Monday, August 10, 2020

 میڈیکل کالج سے پیرس فیشن ویک تک۔۔


ہمارا خیال تھا پوپو کو میڈیکل میں جانا چاہیئے۔۔کچھ اہسا ہی ارادہ اس کا اپنا بھی تھا ۔ نہائیت دلجمعی سے مریضوں کی ہسٹری سنتا۔ اس کے پوچھے گئے سوالوں میں دلچسپی کا عنصر غالب ہوتا تھا۔ دوپہر کو کافی بریک میں اس کے ساتھ ہونے والی ڈسکشن سے مجھے لگتا تھا کہ سائیکٹری کے شعبے میں جائے گا۔
لیکن ہوا کچھ یوں کہ کرونا کے دنوں میں لوگوں کے طرف سے علاج کے بارے طرح طرح کے مشورے آنا شروع ہوگئے۔۔۔
میڈیکل کی تعلیم تو کوئی بھی شخص گوگل سے بھی حاصل کرسکتا ہے۔ پوپو کی بات میں وزن تھا۔ اور پوپو نے بددل ہوکر اپنا شعبہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
لیپ ٹاپ میں وائی فائی کے ڈرائیور کوانسٹال کرنے میں مسلسل ناکامی کے بعد ویب پیجز پر میری خواری دیکھ کر پوپو نے آئی ٹی میں جانے کا فیصلہ کرلیا۔۔ ایک کرونا کیلئے ہر تیسرے بندے کے پاس علاج موجود ہے اور ایک ڈرائیور بارے کسی کے پاس کوئی حل موجود نہیں۔
دلیل مضبوط تھی اور پوپو نے آن لائن کلاسز لینا شروع کردیں۔۔
اسی دوران بی بی سی کی کرونا پر رپورٹنگ دیکھ پوپو اس قدر متاثر ہوا کہ فورا شعبہ صحافت کو اپنانے کی ٹھان لی۔ اور بی بی سی اکیڈمی رابطہ کرلیا۔۔
پوپو کی زندگی میں ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب آن لائن اسکی ملاقات مس جینی سے ہوئی۔۔
مس جینی کے بارے بتاتا چلوں ۔میلان سے فیشن شوز کیلئے ماڈلز ریکروٹ کرنے کی ایجنسی چلارہی ہے۔۔۔
رات کو دیر گئے جینی کے ساتھ پوپو کی کیا باتیں ہوتی رہیں اس بارے تو میں زیادہ نہیں جانتا لیکن جینی نے اسے قائل کرلیا کہا کہ پوپو کا فیس بہت فوٹو جینک ہے۔۔
اور جب ایک فوٹو سیشن کیلئے ریکوئسٹ کی تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس مقصد کیلئے ہے۔
بحرحال اس کی تصاویر کو بڑے بڑے برینڈ نے پسند کرلیا ہے ۔ کرونا کی وجہ سے اٹلی کی رونقیں تو شائد ابھی جلد بحال نہ ہوسکیں لیکن اگلے پیرس فیشن ویک میں پوپو ورساچی اور ارمانی کی جانب سے بطور ماڈل شرکت کررھا ہے

 راوی کا ہدوانہ، مرید خاص کا فارم، بادلوں کے رنگ اور شام کا ڈوبتا سورج


راوی کا تربوز اپنے ذائقے کیلئے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہے۔ جس کی زبان نے اس تربوز کے ذائقے کو ایک بار چکھ لیا پھر کسی اور تربوز کے ذائقے کو قبول نہیں کرسکتا۔۔ ناصرف اس کا گودا بہت لذیذ بلکہ اس کا جوس بہت فرحت بخش ہے۔ جتنی بھی گرمی سے ہوکر آپ آئیں ۔تربوز کا استعمال یا پھر اس کا ایک گلاس جوس آپکی ساری پیاس کو دور کردیتا ہے اور چند لمحوں میں ہشاش پشاش کر دیتا ہے۔۔
تربوز کا جوس گودے سمیت تیار کیا جاتا ہے۔ تربوز کو کاٹ کر جوسر میں ڈال دیں۔۔۔اس کا بیج اتنا نازک ہوتا ہے کہ شیک کے دوران حل ہو جاتا ہے ۔۔۔نمک ڈال کر اس کو استعمال میں لائیں۔۔
Abuzar Kathia

 وبا کے دنوں میں ایک حوصلہ افزا پوسٹ۔۔۔


اگر آپکے یو پی ایس کی بیٹری جلد ڈرین ہوجاتی ہے ۔اور آپ اس کی جگہ نئی بیٹری خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ابھی ٹھہر جائیں۔۔اپنی بیٹری کو تبدیل کرنے سے پہلے یہ ٹوٹکا آزما کر دیکھ لیں۔۔۔

آپ نے کرنا کیا ہے کہ اگر آپ کے پاس دو سو ایمپئر کی بیٹری موجود ہے تو کسی بھی میڈیکل سٹور سے دو پیکٹ میگنیشیم سلفیٹ کے خرید لیں۔ دو سو گرام کا پیکٹ پچاس سے سو روپے میں مل جاتا ہے۔۔۔اب دونوں پیکٹس سے پائوڈر نکال کر اس کے اتنے حصے بنا لیں جتنے بیٹری میں پانی والے چیمبر ہیں اور ان کو بیٹری کے پانی میں ڈال دیں۔۔کسی چیمبر میں پانی کی کمی ہے تو اس کو پانی سے بھر دیں۔بیٹری میں ہمیشہ ڈسٹلڈ واٹر ڈالنا چاہیئے۔۔وہ دستیاب نہ تو منرل واٹر یا اے سی سے نکلنے والا پانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دن میں ایک آدھ بار بچلی جاتی ہے تو کچھ نہیں کرنا۔۔ورنہ دن میں ایک دو بار یوپی ایس کو چند منٹ کیلئے استعمال کریں۔۔
ایک سے دو ہفتے بعد بیٹری کی ٹائمنگ بڑھنا شروع ہوجائے گی اور اگر بیٹری ڈیڈ نہیں یا اس کی پلیٹوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہوا تو تیسرے سے چوتھے ہفتے بالکل نئی بیٹری جیسا کام کرنا شروع کردے گی۔۔۔

چند سال پہلے یوٹیوب کی ایک ویڈیو سے آئیڈیا لیا تھا۔۔چند ایک ناکام تجربات کے بعد کامیابی ملنا شروع ہوگئی۔ اس سلسلے میں اگر کسی کے پاس مزید معلومات یا کوئی تجاویز یا مشورہ موجود ہے تو وہ کمنٹ میں ضرور شیئر کرے۔اسے تحریر کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
میم سین

 


آج شام سے دل اداس ہے۔۔اداس ہے ڈیپرس نہیں۔۔اداسی میں انسان موم ہوجاتا ہے تو وہ کچھ تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تخلیق کار کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ لوگ اسے بڑا آدمی مانتے ہیں۔ اس نے بھی تو تخلیق کی ہے۔ پوری ایک کائنات ۔ وہ کتنا بڑا ہے؟

پتا نہیں کیوں۔ مجھے لگتا ہے اللہ سے تعلق عبادتوں کے ساتھ نہیں بنتا۔۔۔عبادتوں کے ساتھ بنایا گیا تعلق ایک آفس میں کام کرنے والے انسان اور باس جیسا ہوتا ہے۔۔جس میں آپ حکم بجالاتے ہیں۔۔۔خوش کرنے کیلئے اوور ٹائم لگاتے ہیں۔۔۔
سیکنڈ ایئر میں تھا تو ڈائری میں ایک تحریر لکھی تھی ۔۔اللہ جی کے نام۔۔گلے شکوے کئے تھے۔۔
یاد نہیں کیوں اور کیسے ذہن میں بہت چھوٹی عمر سے ایک چیز بیٹھ گئی تھی کہ وہ بہت بڑا ہے۔۔۔اتنا بڑا کہ اس کے ساتھ مقابلہ ہی نہیں۔۔۔
اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے شائد ٹی وی پر چلنے والی نیشنل جیوگرافک کی دستاویزی فلمیں۔۔ جنگلی حیات اور کہکشاہوں کی کہانیاں۔۔بس وہیں سے ایک بہت بڑی تصوہر بن گئی تھی ۔۔گرمیوں کی رات کو چھت پر اپنی چارپائی پر لیٹ کر دیر تک آسمان کو دیکھنے رینا اور سوچنا اسکے پیچھے کیا ہے؟ ۔۔اور پھر تھک ہار کر کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر سو جانا۔۔۔۔
چوتھی کلاس کی بات ہے کہ رزلٹ سے ایک دن پہلے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو خیال کوندا ۔ اب دعا کا کیا فائدہ؟ رزلٹ تو بن چکا۔۔۔
لیکن وہ جو رب کا خاکہ نیشنل جیوگرافک کی دستاویزی فلموں نے بنا رکھا تھا وہ بہت بڑا تھا۔۔وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اس کیلئے کیا کام ناممکن۔۔۔اور پھر یقینا دعا قبول ہوگئی۔ نتیجہ بدل گیا۔۔اور میرا یقین بھی۔۔۔

ابا جی کافی حلیم طبیعت کے مالک ہیں۔ ایک طالب علم نے کسی کام کیلئے سفارش کروائی۔ مجھے لگا ان کو بہت ناگوار گزرا ہے۔ جو کام خود بات کرنے سے ہوسکتا ہے اس کیلئے سہارا کیسا ؟
مجھے بھی اچھا نہیں لگتا جب کوئی کسی کی سفارش لیکر آتا ہے۔ میں تو انسان ہوں۔۔محدود اختیار والا ۔اور وہ تو لامحدود اختیار کا مالک۔۔ بیوروکریسی والا تصور بھلا اس کے ساتھ کیسا؟

ایک فلم میں ایک بادشاہ کے سامنے دو قیدی لائے جاتے ہیں۔۔۔جس کو پھانسی دینی تھی اس کی کسی بات پر خوش ہوکر معاف کردیتا ہے اور جس کو قید میں بھیجنا تھا اس کی گردن اڑا دیتا ہے۔
بے نیازی کیا ہوتی ہے؟ رب ہمارا بڑا بے نیاز ہے۔۔لیکن اسے کسی کا بےنیاز ہونا پسند نہیں۔۔جو بننے کی کوشش کرتا ہے ۔۔اسے پر فتوی لگا دیتا ہے۔۔گمراہی کا۔۔
خود جس کو چاہے گناہ سے اٹھا کر راستے پر ڈال دے ۔جس کو چایے مسجد سے اٹھا کر مےخانے پہنچا دے۔۔۔
یہ بے نیازی اس پر سوٹ بھی تو کرتی ہے۔۔

فائنل ایئر کے امتحان سے چند ماہ پہلے ایک کمپیوٹر نے مقروض کردیا۔ جب راستے سارے بند دکھائی دئیے تو ایک دن دعا کے دوران دو آنسو چھلک گئے۔۔ہوسٹل سے باہر نکلا تو ایک ٹیوشن پڑھانے کی آفر پہنچ چکی تھی۔۔ اس دن سمجھ لگی آنسو اتنے انمول کیوں ہوا کرتے ہیں۔۔

رب سے تعلق بےتکلفی والا ہو۔ بے تکلف دوستوں جیسا۔۔۔ایسا بے تکلف دوست جس کے پاس آپکے سب راز موجود ہوں۔جس سے آپ اپنی اچھی بری سب باتیں شیئر کرسکیں۔۔
ہوسٹل میں ایک بار وی سی آر لیکر گئے۔۔بڑی دعائیں کیں۔ پکڑے نہ جائیں۔۔۔تجسس کا گھوڑا مون لائٹ سینما لے گیا۔۔۔تو ہونٹوں پر دعائیں تھیں ۔ہمدرد دوست روکا نہیں کرتا۔۔۔بس وہ لوہے کے گرم ہونے کا انتظار کیا کرتا ہے۔ ایک چوٹ لگا کر اس کو سیدھا کردیتا ہے۔۔کبھی کبھی چوٹ کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔۔بس ایسے ہی موم کی گڑیا بنا کر اس کا منہ موڑ دیتا ہے۔۔۔۔
میاں صاحب کے خاندانی ملازم نے چوری کی۔چند دن بعد اسکو کام پر دیکھا تو پوچھا۔میاں صاحب یہ یہاں؟ بولے اسکو غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔۔ایک زمیندار کا ظرف یہ ہے تو اسکا ظرف کتنا بڑا ہوگا؟

اٹاروی صاحب کو اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔کسی نے پوچھا ۔کوئی ایک دعا بتا دیں۔جو میرے سارے کام کردے۔۔بولے لاحول ولاقوۃ الاباللہ پڑھا کرو۔
نہ کامیابیوں کا سہرا میرے سر نہ ناکامیوں سے بچنے کی ہمت۔۔جب گیند ہی اس کے کورٹ میں رکھنی تو فائول پلے کا ڈر کیسا؟

میرے ذہن میں رب کا تصور ہمیشہ ایک ماں کی صورت بنتا ہے۔ پیار تو باپ بھی کرتا ہے لیکن تھوڑا لاتعلق ۔ مزاج میں کچھ سخت۔ میرٹ پر چلنے والے۔لیکن چاہے کتنی ہی نافرمانی کرلو ۔ پاس جاکر بیٹھ جائو۔ماں کو سب کچھ بھول جاتا ہے۔۔۔
میرا رب بھی ماں جیسا ہے۔۔
میم سین

 


سفرنامہ یوسف خان کمبل پوش۔۔۔۔۔

تہذیبوں کو قومیں جنم دیا کرتی ہیں اور قوم بنتی ہے اپنی ماضی کو اون کرنے سے، اپنی ثقافت رسم و رواج کو اون کرنے سے۔ افراد کو متحرک بنا کر ۔ان کی توانائیوں کو مسلسل استعمال کرکے۔۔۔
ہر تہذیب کا ایک ارتقا ہوتا ہے۔۔اس کی ضرورتیں بدلتی رہتی ہیں۔تقاضے بدلتے رہتے ہیں۔۔
سترویں صدی کے بعد دنیا کی تہذیبوں نے کروٹ بدلنا شروع کی۔ اور اپنے نئے تقاضے دنیا کے سامنے رکھے۔جن قوموں نے ان تقاضوں کو سمجھ لیا اور ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا شروع کردیا انہوں نے اپنی بقا کی جنگ کا کامیابی سے دفاع کرلیا ۔۔اور جو ان کو سمجھ نہ سکے وہ دنیا سے ایسے مٹے کہ ان کے نشان بھی باقی نہ رہے۔۔
تہذیبوں کی اس کروٹ اور تبدیلیوں کو مختلف قومیں کس طرح مخاطب تھیں اس کا اندازہ سفرنامہ یوسف خان کمبل پوش میں بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔1847 میں شائع ہونے والے اس سفرنامہ میں لندن اور اس کے گرد و نواح کی عمارات عجائبات اور ثقافت کی جو تصویر کشی کی ہے وہ اس قدر دلچسپ ہے کہ پڑھنے والوں کو حیرت میں ڈبو دیتی ہے۔
ناصرف لندن بلکہ کچھ دیگر یورپی ممالک، افریقہ کے ساحلی ممالک اورخاص طور ہندوستان کی کچھ ریاستوں کا جو خاکہ کھینچا ہے۔اس سے آنے والے سیاسی اور ثقافتی منظر نامے اور تبدیلیوں کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے۔۔۔
چند ماہ پہلے ایک جگہ کتاب کے اقتباس پڑھے تو لگا کہ اس کو جدید اردو میں ڈھالنے کی ضرورت ہے لیکن جب کتاب پڑھنا شروع کی تو قلمی موسیقی کا ایسا مسحور کن احساس ملا کہ اپنے پہلے خیال کو رد کردیا۔۔کتاب نثریہ شاعری کی ایک عمدہ مثال ہے
کتاب میں استعمال ہونے والے شہروں کے پرانے نام اور حوالہ جات کو حواثی میں بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔۔
تاریخ سے دلچسی رکھنے والے افراد کیلئے اس کتاب کا مطالعہ بہت ضروری ہے

 

کتاب پر تبصرہ
ملاں پور کا سائیں
مصنف: محمد ظفر اقبال

کسی ڈش کی ریسپی شیئر کی جائے ۔تو اس کے اجزا اور اجزائے ترکیبی پر چاہے جتنی بھی بحث کرلی جائے ۔ڈش کا ذائقہ، چکھنے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔کبھی کبھی کسی ڈش کے اجزا بہت سادہ سے ہوتے ہیں لیکن بنانے کی ترکیب ایسی ہوتی ہے کہ بندہ انگلیاں چاٹتا رہ جاتا ہے۔۔۔

ملاں پور کا سائیں پر لکھنے بیٹھا تو پہلا خیال یہی آیا ہے۔۔۔ناول میں نیا کیا ہے؟ کہانی میں کیا خاص بات ہے؟ ایک سادہ سے گھر میں جنم لینے والی سادہ سی کہانی لیکن مصنف نے جس ریسیپی سے گزارا ہے وہ اتنے مزے کی ہے کہ کتاب ختم کرکے بھی ذائقہ زبان سے نہیں اترتا۔ ناول کیا ہے ایلس ان ونڈر لینڈ کی بھول بھلیاں ہیں جن میں ایک بار قاری داخل ہوجاتا ہے تو پھر خبر ہی نہیں ہوتی کہ کتاب کب شروع کی اور کب ختم ہوگئی۔۔۔

میرے ہی علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ رجانہ کمالیہ مامونکانجن کوٹاں کے ارد گرد پھیلے علاقے میں ایک کہانی کو بکھیر کر بہت سے اتار چڑھائو سے گزار کر اسے انجام تک پہنچایا ہے۔۔۔سیکھنے والوں کیلئے بہت کچھ اور انداز تحریر کی لذت محسوس کرنے کیلئے ذائقہ بہت۔۔

ہماری دیہی زندگی کی عکاسی جو ہماری فلموں میں کی جاتی ہے ۔اس پر اگر بات کروں تو کوا کاٹے۔۔۔
لیکن ڈراموں یا ناولوں میں دیہات کی جس زندگی کا ذکر کیا جاتا ہے وہ شہرزدہ ہوتے ہیں۔۔وہ جو کچے گھڑے کی باتیں، ساگ لسی اور مکھن کے ذائقے ، وہ جو رہن سہن کی سادگی، چھوٹے چھوٹے مسائل، وہ سادہ لوحی کی داستانیں۔۔ وہ آجکل کے دیہاتوں میں کہاں ملتی ہیں۔۔۔۔لیکن یہ اس ناول کا خاصہ ہے کہ مصنف نے ناول میں ہمیں اصل دیہی زندگی سے ملوایا ہے۔۔۔

تو بس لاک ڈائون میں اگر پڑھنے کی روٹین بن گئی ہے تو پھر ملاں پور کے سائیں کو بھی آنے والے دنوں میں پڑھنے والی کتابوں میں سرفہرست رکھ لیں۔۔۔

کچھ لکھاری ایسے ہوتے ہیں جو لکھتے ہیں اور لکھتے لکھتے بہت اچھا لکھنا شروع کردیتے ہیں۔۔۔لیکن کچھ لوگوں کو لکھنے کا ہنر قدرت کی طرف سے انعام میں ملا ہوتا ہے ہے۔۔ظفر اقبال بھی ان لکھنے والوں میں سے ہیں۔۔جو لکھتے ہیں تو پھر قلم ایسے نقش ونگار بناتا ہے کہ پڑھنے والے ان سے نکلنے والے سحر سے مہبوت کچھ وقت کیلئے زندگی کی دوسری ذمہداریوں کو فراموش کردیتے ہیں۔

ختم نبوت کے پس منظر پر عشق کے قیدی اور پنجاب کی لوگ داستان کو وہ ایک ناول کی شکل دے چکے ہیں۔۔۔
لیکن میرے ایک درخواست ہوگی۔۔۔حاتم طائی اور سرسید کے سفر والی داستانوں کو بھی جلد مکمل کرکے ان کو شائع کروائیں۔ اور فیس بک پر شائع ہونے والی تحریروں کو بھی کسی بلاگ کی شکل میں محفوظ کریں۔۔۔۔ایک تو تحریروں کا ریکارڈ بن جائے گا دوسرا پرانے مضامین کو ڈھونڈنا آسان رہے گا۔۔۔۔
میم سین

 


وبا کے دنوں میں بچپن کی کہانی۔۔

میں نے ایک بار رات کو ہاتھی اڑتے دیکھا تھا۔۔بھاگ کر گھر سے کسی کو بلانے گیا تو وہ غائب ہوچکا تھا۔۔ کسی نے میری بات کا یقین نہیں کیا۔۔ چھٹیوں پر سب نانو کے گھر گئے ہوئے تھے تو میں نے موم کا ایک ہاتھی بنایا ایک دن اس نے چلنا شروع کر دیا۔جس دن سب لوگوں کی واپسی تھی۔اسے دھوپ میں رکھ کر بھول گیا تھا ۔۔
بھائی نے ایک بلی پال رکھی تھی۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک ہاتھی اس کی رکابی سے دودھ پی رھا تھا۔۔دوڑ کر سب کو بلانے گیا کہ دودھ پینے والا ہاتھی دکھائوں ۔۔سب پہنچے تو وہ دودھ ختم کر چکا تھا۔۔چالاک اتنا کہ منہ بھی صاف کرلیا تھا۔۔سب نے مل کر میرا خوب مذاق اڑایا۔۔
گلی میں سب کرکٹ کھیل رہے تھے۔چچا کے بیٹے نے زور سے ہٹ لگائی تو وہ کمہاروں کے گھر چلی گئی۔۔میں بال اٹھانے گیا تو وہاں ایک ہاتھی کو آئس کریم کھاتے دیکھا۔مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ہاتھی بہت چالاک ہوتے ہیں۔۔اس لیئے آئسکریم والی بات کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔
ایک دن بڑا بھائی چھت پر پتنگ اڑا رھا تھا کہ ہاتھی کا پائوں ڈور میں پھنس گیا۔اتنے میں پیچ ڈل گیا اور بھائی نے ڈور ڈھیلی چھوڑ دی۔۔۔
ماموں خورشید کہتے ہیں۔سب تمہارا وہم ہے۔لیکن وہم میں ہاتھی ایک سا ہونا چاہیئے۔۔مجھے تو کبھی کالا کبھی سفید کبھی سرمئی دکھائی دیتا ہے۔۔
چچا وقار کہتے تھے تم ٹی وی زیادہ دیکھتے ہو ۔لیکن میں نے ہاتھی کو اڑتے ہوئے دیکھا ہے۔۔اس سے باتیں بھی کی ہیں۔۔ٹی وی پر ایسا کوئی ہاتھی نہیں دکھایا جاتا ۔۔
صرف دادا جی نے میری بات مانی تھی۔وہ کہا کرتے تھے ہاتھی بچوں سے پیار کرتا ہے اور ان سے چھپ چھپ کر ملتا ہے۔۔
جب سے اپنا آبائی گھر چھوڑ کر ذیشان کالونی والے گھر شفٹ ہوئے ہیں تو شائد یادوں کے ساتھ ہاتھی بھی پرانے مکان کے کسی کمرے میں رہ گیا ہے ۔
اب مجھے کبھی ہاتھی دکھائی نہیں دیئے۔۔
دادا جی ٹھیک کہا کرتے تھے
اب ہم بڑے جو ہوگئے ہیں

میم سین