Sunday, June 9, 2019

camera

آوارہ گردی کے تین سال۔۔۔
لوگ سمجھتے ہیں شائد ایک اچھا کیمرہ ایک اچھی تصویر کی ضمانت ہے اور میں بھی یہی سمجھتا تھا۔ لیکن وقت اور تجربے نے سکھایا ایک اچھا کیمرہ ایک اچھے ہتھیار کی طرح ہوتا ہے لیکن اسکو کب استعمال کرنا کیسے کرنا اور کس اینگل سے کرنا یہ سب کچھ تجربہ اور وقت سکھاتا ہے۔
ایک اچھی تصویر کیلئے مناسب روشنی ، مناسب زاویہ, رنگوں کا امتزاج، اور بہت سارے دوسرے اجزا کے ساتھ فوٹو شاپ کا استعمال ضروری ہے
فوٹو شاپ کا استعمال ضروری کیوں؟ روشنی کو کم زیادہ کرنا، زاویہ درست کرنا،غیر ضروری ابجیکٹس کو غائب کرنا، کراپ کرنا، بلرحصوں کو کلیئر کرنا۔وغیرہ وغیرہ
انسانی شعوراور علم وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہم جس بات پر کل یقین رکھ رہے ہوتے ہیں اس پر آج سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں اور جس بات کو کل ماننے سے انکاری ہوتے ہیں اس کو آج ایمان کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔ شعور ہمیشہ ارتقا کا سفر کرتا ہے۔ ایسے ہی علم وقت کے ساتھ بالیدگی کی سیڑھیاں طے کررھا ہوتا ہے۔۔ باقائدگی سے شروع کی ہوئی اس فوٹوگرافی کو لگ بھگ تین سال ہوچکے ۔اورہر سال جب اپنی پرانی تصویروں کو نکال کر دیکھتا ہوں تو آدھی سے زائد تصویروں کو نظر آنے والی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ریجیکٹ کردیتا ہوں۔
میں کوئی بہت اچھا فوٹو گرافر نہیں ہوں نہ ہی مجھے کوئی ایسا دعوی ہے بس ایک ایگزاسٹ ہے جو قلم اور کیمرے کی مدد سے نکالتا رہتا ہوں لیکن جب مجھے کوئی فوٹو گرافی کے بارے پوچھتا کہ اچھی تصویر کیلئے کیا ضروری ہوتا ہے تو میرا جواب ہوتا ہے ۔ زندگی کے ہر کام کی طرح مستقل مزاجی۔۔
میم سین

summer

ہمارے ہاں بہت سی خواتین کے نزدیک پچے کی پیدائش کے بعد سوا مہینے بعد پاک ہونے کیلئے جو غسل کیا جاتا ہے اس سیپہلے نہانا منع ہوتا ہے...ایسے ہی بہت سی عبایا پہننے والی خواتین سمجھتی ہیں کہ عبایا کا کپڑا شائد دھونے سے خراب ہوجاتا ہے....
اور دونوں باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے..
اپنے اوپر نہ سہی دوسروں پر رحم کھائیں جو مروت کے مارے بدبو کو برداش کرنے مجبور ہوتے ہیں..
میم سین کلینک سے کتاب تک والے 
#عبایا #عبایادھونا #پسینا #گرمیاں #شاور

اضافی حاشیہ بشکریہ شہباز ملک صاحب..

حضرات سے بھی گذارش کہ گرمی کے موسم میں وضو کرتے ہوئے ایک گیلا ہاتھ اپنی کَچھ میں بھی مار لیا کریں۔ 
اسی طرح سردی کے موسم میں جرابوں کی دھلائی پر بھی تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ دوران جماعت اگر اگلی صف میں کوئی“مجرب”بھائی سجدہ ریز ہوں تو پچھلی صف والے بندے کے لئے سانس بند کر کے سبحان ربی الاعلیࣿ کا 
ورد مشکل ہو جاتا ہے۔

عمومی تاثر یہی ہے کہ سادگی دراصل اپنے حال اور آپٹکس سے بے خبری کا نام ہے۔ 
ذاتی صفائی سے بے اعتنا بندے کو پتہ نہیں کیوں سادہ مزاج سمجھا جاتا ہے۔

clinic

ایک شکل اور حلیئے سے کافی معقول اور پڑھے لکھے بندے نے آکر بتایا.چند دن پہلے آپ سے دوائی لی تھی لیکن ایک تیلے دا وی فیدہ نہ ہویا (اس سے کوئی افاقہ نہیں ہوا).پھر ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تو اس کی صرف ایک خوارک سے ٹھیک ہوگیا.کم ازکم تہانو ایڈا تے پتا ہونا چاہی دا سی کہ مرض ایلوپیتھک اے کہ ہومیوپیتھک(آپ کو اتنا تو پتا ہونا چاہیئے تھا کہ بیماری ہومیوپیتھک ہے یا ایلوپیتھک)..
اب چیک اپ کے بعد میرا تجربہ تو رھنمائی کرنے میں ناکام ہوچکا.. گوگل نے بھی کسی قسم کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے..اب مجھے سمجھ نہیں آرہی رہنمائی کیلئے کس سے رجوع کروں...
فیلنگ کنفیوزڈ ود بابا کی ڈول اینڈ نائنٹی ایٹ ادرز
میم سین

clinic

ایک بچے کی ماں کو کافی دیر سمجھایا کہ اسے ماں کے دودھ کے علاوہ چھ ماہ تک کوئی چیز منہ کو نہیں لگانی..ماں ہلکی سی آواز میں بولی
انگوراں دی کھنڈ دے دیان کراں
میں نے کہا نہیں
پانی منہ نون لا دیاں کراں
نہین
چاروں عرق؟
پھر ایک بار دھرایا سوائے ماں کے دودھ کے، اس کے منہ کو کچھ نہیں لگانا...
شیزان دی بوتل منہ نون لا دیاں کراں..
میں نے مایوس ہوکر ساتھ آئی اماں سے کہا
تسی اینوں کج سمجھا دیو..میری تے کوئی گل ایڈی سمجھ نہین آندی پئی.
وہ خاتون اس کی طرف مڑی اور کہنیلگی..
گل سن. توں اینوں کچھ نہ دیا کر بس ماکھی دے دیا کر..
میں نے حیرت کے ساتھ اماں کو دیکھا تو میرے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ کر بولی
ہن بچہ روندا ہویا ویکھیا وی تے نہین جاندا

میم.سین

clinic

کچھ سال پہلے ہم کچھ دوست ایک کینٹین پر بیٹھے تھے. گفتگو شیخوں کے لطیفوں سے شروع ہوئی. اور ارائیوں کی طرف نکل گئی اور میں نے بھی بھرپور حصہ لیا.. محفل برخواست ہوئی تو ایک دوست قریب آیا... 
ہاتھ پر ہاتھ مارا...
ایک مزے کی بات بتائوں..
میں اج تک آپ کو ارائیں سمجھتا رہا ہوں.
بات سے بات نکلی تو پوچھا گیا پہلا کرش کون تھا..کہا سنا معاف..چند گھر دور ایک بٹ فیملی تھی.ان کی ایک مہ جبیں دوسری منزل پر بالوں میں کنگھی کرنے آیا کرتی تھی.. ہوبہو موتیے کا پھول...تب میں ساتویں جماعت میں تھا.اٹھویں میں پہنچا تو اس کی شادی ہوگئی.میں کئی دن اداس رھا..
وقت گزرا تو اس کی یاد بھی محو ہوگئی.ایک دن گھر آیا تو تو دو فربہ خواتین کو گھر میں مہمان پایا..پتا چلا.ان.میں سے ایک موتیے کا پھول بھی ہے جو اب گوبھی کے پھول میں ڈھل چکا تھا...
بٹوں کے حسن سے اعتبار کچھ ایسااٹھا کہ شادی سے پہلے جب کسی لڑکی کومستقبل کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی تو حفظ ماتقدم پوچھ لیتا تھا..
تسی بٹ تے نہیں ہندے؟

میم.سین

clinic

صبح جس خاتون کو بڑی مشکل سے تسلی دے کر بھیجا تھا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں..بچے میں پانی کی کمی نہیں ہے.. دوائی استعمال کرائیں... بہتر ہوجائے گا..اور اب دو گھنٹے بعد خاتون دوبارہ بچے کو لیکر آگئی ہے کہ بالکل پانی نکالے جارھا ہے... نڈھال ہوچکا ہے... کچھ کھایا پیا بھی نہیں صبح سے..اور مجبورا مجھے اس کو ڈرپ لگانا پڑی.
اور کچھ دیر پہلے ہی ایک کونسلر صاحب کی اپنے بھتیجے کے بارے میں کال موصول ہوئی تھی کہ اس بچے کو اس وقت تک چھٹی نہیں دینی جب تک اس کے پخانے بہتر نہیں ہوجاتے...
اور میں اپنے علم فہم اور ابزرویشن کے درمیان الجھا ہوا تھا.کہ میرابیماری کی شدت بارے اندازہ غلط ہے یا پھر والدین کے تفکر میں انتہاپسندی ہے...
کوئی دو گھنٹوں بعد ایک نوجوان نے خاتون کا ڈرپ لگوانے کے معاملے کا ڈراپ سین کیا..
اس نے بتایا کہ مصروفیات کی وجہ سے گھر فون کیا تھا اس ویکنڈ نہیں آسکوں گالیکن بچے کی بیماری کا سن کر سب کچھ چھوڑ کر آنے پر مجبور ہوگیا ہوں.....
.اگلے چند گھنٹوں میں کونسلر صاحب کے بھتیجے کی بیماری کی نوعیت بارے بھی علم ہوگیا..اتوار کی چھٹی کو بچے کی بیماری کے سہارے ہفتہ کے ساتھ ملایا جارھا تھا..
لیکن میرے ذہن میں سوال یہ پیدا ہورھا ہے کہ بچوں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے والے والدین کی اس کوشش کو میڈیکل سائنس کس نظر سے دیکھتی ہے؟؟

Thursday, May 2, 2019

ہاتھ کی کھڈی

چند دن پہلے ڈاکٹر رابعہ درانی نے لکھا تھا 
چاند پر چرخا کاتنے والی بی بی اگر حقیقت ہوتی تو وہ چاند پر چرخا کیوں کاتا کرتی اسے زمین پر آنا چاہیے تھا کپاس تو یہاں اگتی ہے ۔۔ دراصل چاند 
الی اماں اپنے محبوب" بہت پہنچی ہوئی سرکار" کے مزار کی مجاور ہے ۔

 پھر بھی ہزارہا صدیوں کا وقت کیسے کاٹے تو چاند بی جی چرخے والی نے'وقت کاٹنے' کی بجائے ''چرخا کاتنے '' کا فیصلہ کیا ۔سمارٹ چوائس ازنٹ اٹ ! اپنے ہاتھوں سے بٹی سوت کی کیا ہی بات ہے۔

 عشق کی قیمت ملے نہ ملے۔۔۔
اپنی پہچان سے عشق،اپنی  شناخت، اپنی مٹی سے عشق، اپنی ثقافت اپنی تہذیب ۔۔ ۔انسان جب عشق کے زیر اثر آتا ہے تو یہ خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔ایک دنیا جاگ رہی ہوتی ہے ایک آلائو روشن ہوچکا ہوتا ہے۔سچائی کی قندیل آپ کی رہنمائی پر مامور ہوچکی ہوتی ہے۔پھر عشق کی کیا قیمت ۔ عشق کا کیا صلہ۔
کمالیہ شہر کی  پہچان کھدر ہے۔ اور اصلی کھدر وہی تھا جو ہاتھ کی کھڈی پر بنایا جاتا تھا۔ کمالیہ کے ہی ایک رہائشی  اعظم بانکا کو بھی اپنی اس شناخت سے عشق ہے۔ اور اس  نے مشینی دور میں اپنے عشق کو دیکھا۔اور ہاتھ سے دو کھڈیاں بنا کر ان پر کپڑا بننا شروع کیا۔
عشق کی قیمت ملے یا نہ ملے۔
اعظم بانکا ہمارے ہی آبائی محلے بلکہ آبائی گلی کا مکین ہے۔اس سے ملا تو  دلچسپ انکشاف ہوا کہ یہ کھڈیاں اس نے  اپنے ہاتھ سے اس لکڑی سے بنائی ہیں جو ہمارے آبائی گھر  کے نئے مالکان  کی جانب سے تعمیر نو کیلئے پرانے گھر کو گرانے کے بعد فروخت کی تھی 
ہاتھ سے بنا کھدر کا دھاگہ کچھ موٹا ہوتا ہے اس لیئے اس سے بنا ہوا کپڑا عموما سردیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔کپڑے کی بنتی میں ایک تانا ہوتا ہے اور ایک بانا۔ تانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جو ورٹیکل باندھا ہوتا ہے اور بانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جسے ایک ایک لکڑی کے بنے چوہا نما کی مدد سے تانے میں سے گزارا جا رھا ہوتا ہے۔ہاتھ سے بنی کھڈی کا کپڑا  ایک تارہ یا دو تارہ یا پھر تین تارہ ہوتا ہے۔ تارہ کہتے ہیں رنگوں کے ان شیڈز کو جو بانا کے ذریئے پیدا کیا جاتا ہے۔ایک تھان میں  انچاس سے چھپن  میٹر کپڑا ہوتا ہے۔ اور ایک دن میں آٹھ سے دس گھنٹے محنت کے بعد ایک کھڈی پر سات سے دس میٹر کپڑا بنا جاسکتا ہے۔کاروباری لوگ ان کاریگر لوگوں سے اڑھائی سو سے تین سو روپے  میٹر میں کپڑا خرید کر پانچ سے آٹھ سو روپے میٹر تک فروخت کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کے نزدیک قیمت بہت زیادہ ہے۔لیکن یہ قیمت کپڑے کی نہیں ہے اس عشق کی ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی ۔۔۔