Tuesday, October 22, 2019

کنہٹی گارڈنز وادی سون




اگر اپ کسی تعلیمی ادارے سے منسلک ہیں اور اپنے طلبا کو کسی مطالعاتی دورے پر سیر و تفریح کی غرض سے کہیں لےجانا چاہتے ہیں تو کنہٹی گارڈنز ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتا ہے..کلرکہار انٹرچینج سے اتر کر خوشاب روڈ پر ستائیس کلومیٹر سفر کرنے کے بعد جب پیل چوک پہنچ کر نوشہرہ کی طرف سفر شروع کرتے ہیں تو ایک خوبصورت لینڈ سکیپ آپ کا استقبال کرتا پے. جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں.وسیع و عریض میدان اور ڈھلوانیں عبور کرکے کنہٹی کو مڑیں تو سرخ پہاڑیوں اور اریزونا جیسی سرخ چٹانوں کے درمیان سے ہوتے ہوئے آپ جب کنہٹی گارڈن پہنچتے ہیں تو پنجاب ٹورازم کی جانب سے بہترین انتطامات سے مزین ایک خوبصورت کمپلکس آپ کا استقبال کرتا ہے..جہاں عارضی رہائش کیلئے ریسٹ ہائوس کے کمرے بھی دستیاب ہے.اور کھانے پینے کیلئے کینٹین بھی..زندگی کا ایک بہترین دن گزارنے کیلئے خوبصورت ٹریک اور فطرت سے ہمکلام ہونے کیلئے پانی کے چشمے بھی ..
لیکن خیال رکھیں یہ قدرتی سیرگاہیں ہمارے پاس قدرت کی طرف سے امانت ہیں..ان کی صفائی کے حوالے سے خود بھی خیال رکھیں اور بچوں کی تربیت پر بھی زور دیں..
میم سین

پیر دا کھارا ...تاثرات.


...

ڈپ شریف میں رستہ بھول کر ایک گھنٹہ خواری کے بعد چشمہ تک تو نہ پہنچ سکے لیکن ایک خوبصورت ٹریک سے متعارف ضرور ہوگئے...کوئی رہنمائی کیلئے بندہ دستیاب نہ ہوا اورموبائل سگنل ختم ہوجانے کی وجہ سے گوگل سے رہنمائی بھی میسر نہ تھی....واپسی پر جب ایک چرواہا نظر آیا اور اس سے رستہ پوچھا تو پتا چلا کہ ٹریک درست تھا لیکن سفر ابھی مزید کرنا باقی تھا...
لیکن اس دوران مرید خاص ایک نیا روٹ ترتیب دے چکا تھا...جس کے مطابق ہمیں پیر دا کھارا کا چشمہ دیکھنا تھا.. موٹر وے سے للا انٹرچینج سے اتر کر فاصلہ صرف چودہ کلومیٹر کا تھا لیکن ہم نے خوشاب سرگودھا روڈ کی مدد سے نئے علاقوں سے گزر کر پہنچنے کافیصلہ کیا.کٹھہ سگھرال چوک سے للا کی طرف مڑ کر کاکیاں والی سرکار کے مور ، سارس اور دوسرے پرندے دیکھتے، جب پیردا کھارا پہنچے تو سورج غروب ہونے کے قریب تھا..
اس دوران اس جگہ کے بارے کافی معلومات اکھٹی ہوچکی تھی.چشمے کے پانی کے بارے میں بہت سی کہانیاں اور معجزے سننے کو مل.چکے تھے...کچھ دوستوں نے تو تاکید کی آپ کا عقیدہ اپنی جگہ لیکن وہاں کا پانی ایک بار ضرور پینا ہے..ہر مرض کی شفا موجود ہے اس پانی میں...
وہاں پہنچے تو ایک.میلے کا سماں دیکھنے کو ملا.. پاکستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ پانی حاصل کرنے وہاں پہنچے ہوئے تھے..اور اس جگہ کی اہمیت کا اندازہ وہاں موجود عارضی دکانوں سے ہورھا تھا جو عموما میلوں وغیرہ میں لگائی جاتی ہیں اور یہاں لگ بھگ سو سے زائد دکانوں کے سٹال مستقل.بنیادوں پر قائم تھے...جس سے وہاں آنے والے زائرین کی تعداد کا اندازہ بھی ہورھا تھا...
چشمے کا پانی دیکھنے پہنچے تو معلوم ہوا چشمہ
کا پانی ایک ٹینک میں جمع ہوتا ہے اور وہاں سے نلکوں کی مدد سے سے لوگ اپنے کین پانی سے بھرتے ہیں..جس چشمے کے بارے معجزے گنوائے جارہے تھے کہ اس کا پانی اج تک خشک نہیں ہوا .. وہاں پہنچ کر معلوم ہوا جس ٹینک میں پانی اکھٹا ہوتا تھا وہ خالی ہوچکا ہے اور اب صبح تک پانی دستیاب نہیں ہوگا...اور لوگوں کا جم غفیر دھائی دے رھا تھا کہ میں ملتان سے آیا ہوں پانی لینے.. تو کوئی ڈی جی خان سے کوئی پنڈی سے کوئی مردان سے...خواتین کی ایک بڑی تعداد کی وجہ سے وہاں تصویر کشی سے پرہیز کیا..
مزار کے ذمہ داران سے بات چیت ہوئی تو ان سے جو معلومات ملیں اس کے مطابق پیر کرم شاہ صاحب اپنے مرشد کی اجازت سے بھیرہ سے اٹھ کر اس جگہ تشریف لائے تھے اور ایک پہاڑی پر قیام کیا تھا جہاں کی زیارت کیلئے اب چیئر لفٹ لگا دی گئی ہے..وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق یہاں پر موجود چشمے کا پانی پہلے پینے کے قابل.نہیں تھا لیکن پیر صاحب کے قیام کی برکت سے ناصرف میٹھا ہوگیا بلکہ ہر بیماری کی شفا بھی اللہ نے اس پانی میں ڈال دی ہے.. لیکن مزار کے ذمہداران نے اس بات کی مخالفت کی کہ شفا پانی میں نہیں بلکہ پیر صاحب کے دم.میں ہے اور اس کیلئے تعویذ لینا ہوگا......
حقیقت کیا ہے اس بارے کیا کہا جاسکتا ہے....
لیکن شام کے وقت چیئر لفٹ کی مدد سے پہاڑی پر پہنچ کر جب نیچے آبادی پر نظر دوڑائی تو ایک خوابناک منظر موجود تھا.....سالٹ رینج کے آغاز میں واقع وادی کا حسین نظارہ اور دامن میں واقع مزار اور اس کے ارد گرد آباد خوبصورت شہر کا منظر ناقابل فراموش تھا...
میم سین

کھبیکی جھیل اور ہمارے مزاج کا نوحہ




پچھلے سال کی بات ہے علامہ اقبال میڈیکل کالج جانے کا اتفاق ہوا.پرانی یادوں کو دھرانے کیلئے کچھ دیر کینٹین جا بیٹھے...کچھ عرصہ پہلے کالج کینٹین وغیرہ اوول والی سائیڈ پر منتقل کر دی گئی تھیں..
اب ہوتا یہ ہے کہ سٹوڈنٹس کھانے پینے کا سامان لیکر اوول میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں اور اس کے بعد اس گرائونڈ کو ڈسٹ بین سمجھ کر گند وہیں چھوڑ کر اپنی کلاسوں کا رخ کرتے ہیں.
گرائونڈ میں جابجا بکھرے شاپر، چپس کے خالی پیکٹ، جوس کے خالی ڈبے ، اور بوتلوں کے ڈھیر دیکھ کر سوچ میں پڑ گیا کہ اگر معاشرے کے سب سے زیادہ باشعور اور پڑھے لکھے طبقے کا یہ عالم ہے تو کس امید پر دوسرے لوگوں سے توقع رکھوں کہ وہ اپنی ذمہداری کا احساس کریں گے..
لاہور اسلام آباد موٹر وے کا جس دن افتتاح ہوا تھا اس دن کلرکہار جانے کا اتفاق ہوا..جس کمپنی نے سڑک کنارے لائٹس انسٹال کی تھیں.انہوں نے اپنے ملازمین کیلئے پکنک کا اہتمام کلرکہار جھیل کے کنارے کیا تھا.ہمارے ایک دوست کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھے. اس نے ہم دوستوں کو بھی مدعو کرلیا تھا..قدرتی پن نے علاقے کی خوبصورتی کو ایک حسین رنگ بخشا ہوا تھا جس نے پہلی ہی نظر میں بہت متاثر کیا..رات کو جھیل کنارے بون فائر کا اہتمام کیا گیا.پکنک پر آئے سب لوگوں نے خوب ہلا گلہ کیا.. علاقائی رقص پیش کیئے گئے، کسی نے ہیر سنائی تو کسی نے لطیفوں سے محظوظ کیا... ہنسی مذاق میں جو وقت گزرا اس کی یاد آج بھی ذہن میں تازہ ہے..چند سال پہلے جھیل کی انہی حسین یادوں کے ساتھ فیملی کے ساتھ اترا تو تعفن زدہ ایک نئی جھیل سے تعارف ہوا..جھیل کے کناروں پر خالی بوتلوں اور دوسرا گند دیکھ کر دل بہت برا ہوا..اس قدر حبس اور بدبو تھی کہ زیادہ دیر ٹھہرنا ممکن نہ تھا...جو خواب لیکر آیا تو وہ چکنا چور ہوچکا تھا.
.اور ایسے ہی کل ایک پوسٹ میں کھبیکی جھیل کے تازہ مناظر دیکھ کر جھیل کا چند ماہ پہلے قائم ہونے والا طلسم ٹوٹنا شروع ہوگیا ..پیل چوک سے نوشہرہ روڈ پر سفر شروع کریں تو چوبیس کلومیٹر کی مسافت پر روڈ کے ساتھ واقع جھیل پر وہی کچڑے کے ڈھیڑ، وہی غلاظت کے مناظر دیکھنے کو ملنا شروع ہوگئے ہیں، جو ہر ٹورسٹ مقام کی شناخت بنتے جارہے ہیں...
اور جلد وہی مناظر متوقع ہے جو کلرکہار جھیل پر نظر آئے تھے..
اس لیئے جتنا جلد ممکن ہو ان قدرتی تفریحی مقامات کا دورہ کرلیں کیونکہ اس کے بعد وہ اس قابل نہیں رہیں گے کہ ان کو دیکھنے کا اہتمام کیا جائے.....
میم.سین

آوارہ گرد کی ڈائری.. وادی سون کا طلسماتی حسن‎.





شفیق الرحمن کی نیلی جھیل کا طلسم اور ایلس ان ونڈر لینڈ کی کہانی کا اثر میرے اوپر کچھ ایسا طاری ہوا تھا کہ آج بھی اس سے جان نہیں چھڑا پایا ہوں..ان دیکھے راستے، تلاش کی نئی منزلیں اور ایک ان دیکھی دنیا کا تعاقب ..میرے لیئے جھیل اور جھیل کے دوسرے کنارے آباد دنیا کا تجسس زندگی میں ہنگامہ پبا رکھنے کیلئے کافی ہے..
اور یہی تجسس مجھے متحرک رکھتا ہے.اپنی بساط میں رہتے ہوئے..کچھ نہ کچھ کر گزرنے کیلئے اور کچھ نہ کچھ تلاش کرنے کیلئے..اور اس حس کو آباد رکھنے میں مرید خاص ابوزر کاٹھیہ کا ساتھ ایک نعمت غیر متبرکہ سے کم نہیں..جو آوارہ گردی کے ہر قدم پر اپنا قدم.ساتھ ملاکر رکھتا ہے..اور ہر ناممکن کو ممکن بنانے کیلئے تیار رہتا ہے..
مجھے اپنی خوش بختی کا احساس اس دن بہت شدت سے ہوا جس دن پہلی بار وادی سون کے سفر پر نکلا تھا..قدرت نے ہمیں نظاروں سے بھری ایک وادی کی نعمت دے رکھی ہے جہاں تک رسائی بھی بہت مشکل نہیں ہے.خوشاب کے ایک قصبے پدھراڑ سے سکیسر کی پہاڑی کے درمیان جو وادی پھیلی ہوئی ہے اس کا نام وادی سون ہے۔ جو کوئی سات سو اسی مربع کلومیٹر کے لگ بھگ رقبہ پرپھیلی ہوئی ہے .......
.کہیں پہاڑیاں دعوت نطارہ دے رہی ہیں تو کہیں سبزے سے ڈھکے وسیع میدان آپ کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں..کہیں ایریزونا ریاست جیسی سرخ مٹی کا سحر اپ کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو کہیں پھولوں سے بھرے ڈھلوان آپ پر طلسم طاری کرتے نظر آتے ہیں..بارشوں کے بعد ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والے پر پیچ راستے اور جا بجا بکھرے چشموں کے نظارے...کہیں اترائی اور کہیں چڑھائی..اور فطرت کے بنائے قدرتی ٹریکس ..قدرتی پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب اور پرندوں کی آماجگاہیں ..جھیلیں اور جھیل کے پانیوں کے نظارے ...دنیا بھر سے آئے مہمان پرندے اور ان پرندوں کی سرگوشیاں..
وادی سون اپنے قدرتی نظاروں کیلئے تو مشہور ہے ہی لیکن تاریخی حوالوں سے بھی بہت اہم ہے..اور صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے..بدھ مت سے لیکر ہندو.مت، سکھوں سے لیکر مسلمانوں تک، ہر مذہب کے تاریخ میں لپٹے نشانات جا بجا ملتے ہیں..
وادی کے زیادہ تر حصوں کا موسم میدانی علاقوں سے بہت مختلف نہیں ہے اس لیئے گرمیوں میں یہاں کی اکثر جگہوں کی سیر کیلئے موسم مناسب نہیں ہے..لیکن ستمبر سے لیکر مارچ تک سیر کیلئے جب بھی وقت میسر ہو تو ایک بار وادی کو ضرور نکلنا چاہیئے..جو ایک بار وادی کے نظاروں کو دیکھ آیا وہ ہمیشہ وادی کے عشق میں مبتلا ہوجائے گا .
میرا دعوی ہے...وہ کسی سرخ چٹان کے سائے میں یا کسی سرسبز جھاڑیوں کے میدان کی کسی کونے میں ہمیشہ خود کو قید پائے گا..
میم سین

آئنہ نما...ایک تاثر


  
بہت عرصے بعد افسانوں پر مشتمل کتاب پڑھی اور دو نششتوں میں مکمل بھی کرلی..ایک عرصے سے فکشن چھوڑ کر دوسرے موضوعات پر اپنا ٹھکانہ بنا چکا ہوں..اس کی وجہ منٹو ، پریم چند، غلام عباس، کرشن چندر، اور چند دوسرے لوگوں نے اپنے زمانے میں افسانہ پر اتنی گہری چھاپ ڈال دی کہ آنے والاہر افسانہ نگار ان سے متاثر نظر آتا ہے. یا پھر ان کی بھی مجبوری ہے کہ قاری بھی افسانے کے معیار کو انہی افسانہ نگاروں کے اسلوب اور موضوعات پر جانچتا ہے...ایسے ہی ڈائجسٹوں کی سلسلہ وار کہانیوں نے ناول کی جگہ سنبھال لی ہے..
ظفر عمران کے افسانوں کا مجموعہ ملا تو لگ رھا تھا کہ یہ بھی اسی چھاپ کا تاثر لیئے ہونگے....اور کسی حد تک اس چھاپ کا احساس بھی ہوا لیکن ساتھ ساتھ ایک نیا پن بھی دیکھنے کو ملا...ظفر عمران سے مجھے بہت سے نظریاتی اختلاف ہیں لیکن اس کا انداز تحریر مجھے جکڑ لیتا ہے...اس کی سوشل میڈیا پر تحریروں سے اس کی شخصیت ایک لابالی پن اوڑھے نظر آتی ہےاور لاپرواہ مجسم ذہن میں ابھرتا ہے ...شائد مستقل.مزاج بھی نہیں ہے..لیکن اس کی سوچ، مشاپدہ اور تجربات کا کینوس بہت وسیع ہے.جس میں یقینا گہرے مطالعے کا بھی ہاتھ ہوگا.اور لکھنے کے ہنر میں ناصرف ایک انفرادیت کا حامل ہے بلکہ میرے لیئے ایک استاد کا درجہ رکھتا ہے...
اگرچہ زیادہ تر افسانوں میں مجھے وہی موضوعات نظر آئے جو ہمارے کلاسک افسانوں میں نظر آتے ہیں ..لیکن ایک فرق کے ساتھ ...وہ ہے، عمران کا ایک مخصوص طرز تحریر... اس کے قلم کی روانی ...اور ہر تحریر سے جڑا ایک بے ساختہ پن....دلچسپ مکالمے ... موضوع پر مضبوط گرفت...اور ہر تحریر گہرے مشاہدے کا آئنہ ہے
کوئی معنی نہیں محبت کے، گزیدہ، اس نے سوچا،کرشن چندر سے بڑا ادیب، میں ظفر عمران خود نظر آیا..جھیل بنجوسہ کی تتلیاں میری نظر میں سب سے بہترین افسانہ ہے کیونکہ اس میں ایک نیا پن ہےاور نئے دور کا احساس دلاتا ہے.....
جہاں زیادہ تر افسانے اوپن اینڈ کے ساتھ ایک بھرپور تاثر چھوڑ رہے وہاں فرقہ امید پرستوں کا، محض خانہ پوری کرتا نظر آتا پے...
گھنٹی والی ڈاچی، اور فریب کار بانسری، ایک پاکیزہ سے گنہگار لڑکی اور کال گرل کی کہانی اور من کا پاپی اور عشق ممنوع کے موضوعات میں ایسا کچھ نیا نہیں ہے لیکن کہانی اور مکالموں پر کنٹرول بہت مضبوط ہے...
کتاب مکمل کرنے کے بعد ایک جملے میں اپنا تاثر لکھوں تو یہ ہوگا..
ظفر کو سنجیدگی اور باقائدگی سے افسانہ لکھنا چاہیئے.......

کیونکہ اس کے اندر ایک حقیقی افسانہ نگار زندہ ہے جو افسانہ کے ہنر کے پیچ و خم سے خوب واقف ہے..

فورٹ منرو اور چرواہے کی بکریاں


..

میری پہلی غلط فہمی تو یہ تھی کہ فورٹ منرو میں کوئی قلعہ یا اس کی باقیات ہونگی..اور اسی کو بطور ٹورسٹ اٹریکشن استعمال کیا جاتا ہے..اور دوسرا خیال یہ تھا کہ کوئی پارک نما یا مخصوص ایریا ہوسکتا ہے جہاں پر آپ جاکر گھومیں پھریں گے اور اچھا وقت گزار کر واپس اجائیں گے.لیکن ایسا بھی وہاں کچھ نہیں تھا..
انسیویں صدی کے آخر میں بلوچستان میں اصلاحات نافذ کرنے والے برطانوی فوجی افسر نے پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر پر کوہ سلیمان کے سلسلے میں کوئی سطح سمندر سے ساڑھے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک شہر آباد کیا تھا اور اس کا نام اس وقت کے انگریز کمشنر کے نام پر رکھا تھا...یعنی مری سے بس ایک ہزار فٹ کم بلندی...
ڈیرہ غازی خان سے نکل کر نیم.صحرائی لینڈ سکیپ سے گزر کر سخی سرور سے ہوتے ہوئے جب سڑک اتار چڑھائو کا شکار ہونا شروع ہوجائے تو سمجھ لیں، کوہ سلیمان کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے. سی پیک کے منصوبے کے تحت سٹیل اور کنکریٹ کے حیرت انگیز پل بنا کر روڈ کو وسیع کیا جارھا ہے ..کنسٹرکشن کے کام کی وجہ سے پہاڑوں کے درمیان ٹریفک کے بار بار جام ہونے کی وجہ سے کوئی سولہ سترہ کلومیٹر کا سفر تھکا دینے والا اور مایوس کردینے والا ہے..لیکن جونہی شہر پہنچ کر پہلا قدم زمین پر رکھا جاتا ہے تو خوشگوار یخ ہوا باہیں پھیلائے، گلے لگا کر استقبال کرتی ہے تو سفر کی ساری صعوبتیں دور ہوجاتی ہیں..
فورٹ منرو پہاڑوں پر بکھرا ایک شہر ہے جہاں بہت سے مقامات ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں.. ...چھوٹی سی ایک خوبصورت جھیل دیکھ سکتے ہیں..ٹریکنگ کرسکتے ہیں تو پیالہ غار دیکھنے جاسکتے ہیں...سہولتوں کا فقدان سہی لیکن بیٹھنے کو پارک موجود ہیں....بلند ترین مقام اناری ہل پر پہنچ کر بادلوں سے ہمکلامی کرسکتے ہیں..چھوٹے چھوٹے پانی کی تالابوں کے کناروں پر بیٹھ کر کشتیاں چلا سکتے ہیں..کھانے کیلئے ریسٹورنٹس موجود ہیں..ٹھہرنے کیلئے ہوٹل موجود ہیں...فورٹ منرو کی ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ ابھی اس کا قدرتی حسن انسانی تباہ کاریوں سے محفوظ ہے .سیاحوں کا رش بھی بہت زیادہ نہیں ہے...
ملتان سے فورٹ منرو تک بہترین روڈز موجود ہیں.سوائے کنسٹرکشن ایریا کے چند میل کے ٹکڑے کے، کہیں بھی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا...ٹریفک کا بہائو بھی بہت کم ہے...
وسطی اور جنوبی پنجاب کے مکینوں کیلئے گرمیوں کے حبس اور گھٹن سے نکل کر ایک خوبصورت دن گزارنے کیلئے بہترین جگہ ہے...
ہاں تو چرواہے والی بات تو رہ ہی گئی..ہم اناری ہل کے لیئے نکلے تو رستہ پوچھ کر ایک ٹریک پر چلنا شروع ہوگئے..کچھ دور سامنے سے ایک چرواہا آرھا تھا.اس کی بکریوں کی وجہ کچھ دیر رکنا پڑا..جب بکریاں گزر گئیں تو اس نے روک کرکہا.آپ یقینا اناری ہل کی طرف جانا چاہ رہے ہیں..اس کیلئے آپ کو پچھلے چوک سے بائیں والی سڑک پر مڑنا چاہیئے تھا.یہ سڑک آگے جاکر ایک گائوں پر ختم ہوجائے گی.چرواہے کی بکریوں نے رکاوٹ ڈالی، چرواہے نے بروقت رہنمائی کی اور ہمارا بہت سا وقت بچ گیا.....
میم.سین

اچھالی جھیل..وادی سون


...

وادی سون کی بڑی جھیل جس کی سب سے خوبصورت بات وہاں پر انواع و اقسام کے مائیگرٹری پرندوں کی آمد ہے...بے شمار ایسے پرندے دیکھنے کو ملیں گے جن سے زندگی میں پہلی بار واسطہ پڑے گا..پرندوں کی اقسام دیکھتے ہوئے جھیل پر جانے کے بعد، میں نے ایک عدد ٹیلی سکوپک لنز کی خواہش شدت سے محسوس کی...
.حکومت کی طرف سے ٹورسٹس کو سہولتیں مہیا کرنے کیلئے کافی کام ہورھا ہے .جس سے ایک طرف جھیل پر آنے والے سیاحوں کو آسانی ہوگی، وہیں پر لوگوں سے جھیل کو جلد ماحولیاتی آلودگی کا سامنا کرنا پڑے گا.اورقدرتی حیات کو وہاں سے بوریا بسترا لپیٹ کر کہیں اور منتقل ہونا پڑے گا.....

میم سین