Tuesday, October 22, 2019

کھیوڑہ کان کی ناک




جونہی ہم کان کے داخلی دھانے پر پہنچے ٹرین نے رینگنا شروع کردیا تھا..اگلی ٹرین کے بارے پوچھا تو پتا چلا کہ آدھا پونا گھنٹا لگ سکتا ہے.اگر پیدل جانا چاہیں تو کوئی مشکل کام نہیں..
باہر چلچلاتی دھوپ میں آدھا پونا گھنٹا گزارنا آسان کام نہیں تھا.پیدل چلنے کا اردہ کرکے کان میں گھسے تو ایک دم سے خنکی اور.نمی کے خوشگوار احساس کا سامنا ہوا..
بہت سے لوگ پیدل واپس آرہے تھے.ان کی باتوں سے اندازہ ہوا ٹریک ہموار ہے لیکن طویل ہے.چونکہ ابھی کچھ مزید مقامات تک پہنچنا تھا اس لیئے اپنی توانائیاں پیدل چلنے پر ضائع کرنے کی بجائے وہیں کھڑے ہوکر ٹھنڈک کے احساس میں گزار کر ٹرین کی واپسی کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا....
کہتے ہیں سکندر اعظم کے تھکے ہارےگھوڑے یہاں پتھروں کو چاٹتے پائے گئے تھے.جس پر تحقیق کی گئی تو پتا چلا یہ نمک کے پہاڑ ہیں.خوردنی نمک کی سب سے قدیم.اور دنیا کی دوسری بڑی کان میں نمک نکالنے کا کام اس جگہ سے بہت دور ہورھا ہے جس جگہ کو سیاحت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.
ضلع جہلم میں واقع کھیوڑہ کان تک پہنچنے کیلئے اگرچہ للۂ انٹرچینج سے اتر کر پنڈ دادن پہنچنے کا آسان رستہ موجود ہے...لیکن اگر سفر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو پھر چوا سیدن شاہ والی سائیڈ سے پنڈ دادن خان کا سفر کریں..بہت خوبصورت اور منفرد لینڈ سکیپ سے ہوتے ہوئے کھیوڑہ پہنچیں گے اور کان کی سیر کی یادیں ہمیشہ کیلئے امر ہوجائیں گی.سبزے سے ڈھکے میدان، ڈھلوانیں، پانی کے تالاب اور سرخ چٹانوں کے منفرد مناظر آپ کی یاداشت سے کبھی محو نہیں ہونے پائیں گے.

کوئی پونے گھنٹے بعد ٹریں واپس آئی تو انتظار میں کھڑے لوگوں نے منٹوں میں اسے بھر دیا اور ٹرین کان کے اندر چل پڑی.منچلوں کی چیخوں، سیٹیوں اور ہلے گلے کی آوازوں کے ساتھ تنگ سے غار سے ہوتے ہوئے ایک بڑے سے ہال میں آکر رک گئی.

جدید طریقہ کان کنی کو استعمال کرتے ہوئے اٹھارہ سو اڑتالیس میں سرنگوں کی مدد سے نمک نکالنے کا آغاز کیا گیا تھا.نمک نکالنے کا کام کوئی ایک سو دس مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے.اور سرنگوں کی لمبائی نکالی جائے تو چالیس کلومیٹر سے زائد بنتی ہے..

جونہی آپ کان کے مرکزی حصے میں پہنچتے ہیں.رنگا رنگ روشنیوں سے سجائے غار نمکین پانی کے تالاب اور کان کے اندر بنے ٹریکس اپ کو خوش آمدید کہتے ہیں.ویسے میرے ذاتی خیال میں رنگ دار روشنیوں کے استعمال کی بجائے صرف اچھی سفید روشنی کا استعمال کیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا.کیونکہ نمک کے پتھروں کا اپنا قدرتی رنگ اور ڈیزائن بہت دیدہ زیب اور متاثر کن ہے... نمک سے بنے ڈیکوریشن پیس اور دوسری اشیا کے سٹال بھی موجود ہیں جن پر لوگون کا کافی ہجوم ریتا ہے.
نمک سے بنا مینار پاکستان اور.مسجد لوگوں کی توجہ کا خصوصی مرکز بنتے ہیں..
دیواروں سے پانی رستا رہتا ہے جس کے نکاس کیلئے باقائدہ نالیاں بنائی گئی ہیں.کچھ جگہوں پر رِستے ہوئے پانی سے خشک ہوکر نمک کے خوبصورت آرٹ کے نمونے دیدہ زیب ہیں.
یہاں کا ٹمپریچر گرمیوں اور سردیوں میں یکساں رہتا ہے جو اٹھارہ ڈگری بتایا جاتا ہے..
.
کان کے اندر ایک دمہ سنٹر بھی قائم ہے جہاں پر تجرباتی بنیادوں پر دمے کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے لیکن معلومات کی کمی کی وجہ سے بہت کم لوگ اس بارے جانتے ہیں.

اگرچہ سیاحوں کی سہولت کیلئے خاطر خواہ انتطام موجود نہیں ہیں.اور پٹری کے ساتھ پیدل ٹریک پر بھی حفاطتی اقدامات کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے. بجلی کی تاروں کو سنبھالنے پر بھی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے.کھیوڑہ کی کان میں دیکھنے کو بہت زیادہ ورائٹی نہیں ہے.اور بہت سے لوگوں کو یہاں آکر مایوسی کا اظہار کرتے بھی دیکھا لیکن پھر بھی یہاں کی سیر ایک منفرد تجربہ ضرور ہے.اور زندگی کا ہر تجربہ انسانی سوچ کے کینوس کو وسیع کرتا ہے..
بچوں کے مطالعاتی دورے کیلئے بہترین جگہ ہے. مائنز کی سیر کیلئے ان کو ضرور لیکر جانا چاہیئے

میم.سین

*آپٹیمزم*



لڑکی کے گھنگریالے بالوں کو سیدھا کرنے کیلئےاس کی سہیلی نے ایک لوشن استعمال کرنے کا مشورہ دیا..لیکن لوشن لگاتے ہی شدید ری ایکشن ہوگیا. سارا منہ سوج گیا.سر پر چھالےبن کر پانی رسنا شروع ہوگیا ..روتی چیختی لڑکی کو میرے پاس لایا گیا تو وہ آدھے گنجے سر کے ساتھ بہت خوفزدہ تھی..ماں نےبالوں سے جڑے ڈوپٹے کو ہٹا کر سر دکھانا شروع کیا. جب سارا ڈوپٹا سر سے علیحدہ ہوگیا تو سر کے پچھلے حصے کے بالوں کو دیکھ کر ایک دم سے بولی..
او طارہ..لوشن نے کم وکھایا اے، وال تیرے سٍدّے ہوگئے نے

یہ خواب مجھے وراثت میں ملے ہیں



ایک گروپ میں "تصویرکہانی" ایونٹ کے موقع پر لکھی گئی ایک کہانی...

یہ خواب مجھے وراثت میں ملے ہیں :--

پہلا.منظر :
ایک مرد اپنی سات سال کی بیٹی کے ہمراہ ایک دکان سے شاپنگ کرکے نکلتا ہے. سامنے سے ایک خاتون آٹھ دس سال کے بیٹے کے ساتھ آرہی ہے. دونوں جب پاس سے گزرنے لگتے ہیں تو خاتون بے یقینی کے تاثرات کے ساتھ رک جاتی ہے. مرد بھی اسے دیکھ کر پہچان جاتا ہے...
خوشگوار حیرت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے سے سلام لیتے ہیں اور حال احوال پوچھتے ہیں. خاتون اپنے بیٹے کا تعارف کرواتی ہے. جس پر مرد بھی اپنی بیٹی سے ملواتا ہے. اتفاق سے دونوں شاپنگ کرکے تھک چکے ہیں .اس لیئے مزید گفتگو کیلئے قریبی ریستوران کا رخ کرتے ہیں. جہاں زیادہ رش نہیں ہے.

دوسرا منظر:
دونوں ایک ٹیبل پر کھانے کا آرڈر کرکے باتیں کرنے لگ جاتے ہیں. بچے کچھ دیر ان کی باتیں سنتے ہیں لیکن پھر بور ہوکر ھال کے خالی حصے میں گھومنے پھرنے لگ جاتے ہیں.
احمد اور ماریہ کلاس فیلوز تھے. بہت اچھے دوست بھی. دوستی سے وہ ایک قدم آگے جانا چاہتے تھے. لیکن سماج کی بندھی زنجیروں نے ان کو اس رشتے تک پہنچنے سے روک دیا تھا. اور اج دس سال بعد وہ ایک دوسرے کو پہلی بار ملے تھے..

پہلے کچھ گلے شکوے، پھر ایک دوسرے کی ڈھلتی عمر پر جملے اور کچھ فیملیز کے تعارف کے بعد بے تکلفی کی اس سٹیج پر پہنچ چکے تھے جہاں سے دس سال پہلے انہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑا تھا..

" تمہیں یاد ہے جب ہم پہلی بار ملے تھے تو تم ملکہ بن جایا کرتی تھی اور میں رعایا..اور پھر تم ملکہ بن کر مجھ سے فرمائشیں کیا کرتی تھی اور مجھے لگتا تھا کہ یہ فرمائشیں پوری کرنا میرے فرائض میں سے ہیں"
احمد نے گفتگو میں بےتکلفی پیدا کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا تو

ماریہ نے قہقہ لگایا
" ہاں اور جو تم.مجھ سے لمبے لمبے انٹرویو لیا کرتے تھے وہ بھول گئے؟
کھانے میں کیا پسند ہے؟ ..رنگ کیسے اچھے لگتے؟ زندگی کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟..خواب پرست ہو یا نہیں؟ زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ "

احمد کچھ جھیمپ کر مسکرایا.
"اور تم بھی ایسے جواب دیا کرتی تھی جیسے کوئی بہت بڑی سیلیبرٹی ہو..."

ماریہ نے ایک بار پھرقہقہ مارا اور بولی ..
"اب اتنے نخرے تو بنتے تھے.میری صورت میں تمہاری لاٹری جو نکل آئی تھی.."

"اور اس دن کینٹین پر جب تم اتفاقا مجھ سے ٹکرائے تھے تو بجائے تمہیں گھورنے کے، تمہاری کنفیوز حالت دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑی تھی"
ماریہ نے معنی خیز مسکراہٹ سے بات کی

"اور تم ڈر کر اپنے خول میں چھپ گئے تھے..تمہیں ڈر لگا تھا شائد میری ہنسی تمہیں تحلیل کردے گی؟"
ماریہ نے بات جاری رکھی..

"جی مجھے یاد ہے سب. اور پھر تم نے اپنی کیمسٹری کے مختلف مرکبات سے کیسے ایک غیرفعال مادے کو فعال بنا کر خول سے باہر نکلنے پر مجبور کردیا.."
احمد نے اپنی مسکراہٹ کو امڈنے سے روکتے ہوئے ماریہ کی جانب دیکھا تو اس کی آنکھیں حیا سے جھک گئیں اور پھر بات کو بدلتے ہوئے بولی.

"اور وہ دریائے کنہار کے کنارے ٹری ہائوس بنانے والی بات یاد ہے؟ "

احمد مسکرایااور بولا
" جب تم نے ٹری ہائوس بنانے کی بات کی تھی تو میں نے اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنانے کا اعلان کردیا تھا..."

"اور جو آدھی رات کو سردی سے بچنے کیلئے میرے ٹری ہائوس آنے کی اجازت.مانگی تھی؟ "
ماریہ نے انکھوں کو شرارت سے گھمایا

احمد مسکرایا اور نظریں نیچی کرکے بولا.."
تمہاری شرط مان تو لی تھی کہ مجھے رات گزار لینے دو. بالکل تنگ نہیں کروں گا"

پھر ایک دم.سنجیدہ ہوکر کچھ بڑبڑایا..میں تمہیں تنگ کر بھی نہیں کرسکتا تھا.تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا.اسی لیئے تمہاری زندگی سے ہی نکل گیا تھا...

حقیقتیں زندگی کی قدروں کی محتاج ہوتی ہیں. حالات کی مجبوری اور حقیقت پسندی، حصول تسکین کی خواہش کو زبردستی سلا دیتی ہیں. استقلال کے اونچے پہاڑ ہوں یا عزم کے بےکراں سمندرـ سماج اور.سماج کی اقدار، ان کے سامنے بند باندھ کر کھڑی ہوجایا کرتی ہیں..دنیا میں رہ کر دنیا کے اصولوں کو نظر انداز کردینا ایک بہت مشکل کام ہے..

ماریہ کا کھلا ہوا چہرہ بھی سنجیدگی میں بدل گیا.
بچوں کی طرف مڑکر آواز دی.
"بیٹا دھیان سے کھیلو..کوئی چیز نہ توڑ دینا..."

"دونوں بچے کتنی جلدی گھل مل.گئے ہیں"
.احمد نے اثبات میں سر ہلا کر 'ہوں' کہہ کر اس کی تائید کی.
چند لمحے ایسے ہی بنا کسی بات کے، میز پر رکھی چیزوں پر نظریں جمائے گزر گئے...

ماریہ نے سکوت تورتے ہوئے پوچھا
" کیا خنجراب تک کا.سفر کر ڈالا؟"

احمد نے سر اٹھایا اور پھر ماریہ کی آنکھوں میں کافی دیر تک جھانکنے کے بعد بولا
"خنجراب تک اپنی گاڑی پر جانا اور پھر وہاں سے گوادر تک کا سفر، یہ ہمارا مشترکہ خواب تھا...اور ہم نے اس خواب کے تانے بانے مل کر بنے تھے..یہ خواب ہماری مشترکہ ملکیت تھا.جب تم ہی نہ رہیں تو نامکمل خواب ادھوری خواہش بن گئی.کسی کنجینٹیل فزیکل ڈیفکٹ سے متاثر بچے کی طرح...ادھورے پن کے ساتھ..وہ موجود بھی ہوتے اور پورے بھی نہیں ہوسکتے"

ماحول مین ایک بار پھر سنجیدگی چھا گئی...ماریہ نے مڑ کے دیکھا تو بچے پردوں کے پیچھے چھپ کر ایک دوسرے کو ڈھونڈنے کا کھیل، کھیل رہے تھے..
احمد نے بیرے کو آواز.دی اور پوچھا کھانے میں کتنی دیر ہے..تو اس.نے پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ 'صرف پانچ' منٹ کہہ کر رخصت لی..

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ماریہ بولی
" تمہیں وہ بات یاد ہے چاند پر بیٹھ کر دنیا کی جانب پائوں لٹکانے والی؟"

احمد کا اداس موڈ پھر سے تبدیل ہوگیا.اس کی انکھوں میں ایک دم.سے چمک آگئی.
" ارے ہاں..کیا یاد کروادیا..چاند پر بیٹھ کر ستاروں سے باتیں کرنا..اور دم دار ستاروں سے پیغام رسانی کا کام لینا..
اور زمین پر کنکریاں مار کر لوگون کر تنگ کرنے کا پلین..کہکشائوں کا سفر اور.ستاروں سے دوستی..وہاں سے نکل کر بلوچستان کے کسی پہاڑی گائوں میں کٹیا بناکر رہنے کا ارادہ..چولستان کے صحرا کی ریت پر لیٹ کر ستاروں سے باتیں کرنا..میکسکو امریکہ کے بارڈر پر کسی ویران گرجا گھر میں ویمپائر پکڑنے جانا..برمودا ٹرائینگل کے اسرار ڈھونڈنے کیلئے سب سے نظر بچا کر ایک کشتی کی مدد سے سمندر میں کود جانا....."
باتیں کرتے کرتے اداسی نے ایک بار پھر احمد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا..اور دونوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ ایک گہری خاموشی اور اداسی کے ساتھ ٹوٹ گیا..

انسان کا ایک داخلی روپ ہوتا ہے جو ہماری امنگوں آرزوئوں اور امیدوں کے سانچے بناتا ہے.اور ایک غیر مرئی سا وجود تخلیق میں لاتا ہے. زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور. جہاں ہم قلبی طور پر ایک دوسرے تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں.اور دوسرا خارجی. جو سماج کے تقاضوں کا شعور رکھتا ہے. جو یہ جانتا ہے کہ قربتوں کی بنیادیں کس طلب پر رکھی جاتی ہیں. تکمیل تمنا کا رستہ، کن ٹھوس حقائق سے ٹکراتا ہے...آس بھی، یاس بھی اور خوشی اور غم کی سچائی بھی

دونوں کے درمیان خاموشی کی ایک وسیع خلیج حائل ہوچکی تھی. ایک دوسرے سے دونوں نظریں ملانے سےگریز کررہے تھے.بچے اب بھی اپنے کھیل میں مگن تھے. بیرا پلیٹیں اور چمچ لاکر میز پر سجا کر.چلا گیا...

خاموشی کی اس گہری خلیج میں کھڑے ہوکر ماریہ نے بے بسی کی اس خود ساختہ قسم کومحسوس کرلیا جو انسان کسی کمزور لمحے اپنا لیتا ہے اور پھر اس سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر پاتا..اور خود کو پرسکون کرتے ہوئے اپنائیت سے بولی.

"ہم کچھ خواب دیکھتے ہیں. یہ خواب ہمارا سہارا ہوتے ہیں.ہمارے جینے کی تمنائوں کو زندہ رکھتے ہیں.ہمیں زندگی سے ہمکلام رکھتے ہیں. خواب دیکھنے کی رسم بہت پرانی ہے.جب تک خواب زندہ ہیں زندگی چلتی رہے گی..تم ہی تو کہتے تھے دن سورج کا ہے تو رات بحرحال چاند کی ہے..اور پھر نئے دن کا سورج. خواب تراشنے کا ہنر بھی تو ایک فنکاری ہے اور ایک فنکار کے تراشیدہ خواب کسی دن حقیقت میں ڈھل جاتے ہیں.جب تک خوابوں کا تخلیق کار زندہ ہے. انسان زندہ ہے"

" وہ دیکھو ادھر.."

ماریہ نے احمد کی توجہ بچوں کی طرف کروائی جو کھڑکی کے پاس بنی سیڑھیوں پر بیٹھ کر چاند کو دیکھ رہے تھے.
" وہ بھی چاند پر جھولا ڈال کر اس پر جھولے لینے کا سوچ رہے ہونگے......انہوں نے بھی خواب دیکھنا شروع کردیئے ہیں..خواب دیکھنے کا جو سلسلہ ہم نے شروع کیا تھا اس سلسلے کو رکنا نہیں چاہیئے. کہیں تو یہ خواب حقیقت میں ڈھلیں گے. کبھی تو ان کو تعبیر ملے گی."

میم.سین

سچائی


کئی ہفتوں کی کھانسی کی شکائیت کے ساتھ آنے والے مریض سے جب پوچھا سگریٹ تو نہیں پیتے تو اس کا جواب سن کر میری آنکھوں بے اختیار آنسو آگئے کہ ابھی ایماندار اور سچے لوگ دنیا میں موجود ہیں..

" پیتا تو ہوں لیکن سادہ والے نہیں"

Monday, June 10, 2019

clinic


یہ ابھی کچھ دیر پہلے کی بات کی ہے۔سرددر اور کمزوری کی شکائیت سے آنے والی مریضہ کو جب میں نے ٹینشن کم لینے اور خود کو مصروف رکھنے کا کہا تو مسکرا کرجواب دیا۔ کوشش تو کرتی ہوں لیکن کیا کروں؟ کبھی کبھی سوچ خود ہی آجاتی ہے ۔ اللہ نے تین بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی تھی۔ ایک بیٹا قتل ہوگیا ، دوسرا ایکسیڈنٹ میں چلا گیا اور تیسرے کو بیماری کے بہانے اللہ نے واپس بلا لیا ۔ ایک بیٹی ادھر بیاہی ہوئی ہے۔ اس سے ملنے آئی تھی۔ کسی نے آپ کا بتایا تو چیک اپ کروانے ادھر آگئی۔
ایک دوست کے والد کہا کرتے تھے ۔کچھ باتیں ہم کتابوں سے سیکھتے ہیں کچھ تجربے سے اور کچھ لوگوں سے ۔
اور جو صبر کا سبق مجھے آج تک کوئی کتاب، کوئی وعظ ،کوئی نصیحت نہیں سکھا سکی تھی ۔وہ مجھے اس خاتون کی ایک مسکراہٹ نے سکھا دیا

clinic

چار پانچ سال کا بچہ کھانسی کی شکائیت کے ساتھ آیا ۔موٹی سی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ جب اس کی ماں اس کی زپ کھولنے میں ناکام ہورہی تھی تو میں نے تھوڑا سا مدد کیلئےزور لگایا تو وہ ٹوٹ گئی۔ اتنے میں اسکا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچے نے چیختے ہوئے اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے میری جیکٹ کی زپ توڑ دی ہے ۔اس کے باپ نے مجھے گھور کر دیکھا ہے تب سے بڑا ہی شرمندہ شرمندہ سا محسوس کررھا ہوں

tabsra

کتابوں پر تبصرہ...
مکہ مکرمہ کے ہزار راستے
مائیکل وولف
ترجمہ تصدق حسین
تاریخ سے دلجسپی رکھنے والوں کیلیئے ایک بہت ہی دلچسپ کتاب ..جس میں مکہ شہر اور حج کے حوالے سے لکھے گئے لگ بھگ تئیس سفرناموں سے اقتباسات کو اکھٹا کیا گیا ہے.. پہلا سفرنامہ 1050 عیسوی اور آخری 1990سے منتخب کیا گیا ہے....
ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے اور اس دور کے شعور کو سمجھے بغیر اس دور کے فیصلوں اور واقعات کو سمجھا نہیں جاسکتا۔اور کسی دور کے شعور کو سمجھنے کیلئے سفرنامے اور خود نوشت سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے
ایک ایسا شہر جہاں کوئی فصل نہیں ہوتی نہ ہی کوئی اناج پیدا ہوتا ہے ۔ ایک ایسا شہر جہاں پینے کا پانی بھی بارشوں کا محتاج ہے اور ایک ایسا شہر جس کے لوگوں کو اپنی زندگی کی ساری ضروریات کیلئے باہر کی دنیا کی طرف دیکھنا پڑتا ہو ۔ اور ایک ایسا شہر جہاں تک پہنچنے کیلئے خطرات کے پل صراط موجود ہو۔ اس شہر کو اللہ تعالی اپنا شہر قرار دے کر وہاں سے ایک ایسی دعوت کو کھڑا کرتا ہے کہ جس کی بازگشت چند ہی صدیوں بعد پوری دنیا میں گونج رہی تھی۔ اور وہ دعوت کس قدر جامع اور مضبوط تھی کہ راستوں کی سختیاں اور موسم کی نا مہربانیاں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکیں ۔ایسے ہی سمجھ لیں اگر لاہور سے ایک کام شروع کیا جائے تو اس کو لوگوں تک پہنچانا کس قدر آسان ہوگا اور تھر کے صحرا میں کھڑی کسی بستی سے ایک پیغام کو دنیا تک پہنچانے کیلئے حالات کتنے ساز گار ہوسکتے ہیں ؟ ۔
مکہ شہر ویسا نہیں تھا جیسا اب ہے ۔اس شہر میں زندگی کس قدر مشکل تھی اور وہاں رہنے اور پہنچنے کیلئے کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا ۔مکہ شہر کا حدود اربعہ وہاں کے صعوبتیں اور مسافروں کو در پیش مسائل اور تکالیف کا ادراک مجھے ان سفرناموں کو پڑھ کرہوا جو اس کتاب میں جمع کیئے گئے ہیں
عرب چھوٹے چھوٹےقبائل میں تقسیم تھے۔ اور ان قبائل کو عبور کرکے مکہ آنا یا پھر عرب کے اس خطے سے باہر نکلنا ایک بہت جان جوکھوں کا کام تھا۔ اس کے علاوہ خوراک اور پانی کی کمیابی اور موسم کی سختی الگ سے مسئلہ ہمیشہ سے درپیش رھا ہے۔ مکہ تک پہنچنے کیلئے کون کون سے راستے تھے اورحکمران طبقے کی طرف سے حاجیوں کو کیلئے کیا کیا سہولتیں مہیا کی جاتی تھیں۔اور حاجیوں کی راہ میں کیسے روڑے اٹکائے جاتے تھے۔یہ محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ مکہ شہر ، حج اور حج کے سفر کے ارتقا کی ایک دستاویزی ڈاکومنٹری ہے۔
ایک اور اہم چیز جو اس کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے ، وہ ہماری مسلم تاریخ کی معتدل تصویر ہے جو کتابوں میں درج قتل غارت سے بھرپور تاریخ کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔
میں نے یہ کتاب رومیل پبلیکیشنز کے فیس بک پیج سے آرڈر کرکے منگوائی تھی..
https://www.facebook.com/romailpublications/
میم سین