Saturday, January 31, 2015

میں لکھنا کیوں چاہتا ہوں

میں لکھنا کیوں چاہتا ہوں۔۔۔

یہ عاجزی، تحمل، بردباری ہی تو ہے جس نے ایسے شعور میں رہنے کا حوصلہ دے رکھا ہے جو ابھی اٹھارویں صدی میں جی رھا ہے۔ بات محض اپنے احساسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچانے کی نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی نشاندگی کرنا ہے جس سے ہمارے پسماندہ علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والے افراد کو گزرنا پڑتا ہے۔ 
اور شائد اس گہری خلیج کی طرف بھی نشاندھی کرنا ہےجو ہماری عوام اور حکام بالا کے درمیان موجود ہے۔ جب تک ہمیں اپنے مسائل سے آگاہی نہیں ہوگی ۔اس شعور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔ہم اپنے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔
ہمارے لوگوں کی ذہن سازی آج بھی درباروں پر ہوتی ہے ۔توہم پرستی ان کی گھٹی میں اتر ہوچکی ہے۔ ان کی تربیت جس تعلیم کے ذریئے ہورہی وہ اس قدر فرسودہ اورروایتی ہے کہ اس میں تبدیلی لائے بغیر کوئی بھی انقلابی قدم اٹھانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
ہمارے دیہاتوں قصبوں اور گائوںمیں رہنے والے ابھی جس شعور میں رہ رہے ہیں وہ اس قدر فرسودہ ہے کہ جس میں عزم واستقلال سے مزین معاشرہ تشکیل ہی نہیں دیا جاسکتا۔ جس میں آگہی کی گردان بے معنی ہے اور جس نے لوگوں کو ایسی بندھنوں میں جکڑ رکھا ہے جن کا تعلق نہ مذہب سے ہے نہ ثقافت سے اور نہ روایات سے ۔ بس کسی ویرانے میں اگی خرد رو جڑی بوٹیوں کی طرح معاشروں میں رچ بس گئی ہیں
یہ لوگوں کی سادگی کا مذاق نہیں ہے نہ ہی کم فہمی پر طنز ہے۔یہ تو دھرکتے دل کے ساتھ بڑے مہذبانہ، شاعرانہ اندازمیں معاشرے کے نامسائد حالات کی عکاسی ہے۔جس میں ہم لوگ جی رہے ہیں
میم سین

Friday, January 30, 2015

کاش ایسا ہو

کیا ہی اچھا ہو اگر ہم حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مظاہروں کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کروانے کے ساتھ ساتھ پکے اور سچے مسلمان بن جانے کے وعدے کے ساتھ اس احتجاج کو موثر بھی بنا ئیں۔ اور اسلام کے عملی نمائندے کی حیثیت سے اپنا تعارف یقینی بنائیں۔کاش ایسا ہو۔۔۔ ہم جس بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں اس کے وقار کے تحفظ کی قسم اسلام کے ایک نمائندے کی حیثیت سے اٹھائیں۔کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنی نمازوں کا اہتمام کرنے کا وعدہ کریں۔وعدہ کریں کہ زکواۃ اور عشر کی ادائیگی کو مقدم بنائیں گے۔اپنے زبان کی قینچی سے کسی کی آبرو کو نہ کاٹنے کا عہد کریں۔۔
کیا ہی اچھا ہو اگرآقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو کائنات کیلئے نمونہ سمجھنے والے اپنی عملی زندگی سے اپنی محبت اور عقیدت کا مظاہرہ کریں۔
جو ہستی آپ کو بتاتی ہو کہ مومن نہیں ہوتا وہ شخص جو طعنہ دینے والا ہواور بے ہودہ بات کرنے والا ہو۔۔۔۔ہمسائے کو ایذا دینے والا ہو۔۔۔۔،دوسروں پر رحم نہ کھانے والا ہو۔۔۔۔۔
جو یہ کہتا ہو تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اعلی ہے۔۔۔۔۔ جو معاشرے سے فساد ختم کرنے کیلئے کہتا ہو۔۔۔جو کہتا ہو،جنت میں شریر انسان اور چغل خور داخل نہیں ہو پائے گا۔۔۔۔۔پہلوان تو وہ ہے جو غصے میں اپنے اوپر قابو رکھ سکے
جو ترغیب دیتا ہو،بدگمانی سے بچو۔۔۔۔ کھوج نہ لگاؤ۔۔۔ عیب نہ ڈ ھونڈو۔۔۔۔۔ حسد نہ کرو۔۔۔۔بغض نہ رکھو۔۔۔۔ عداوت نہ کرو۔۔۔۔۔جس کو معاشرے کی عزت اور آبرو کا اس قدر بھرم ہو کہ وہ حکم دیتا ہوبے حیائی سے بچو۔۔ حیا کو قائم رکھو۔۔۔دوسروں کے عیب چھپا کر رکھو۔۔ جو خود سلیم الفطرت ہو اور کہتا ہو ا نکسار پسند جنت میں جائے گا،تین دن سے زائد کوئی کسی سے ناراضگی جاری نہ رکھے ۔۔۔۔
جو اخوت کا جذبہ یہ کہہ کر بیدار کرتا ہو ، ، جب بھی ملو سلام میں پہل کرو۔۔۔کسی کا مرض پتا چلے۔۔عیادت کو پہنچو، کسی کے جنازہ کا علم ہوجائے تو پیچھے نہ رہو۔۔۔۔۔ جو محبت بڑھانے کے بہانے ڈھونڈ کر دیتا ہو کوئی دعوت کرے تو انکار نہ کرو۔۔۔۔۔کھانا کھلاؤ جسے جانتے ہو یا نہیں۔۔۔ جو غلط فہمیوں کو بھگاتا ہو۔۔۔
کیا کہنے اس ہستی کے جو بتاتا ہو کہ جب مل کر بیٹھتے ہو تو سرگوشیوں میں بات نہ کرو۔۔۔۔۔ جو ہر شخص کو یہ کہہ کر ذمہ داری سونپتا ہو کہ دوسروں کی اصلاح میں پیچھے نہ رہو،۔۔۔ جس کے نذدیک جھگڑالو شخص قابل نفرت ہے۔۔
جو بتا تا ہو کہ کاہلی ، بزدلی اور کنجوسی مومن کی شان نہیں ہے۔
کیا ہی اچھا ہو ہم اس ہستی کی باتوں کو بھی سمجھ سکیں جس کی خاطر اپنی تن من دھن قربان کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔۔۔کاش ایسا ہی ۔۔۔۔۔
میم سین

Monday, January 26, 2015

نیکیاں

اگر انسان مکمل ہوتا تو پیغمبروں کی ضرورت نہ پڑتی۔ آسمانی کتابوں کو نازل نہ کیا جاتا ۔انسان کو فطرت نے نامکمل پیدا کیا ہے۔ لیکن فطرت کا دیا ہوا یہ ادھورا پن ہی انسانی زندگی کا سب سے لطیف پہلو ہے۔یہ ادھورا پن اسے سیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔وہ جب فریب کھاتا ہے تو سچائی کی تلاش کرتا ہے۔وہ جب چوٹ کھاتا ہے تو برداشت سیکھتا ہے۔جب جنگ کرتا ہے تو امن کو ڈھونڈتا ہے۔وہ جب گناہ کرتا ہے تو ثواب ڈھونڈتا ہے۔ ۔انسان کا یہی ادھورہ پن اس کی زندگی کو اگر مایوسیوں سے دوچار کرتا ہے تو وہیں پر اس کی امنگوں کو بیدار کرتا ہے ۔اس کے من کے اندر ہلچل مچاتا ہے، اسے سچ اور جھوٹ کی پڑکھ سکھاتا ہے۔اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلا کر صراط مستقیم دکھاتا ہے اور یوں وہ گناہ اور نیکی کے درمیان فرق سیکھ جاتاہے۔
جہاں لوگ گناہوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں وہیں پرکچھ لوگ نیکیاں کمانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔مسجدیں اللہ کا گھر ہیں اور اللہ کے گھر آنے والوں کی خدمت کرنے میں لوگ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ کچھ لوگ مسجدوں میں گرم پانی کیلئے گیزر لگوا کر دیتے ہیں ۔ کچھ لوگ بجلی کی مسلسل فراہمی کیلئے یو اپی ایس یا پھر جنریٹر کا اہتمام کر کے دیتے ہیں۔ کچھ پنکھے لگوا کر دیتے ہیں ۔اور کچھ ٹھنڈی ہوا کیلئے بندو بست کرتے ہیں۔سچی بات ہے کہ نمازیوں کو سہولت فراہم کرنے میں لوگ خرچ کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے۔
کل شام ایک مسجد میں مغرب کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ نماز سے فارغ ہوا تو نظر سامنے لگے نما زوں کے اوقات کے کیلنڈر پر پڑی جس کے ساتھ ایک بورڈ لگا ہوا تھاجس پر ہندسوں میں ایک ڈیڑھ، دو تین و غیرہ لکھا ہوا تھا۔ تجسس نے مجبورکیا  تو قریب  جا کر دیکھا تو چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے اور ہر خانے میں ایک قریب کی نظر کی عینک رکھی ہوئی تھی۔ میرے لئے یہ نئی بات تھی۔ سوچا پتا نہیں ان کو استعمال کون کرتا ہوگا؟ ۔لیکن اتنے میں ایک بزرگ نے اپنی نماز مکمل کی اور  چار نمبروالے خانے  سے ایک عینک نکالی اور الماری سے قرآن پاک نکال کر ایک طرف ہوکر بیٹھ کر مطالعہ شروع کردیا۔ سوچ کے اس نئے انداز کو دیکھ کر خوشی ہوئی
میم سین

Sunday, January 25, 2015

بلاوہ

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ شائد زندگی اتنی مختصر بھی نہیں ہے کہ آرزوؤں اورامنگوں کیلئے جستجو نہ کی جائے۔ تمناؤں اور خواہشوں کی تلاش کی پر مسرت کیفیتوں کا تعاقب نہ کیا جائے۔لیکن زندگی جب اپنی تمام تر نزاکتوں ، راحتوں اور پرکشش ولولوں کے باوجود میرے سامنے ڈگمگاتی، لڑکھڑاتی میری بے چارگی کا تمسخر اڑاتی نظر آتی ہے تومیں اس کے سامنے اپنی بے بسی  اوردنیا سے بیزاری کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔
یہ کل شام کی بات ہے جب بابا صدیق میرے پاس آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک ماہ پہلے فیصل آباد کے ایک ڈاکٹرسے چیک اپ کروایا تھا اس نے میرے گھٹنوں میں انجکشن لگائے تھے اور ایک ماہ بعد دوبارہ آنے کو کہا تھا ۔ میری گھٹنوں کی تکلیف پہلے سے بہت بہتر ہے۔لیکن سردی اور دھند کی وجہ سے سفر کرنا میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ کسی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ بھی انجکشن لگاتے ہیں ۔ میں نے ڈسپنسر کو بلا کر انتظام کرنے کو کہا اور انجکشن لگوا کر بابا صدیق دوبارہ میرے کمرے میں آیا اور کہنے لگا ۔ میں آپ کیلئے گنے بھیجوں گا۔میرے کھیت کےبہت میٹھے او رس دار بھی ہیں اور نرم بھی ۔ایک نئی نسل کاشت کی تھی اس دفعہ۔ میں نے مسکرا کر کہا میں انتظار کروں گا۔

لیکن آج صبح بابا صدیق کے گاؤں کا ایک مریض میرے پاس آیا  اور جب اس نے مجھے بابا جی کی موت کی خبر سنائی تو میں چند لمحوں کیلئے سناٹے میں آگیا ۔ اس نے بتایا کہ جب بابا جی آپ سے انجکشن لگوا کر گاؤں کے قریب پہنچے تھے تو رکشہ الٹ گیا ۔اور سڑک سے سر ٹکرنے کی وجہ سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
میم سین

Friday, January 23, 2015

المیہ

ہم سب سنی ہیں یا پھر شیعہ ہیں۔۔کہیں بریلوی،دیوبندی کی تشخیص ہے ۔۔۔کسی کو اہلحدیث اور وھابی کہہ کر الگ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔۔۔کوئی خود کو نقشبندی ، اویسی کہلوانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔۔۔کہیں امام الگ ہیں تو کہیں مسائل میں اختلاف ہے۔۔۔۔ہر ایک کا اپنا موقف ۔۔ اپنا عقیدہ۔سب کی مساجد بھی الگ۔۔۔سب کی نمازیں اور جماعتیں بھی الگ ہیں۔۔۔خوشیاں اور غم منانے کے طریقے اور اطوار بھی الگ ہیں۔۔۔
لیکن یہ ساری مایوسیاں ایک طرف ۔۔سارے خدشے اورما یوسیاں ایک طرف۔۔کچھ تو ایسا ہے جو ہم میں مشترکہ ہے۔۔ہمارا رب تو ایک ہی ہے۔۔ ہمارا نبی تو ایک ہی ہے۔۔۔۔۔۔
لیکن گستاخٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جماعتوں کے الگ الگ مظاہرے دیکھ کر یوں لگ رھا ہے کہ شائد ہمارا نبی بھی الگ الگ ہے
میم سین

ایک سوچ

سارا زور سکولوں کی دیواریں اونچی کرنے ، گارڈ رکھنے اور ایمرجنسی گیٹ بنانے پر ہے۔ کسی کے ذہن میں بچوں کو گھر سے نکلنے سے پہلے مسنون دعائیں پڑھنے کیلئے تاکید کرنےکا خیال کیوں نہیں آتا ؟ حکومتی حلقوں میں کسی کے ذہن میں اس بات کا خیال کیوں نہیں آتا کہ ایک نوٹیفیکشن جاری کر کے روزانہ تدریس کا آغاز آیت لکرسی سے کیا جائے۔یاہمیں صرف حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی ہی ہے اور اپنے اسلامی تشخص سے شرمندگی ہوتی ہے؟کیا یہ سکول انتظامیہ کا کا م ہے وہ اپنی سیکورٹی کرتے پھریں ؟؟؟؟ واہگہ بارڈر اور آرمی سکول کی سیکیورٹی کس کے ذمے تھی؟؟؟؟ سیکیورٹی اداروں کا کام صرف اطلاع دینا ہوتا ہے؟ ؟؟؟؟
دو دو فٹ دیواریں اونچی کرنا اور سیکیورٹی گارڈ کھڑا کرنا.ٹرک کی لال بتی نہیں تو اور کیا ہے....؟؟؟
میم سین

Monday, January 19, 2015

ذمہ داریاں

چند ماہ پہلے کی بات ہے ایک دوست کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ جنہوں نے آبادی سے باہر اپنی زمینوں میں ہی گھر بنا رکھا ہے۔ فصلیں اور باغ دکھانے کے بعد مجھے وہ اپنے ڈیرے پر لے آیا جہاں چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں اورمجھے بیٹھنے کا کہہ کر خود گھر کے اندر چلا گیا ۔ میں ارد گرد لگے پودوں اور پھولوں کو دیکھنے اور پرندوں کی چہچہاہٹ سے لطف اندوز ہونے لگ گیا۔ اتنے میں ایک پھلواری کے پیچھے سے ایک مرغی برآمد ہوئی اور اس کے پیچھے پیچھے چھوٹے چھوٹے چھ سات چوزے برآمد ہوئے۔ادھر ادھر منہ مارتے صحن کے وسط تک آگئے ۔مجھے ان کی حرکات و سکنات بہت دلچسپ معلوم ہو رہی تھیں کہ اچانک مرغی جن قدموں سے پھلواری کے پیچھے سے آئی تھی انہی قدموں پر واپس لوٹ گئی۔ مجھے اس کی اس حرکت پر کچھ تجسس ہوا ۔لیکن کچھ ہی لمحوں بعد وہ دوبارہ برآمد ہوئی تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک اور چوزہ بھی تھا
چند دن پہلے لاہور کی ایک مسجد میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔شوشل میڈیا میں گردش کرتی تصویروں پر نظر پڑتی تو کلیجہ کانپ کانپ جاتا۔مضطرب ذہن گھائل روح پر لگے کانٹوں کو نکالنے میں ناکام رہتا۔ ایک ماں کے آنکھوں کا نور اندھیروں میں ڈھل گیا۔ ایک باپ چلتی سانسوں کے ساتھ مر گیا۔درندگی کے ایسے مجرم کو جینے کیلئے چھوڑ دینا خود ایک جرم ہوگا۔جس نے ایک معصوم پھول کو مسل کر اسے سفید چادر میں سلا دیا۔
کچھ لوگوں نے جہاں مسجدوں اور مدرسوں پر اپنا بغض نکالا تو وہاں پر کچھ نے مساجد کے انتظامات بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔کچھ نے نے اپنا نزلہ پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی پر نکالا۔ کچھ کے خیال میں ایسے واقعات کی ساری ذمہ داری میڈیا پر جاتی ہے جس نے قوم کو بے راہ روی کی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ لیکن کسی نے ان والدین کی ذمہ داریوں پر زور نہیں دیاجو اپنے بچوں کی تربیت اور نگرانی میں کوتاہی برتتے ہیں۔
درندگی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔آئے روز ہم ایسے واقعات کے گواہ بنتے ہیں جو ہمارے سماج کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ بنتے رہتے ہیں۔ نسل در نسل اور پشت در پشت خاندان بے حرمتی کے یہ داغ لئے اپنے آپ کو سولی پر چڑھائے پھرتے ہیں۔ جب میں ڈیڑھ سے دو سال کی عمر کے بچوں کی ماؤں سے کہتا ہوں کہ ان کو دکان کی گندی چیزوں سے بچاؤ تو ان کی اس بے بسی پر کہ اب بچہ خود محلے کی دکان سے ٹافیاں لے آتا ہے تو میں کیا کروں؟ تو میرا سر پیٹنے کو دل کرتا ہے۔ کسی بھی گلی محلے میں چلے جاؤ۔ سڑک کے بیچ وبیچ چھوٹے چھوٹے بچے کھیلتے ہوئے ملیں گے۔بچے گھر سے کب نکلے، سڑک پر کتنا رش ہے؟ والدین اکثر اس معاملے میں بے خبر ہوتے ہیں۔
بچے گلے میں بستے لٹکائے سکول جارہے ہوتے ہیں۔ وہاں سے نکلتے ہیں تو ٹیوشن پر چلے جاتے ہیں ۔ پڑھائی کیسی جارہی ہے؟ کون سے ٹیسٹ ہوئے ہیں؟ امتحان کب ہوں گے؟ بچے کی تعلیمی کارگردگی کیسی جارہی ہے؟ کتنے والدین ہیں جو سکول انتظامیہ اور اساتذہ کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہیں؟ 
گورنمنٹ سکولوں اور کالجوں کی ابتر حالت کی ذمہ داری تومحض گورنمنٹ پر ڈال کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔لیکن حالات پرائیویٹ اداروں میں پڑھنے والے والدین کے بھی ایسے نہیں ہیں کہ ہم انہیں ستائش کی نظر سے دیکھتے رہیں۔
بہت کم والدین ایسے ہیں جو ان باتوں کا خیال رکھتے ہیں کہ بچہ سکول کن رستوں سے جاتا ہے؟ سکول سے چھٹی کتنے بجے ہوتی ہے؟ سکول سے واپسی پر دیر سے کیوں آیا؟ ٹیوشن کے نام پر بچہ کہاں جارھا ہے؟ ورنہ انہیں ہوش اسی وقت آتا ہے جب کوئی سانحہ رونما ہوجاتا ہے۔
شائد میرا یہ سوچنا بجا ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کی اتنی بھی حفاظت نہیں کر سکتے جتنی ایک مرغی اپنے بچوں کی کرتی ہے؟؟؟
میم .سین