Thursday, December 19, 2013

لافانی لمحے



لافانی لمحے


زندگی میں ہر شے کا مول نہیں ہوا کرتا۔کچھ چیزیں انمول ہوا کرتی ہیں۔ جیسے رشتوں کی قیمت، خلوص کا معیار، جیسے محبتوں کا ترازو ،سچائی کی پاکیزگی،جیسے وفا کی لطافت۔۔۔۔۔۔
لیکن میں یہ سب کچھ ایک ان پڑھ اور دیہاتی عورت کو کیسے سمجھاتا؟ ایک ایسی عورت جس نے اپنی آنکھ ہی خودغرض ، اناپرست ، خواہشوں اور محرومیوں کے معاشرے میں کھولی ہو۔ اسے محبت کے ان لازوال جذبوں کی داستان کیسے سمجھاتا ؟۔ کچھ چیزیں لافانی ہوتی ہیں۔جن کا حصول انسانی معراج ہوتا ہے۔کچھ جذبے ایسے ہوتے ہیں جو سچائی کے آئینہ دارہوتے ہیں۔ایسے جذبے جو جینے کی امنگ پیدا کرتے ہیں۔ایسے جذبے جن پر تہذیب فخر کرتی ہے۔ایسے جذبےجو ذہنوں کو جلا بخشتے ہیں۔ 
لیکن میں یہ سب باتیں کیسے سمجھا سکتا تھا ؟  میں نے دعاؤں کی درخواست کرتے ہوئے بوڑھی اماں سے رخصت چاہی۔ یہ اس رات کا واقعہ ہے جس کی اگلی صبح اناٹومی بی کا پیپر تھا۔ سبھی لڑکے اپنے پیپر کی تیاری میں مصروف تھے ۔صرف مصروف ہی نہیں بلکہ پیپر کی ٹینشن نے ان کے چہروں کی ساری خوشیاں ہی چھین لی تھیں۔ ساری مسکراہٹیں خزاں زدہ ہو گئی تھیں۔ ایک لڑکے نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ حشر کے امتحان کے بعد دنیا کا سب سے مشکل امتحان یہی ہے۔
 جب مسلسل پڑھائی سے آنکھوں میں تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہونے لگے تو رات دس بجے کے لگ بھگ میں نے چائے پینے کی غرض سے کینٹین کا رخ کیا۔ ابھی ہوسٹل کے دروازے سے باہر نکلا ہوں تو  نجیف سا پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک ادھیڑعمر کے شخص نے مجھے روک کر ایک پرچی میری طرف بڑھا دی۔اور مجھے بتایا کہ میری بیٹی جناح ہسپتال میں داخل ہے اس کا فوری طور پر بڑا آپریشن ہونا ہے لیکن خون کا بندبست نہیں ہو پارہا۔ میں نے پرچی لیکر پڑھی تو اس پر بی نیگیٹو لکھا ہواتھا۔جو کہ میرا بھی گروپ تھا۔ اس کی بیچارگی اور مفلوک الحالی دیکھ کر ایک لمحے کو میرا دل پسیجا لیکن پھر پیپر کا خوف میرے اوپر حاوی ہوگیا۔ اور میں نے ٹالنے کی غرض سے دوسرے ہوسٹل کی طرف روانہ کرنے کا ارادہ کیا ۔لیکن اسی گھڑی، اخلاق اور اقدار کی موجیں فرض اور احساس کی چٹانوں کے ساتھ ٹکرائیں تو میں ایک لمحے کو آنے والے کل کی پریشانی کو بھول کر اس کے ساتھ جانے کو تیار ہوگیا۔
جب واپس آیا ہوں تو دوستوں کے دیر سے آنے کی وجہ پوچھنے پر بتایا کہ لائیبریری چلا گیا تھا۔ جھوٹ بول کر میں نے نیکی کے اس جذبے کے بھرم کو تحفظ دینے کی کوشش کی تھی جو میری امتحان میں ناکامی کی صورت میں فرض اور تکمیلِ فرض کے فلسفے کو سوالیہ نشان بنا دیتی۔اور میں ضمیر کے بوجھ تلے زندگی کے احساس اور اورہر جذبے سے خالی ہوجاتا۔
اگلی صبح میرا پیپر، توقع کے برخلاف بہت اچھا ہوا اور اسی شادمانی کے نشے میں جناح ہسپتال کے گائنی وارڈ کا رخ کیا۔ وارڈ میں لگے بیسیوں بیڈز پر رات والے مریض کے اہل خانہ کو پہچاننا بہت مشکل تھا لیکن ایک بوڑھی اماں نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا اور مجھے ایک عورت کے بستر تک لے گئی، جس کے پہلو میں ایک نوزائیدہ فرشتہ آنکھیں بند کئے ساری دنیا سے بے خبر سو رہا تھا۔فرط مسرت سے میرے چہرے پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ آگئی۔میں اس بچے کی روح سے بات کرسکتا تھا کیونکہ میں جس کیفیت سے گزر رہا تھا،وہ زبان کی محتاج نہیں تھی۔میری روح جس سرشاری سے ہمکنار ہو رہی تھی، وہ لافانی تھی۔میرا من جو ابھی تک بے یقینی کی تاریکی میں لپٹا ہوا تھا ایک دم روشنیوں مین نہا گیا۔ میں نے انسانی جذبوں کے وارث ہونے کا ثبوت دیا تھا اور روح کی بالیدگی کی طرف پہلا قدم اٹھایاتھا،جس نے قناعت اور سنجیدگی کے جذبے اور احساس سے روشناس کروایا تھا۔
میں جونہی وارڈ سے باہر نکلا ہوں ۔بوڑھی اماں عقیدت کے موتی سنبھالے، پانچ سو کا نوٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے اسے قبول کرنے پر اصرار کرنے لگیں۔ میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ میں تو انسانی جذبوں کا امین ہوں میں ان جذبوں کا بیوپاری کیسے بن سکتا ہوں؟میں نے جاگتی آنکھوں کے ساتھ فردوسی سرور کو محسوس کیا ہے، میں اس کا سودا کیسے کر لوں؟ لیکن سادہ دل دیہاتی عورت کو ان لمحوں کے مخمور جھونکوں کی کیا خبر جو مسرتوں کے سندیسے لیکر میری زندگی میں آئے تھے۔جو میری روح کو گداز کرگئے تھے۔مجھے کیف اور وجدان سے ہمکنار کر گئے تھے۔یہ چند لمحے ہی تو تھے ۔لیکن کتنے دلفریب، کتنے لطف انگیزتھے،کتنے پاکیزہ، کتنے مخمور لمحے تھے۔ لیکن کبھی کبھی یہ چند لمحے آپ کی عطائے زندگی بن جاتے ہیں۔

میم سین

Sunday, December 15, 2013

آہوں کا دریا

ہر دن کی طرح کا یہ ایک عام سا دن ہے۔ اور میں اپنے معمول کے مطابق بستر سے نکلتا ہوں۔تیار ہوکر  کلینک کیلئے روانہ ہوتا ہوں۔ ابھی کچھ سفرطے کیا ہے کہ ایک جیپ تیزی سے مجھے اوور ٹیک کرتی ہے اور ڈرائیور کی سیٹ پر موجود شخص ہاتھ کے اشارے سے مجھے رکنے کا کہہ رہا ہے۔ میں ساری صورتحال کو نہ سمجھتے ہوئے بریک لگا کر گاڑی کو سڑک کی ایک طرف لے جاتا ہوں۔ جیپ میں سے بڑی سرعت کے ساتھ تین افراد نکلتے ہیں اور میری جانب بڑھتے ہیں ۔ میں ان سے بات کرنے کیلئے باہر نکلتا ہوں ۔ لیکن ایک شخص مجھے دھکا دے کر سڑک پر گرا لیتا ہے اور میرے ہاتھوں کو کھینچ کر کمر کے ساتھ لگا کر باندھ دیتا ہے ۔اور ایک سیاہ کپڑامیرے چہرے پرچڑھا کر مجھے اٹھا کر اپنی جیپ کے پچھلے حصے میں پھینکتے ہیں اور کسی نامعلوم جگہ پہنچا دیا جاتا ہے۔شہر میں اسے اغوا کی ایک کہانی سمجھ کراس پر مختلف تبصرے کئے جاتے ہیں۔اخبار کے کسی صفحے پر اغوا کی ایک سطری خبر بھی چھپتی ہے۔ مریض چند دن تک کلینک کا رخ کرتے ہیں اور پھر تالا لگا دیکھ کر دوسرے ہسپتالوں کا رخ کرلیتے ہیں۔ گھر میں ایک کہرام مچتا ہے اور رشتے دار بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔ گمشدگی کاکوئی سراغ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن چند دن بعدزندگی معمول پر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور پھر ایک دن کسی نامعلوم شخص کی فون کال آتی ہے کہ ڈاکٹر ایجنسیوں کی تحویل میں ہے، فکر نہ کریں۔چند دن میں واپس آجائے گا۔ دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدل جاتے ہیں ۔ ماں باپ اپنے بیٹے کو دیکھنے کی حسرت لئے اپنی تمناؤں کا گلا گھونٹ کر اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ بیوی خاوند کی زندگی میں ہی بیوگی کو سینے سے لگا لیتی ہے اورزندگی بھر کیلئے آنسوؤں کا کفن پہن لیتی ہے۔ بچے باپ کے دنیا میں ہوتے ہوئے بھی یتیمی کو گلے لگانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔محرومیوں کا احساس لئے، یہ پھول زندگی بھر کیلئے بکھر جاتے ہیں۔اگر قسمت نے ساتھ دیا تو یہ بچے کسی لاغر ٹی بی زدہ شخص کو آخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھ لیں گے۔ورنہ ان کی ساری عمر کسی معجزے کے انتظار میں ،تہذیب کے دامن پر سچائی اورانصاف کے چھینٹے ڈھونڈنے میں گزر جائے گی ۔
میم۔سین

Saturday, November 30, 2013

تکمیل کی جستجو

تم بھی جاناں عجیب باتیں کرتی ہو۔بھلا تکمیل کیا ہے اور رشتوں کا آپس  میں کیا تعلق ہے؟ دو متضاد لہجوں کی دو متضاد باتیں ۔کمال کی باتیں کرتی ہو۔۔۔۔تم بھی نا۔۔ بھلا انسان بھی مکمل ہوسکتا ہے ؟ وہ تو موت ہے جو اسے ختم کر سکتی ہے اور وہی اس کی تکمیل ہے۔

تم ابھی معصوم ہو۔ انجان ہو۔ تم وہ دیکھ کر سوچتے ہو جو تمہیں نظر آتا ہے۔ لیکن  انسان کا ایک چہرہ وہ ہے جو تم  دیکھتے ہو اور دوسرا وہ روحانی جسم ہے جسے ہم محسوس کرتے ہیں۔ عورت کا ظاہر مکمل ہے لیکن اس کی روح ادھوری ہے وہ تلاش میں ہے ،وہ تکمیل کیلئے سرگرداں ہے ۔اس کے اس ادھورے پن کو آپ جبلی بھی کہہ سکتے ہیں اور سماجی بھی۔ہمارا سماج عورت کی پیدائش پر اس کے اندر ایک زخم لگا دیتا ہے اور وہ زخم کسی ناسور کی شکل میں اس کی روح کو بے چین رکھتا ہے۔۔۔۔ کچھ ادھوراپن فطری ہے،جو نسل در نسل اور پشت در پشت چلا آرہا ہے۔اس کی ہنسی کے پیچھے ایک کرب ہوتا ہے ۔وہ کرب،جس کو مرد کبھی محسوس نہیں کرسکتا۔لیکن اس کی تکمیل کا رستہ مرد کے اندر سے ہوکر جاتا ہے۔اس لئے اپنی روحانی اور نفسانی الجھنوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے وہ مرد کی طرف دیکھتی ہے۔عورت ایک بے جان بت کی مانند ہوتی ہے۔ وہ مرد کے ذریئے اس میں جذبات بیدار کرتی ہے۔ اسے احساسات سے بھر دیتی ہے

جاناں تم بھی کمال کرتی ہو!!   تم کہتی ہو کہ عورت کا رشتہ مرد کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے وہ مرد کے ذریئے اپنی تکمیل چاہتی ہے ۔ اس کی تکمیل ہوجاتی ہے تواس کی ہراساں روح کو اطمینان نصیب ہوجاتا ہے۔لیکن جاناں! جب وہ مکمل ہوگئی تو۔ بھلا  وہ مرد کا ساتھ کیوں چاہے گی ؟جب تکمیل ہوگئی تو مرد کا سہارا کیسا ؟

عورت کی گاڑی کا انجن مرد ہوتا ہے۔ وہ جب تک سانس لیتی رہتی ہے اس کوہواکی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ جب دھوپ کی تپش سے پریشان  ہو جاتی ہے تو اس کو سایے کی ضرورت ہوتی ہی ۔جب تھک کر نڈھال ہوجاتی ہے توایک بچھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ مرد اس سے باتیں کرے۔ باتیں نہیں کرسکتا ہے تو اس کی بات توجہ سے سنے۔وہ تو اپنی محرومیوں کا ذکر بھی اسی سے کرنا چاہتی ہے۔وہ اپنی حساسیت اورکمزوریوں کا مداوہ بھی اسی سے چاہتی ہے۔ ۔ وہ تو اپنے پل پل کے لئے اس کی محتاج ہوتی ہے۔۔ ۔وہ موزوں الفاظ کی تلاش میں رہتی ہے جن کا حصول مرد کے قرب کا سبب بنتا ہے ۔ وہ ہمیشہ  انجانے فیصلوں کے خوف میں گرفتار رہتی ہے جو کسی بھی وقت اس کی جنت کو کسی آزمائش میں مبتلاکر سکتے ہیں

۔ تم بھی  جاناں اپنے فلسفہ کے تحفظ کیلئے کیسی کیسی تاویلیں ڈھونڈتی ہو۔تم بھی نا !!!۔ اگر عورت کی تکمیل ہوسکتی ہے تو مرد کب مکمل ہوتا ہے؟۔ کیا مرد اندھا ہے؟یا بہرہ ہے؟ جو یہ سب نہیں جانتا کی عورت اس کو اتنا چاہتی ہے۔ کیا وہ ہمیشہ یہی نہیں سمجھتا کہ عورت احمدشاہ ابدالی کی طرح اس کی ذات میں آتی ہے اور اینٹ سے اینٹ بجا کر خود کو فاتح منواتی ہے۔ وہ اپنی شخصی محرومیوں کو کو کبھی تسلیم نہیں کرتی ہے ۔ وہ تو حقیقتوں کی ان گہرائیوں سے بھی واقف نہیں ہوتی جو مرد کی روح کو دکھی کرتی ہیں۔وہ ہمیشہ اپنے شک  کے رویے سے  احساس کمتری کا بیج بوتی ہے۔ وہ  مرد کو سہارا تو سمجھتی ہے لیکن کبھی اس کے اندر جھانک کر نہیں دیکھتی ہے۔ وہ مرد کو مکمل نہیں دیکھنا چاہتی ۔ مرد مکمل ہوگیا تو مرد کے پاس اس کیلئے جگہ کہاں ؟ وہ تو اپنے قطعی لہجے کے ساتھ مرد کے گرد ایک حصار بنا کر رکھتی ہے۔عورت جب مرد کو پا لیتی ہے تو وہ ا ساری کھڑکیاں بند کر دیتی ہے ۔ یہاں تک کہ مرد تک آنے والے رستوں اور دروازوں کو بھی۔ وہ تو یہ بھی بھول جاتی ہے کہ  گھرکو اگر آگ لگ گئی تو اس کو بجھایا کیسے جائے گا۔
 عورت مکمل ہو بھی جائے تو  تنہا پرواز کرنے کے قابل نہیں ہوتی ۔وہ تو محبت کرکے بھی مرد کو مظلوم نہیں سمجھتی۔ وہ کبھی مرد کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتی۔وہ مرد کو کمزور کرکے اپنی سرشاری کو داؤ پر نہیں لگاسکتی ہے۔اس کی تمنائیں اور خواہشیں اس کیلئے ایک امید کا درجہ رکھتی ہیں اور وہ انہیں اپنا فرض سمجھتے ہوئےان سے وابستہ شخص کو کمزور نہیں کرسکتی۔وہ تو مرد کے سکوت سے بھی ھراساں ہوجاتی ہے۔کہیں کوئی خاموشی کسی طوفان میں نہ ڈھل جائے۔
یہ بھی خوب کہی تم نے جاناں۔ایک پھونک مار کر محبت جگاتی بھی ہو ۔اپنےسحر میں جکڑ بھی لیتی ہو اور پھر خود ہی اس سحر کو توڑ بھی دیتی ہو۔عورت اپنی تکمیل کی خاطر مرد کی اخلاقی اقدار اور عزت نفس کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔اس کی آزادی اور اپنی وارفتگی کا دعوی بھی کرتی ہے لیکن اپنے کردار اور اپنےرویوں سے ان اصولوں کی نفی بھی کرتی ہے

 بچہ  یہ نہیں جانتا  کہ وہ عدم سے سے کیسے وجود میں آیا تھا۔لیکن جس لمحے وہ اپنی پہلی سانس لیتا ہے۔ عورت ایک ہی جست میں فرش سے عرش پر پہنچ جاتی ہے۔وہ فرشتوں سے ہمکلام ہوجاتی ہے۔اس کی روح جس بالیدگی کومحسوس کرتی ہے وہ لافانی ہوتی ہے۔وہ جن  جذبوں کا سامنا کرتی ہے،وہ اسے  وجود کا جواز بخشتے ہیں۔وہ زندگی کی رمزوں سے آشنائی کا دعوی کر سکتی ہے۔وہ خود کو قوی اور توانا محسوس کرتی ہے۔ عدم سے وجود کا یہ سفر عورت کی تکمیل کا سفر ہے۔لیکن عورت کی یہ تکمیل مرد کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے وہ مرد کی زندگی میں کنول کھلا کر اس کی آبیاری کرنا بھول جاتی ہے۔ اور وہ ہمیشہ بہار کی آمد کے انتظار میں اپنی تمناؤں کا ہجوم خاک میں ملاتا رہتا ہے۔وہ زندگی بھر اخلاق، اقدار اور زندگی کی آدرشوں کے ساتھ محاذ آرا رہتا ہے۔ ہمیشہ متانت اور اطمینان کی اس لہر کے لمس سے محروم رہتا ہے جس میں محرومی یا مصلحت کے احساس کی نمی موجود نہ ہو۔
میم سین

Monday, November 25, 2013

حیرت

سکتے والی بات تو تھی ! میں کیا کہتا ؟ کیا جواب دیتا ؟۔ اپنا کیا ردعمل ظاہر کرتا؟ ۔ مجھے تو کچھ سجھائی ہی نہ دیا۔سب کچھ اتنا غیر متوقع اور اچانک تھا کہ میں ساری صورتحال کو سمجھ ہی نہیں پایا
تیز بخار ، کانپتے جسم اوراکھڑے ہوئے سانس کے ساتھ صفیہ بیگم جب پہلی بار میرے پاس آئی تھی۔تو شائد مارچ کا مہینہ تھا۔ جب میں نے چیک اپ کرنے کے بعد اسے دوائی لکھ کر دی تو اس کے آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگی کہ بیوہ عورت ہوں ۔ گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ۔دوا کے پیسے نہیں ہیں ۔ کچھ خدا ترسی کر دیں۔ میں نے پرچی پکڑی اور اس پر پر فری لکھ کراسے تھما دی کہ فکر نہ کریں ۔ دوائی مفت مل جائے گی۔ اور وہ ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے رخصت ہوگئی۔رمضان کے مہینے میں ایک بار پھر بخار کے ساتھ آئی اور اپنی دوائی لینے کے بعد کہنے لگی۔رمضان کا مہینہ ہے۔اپنی زکواۃ نکالتے وقت مجھے بھی یاد رکھیئے گا۔ اس وقت جو کچھ ہوسکتا تھا میں نے اس کی مدد کر دی۔ اور وہ ایک بار پھردعائیں دیتی رخصت ہوگئی۔ یہ کل دوپہر کی بات ہے۔ جب وہ میرے پاس آئی۔ لیکن اس بار وہ اکیلی نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ چہرہ کو چادر سے چھپائے اٹھارہ انیس سال کی جوان لڑکی بھی تھی۔ کرسی پر بیٹھتے ہی صفیہ بیگم نے اسے نقاب ہٹانے اور مجھے سلام کرنے کا کہا تو اس نے ہچکچاتے ہوئے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور ایک جھجک اور حیا سے سلام کیا ۔میں اب بھی اس انتظار میں تھا کہ وہ لڑکی کی تکلیف یا بیماری کے بارے میں کچھ بتائے تو میں اپنی رائے دوں۔ لیکن صفیہ بیگم نے بیماری کی تفصیل میں جانے کی بجائے بتانا شروع کیاکہ یہ میری بڑی بیٹی روبینہ ہے۔ پانچویں پاس ہے۔ اور قران پاک بھی پورا پڑھا ہوا ہے۔ اور ماشاللہ اس برس اٹھارہ سال کی ہوگئی ہے، اتنی سگھڑ ہے کہ سارے گھر کو اسی نے سنبھالا ہوا ہے۔
جی اچھا میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی  سر اثبات میں ہلایا اور پوچھا تو پھر؟ میرے  پوچھنے پر اس نے لڑکی کو کمرے سےباہر جانے کو کہا اور کرسی کھینچ کر میرے قریب کر لی اور بولی ڈاکٹر صاحب آپ کے پاس ہزروں لوگ آتے ہیں ۔ کوئی مناسب خاندان دیکھ کر اس کیلئے کوئی اچھا سا رشتہ ہی ڈھونڈ دیں۔
میم سین
نومبر 26،2013

Sunday, November 24, 2013

محبت کا احساس

 محبت کا احساس۔۔۔۔۔۔۔ تصور الجھے رہتے ہیں احترام کا گوشہ ہے دل میں موقع بے موقع تائید کیسی؟ رہتی ہے یہ کشمکش کیسی بے ترتیب ہیں دل کی دھڑکنیں الجھ کے رہ جاتی ہیں نظریں خائف ہیں دنیا سے کچھ ججھک بھی باقی ہے خلش ہےاور کچھ کسک ہے کچھ مچلتے ارمان ہیں زندگی پرخیال کتنی ہے مخمور نگاہ کتنی ہے تصور کی دنیا سہانی ہے مسرت کی کہانی ہے عزم ، ایک ارادہ ہے اشاروں کی زبانی ہے خوف بھی ہے دل میں امنگوں کی ہے ایک کڑی دلفریب ہے ہر گھڑی جستجو اور بیقراری ہے کتنا معصوم پر سکوں کیف طاری ہے ہاں محبت کا احساس جاری ہے !!!! میم۔سین

Wednesday, November 20, 2013

مشورہ


دوسری شادی کے خواہش مند افراد کی طرف سے میری چند دن پہلے کی تحریر پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور فرمائش کی ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کیا جائے۔

حالانکہ میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ جو لوگ پہلی شادی کرکے پچھتاتے ہیں ،وہ دوسری شادی کے بعد بھی پچھتاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی لوگ دوسروں کے پچھتاووں سے کچھ سیکھنے پرآمادہ دکھائی نہیں دیتے ہیں۔ پہلی شادی ہمیشہ غلطی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جلدبازی یا تجربے کی کمی کی وجہ سے۔ لیکن دوسری شادی کے پیچھے عموما دنیا سے بیزاری ہوتی ہے لیکن خودکشی کا حوصلہ نہیں ہوتا۔
بحرحال بقول ایک شادی شدہ بزرگ کے، جو اقبال سے ہم کلامی چاہے، ارسطو اور افلاطون کے خیالات کی برابری چاہے، کنفیوسش سے گفتگو چاہے، اسے دوسری تو کیا تیسری شادی کے بھی خواب دیکھنے چاہیئں۔ اقبال کے کچھ بہی خواہوں کے نذدیک اقبال کی ذہنی اور فکری بلندی کا آغاز ہی تیسری شادی کے بعد ہواتھا۔
اس لئے تصویر کے دوسرے رخ کے بارے میں توشائد میں کچھ نہیں جانتا ۔ لیکن ایک صاحب کو جانتا ہوں جنہوں نے حال ہی میں دوسری شادی کی ہے۔ ایک آسودہ گھرانے سے تعلق ہے۔ اپنی کسی کلاس فیلو کے ساتھ شادی کے خواہش مند تھے لیکن والد صاحب کی مرضی کے سامنے اپنے ایک دوست کی بیٹی کے حق میں دستبردارہونا پڑا۔ اور شادی کے ایک آدھ سال بعد ہی گھر میں توتو اور میں میں کی گردان کا آغاز ہوگیا۔
لیکن جب بچوں کی پیدائش کے بعد بیوی کے قدم گھر میں مضبوط ہو گئے تو بات بیلن کے استعمال تک پہنچنے لگی اور یوں یہ صاحب مایوسی کے عالم میں گھر سے دور دور رہنے لگے۔
شادی اور اس جھک جھک کو کوئی دس سال گزر گئے تھے کہ اچانک ان صاحب کی مزاج میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوئی اور اس مرد درویش نے گھر میں بیوی کی حکومت تسلیم کرتے ہوئے بیوی کی تعریف میں قلابے ملانا شروع کردیئے، بات بہ بات بیوی کیلئے تعریفی کلمات۔ کبھی کھانے پر انگلیاں چاٹ رہے ہیں تو کبھی ان کے لباس کے بارے میں قصیدے تراشے جارہے ہیں۔ اور کبھی بیوی کے سگھڑاپے کی شان بیان کی جارہی ہے تو کبھی بچوں کی تربیت کے حوالے سے مثالی ماں کا درجہ دیا جارہا ہے۔ 
بیوی بیچاری پہلے تو انگشت بدنداں سخت پریشان ہوئی لیکن جلد ہی خاوند کی چکنی چوپڑی باتوں کے دامن میں آگئی اور خاوند کا کمال بھولپن سے خیال رکھنا شروع کردیا۔
لگ بھگ دو ماہ بعد جب بیوی کے سارے شکوک وشہبات تحلیل ہوچکے تھے، ایک روز وہ صاحب گھر تشریف لائے تو کافی خوش دکھائی دے رہے تھے اور بہترین لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ آتے ہی بیوی کو آگاہ کیا میں نے صفیہ خاتون کے ساتھ ان کے گھر والوں کی رضامندی سے عقد ثانی کرلیا ہے
میم سین

نصیحت


چوہدری رمضان پٹواری کا ایک عرصے سے میرے پاس آنا جاناہے ۔کوئی پنتالیس پچاس سال کے پیٹے میں ہیں اور کئی سالوں سے شوگر اور بلڈ پریشر کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ لیکن کبھی اپنی صحت پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔ کچھ تو نوکری کی نوعیت ایسی ہے کہ پرہیز کرنا خاصا مشکل ہے۔اور کچھ اپنے بارے میں خود بھی لاپرواہ ہیں۔  دوائی پابندی سے استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی پرہیز کے معاملے میں سنجیدہ ہیں۔زمیندار گھرانے سے تعلق ہے۔ اور اچھی خاصی خاندانی جائیداد  ہے اور پٹواری کو تو ویسے بھی روزانہ تنخواہ ملتی ہے، اس لئے صاحب حیثیت لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن ان کے خاندان میں پریشانی کا سبب ان کے ہاں نرینہ اولاد کا نہ ہونا ہے۔ آخر اتنی بڑی جائیداد کو کون سنبھالے گا؟ کوئی لگ بھگ ڈیڑھ سال پہلےایک دن شام کو میرے پاس تشریف لائے تو خاصے پرجوش تھے۔ کہنے لگے یار میری شوگر کو فوراً قابو کرو اور ایسی دوائی دو کہ میں ایک نوجوان بن جاؤں ۔ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ خیریت تو ہے یہ آج اچانک صحت کی فکر کہاں سے امڈ آئی ہے؟ کہنے لگے کہ آپ کو تو پتا ہے اللہ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے محروم رکھا ہوا ہے۔ اور اب میرے خاندان والوں نے میری دوسری شادی کا پروگرام بنایا ہے۔ رشتہ بھی طے ہوگیا ہے اور اور اگلے مہینے رخصتی بھی طے پا گئی ہے۔ بس مجھے ایک بار جوان کر دو۔ میں نے ضروری پرہیز اور دوایاں تجویز کیں اور سختی سےشوگر کنٹرول کرنے کو کہا۔ پٹواری صاحب دو ماہ بعد دوبارہ نظر آئے تو خوشی اور مسرت ان کے لہجے اور چہرے کے تاثرات سے نمایاں تھی۔ کہنے لگے ڈاکٹر کیا بتاؤں ، اللہ نے تو مجھے دنیا میں ہی حورعطا کر دی ہے۔ اس نے مجھے وہ خوشیاں دے ڈالی ہیں کہ  جن کا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔جتنی دیر میرے پاس بیٹھے رہے،اپنی حور پری کے گن گاتے رہے۔ اس کے بعد پٹواری صاحب تو نظر نہیں آئے ۔لیکن کسی دوست کی زبانی معلوم ہوا تھا کہ اللہ نے ان کو بیٹا عطا کیا ہے۔ کوئی ڈیڑھ سال بعد پرسوں کلینک آئے تو خاصے کمزور  دکھائی دیئے۔ میں نے ان کی صحت کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ لگتا ہے شوگر کو پھر سے نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن انہوں نے مختصر سا جواب دیا بس کچھ ایسا ہی ہے۔ اور روٹین کی باتیں کیں۔کچھ ادھر ادھر کے قصے سنائے ، جن میں مایوسی کا عنصر خاصا غالب تھا۔ اٹھ کر جانے لگے تو کہنے لگے، ڈاکٹر ایک نصیحت کروں گا، پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کبھی نہ کرنا ۔زندگی جہنم بن جاتی ہے
میم سین
نومبر 20، 2013