Thursday, January 31, 2013

بڑھاپا


جب تم میرے ساتھ تھے
میں نے سیکھنا چھوڑ رکھا تھا

چاند کے ہیولوں میں 
تیری تصویر بن لیتا تھا
ساحل کی گیلی ریت پر ہاتھ رکھ کر
میں تجھے سوچ لیتا تھا
سرد ہوا کے جھونکے مجھے چھونے آتے
تو
تیرے ہاتھوں کی لمس جان لیتا تھا
پانیوں سے ٹکراتی کرنیں دیکھ کر
میں
تیری مسکراہٹ پہچان لیتاتھا
جب سائے تھک کر نڈھال ہو جاتے
میں
تیری آنکھ سے نظارے دیکھ لیتا تھا
مگر
اب تم نہیں ہو
مجھے کچھ سیکھنا پڑے گا
تنہائی کس کو کہتے ہیں
ہجرکا روگ کیاہے
رت جگے کس کو کہتے ہیں
دیوانگی کیا ہے
وحشت کس کو کہتے ہیں 
بے بسی کیا ہے
اجنبی کس کو کہتے ہیں 


آج میں اداس بھی ہوں 
اور
تنہا بھی 
تیرا ساتھ ہے
نہ تیری واپسی کا سہارا
جینے کیلئے سیکھنا پڑے گا
اور سیکھنے کی اب عمر نہیں ہے
میم ۔ سین

Wednesday, January 30, 2013

اثاثہ


یہ کوئی ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے جب مجھے کھانسی کی تھوری سی تکلیف کا احساس ہوا لیکن مجھے نہیں پتا تھا کھانسی کا یہ ننھا سا بیج کتنا تناور درخت بن جائے گا۔اور معمولی سی کھانسی سے کھانسی کے بھوت میں تبدیل ہوجائے گا۔ ان چند دنوں میں کوئی انٹی بائیٹک نہیں چھوڑی اور کوئی ایسا کف سیر پ نہیں جس کا ذائقہ نہ چکھا ہو۔ دن تو جیسے تیسے گزر جاتا ہے، لیکن راتیں کسی نائٹ میئر میں ڈھل گئیں ہیں۔ کبھی کوئی ویمپائر بن کر ڈرانے آجاتا ہے۔ تو کبھی کوئی بھوت کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگتا ہے۔ ساری رات کھانسی کا دورہ کچھ ایسے رہتا ہے کہ کھانسی کے شربت پی، پی کر اور ٹوٹکے کرنے کے بعد صبح آنکھ کھلنے کا نام نہیں لیتی۔
 پکا ارادہ کرتا ہوں کہ آج سارا دن اپنے کمرے میں گزاروں گا۔لیکن جس دن سے کھانسی کے اس بھوت نے مجھے اپنے حصا ر میں لیا ہے، مریضوں کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے ۔جب بستر سے نکلنے میں کچھ دیر لگاتا ہوں ، کلینک سے فون کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں
فوراً کلینک پہنچیں، کسی دائی کے ہاں تھوری دیر پہلے بچہ پیدا ہوا ہے ، سانس کی کافی تکلیف ہے، ہم نے آکسیجن لگا دی ہے۔
کل جس بچے کو خون لگایا تھا وہ ایک سو چار بخار کے ساتھ آیا ہے ہم نے پٹیاں شروع کرا دی ہیں ۔ 

چھ ماہ کا بچہ پہنچا ہے، تیز بخار ہے ،تھوڑے تھوڑے جھٹکے محسوس ہو رہے ہیں۔
ایک اور بچہ آیا ہے ایک ہفتے سے دستوں میں مبتلا ہے اب تو اس کا پانی بالکل ختم ہے۔ 

خسرے کے ساتھ دو بچے ایک سو پانچ بخار کے ساتھ آئے ہوئے ہیں ۔ بخار کی دوائی پلا دی ہے لیکن کافی دیر سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔
 اور میں اپنے آپ کو او ر اپنے پروفیشن کو کوستا ، د و ڈبے پانی کے سر میں بہا کر ، ایک کپ چائے گلے میں انڈیل کر، تیزی سے تیار ہو کر کلینک کے لئے نکل پڑتا ۔ سارا راستہ اس سوچ میں گم، کیا یہ اخلاقی اور جذباتی بلیک میلنگ نہیں ہے؟ ۔ کیا میرے کلینک کے بغیر ان لوگوں کا گزارہ نہیں ہو سکتا؟۔ میں کلینک بند کر کے بیٹھ بھی جاؤں تو کسی نہ کسی کوئیک کی دوا نے اثر کرنا ہی ہے۔۔ اسی ذہنی کشمکش میں سارا دن مریضوں کے درمیان کچھ کھانستے اور کچھ دوایاں پھانکتے گزر جاتا۔ اور رات کو پھر بھوت وارد ہو جاتا اور وہی بے سکونی، بے آرامی۔رت جگا ، زہنی ہیجان،۔۔۔

جب میں لکھنے بیٹھتا ہوں تو کوشش کرتا ہوں تحریر میں ذہنی یکسوئی برقرار رکھنے کیلئے موضوع کو ایک ہی بیٹھک میں ختم کرڈالوں۔ مگر جب پچھلا مضمون ’’ یقین‘‘ لکھنے بیٹھا تو ذہن، کھانسی کے شر بتوں اور نیند کی بے آرامی سے اس قدر دھندلا چکا تھا کہ مضمون کو مکمل کرنے میں پورے دو دن لگ گئے۔ مریض کا نسخہ لکھنے کے بعد دوبارہ پڑھتا ہوں، کہیں دوا لکھنے میں کوئی غلطی تو نہیں کر بیٹھا۔
]اس کھانسی کے بھوت کی شہرت میرے بہت ہی عزیز بزرگ حافظ عبد اللہ صاحب تک پہنچی تو کل شام وہ میرے پاس تشریف لائے ۔حافظ صاحب ایک مقامی درس میں پڑھاتے ہیں اور ساتھ میں اپنے ذاتی کاروبار کی بھی نگرانی کرتے ہیں ۔ جب بھی ملتے ہیں، اتنے خلوص اور پیار سے کہ ان کی موجودگی میں دنیا کے سارے دکھ اور غم غائب ہوجاتے ہیں ۔ آتے ہی شکوہ کیا ، کل ہی تو آپ سے فون پر بات ہوئی تھی۔ لیکن آپ نے اپنی تکلیف کا ذکر تک نہیں کیا۔ یہ کچھ ملٹھی اور چھوٹی مکھی کا شہد لایا ہوں۔ ملٹھی کو کسی کونڈی یا گرائنڈر میں پیس لیں ۔ اور چائے کا آدھ چمچ سفوف لے کر اتنے شہد میں ملا لیں اور نیم گرم پانی یا دودھ میں ملا کر لینا شروع کر دیں ۔ انشاللہ کل صبح تک  آفاقہ ہونا شروع ہو جائے گا۔
میں نے شکریہ کے ساتھ ان سے دونوں چیزیں لے کر اپنے میز کی دراز میں رکھ لیں کیونکہ میرا ارادہ ان کو استعمال کرنے کا نہیں تھا بلکہ میں نے اگلی صبح دو دن کیلئے اپنے بھائی کے پاس لاہور جانے کاپروگرام بنا لیا تھا۔ شہر سے باہر کمپنی کے طرف سے دیے گئے بڑے سے گھر کو آباد رکھنے کیلئے بھائی نے کچھ مرغیا ں بھی رکھ چھوڑی ہیں۔ کچھ خرگوش بھی ہیں ۔ آسٹریلین طوطوں کے بھی بیسیوں جوڑے ہیں۔ دودھ کیلئے ایک بھینس بھی ہے۔ لان میں جہاں پھولوں کی کیاریاں ہیں وہاں موسمی سبزیاں بھی دیکھنے کو ملیں گی۔۔ دو دن اس کلینک کی روٹین سے دور رہوں گا توکھانسی کا بھوت خود ہی بھاگ جائے گا۔
شام کو کلینک سے فارغ ہو کر گھر جانے سے پہلے کچھ ضروری سامان لینے کی غرض سے قریبی بیکری کا رخ کیا۔ جیسے ہی بیکری کے اندر داخل ہوا ہوں۔ چھینکیوں اور کھانسی کا دورہ پر گیا۔ دکاندار کو مطلوبہ اشیا کی فہرست تھمائی اور تھوڑٰا جلدی کرنے کو کہا۔ میرے ساتھ ایک بزرگ کھڑے تھے مجھے مسلسل کھانستا دیکھ کر بولے کوئی دوا وغیرہ نہیں لی؟ میں نے مسکرا کو جواب دیا ۔ دوا تو بہت استعمال کی ہے لیکن بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے۔ بزرگ اپنے سامان کے بل کی ادائیگی سے فارغ ہوئے تو ا یک بار پھر میری طرف متوجہ ہوئے۔ اگر بر انہ محسوس کریں تو ایک مشورہ دوں ۔ یہاں چونگی نمبر ۵ کے پاس ہی ڈاکٹر مبشر کا کلینک ہے۔ ایک بار ان سے ضرور مشورہ کر لیں ۔ صبح ذرا دیر سے آتے ہیں ، رش کی وجہ سے شائد آپ کو کچھ انتظار بھی کرنا پڑے ۔ لیکں ان سے مل کر باہر نکلیں گے تو آدھے ٹھیک ہو چکے ہونگے۔ میں خود تو ان کے پاس کبھی نہیں گیالیکن میرا پورا خاندان ان کے پاس ہی جاتا ہے۔
ان بزرگوں کا مشورہ سن کر میں نے جلدی سے اپنا سامان سمیٹا اور گاڑی میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے اور دو موٹے آنسو میری آنکھوں سے بہہ کر میرے گالوں تک آگئے۔وہیں سے کلینک فون کیا ، میرا لاہور کا پروگرام کینسل ہو گیا ہے۔ راشد کے ہاتھ میری دراز سے ملیٹھی اور شہد کی بوتل مجھے گھر پہنچا دیں۔ میں جو پچھلے ایک ہفتے میں شخصی طور پر کھنڈر بن چکا تھا، گھر پہنچتے پہنچتے ایک مضبوط عمارت میں بدل چکا تھا۔۔میں نے محسوس کیا ہے کہ رات میری نیند بھی بہتر رہی ہے اور جب سے قلم پکڑ کر یہ تحریر لکھ رہا ہوں کھانسی کا ایک بھی دورہ نہیں پڑا
میم سین

Monday, January 28, 2013

یقین

یہ ۱۹۹۹ کی بات ہے اپنے بڑے بھائی کی مدد سے ایک کمپیوٹر خریدا ۔ ایم ایم ایکس ۱۶۶ ، جس کے اندر ۶ ۱ ایم بی کی دور ریمیں لگی ہوئی تھی۔ ۱۶ ایم بی کی نئی ریم کوئی بارہ سے پندہ سو تک مل جاتی تھی اور تقریباً ساری تائیوان سے آتی تھیں۔ اسی سال آنے وا لے زلزلے میں ریم بنانے والی کمپنی کی تباہی کے بعد پاکستانی مارکیٹ میں ان کی قیمت دگنی ہو گئی تھی ۔

 ان دنوں سافٹ ویئر کی سی ڈی کی قیمت سو روپے اور اور ویڈیو سی ڈی اس سے بھی مہنگی ملتی تھی ۔ میرے سسٹم کی ہارڈ ڈسک کوئی ساڑھے سات سو ایم بی تھی۔جو کہ ناکافی تھی اور اسے جب اپ گریڈ کر کے اڑھائی جی بی میں تبدیل کیا تو کوئی اڑھائی ہزار روپے کا خرچہ ہوگیا تھا۔ابھی ہارڈ ڈسک کے پہنچائے گئے مالی صدمہ سے نہیں نکلا تھا کہ سسٹم کے بورڈ نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔جب ہر مکینک اسے صحیح کرنے میں ناکام ہو گیا تو وہ بھی نیا خر یدنا پڑا۔ یوں میں کوئی پانچ ہزار روپے کا مقروض ہوگیا۔
گھر سے اس فضول خرچی کیلئے مدد مانگنا ممکن نہ تھا۔ اور جھوٹ بول کر یا کوئی بہانہ لگا کر پیسے ہتھیانے کے ہنر سے میں بے خبر تھا۔فائنل ائر کے امتحان سر پر تھے اور میں قرض کی فکر تلے دبا ہوا۔ دوستوں نے جتنا تعاون کرنا تھا ، وہ انہوں نے کیا، لیکن زمانہء طالبعلمی کے تعاون کی بھی ایک حد ہوتی ہے ا ور اس دن جب سارے رستے بند پائے تو عصر کی نماز اپنے کمرے میں ادا کی اور گرگرا کراللہ کے سامنے سارے ہتھیار گرا دیے کہ اب سب کچھ تیرے حوالے۔ اگر تو میرا مسئلہ حل نہیں کرتا تو میرے پاس بھی اب کوئی او ر سہارا نہیں ہے۔ 
نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک د وست کو ضروری کال کرنے کی غرض سے ٹیلی فون بوتھ پہنچا۔ ابھی کریڈل ہاتھ میں تھاما تھا کہ نظر سامنے لگے ایک اشتہار پر پڑی۔ جس پر بچوں کیلئے ٹیوٹر کی مانگ کی گئی تھی ۔ ساتھ میں رابطہ نمبر بھی تھا گھر کا ایڈریس دیکھا تو فیصل ٹاؤن درج تھا یعنی جناح ہسپتال کے بالکل دوسری جانب ۔ یہ سوچ کر کہ ہزار روپے بھی مل گئے تو موقع اچھا ہے ۔ کوشش کر کے دیکھ لیتے ہیں اور دوست کی بجائے اشتہار پر درج نمبر ڈائل کر دیا۔ایک بارعب آواز نے فون اٹھایا اور بالمشافہ ملنے کو کہا۔ ملنے کا وقت طے پا گیا۔میٹرک کی ایک لڑکی او ر اسکے او لیول کے بھائی کو روزانہ ایک گھنٹہ وقت دینا تھا۔ معاملات طے پا گئے تو بولے کتنی فیس لو گے ابھی میں کچھ کہنہ ہی چاہتا تھا وہ صاحب بولے اڑھائی ہزار سے زیادہ میں نہیں دے سکتا۔ اس سے زیادہ لے کر میں کرتا بھی کیا۔ فوراً ہاں کر دی۔
 دو ماہ بعد جب قرض کی ادائیگی سے فارغ ہوا تو۔زندگی کے اس کمزور موڑ پر دعا کی قبولیت جس انداز میں ہوئی اس نے ہمیشہ کیلئے میرے ہاتھوں میں اپنے رب پر یقین کا اسم اعظم تھما دیا ۔
اور یہ اسم اعظم آج بھی میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ یہ تو اتنی آسانی سے قبول ہوجاتی ہیں تو پھر لوگ کیوں شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری دعائیں داخل دفتر ہوجاتی ہیں۔ ہمْ اپنے رب سے ما نگ تو رہے ہوتے ہیں مگر شک کی نظر سے۔ دعا تو کرتے ہیں لیکن ہمیں اپنے رب کی قدرت پر یقین نہیں ہوتا ، اس کی صلاحیتوں پر شک ۔ اس کے اثر و رسوخ پر شک۔
جو ہستی کروڑوں اربوں کہکشائیں تخلیق کر کے ان میں اربوں ستاروں کی ترتیب قائم رکھ سکتی ہے ۔ جو ہستی دو خلیوں کو ملا کر کھربوں خلیوں کے انسان میں ڈھال سکتی ہے۔کیا اس کی قدرت پرپر شک ہوتا ہے؟ یا اس رب کی طاقت پر جو ایک چھوٹے سے بیج سے سو فٹ کا درخت کھڑا کر دیتا ہے۔، وہ رب جو پانی کو بہا کر پہاڑوں سے سمندروں تک پہنچاتا ہے اور پھر اس پانی کو دوبارہ سمندروں سے پہاڑوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کی ربوبیت کے آثار ڈھونڈتے جاؤ اور اس کی عظمت کا سکہ دلوں میں کیسے نہیں بیٹھتا ؟ اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو کائنات کی ہر ہر چیز میں حسن وجمال نظر آئے گا ۔سبزہ ہو یا دریا، پہاڑ ہوں یا وادیاں ، بادل ہوں، سورج چاند ، ستارے ہوں۔ دھنک کے رنگ ہوں یا پھولوں کے۔پوری کائنات ایک حسن کمال کا شاہکار ہے۔ تو پھر اس تخلیقی شاہ پارے کے اصلی فنکار کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔ فن پاروں کا یہ عالم ہے تو پھر اس فنکا ر کا اپنا عالم کیا ہو گا؟۔اس شعور اور اس کے تخلیقی ہنر کی داد اس کے اصل فنکار کو کیوں نہیں ملتی ؟ اس کی غائبانہ عظمت اور وجاہت کی دھاک ہمارے دلوں پر کیوں نہیں بیٹھتی؟۔
 پوچھو ان ستاروں سے سے جو رات کے اندھیروں میں روشنی پھیلاتے ہیں ، پوچھو ان دریاؤں سے سے جو ہزاروں فٹ کی بلندی سے بہتے ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرتے ہیں ، پوچھو ان ہوا میں تیرتے پرندوں سے ، پوچھو آفتاب کی کرنوں سے وہ کس کی ثنا بیان کرتے ہیں وہ ذات کس قدر عظیم ہو گی ۔وہ ہستی کس قدر پرشکوہ ہوگی جو یہ سارے نظارے ڈھال رہی ہے۔کیا اس کائنات کی ترتیب یا اس کا تناسب کبھی خراب ہوا یا کبھی تبدیل ہوا ؟۔
یہ وہ عظیم ہستی ہے جو روز اول سے ہے اور روز آخر تک رہے گی۔ جو صاحب علم بھی ہے اور صاحب اختیار بھی۔ تو اس کی عظمت، بزرگی، قوت، طاقت اور قدرت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ جب یقین ہے تو کامل کیوں نہیں ِ ؟ قبول نہ ہونے کے شک کا بیج کیوں؟ اپنے رب کے بارے میں انسانی طرز فکر کیوں؟ کہ شائد جیسے کسی بڑے افسر سے ملنے کیلئے کسی کی سفارش کی ضرورت ہو گی یا کسی چپڑاسی کی مٹھی گرم کرنا پڑے گی تو ہی کوئی بات بنے گی۔ اس زمین کو وجود میں آئے ساڑھے چودہ ارب سال ہو گئے ہیں ، تاریخ دان دس ہزار سال پہلے حضرت ٓدم کو ڈھونڈ نکالتے ہیں اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کو تو آئے ہوئے صرف چودہ سو سال ہوئے ہیں۔ تو اتنے سالوں تک اس کائنات کا نظام چلانے کیلئے ہمارے رب کا ہاتھ کون بٹاتا رہا ہے؟
 وہ تو بے نیاز ہے ، نہ کسی سے پیدا ہونے والا نہ کسی کو جنم دینے والا، نہ جس کو نیند آتی ہے نہ اونگھ، سنتا ہے اتنے قریب سے کہ ہماری شہ رگ بھی دور لگتی ہے، وہ کُن ،ابھی کہ نہیں پاتا اور کائناتیں وجود میں آجاتی ہیں ، جن کا نہ شمار ہے نہ کوئی حساب ہے ، وہ جو لامحدود علم کا مالک ہے تو پھر اس سے مانگنے کیلئے سفارش کیسی؟ ، قطار بندی کا انتظار کیوں؟ دعائیں تو التجائیں ہیں اپنے رب سے ۔جو خود  توکسی کا نہیں لیکن جس کی ساری کائنات محتاج ہے۔ مانگنے کا کوئی وقت نہیں ، مانگنے کی کوئی حد نہیں ، جب پریشان ہو تب بھی مانگو جب خوشحال ہو تب بھی مانگو وہ تو خوش ہوتا ہے مانگنے پر اور ناراض ہو جاتا ہے اگر کچھ اس سے نہ مانگا جائے۔
 لیکن جب مانگو تو ایسے کہ وہ اصرفتمہاری سن رہا ہے اور قبول کرے گا ۔اتنے یقین کے ساتھ ، جو اس بچے کو تھا جو نماز استسقا ادا کرنے گیا تو ساتھ چھتری بھی لے گیا تھا

میم ۔ سین

Saturday, January 26, 2013

فرار


ہمارے شہروں میں عمو ماً اور دیہاتوں میں خصوصاً دستی چادروں سے بنی پیٹیاں استعمال ہوتی ہیں ۔یہ پیٹیاں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک تو سردیوں کے کپڑے ، رضا ئیاں، کھیس سنبھالنے کے کام آتی ہیں۔ سارا سال بند رہنے کے بعد سردیوں کے شروع میں یہ پیٹیاں کھول کر سارا سامان نکال کر دھوپ لگوائی جاتی ہے ۔ اور سردیوں کے بعد اسی طرح دھوپ لگوا کر، فینائل کی گولیاں لکھ کر ان کو دوبارہ بند کردیا جاتا ہے۔ دوسری قسم کی پیٹیوں میں سامان کی نوعیت تو پہلی پیٹیوں جیسی ہوتی ہے لیکن ان کا استعمال صرف اس وقت ہوتا ہے جب گھر میں کوئی مہمان آتا ہے یا محلے میں کوئی شادی ہوتی ہے ۔۔ان پیٹیوں میں جب سامان رکھا جاتا ہے تو پہلے پرانی اخباریں بچھائی جاتی ہیں ، پھر فینائل کی گولیاں رکھی جاتی ہیں اوجن پیٹیوں کا استعمال سالانہ ہوتا ہے ان کی اخباریں تو عموماً سال بعد تبدیل ہوجاتی ہیں لیکن مہمانوں والی پیٹیوں کی اخباریں کئی کئی سال تبدیل نہیں ہوتیں۔کیونکہ یا تو وہ کھلتی ہی نہیں اور اگر کھلیں بھی تو ایک آدھ چیز استعمال ہوتی ہے۔ کبھی کبھی یہ اخباریں اتنی قدیم ہوتی ہیں کہ شائد خود اخبار والوں کے ریکارڈ میں بھی نہ ہوں۔ سردیوں کے آغاز پر نکلنے والی یہ اخباریں ہمیشہ میری دلچسپی کا مرکز رہی ہیں ۔ رشتے دار ہوں یا محلے دار، میری اس دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اخباریں مجھ تک پہنچتی رہی ہیں۔ اور ان اخباروں اور تراشوں کا ایک وسیع ذخیرہ میرے پاس جمع رہا ہے۔ان پرانی اخباروں کا تعلق بھٹو، ضیا اور بینظیر اور نواز شریف دور سے ہے ۔ ایک دو صفحہ ایوب دور سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ان اخباروں کی ورق گردانی سے ناصرف کچھ حقائق سے واسطہ پڑتا ہے بلکہ بہت سی دلچسپ معلومات سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔۔ لیکن سارے ادوار سے گزر کر ایک بات واضح ہوتی ہے کہ عوام کے مسائل ان چالیس سالوں میں تبدیل نہیں ہوئے۔مہنگائی، جرائم میں اضافہ، لاقانونیت، کرپشن،بیروزگاری کی داستانیں سب کچھ آج بھی ویسا ہے جیسا ایوب دور میں تھا۔ اور یقیناً اس پہلے بھی ہونگے۔ نواز شریف کے پہلے دور میں آٹے کے بحران نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، سیلاب کی تباہ کاریاں ، جرائم اور ڈی نیشنلائزیشن کی خبریں کافی جگہ لیتی رہیں۔ بے نظیر دور میں میوزک ۸۹ نے حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں تھیں حتی کہ وزیر اعظم کو اس کی ریکارڈنگ منگوا کر دیکھنا پڑی کہ آخر وزارت اطلاعات نے کون سے گناہ کا ارتکاب کر ڈالا ہے۔ اڈیٹر کے نام ایک خط میں نیوز کاسٹر کے سر سے ڈھلکتے آنچل پر سخت تنقید کی گئی ہے ۔ کہ آجکل ان کے سر کے بال کافی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ ضیا دور میں ایک اڈیٹر کے نام خط میں عشاہ کی اذان کو ہاکی میچ کی وجہ نشر نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنا یا گیا اور اشتہاروں کی وجہ سے وقت اوپر نیچے نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اسی دور میں چھپنے والے ایک مضمون میں فلموں میں بڑھتی ہوئی فحاشی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور بطور مثال کچھ فلموں کے نام اور سین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ایک خبر میں ٹرانسپورٹ کے بڑھائے گئے کرایوں کو عوام کے ساتھ زیادتی قرار دیا گیاہے۔ایک مضمون نگار نے نہایت سہمے ہوئے انداز میں طلباء تنظیموں پر پابندی پر حکومت سے نظر ثانی کی درخواست کی گئی ہے۔ضیا دور میں زیادہ تر خبروں کا تعلق سماجی ادبی محفلوں کی کاروائی، تاجر تنظیموں کے مطالبے،سیرت کانفرنس اور یوم ٓازادی کی تقاریب کی روداد، وزیروں کی کالجوں میں ہونے والی مجالس سے خطاب نماز کمیٹیوں کی کارکردگی،سماجی کارکنوں کے بیانات سے تھا۔ خبروں اور موضوعات کی قلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انار کلی میں قتل ہونے والے ایک تاجر کی کہانی اور اور اور اس پر ہونے والی روزانہ کی کاروائی کئی ماہ تک نوائے وقت کے صفحہ اول کی زینت بنتی رہی تھی۔بھٹو دور کے آخری دنوں میں الیکشن کمیشن پر اپوزیشن کی سخت تنقید، اور شفاف اور آزاد الیکشن کی ضرورت پر اخبارات بھری پڑی تھیں ۔اگر انتخابات میں دھاندلی کی گئی توسولہ دسمبر کا سانحہ دوبارہ دھرائے جانے کا خطرہ بیان کیا گیا ہے ۔ ایک اور اخبار کے اداریے میں شراب کے بڑھتے ہوئے رجحان اور نوجوانوں کی بے راہروی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ایک اخبار میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ، کرپشن اور رشوت کے رجحان پر ، حکومت پر سخت تنقید کی گئی ہے ایک مضمون نگار نے مخلوط نظام تعلیم کو ایک طوفان سے تشبیہ دیتے ہوئے خواتین کی الگ یونیورسٹی کا مطالبہ کیا ہے۔ایک اور اخبار میں چینی کی راشن بندی اور مٹی کے تیل کی عدم دستیابی پر حکومت کو سخت سست قرار دیا ہے۔ اور مسائل سے لاتعلقی اور حکومتی بے حسی کو رنگیلا شاہ کے دور سے ملاتے ہوئے لکھا ہے کہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکی ہے اور حکومت رنگ رلیوں میں مصروف ہے۔انیس سو بہتر کے ایک اخبار میں اداریہ ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم پر ہے۔ ایڈیٹر نے لاقانونیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی پر جو نقشہ کھینچا ہے آج کے اخبار میں بھی چھپ جائے تو کسی کو علم نہیں ہوگا کہ یہ چالیس سال پہلے لکھا گیا تھا۔انیس سو تہتر کی ایک اخبار کے صفحہ اول پر وحشیانہ قتل کی داستان چھپی ہوئی ہے۔لرزہ خیز واردات پر علاقے کے لوگوں کا یہ بیان کہ حکومت لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے کو بھی کافی نمایا ں جگہ دی گئی ہے ۔انیس سوچھہتر کے ایک اخبار میں لکھے گئے مضمون میں یہ بتا یاگیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری سے لوگوں میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ایک اخبار کے صفحہ اول پر ڈی سی ٖصاحب کے دفتر کے باہر خود سوزی کرنے والے شخص کی خبر خاصی نمایاں ہے ۔ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکیوں کے نام بھی بھی ف ج کے ناموں سے ملتے ہیں۔ غیرت کی بنیاد پر قتل کی خبریں بھی اندرونی صفحات پر ملتی ہیں ۔لیکن میں حیران ہوں تو اس بات پر کہ کئی دھائیاں بیت گئیں لیکن ہمارے بنیادی مسائل وہی ہیں ۔ نا ختم ہونے والا ایک ایسا سلسلہ جس کی شرح میں ہر روز اضافہ ہوا ہے لیکن کم و بیش عوام کو ان مسائل کا سامنا ہے جس کا وہ قیام پاکستان سے بھی پہلے سے مقابلہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ہر سال جب نیا سال آتا ہے تو ہماری عوام یہ امید باندھ لیتی ہے کہ آنے والا سال ہر نعمت لئے چشم راہ ہوگا۔لذت آفرینی ہوگی۔ نیا سال ایک نیا شعور لے کر آئے گا۔ گمان اور خواب حقیقت میں ڈھلیں گے۔برس ہا برس کی حسرتیں ہیں مضطرب ایک کیفیت ہے جو شائد اپنی منزل پائیں گی۔ مگر یہ کبھی ہو نہ سکا جو مسائل ہمارے کل تھے وہ آج بھی ہیں اور کاش میرا گمان جھوٹ بول رہا ہو، کل بھی رہیں گے۔ 
لیکن میں پرامید رہتا ہوں ، میرا تصور بھی اثر انگیز ہے ، میرے خواب بھی قابل رشک ہیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ زندگی کی معنویت سے عاری ہوجاؤں ۔ اسلئے اب پرانی اخباریں اکھٹی کرنا چھوڑ دیا ہے 

Thursday, January 24, 2013

یاد اور اجنبی

سنو میں نہ کہتا تھا
تم جنوں کی بستی کے رہنے والے ہو

کوئی سوز ہے ہے دل میں 
کسی کی یاد ہے باقی 
کوئی درد ہے سینے میں
 تم نے چھپا رکھا ہے
کچھ تو ہے ایسا
تمہیں رونے نہیں دیتا 
 تمہیں سونے نہیں دیتا
کوئی غم تو ایسا ہے 
جس کی شدت 
تمہیں بے تاب رکھتی ہے
کوئی روح تو ایسی ہے
 تمہیں بے چین رکھتی ہے
کوئی آبلہ ایسا ہے
جو سلگھتا رہتا ہے

حد سے کوئی جب نکلنے لگتا ہے
کوئی یاد ایسی ہے
کوئی درد ایسا ہے
دکھ جس کا جب بیدار ہوتا ہے
 تم بستی چھوڑ جاتے ہو
رشتے سارے توڑ جاتے ہو
میری گماں کی وادی میں  
مجھے یہ محسوس ہوتا ہے
کوئی ایسی گمشدہ حقیقت ہے
جس کے پیچھے تمہارا دل 
ہر دم بیقرار رہتا ہے 
ہر دم بے چین رہتا ہے
میم ۔ سین

Wednesday, January 23, 2013

میرے قلم سے۔۔پارٹ ٹو

اپنے کلینک پر رونما ہونے والے واقعا ت و مشاہدات پر مبنی ’’ میرے قلم سے ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھے گئے مضمون کے بعد بہت سے دوستوں نے یہ سلسلہ جاری رکھنے کی فرمائش کی۔اور کہا کہ گاہے بگاہے اپنی ان یادشتوں کو قلم بند کرتا رہا کروں۔ تو اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کچھ مشاہدات کو قلم سے کاغذ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے
جس دن لطیفاں مائی کو اکڑے جسم، ٹیڑھے منہ،رال میں بھیگے ہونٹوں اور آسمان کی طرف دیکھتی ساکت نظروں کے ساتھ میرے پاس لایا گیا تو ایک لمحے کیلئے تو مجھے بھی یوں لگا کہ موت کا فرشتہ کہیں قریب ہی انتظار کر رہاہے۔ ساتھ ایک جمِ غفیر تھا،کوئی سورہ یاسین پڑھ کر پھونکیں مار رہا تھا تو کوئی تسبیح کے دانے گرا کروظیفہ کر رہا تھا لیکن  سب میں مشترک بات یہ تھی کہ سبھی مائی کی موت کی آسانی کیلئے دعا کر رہے تھے۔ضروری معائنے کے بعدمجھے اندازہ ہوگیا کہ مریضہ سائکو ہے اور ساری کیفیت خود ساختہ ہے۔کچھ ذہنی سکون کی ادویات اور کچھ  ٹوٹکے  بھی برتے   لیکن مریضہ کچھ ایسی ڈھیٹ واقع ہوئی کہ کسی حربے کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ جب اس کی گلے سے نکلتی کراہ او ر لوگوں کی بے چینی ناقابل بردا شت ہو گئی تو تو میں نے اپنے ڈسپنسر راشد کو بلایا اور  کہا اس کے بازو پر پانی کے ٹیکے لگانے شروع کر دو۔ ابھی پہلا ٹیکہ ہی لگا تھا کہ لطیفاں مائی چیخ مار کر اٹھ کر بیٹھ گئی اور حیرانی سے ارد گرد جمع لوگوں کو دیکھنے لگی اتنا ہجومِ پریشاں دیکھ کر مائی نے سین دوبارہ دہرانے کا ناٹک شروع ہی کیا تھا کہ میں نے راشد کو آواز دی۔ میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھول دیں اور ہاتھ جوڑ کربولی میں ٹھیک ہوں اور جوس ، بسکٹ کھا کر اپنی صحت یابی کا یقین دلایا۔ ہمراہ آئے بیسیوں لوگ اس زندہ معجزے کو دیکھ کر انگشت بنداں تھے ۔ زباں زد عام اس معجزاتی ٹیکے کا ذکر تھا اور اگلے کئی دن تک کلینک پر لقوے اور فالج کے مریضوں اور پیدائشی معذور بچوں کا ہجوم رہا ۔ اب بھی کبھی کبھا ر لوگ ٹیڑھا منہ سیدھا کرنے والا ٹیکہ لگونے آجاتے ہیں
فاطمہ کی شادی تو سمندری ہوئی تھی لیکن پہلے بچے کی پیدائش ماں باپ کے ہاں ہی ہوئی تھی جو پہلے مہینے ہی بیمار ہو کر میرے کلینک آگیا تھا۔ اس کے بعد بھی کئی بار آیاحتی کہ سسرال جانے کے بعد بھی بچہ جب بھی بیمار ہوا تو شفا میرے کلینک سے ہی ہوئی۔اس دن جب ٹیکسی پر نوجوان ،بیوی اور بچے کو لے کر آیا تو بڑی مایوسی میں بولا کہ اس بچے کو تو آپ کے علاوہ آرام ہی نہیں آتا سارے سمندری سے دوا لے لی لیکن اسے فرق نہیں پڑا ۔۔اگلے دن عورت  جب دوبارہ چیک کروانے آئی تو تو میں نے اسے سمجھایا کہ سمندری میں کئی اچھے ڈاکٹرہیں اور بچے کو وہاں دکھا لیا کریں ۔میرا خیال تھا کہ اب وہ میری طبی سوجھ بوجھ اور فہم کو ستائش کی نظر سے دیکھے گی اور میری قابلیت پر کوئی قصیدہ کہے گی مگر اس نے تو یہ کہ کر میری سوچ کا قلعہ مسمار کر دیا ’’ ویسے وہ کون سا مجھے میکے آنے دیتے ہیں اس بچے کی بیماری کے بہانے ،میں دو چار دن امی کے گھر رہ لیتی ہوں‘‘
بابا محمد یوسف اللہ ان کو جنت نصیب فرمائے، شوگر کا مریض تھا ۔ میرے پاس جب بھی آتا اپنی کمزوری کا رونا روتا، جب شوگر چیک کی جاتی تو  وہ تین سو سے کم نہ ہوتی۔کھانے والی تمام ادویات کی ناکامی کے بعد جب میں نے بابا جی کو بتایا کہ اب تو انسولین کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے تو بابا جی نے سر پکڑ لیا اور کہنے لگے پرہیز بھی اتنا کرتا ہوں، سیر پر بھی باقاعدگی سے جاتا ہوں، دوائی میں بھی کبھی ناغہ نہیں کیا، اگر آپ کہیں تو قبض کیلئے ہڑوں کےمربعے کا استعمال ترک کر کے نہ دیکھوں؟۔۔۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر لوگوں کو جب چینی کا استعمال روکنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو وہ شکر پر شفٹ ہوجاتے ہیں
ساٹھ سالہ بلقیس بیگم نے جب اپنے پٹھوں کی کمزوری کی شکائیت کی تو میرے پوچھنے پر جواب آیا ، بچپن سے ہی ہے ۔ابھی بچپن کا لفظ سن کر اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ا نہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جب وہ پانچویں میں پڑھتی تھیں تو انہیں ٹا ئیفائیڈ ہوا تھا ، میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کیا اس وقت ٹائفائیڈ ایجاد ہو گیا تھا؟۔ لیکن بلقیس بیگم نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا اسی لئے تو میری بیماری بگڑ گئی تھی کیونکہ میرا مرض کسی کی سمجھ میں جو نہیں آیا تھا
بیماری کے دوسرے دن بھی بچہ اکھڑے سانس کے ساتھ آیا تو بچے کے کپڑوں سے دھوئیں کی بو دیکھ کر میں نے ماں سے کہا کل آپ لوگوں کو کمرے میں کوئلے جلا کر رکھنے سے منع کیا تھا پھر بھی وہی غلطی کیوں دہرائی ۔ اس کی ماں فوراً بولی ’’ نئی جی ڈاکٹرصاحب تہاڈے کہن تے اسیں کولے نئیں بالے ۔۔لکڑاں بال کے کمرے وچ رکھیاں سن ( ہم نے کوئلے تو نہیں جلائے لیکن لکڑیاں جلا کر کمرے میں رکھی تھیں )‘‘
کچھ واقعات کی پی جی ریٹنگ ہوتی ہے اس لئے یہ مضمون پڑھنے والوں میں اگر کوئی غیر شادی شدہ ہے تو وہ مضمون کو یہاں مکمل سمجھے ۔ اگرچہ اس نصیحت کا کوئی اثر تو ہونے والا نہیں لیکن سینما کے باہر ’’ صرف بالغوں کیلئے ‘‘ کا بورڈ اور فلم شروع ہونے سے پہلے قومی ترانہ بجانے جیسی رسمی کاروائی تو ضروری ہے۔یا پھر اس قانون کا حوالہ استعمال کریں جس کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر افراد پر سگریٹ خریدنے پر تو پابندی ہے ، پینے پر نہیں۔
سخت گرمی کے موسم میں میاں بیوی میرے پاس آئے۔ بیوی کو الرجی کی شکائیت تھی دوائی لکھنے کے بعد میں نے دن میں تین چار بار نہانے کا مشورہ بھی دیا۔ مشورہ سن کر خاوند ہنس کر بولا ڈاکٹر صاحب آپ نے دن میں تین چار بارکہا ہے یہ تو اس گرمی میں بھی ہفتہ ہفتہ نہیں نہاتی۔ اس کی بات سن کر میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا جو اس کی سمجھ میں آیا یا نہیں لیکن میں یاد کر کے اکثر مسکرا پڑتا ہوں ’’ تو اس میں قصور تو تمہارا ہوا نا‘‘
بابا فضل کو اس کا بیٹا کمر درد کے ساتھ لایا تو چیک اپ کے بعد دوئی کی پرچی لیکر باپ بیٹا کمرے سے چلے گئے تو تھوری دیر بعد بیٹا کمرے میں دوبارہ داخل ہوا اورکہنے لگا ڈاکٹر صاحب ابا جی کی بیماری کے بارے میں کچھ حقیقت کرنا تھی میں نے کہا بتاؤ تو کہنے لگا ’’ شادی تو پچھلے مہینے میری ہوئی ہے ۔بڑھاپے میں اب اماں ابا کی عمر اجازت نہیں دیتی اور صحت بھی وہ نہیں رہی ۔کمر میں تکلیف ہی ہوگی نا ، کچھ آپ ہی ان کو سمجھائیں‘‘
ہمارے ہاں دیوروں پر لکھے اشتہاروں، ٹی وی اور دوسرے میڈیا کے ذریعے بنائی گئی ذہنی پستی کی فضا نے ہمارے نوجوانوں کو کس قدر متاثر کیا ہے اس کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک نوجوان کو جس کی ایک ہفتے بعد شادی تھی اور پچھلے تین دن سے پیٹ درد اور الٹی کی شکائیت سے سرکاری ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد بھی اس کی طبیعت نہ سنبھلی تو میرے پاس لایا گیا۔ تمام رپورٹیں بھی نارمل تھیں اور بظاہر صحت اور علامتوں میں تعلق بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ باپ کو اس کی جلد صحت یابی کی فکر اس لئے بھی تھی کہ لڑکی والے انگلینڈ سے آئے تھے اور تاریخ التوا میں نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔ جب میں نے واضح لفظوں میں بتایا کہ مجھے تو لڑکے کی بیماری سارا ڈرامہ لگ رہا ہے تو اس کے ایک دوست نے دفتر میں آکر تصدیق کی آپ کی بات صحیح ہے، وہ حکیم صاحب سے شادی کورس کر رہا ہے ا ور ابھی حکیم ٖصاحب نے اجازت نہیں دی اور اس کے باپ نے بغیر مشورہ کے تاریخ بھی طے کر دی ہے۔ 
بارات جیسے ہی واپس لوٹی امجد صاحب سب سے دامن چھڑا کر میرے پاس گھر پر آگئے اور کہنے لگے کوئی اچھی سی دوا دو۔ کچھ سمجھانے کی بحث سے بچتے ہوئے گھر سے بسکوپین کی دو گولیاں پتے سے نکال کر اسے لا کر دیں اور کہا اسے دودھ کے ساتھ استعمال کر لینا۔ اس گولی نے کیا افادیت دکھائی اس کا اندازہ چند دن بعد رات کو ایک سجے سجائے نوجوان کو اپنے گھر کے دروازے پر موجود پا کر ہوا جس نے کہا آپ کو امجد صاحب کا فون تو آیا ہی ہوگا ۔ ۔۔۔ 

Friday, January 18, 2013

ذرا سوچئے۔۔

یہ28 مئی1987 کی بات ہے۔ ایک رَسٹ نامی جرمن ہواباز نےِ فن لینڈ سے اپنے تربیتی طیارے کے ساتھ پرواز کی اور پورے سوویت یونین کے اوپر سے اڑتا ، کریملن  میں واقع ریڈ اسکوائر میں میں اپنا جہاز اتار دیا۔مقامی پولیس نے اسے اس وقت گرفتار کیا جب وہ چوک میں کھڑا لوگوں کو آٹو گراف دے رہا تھا۔۔کولڈ وار کے عروج کے دنوں میں وقوع ہونے والے اس تاریخ ساز قدم نے جہاں دنیا کو چونکا کر رکھ دیا تھا وہاں کمزور نظام دفاع اور زوال پذیر سپر پاور کی قلعی بھی کھول دی تھی۔مجھے یہ واقعہ پاکستا ن میں جاری لانگ مارچ پر بحث اور اس پرہونے والے تبصروں، ایوانوں پر خطابت کی گرتی بجلیوں،نظام پر حملہ آور تہلکہ خیز بیانوں اور غیر یقینی صورت حال سے پریشان عوام سے یاد آگیا۔آپ کتنا بھی طنز کر لیں، نام نہاد شیخ الاسلام کا تمسخر اڑا لیں، اس کے ہر قدم پر بدلتے بیانات کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا لیں ، اس کے انداز خطابت کی نقلیں اتاریں، یا اس کے انداز خطابت پر بھبکیاں کسیں۔ آپ اس کو غیر ملکی ایجنٹ قرار دیں یا اسے دجال سے تشبیہ دیں، اس کے سر پر بدلتی ٹوپیوں کے سٹائل پر فقرے کسیں یا اس کے ماضی کے جھوٹ لے کر ان کا پوسٹ مارٹم کریں، لیکن ہم اپنی ان جملہ ذمہ داریوں سے دامن نہیں چھڑا سکتے جو ہم پرواجب تھیں۔ ہم اپنی کو تا ہیوں اور لا پرواہیوں کے ایک لمبے سلسلے سے پہلوتہی نہیں کرسکتے ، جن کا ارتکاب ہم آدھ صدی سے کر رہے ہیں۔آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ایک غیر ملکی شہری دندناتہ ، لوگوں کے جذبات سے کھیلتا، ملکی مسائل کا استحصال کرتا ، آپ کے پورے نظام کو سبوتاز کر دیتا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص ملکی ایجنڈے کو سڑک پر راہ چلتی دوشیزہ کی طرح اغواہ کر لے اور ملکی دفاع کے تمام ادارے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ جائیں، ایک بہروپیا پوری حکومتی مشنری اور قوم کو یر غمال بنا لیتا ہے، اور پوری دنیا میں ہماری بے بسی اور پچگانہ نظام حکومت کا مذاق اڑاتا ہے، ہماری اندرونی خلفشار ، منافقت، ہوس پرستی،،خودپرستی اور مفاد پرستی کو ساری دنیا پر عیاں کر کے تضحیق کا نشانہ بناتا ہے اور ہم تماشائی بنے اس کے ناٹک کے خاتمے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ غیروں سے کیا شکوہ ، جب گھر کے لوگ ہی نا ہل ہوجائیں ،دوسروں سے مسیحائی کی امید کیا ،جب ہم خود ہی ناکام ہوجائیں۔ جب ہمارے لیڈر ، ہمارے سیاستدان، ہمارے حکمران اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہوجائیں،جب ریاست اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی برتنے لگے،جب اپو زیشن مصلحت سے کام لے،سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہو جائیں ، تو کوئی بھی گھوڑے دوڑاتا آپ پر حملہ آور ہو جائے تو اس پر افسوس ہے کیوں ، اس پر تعجب کیسا۔ مجھے تو حیرت اس بات پر ہے کہ ساری قوم اس پتلی تماشے پر تو تبصرے کرتی رہی لیکن کسی نے حکمرانوں کی بے حسی اور سیا ستدانوں کی خود غر ضی کو نشانہ نہیں بنایا جن کی کوتاہی اور مسائل سے چشم پوشی نے ہمیں آج یہ دن دیکھنا نصیب کیا کہ ایک مداری نے اپناتماشہ دکھانے کے لئے پورے ملک کویر غمال بنائے رکھا ہے۔ حکومت گرانا کونسا مشکل کام ہے، مہنگائی میں پسی عوام ، سی این جی کے سٹیشنوں پر اپنے بال سفید کرتے لوگوں ، لوڈشیڈنگ کے عذاب میں پھنسی قوم کی آواز کو لے کر کوئی بھی سنجیدہ کوشش کرتا تو آج ہمیں لانگ مارچ کے نام پر یہ تماشہ نہ دیکھنا پڑتا، یوں جگ ہنسائی نہ ہوتی۔ اگر یہ لاتعلقی اور مصلحت کی فضا یونہی قائم رہی تو کل کلاں ان مسائل کو لے کرمرزا مسرور احمد یا جاوید احمد غامدی اسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے چڑھ دوڑیں تو حیرت کا اظہار مت کیجئے گا، یہودو نصاری کو گالیاں مت دیجئے گا،صیہونی آنکھ کو ساری کاروائی کا ذمہ دار مت ٹھہرائیے گا
میم ۔ سین