے کوئی آواز بلند کئے بغیر اپنے حقیقی مالک سے جاملے ۔
 ایسے ہی کتنے لوگوں کے زندگی سے تعلق ٹوٹنے کا گواہ ہوں اور شائد ہم سب ہی موت کے ایسے سینکڑوں، ہزاروں واقعات کے عینی شاہد ہوتے ہیں۔ ہم ہر روز جنازوں کا اعلان سنتے ہیں۔ اپنے پیاروں اور قریبی رفقا کے کندھوں کو سہارا دیتے ہیں۔لیکن پھر بھی سماج کی بنائی ہوئی مصنوئی آلائشوں کیلئے زندگی کی اس سب سے بڑی حقیقت اور سچائی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو فریب کا حلقہ اور زندگی کا طلسم دونوں ٹوٹ جائیں گے۔زندگی ایک روکھی حقیقت کی نمائندہ بن جائے گی۔موت دنیا کی سب سے بڑی اور اٹل حقیقت ہے۔دنیا میں خدا اور مذہب کے منکرین تو بہت مل جائیں گے لیکن موت سے انکاری شائد ہی مل سکے۔

ایک لمحے کو سوچ دل میں آتی ہے اورزندگی اپنی نزاکتوں کے ساتھ سامنے ڈگمگاتی ہوئی نظر بھی آتی ہے لیکن پھر بھی ہم موت سے اپنی نظریں چرا لیتے ہیں۔وقت ہماری زندگیوں کو کسی دیمک کی طرح کھا رھا ہے۔جب کوئی چیز کم ہورہی ہو تو  وہ ایک دن ختم بھی ہوجائے گی۔جب موت اس قدر برحق ہے اور زندگی اس قدر غیر یقینی ہے ،تو پھر ہم کس لئے اس دنیا میں آئے ہیں؟ ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟ ہمیں کیوں پیدا کیا گیا ہے؟؟
جاری ہے
میم سین