Thursday, March 9, 2017

محب وطن پاکستانیوں کے نام


السلام علیکم

میرا نام میجر ثاقب ہے اور آئی ایس آئی کے ٹیررازم  ڈیپارٹمنٹ سے بیلونگ کرتا ہوں
یس مائی فرینڈز، وہی وٹس اپ کے وائس میسج والا۔ جس کے میسج کو محب وطن پاکستانیوں نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ بلکہ ایک ایک بندے کو بیسیوں بار پہنچاکر یاد دھانی کروائی اور میں شکرگزار ہوں پوری قوم کا کہ اس میسج کی وجہ سے اب کوئی بھی  اپنا تعارف ثاقب نام سے کرواتا ہے تو لوگ کھڑے ہوکر ملتے ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق نیو بارن بچوں میں ثاقب نام ٹاپ پر آچکا ہے۔
ویل مائی فرینڈز جیسا کہ آپ جانتے ہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک ہی میڈیم کو بار باراستعمال کرنے کی اجازت نہیں ۔اس لیئے اس بار فیس بک سے مخاطب ہوں 
اس وقت میں ایک اہم مشن پر ہوں اس لیئے زیادہ بات نہیں کر سکتا لیکن کل خفیہ اداروں کی اطلاع پر کی گئی ایک اہم کاروائی کی کچھ تفصیلات آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جس میں کسوال سے بیلونگ کرنے والی ایک فیملی جو مغل پورہ میں ایک کرائے کے گھر میں پچھلے بیس سال سے سٹے کر رہی تھی۔ ریڈ کے دوران معلوم ہوا کہ پچھلے بیس سال سے علاقے میں مقیم اس شخص کے بارے میں پورے محلے میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنے شاندا دہی بھلے بناتا ہے ۔مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ علاقے کی مشہور نیلی مسجد کے گیٹ کے باہر اپنی ریڑھی لگاتا ہے ۔آپ لوگوں سے التماس ہے کہ اس میسج کو جتنا ہو سکے شیئر کریں تاکہ ہمارے ہنرمندوں کو دنیا کے نظروں سے دور رکھنے کے دشمن کے عزائم
کو شکست دی جاسکے۔
پاکستان زندہ باد

Thursday, February 2, 2017

مغرب کی ترقی کا راز اور ہم




سولہویں صدی کے بعد تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ایک طرف یورپ بیداری کیلئے کروٹ لے رھا تھا . اور دوسری طرف امریکہ کی دریافت کے بعد ایک نیا معاشرہ جنم لے رھا تھا جس کی بنیاد صاحب ثروت لوگ، چور اچکے ،مجرم اور مہم جو افراد رکھ رہے تھےجس کی اساس فرد واحد کی بجائےاداروں پر تھی۔
ایک علم ہوتا ہے جو ہم کتابوں سے ڈھونڈتے ہیں۔ دوسرا علم ہم استاد سے حاصل کرتے ہیں ۔لیکن ایک تیسرا علم ایسا بھی ہے جو ہم سفر سے حاصل کرتے ہیں۔ لوگوں سے مل کر حاصل کرتے ہیں اور وہ علم بہت بہتر اور تیار حالت میں ہوتا جن سے نتائج اخذ کرنا آسان ہوتا ہے ۔اور امریکی معاشرے کی بنیاد ایسے ہی مہم جو افراد نے رکھی تھی ۔جن کے پاس دنیا گھوم پھر کر تجربہ بھی تھا اور وژن بھی 
ایشیا کے بیشتر ممالک اپنی ضروریات کیلئے چونکہ کسی کے محتاج نہیں تھے اس لیئے وہ تیزی سے ہونے والی دنیا کی سیاسی اور فکری تبدیلی سے بے خبر رہے اور نتیجہ نوآبادیاتی نظام کا حصہ بننے کی صورت میں نکلا۔ 
تیسری طرف یورپ تھا جو چرچ کی گرفت میں تھا جب یورپ میں چرچ کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں تو ان شعبوں کو چلانے کا مسئلہ سامنے آیا جن کی ذمہ داری چرچ نے سنبھال رکھی تھی۔ ان شعبوں کو چلانے کیلئے ادارے بنائے گئے ۔ وقت کے ساتھ ادارے مضبوط ہوتے گئے ۔اختیارات فرد کےہاتھوں سے نکل کر اداروں کو منتقل ہوتے گئے اور ایک وقت ایسا آیا ہے کہ ریاستوں کا مکمل انتظام ان اداروں نے سنبھال لیا اورفرد کی اہمیت علامتی رہ گئی۔ریاستوں کا انتظام اداروں کے ہاتھ میں جانے کے بعد ایک تو انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی دوسرا مساوات نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کی۔اور انصاف اور مساوات دو ایسے خواص ہیں جو کسی بھی فلاحی معاشرے کی لیئے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ اور یوں ان اداروں کے سہارے یورپ اپنے ڈارک ایجز سے نکل کر دنیا کے سامنے ایک مستحکم پوزیشن میں سامنے آیا۔ اتنا مستحکم کہ دو عظیم جنگیں اور شدید ترین کساد بازاری اور معاشی بحرانوں کے باوجود دنیا کی حکمرانی سے یورپ کے قدم نہیں اکھڑے. کیونکہ یہ سب ان اداروں کی مرہون منت تھا جو یورپ نے مستحکم کر لیے تھے۔ انصاف کا نظام ہو یا پھر پارلیمنٹ کی بالادستی، تعلیم کا شعبہ ہو یا پھر صحت کا میدان یہ وہ شعبے ہیں جنہیں ہمارے ہاں سب سے سے زیادہ نظر انداز کیا جاتاہے.لیکن مغرب نے ان کو خصوصی توجہ کا مرکز بنایا۔ ان اداروں نے یورپ کو اندھیروں سے نکالااور ایک نئی روح پھونکی۔ ابن خلدون کی عصبیت کی مجسم شکل یورپ کے وہ ممالک نظر آئے جو پانچ پانچ سو سال اسی "قومیت" کے چکر میں حالت جنگ میں رہے تھے لیکن جب ادارے مضبوط کر لیے تو پھر تمام تر اختلافات بھلا کر معاشی و معاشرتی ترقی پر اپنی توجہ مبذول کرلی اور ان اداروں نے لوگوں کو نا صرف ترقی دی بلکہ شعور دیااوروہ مجموعی قومی عرفان بھی جس سے آج ہمارہ معاشرہ یکسر محروم نظر آتا ہے 
یہ ایک لمبی بحث ہوجائے گی کہ مغرب کے عروج کے پیچھے اور کون کون سے عوامل کارفرما تھے لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ ان سب عوامل نے اداروں کو ہی استحکام بخشا اورآج مغرب جس مقام پر کھڑا نظر آتاہے وہ ان ہی اداروں کی مرہون منت ہے ۔اور آج جس قوم نے بھی اداروں کے سہارے ملک چلانے کی کوشش کی ہے وہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نظر آئیں گے۔ دبئی سمیت ایشیا کے کئی ممالک کا نام لیا جاسکتا ہے ۔
لیکن جب میں ملک عزیز میں انتہائے تضادات کی نئی نئی راہیں دیکھتا ہوں ۔اور فریب ہنر بنا کر کیسے کیسے شعور سینوں میں اتارے جا رھے ہیں ۔تو میری سمجھ میں آتا کہ ہمارا علم بے کار کیوں ہوجاتا ہے ہماری تہذیب بے بسی کی تصویر کیوں بنی دکھائی دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علم سے انسان میں صرف بھلائی کا بیج جنم لیتا ہے۔لیکن جو علم مرعوبیت کے سائے میں حاصل ہو وہ بھلائی سے زیادہ شر پھیلاتا ہے ۔ ایساباخبر شخص زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اس میں ایک لچک آجاتی ہے ۔وہ نفع اور نقصان کو بہتر طور پر جذب کرسکتا ہے ۔وہ اگر اچھائی کو اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو بدی کو بھی یکساں جذب کرتا ہے۔ دوسری طرف انسان میں نیکی اور محبت کی تلقین عام ہے لیکن عملی طور پر انسانی رویہ مختلف ہے۔ اور نصیحت اور عمل کا یہی تضاد ہمہ گیر مذہبی سچائی کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔جب مذہب مشکوک ٹھہرا تو تو پھر ذاتی آدرشوں کو زندگی کا عرفان ٹھہرایا جانے لگتا ہے۔ اور یوں مرعوبیت کا شکارافراد نے ترقی کی راہ میں حائل سب سے پہلا الزام مذہب پر لگایا۔
مذہب سے نکلے تو عورت کے حقوق کو آزادی کے راہ میں رکاوٹ پایا۔ عورت کی آزادی کا مسئلہ۔ حجاب کا مسئلہ ،عورت کی ڈرائیونگ کا مسئلہ ۔عورت۔عورت عورت ۔ترقی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم عورت کی شخصی مجبوریوں سے شروع ہوکر ہوکر عورت کی جنسی محرومیوں سے نکلنے لگا۔
علم میں غرق اور مذہب سے دورشخص نفع و نقصان کے معیار اپنی سوچ کے مطابق بناتا ہے۔نفع و نقصان کے یہ ترازو خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں جن کا دائرہ تکمیل ذات سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہمارا شعور ،ہمارا ادراک مغرب کی ترقی سے متاثر تو ضرور ہوا ہے لیکن اس کے اسباب ڈھونڈ نکالنے کے لیئے جو معیار ترتیب دیئے ہیں وہ اس کے ذاتی عرفان کے تابع ہیں ۔اور ذاتی عرفان کے تابع معیار ذاتی تو ہو سکتے ہیں، معاشرتی یا اجتماعی نہیں۔ ریاستوں اور معاشروں کے معاملات اجتماعی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور اجتماعی دانش وعمل کے متقاضی بھی اور مذہب کی ضد میں بنائے گئے ذاتی نفع و نقصان کو ناپتے تولتے معیارات کس حد تک کسی قوم یا معاشرہ کے لیے سود مند ہو سکتے ہیں ہماری موجودہ بدحالی کو دیکھتے ہوئے اس کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں

میم سین

Tuesday, January 24, 2017

کچھ پولیو ویکسین کے حوالے سے


چند سال پہلے امریکہ میں ایک کسان کے حوالے ایک کیس بہت مشہور ہوا تھا جو اپنے بچے کو گائے کا کچہ دودھ پلانا چاہ رھا تھا لیکن صحت کے اداروں نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا تھا کہ بچے کی صحت کے ساتھ کوئی نہیں کھیل سکتا خواہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں

ایسے ہی چند سال پہلے فرانس میں کھلونے بنانے والے ایک ادارے نے  ان کے ایک کھلونے کی کاپی بنانے پر دوسرے ادارے پر کیس کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا نہیں کیا تھا بلکہ اس پرلکھے پانچ سے بارہ سال کی بجائے دو سے بارہ سال کے بچوں کیلئے لکھنے پر کیا تھا کہ یہ چھوٹے بچوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ قانون کی نظر میں بچوں کی صحت سے کھیلنا بڑا جرم ہے۔
مغرب میں عوام کی صحت کے بارے میں حکومتی فکر اور اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔جتنے سخت قوانین صحت کے حوالے سے موجود ہیں شائد ہی کسی اور شعبے کے متعلق ہوں۔غیر معیاری خوارک ہو یا مضرصحت اجناس اس پر کسی رعائیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  لیکن ہمارے لیئے مغرب کی صحت کے معاملے میں اتنی فکر سمجھنا مشکل کام ہے ۔ چند دن پہلے ایک دودھ پیک کرنے والی کمپنی کو انسانی جانوں سے کھیلنے پر دس لاکھ روپے جرمانہ کرکے کے سپریم کورٹ نے پوری قوم کے منہ پر جوطمانچہ مارا ہے۔ اس کے بعد ہمیں صحت کے بارے میں مغرب کی ہر بے چینی میں کوئی سازش ہی نظر آئی گی۔اور آئل و گھی اور منرل واٹرکی کوالٹی کے حوالے سے آنے والی تشویش ناک رپورٹ ویسے ہی منظر نامے سے ہٹا دی گئی ہے۔ورنہ ہماری صحت کے بارے میں بے حسی کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے
۔
یہ ساری تمہید میں نے باندھی ہے پولیو ویکسین کے حوالے سے کہ ہمارے ہاں آج بھی پولیو ویکسین کے حوالے سے نہ صرف کنفیوژن پائی جاتی ہے بلکہ پھیلائی بھی جاتی ہے اور آئے دن بہت سے سازشی نظریات کوجنم دیا جاتا ہے
لوگوں کے اس مہم کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں 
جیسے آخر مغرب کو ہمارے ملک سے پولیو کے خاتمے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟
اربوں روپے وہ صرف پولیو کے خاتمے کیلئے خرچ کر رہے ہیں جبکہ یہاں کروڑوں لوگ بھوک اور غربت سے متاثر ہیں
انتظامیہ کی طرف سے پولیس کا استعمال اور سختی اس مہم کو مشکوک بنا رہی ہے
چلیں ایک نظر اس مہم پر ڈال لیں تو شائد بہت سے سوالوں کے جواب خود ہی مل جائیں
پولیو کا وائرس انسانی جسم سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر اس وائرس کو رہنے کو کوئی جسم نہیں ملے گا تو وہ خود ہی اپنے موت مر جائے گا اس حقیقت کو لیکر پولیو کے خاتمے کیلئے مہم کا آغاز 1988 میں شروع کی گئی تھی اس وقت ہر سال ساڑھے تین لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہوجایا کرتے تھے لیکن اگلے بیس سالوں میں لگ بھگ دنیا کے تین چوتھائی ممالک سے اس وائرس کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ 2016 میں صرف 37 کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 20 پاکستان سے تھے۔ 2015  میں 74 کیس رپورٹ ہوئے تھے جن میں سے 54 پاکستان سے تھے۔ 2013میں 416 اور دو ہزار بارہ میں 223کیس رپورٹ ہوئے اور ان میں  سےبھی بیشتر مریضوں کا تعلق پاکستان سے تھا
ہم سے کئی گنا بڑا اور مسائل میں الجھا بھارت بھی بہتر منصوبہ بندی کی بدولت دوہزار چودہ میں پولیو فری ملک قرار پا چکا ہے ۔لیکن اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی پاکستان پولیو کے دوبارہ پھیلاؤ کیلئے دنیا کا سب سے خطرہ بنا ہوا ہے
دوہزار پانچ میں امریکہ میں پولیو کے کیس کی موجودگی نے صحت کے اداروں کیلئے الارم بجا دیا تھا جس کے بعد اس پروگرام کو پہلے سے زیادہ متحرک کر دیا گیا اور یہی وہ خوف ہے جو مغرب کو پاکستان پر اتنی زیادہ توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کررھاہے کہ کہیں پولیو واپس نہ لوٹ آئے
کیونکہ جب تک دنیا سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک یہ مغرب کے حواسوں پر خوف بن کر چمٹا رہے گا۔
ان مختصر سے اعداد وشمار سے اندازہ ہوجانا چاہیئے کہ پولیو کی اس مہم پر اربوں روپے کیوں خرچ ہورہے ہیں اور انتظامیہ اس معاملے میں بیرونی دباؤ کیوں برداشت نہیں کر پا رہی
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے جن تحفظات کا اکثر انٹر نیٹ کے صفحات کے حوالے سے ذکر کیا جاتا ہے وہ تحفظات لگ بھگ ہر ویکسین کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ 
ہاں جن تحفظات کا ذکر ہونا چاہیئے جن پر سوال اٹھنے چاہییں وہ 
 ویکسین کی کوالٹی کی یقین دھانی 
ایک بچے کے کورس کو مکمل کرنے کے باوجود اسے بار بار قطرے پلانے سے متعلق خدشات کے بارے میں یقین دھانی
فیکٹری سے بچے کو پلانے تک ویکسین کی کولڈ چین کو محفوظ بنانا
ویکسین پلانے والےورکرز کی مکمل تربیت اور ان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ان کی ڈیوٹی کے دوران پائی جانے والی کوتاہیوں سے نبٹنا
میم سین

Sunday, January 22, 2017

ترجیحات کا فرق


بات یہ نہیں ہے کہ ہم خود کو مسلمان نہیں کہلووانا  چاہتے 

اور نہ یہ بات درست ہے کہ ہماری مذہب بیزاری کی وجہُ ملا ہے
وجہ یہ بھی نہیں کہ ہم  اسلام کو سمجھنا نہیں چاہتے 
اور بات یہ بھی درست نہیں کہ ہمیں  اسلامی تشخص پر تحفظات ہیں
بات یہ ہے کہ زندگی کے تقاضے بدل گئی ہیں ترجیہات  بدل گئی ہیں۔جن کی وجہ سے ضروریات بدل گئی ہیں جن کی خاطر مفہوم بدلنے پڑ رہے  ہیں
کیونکہ ہماری زندگیوں میں وہ آواز دم توڑ گئی ہے جو کوہ صفا سے بلند ہوئی تھی
اے جماعت قریش اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے بنی کعب اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ
سب ہی کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔سب ہی عشق رسول کی بات کرتے ہیں۔ سب کا ہی دعوی ہے کہ قرآن الہامی کتاب ہے۔
لیکن 
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کے معیار بدل لیئے ہیں
ہماری لگن، جستجو، محنت اس کامیابی کیلئے مختص ہوکر رہ گئے ہیں جو انسان کو سٹیٹس دیتا ہے۔شہرت دیتا ہے۔ دنیا میں مقام دیتا ہے ۔ اچھا گھر، محفوظ مستقبل کے خواب دکھاتا ہے
 جو معیار قرآن نے مقرر کیا تھا وہ اب بدل چکا ہے 
 جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں
 ہماری جستجو کی دوڑ اور ترقی کیلئے استدلال اونچی عمارتیں اور پرتعیش زندگی رہ گئے ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا تھا
دنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوش حالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر انکا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کی بدترین جگہ ہے 
بات چھوٹی سی ہے لیکن بات سمجھنے کی ہے وہ بھی ٹھنڈے دل سے
جب کامیابی کے معیار ہی بدل گئے تو پھر اس کی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدل جائیں گے۔ پھر ہم نئی توجیحات اخذ کریں گے، ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے
صفائیاں پیش کریں گے اس معیار پر پورا اترنے کیلئے
جب نئی توجیہات سامنے آئیں گی تو مفہوم بدلیں گے ۔جب صفائیاں پیش ہونگی تو حسرتیں بدلیں گی ۔انفرادی خواہشات اور ارادے تکمیل چاہیں گے اور ہم غیرارادی طور پرراہ راست سے دور ہوتے چلے جائیں گے 
جب معیار ہی بدل گئے تو پھر گمراہی کا احساس کیسا ؟
طلب کیسی کہ
راہ نجات کونسی سی ہے؟ اور راہ حیات کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

میم سین

Saturday, October 15, 2016

آزادی کی تکمیل











امن کی علامت فاختہ اپنی شکل سے تو معصوم نظر آتی ہی ہے لیکن اس دن مجھے معلوم ہوا یہ کہ فطرت میں بھی بہت بھولی بھالی ہے جب فاختہ کے ایک جوڑے نے برآمدے میں لٹکے راڈ سے لگے پردے کے اوپر اپنا گھونسلا بنایا۔ اتنی کمزور جگہ گھونسلا، بھلا پائیدارکیسے ہوسکتا تھا۔ چند دن بعد ہی فرش پر دو ٹوٹے ہوئے انڈے ان کے خاندان کی تباہی کی کہانی سنا رہے تھے۔ لیکن اگلی بار بھی اسی جگہ کا انتخاب کیاتو مجھے فاختہ کی معصوم طبیعت پر یقین آگیا
چند دن بعد ہی دو ننھے منے فاختہ کے بچے منہ کھولے سارا دن اپنے ماں باپ کا انتظار کرتے نظر آنے لگے ۔ ان کے جسم پر بال نکلنا شروع ہوئے تو نا جانے  انہوں نے ہز فرسٹ فلائٹ کہانی پڑھ لی تھی یا پھر والدین کی کوتاہی تھی کہ وہ اپنے گھونسلے سے نکل آئے ۔ ننھے ننھے پروں کے ساتھ وہ اچھل کود تو کرسکتے تھے لیکن واپس اپنے گھونسلے میں جانا یا کسی محفوظ جگہ کا انتخاب کرنا ان کیلئے ممکن نہیں تھا۔
ایک دن تو میں ان کی حرکتیں دیکھتا رھا۔ مجھے لگا اگریہ یونہی آزاد رہے تو کسی پنکھے کے پروں کی زد میں آکر اپنے جان گنوا بیٹھیں گے یا پھر منڈیر سے جھانکتی بلی کا تر نوالہ ثابت ہونگے۔۔ برتنوں والی ٹوکری خالی کی اور ان کو چھپا کر باجرہ اور سرسوں کے بیج کھانے کو دیئے۔ دو دن تک تو ان کے اماں ابا سارا دن اس ٹوکری کے پاس متفکر بیٹھے رہے لیکن پھراچانک غائب ہوگئے۔
چند دن خوب پیٹ بھر کر کھانے کو ملا تو جوانی ان کے جسموں پر ظاہر ہونا شروع ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد مجھے لگا کہ اب یہ پروازکے قابل ہوگئے ہیں تو ایک دن ان کے اوپر سے ٹوکری اٹھا دی ۔ کچھ دیر ادھر ادھر گھومنے کے بعد وہ اڑ گئے لیکن شام کو اسی ٹوکری کے قریب پھر موجود تھے۔ 
اور پھر تو یہ معمول ہی بن گیا۔ صبح کو ان کو آزاد کر دیا جاتا لیکن شام کو وہ اسی ٹوکری کے ارد گرد موجود ہوتے۔ جیسے غلامی کے دنوں نے آزادی کے احساس سے نا آشنا کر دیا ہو ۔
یہ لگ بھگ کوئی دس دن بعد کی بات ہے جب ایک دن دوپہر کو میں نے بابا فاختہ اور ماما فاختہ کی موجودگی کو صحن میں محسوس کیا۔ دنوں بچے بھی ان کے ساتھ پھدک رہے تھے۔ کبھی اڑ کر منڈیر پر جاتے تو کبھی کسی تار پر بیٹھ کر زمین کو تکتے۔کچھ دیر ان کا تماشا دیکھتا رھا لیکن پھر اپنے معمولات میں مشغول ہوگیا۔ لیکن اس شام دونوں واپس نہیں آئے۔اپنے بچوں کو آزادی اور غلامی میں فرق ایک دن میں سکھا دیا تھا۔.
فاختہ کے بچے معصوم تھے کمزور بھی لیکن آزادی پر سمجھوتہ ان کی سرشت میں نہ تھا.اور اس بات کا اندازہ ماما بابا فاختہ کو بھی تھا کہ جلد یا بدیر ہمارے بچوں نے مکمل آزادی حاصل کرنی ہے.کیونکہ ادھوری آزادی کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی.آزادی خوردرو پودے کی طرح اپنی تکمیل خود کرتی ہے اور بہرصورت کرتی ہے.آپ لاکھ بار جھاڑی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں وہ پھر اسی جگہ اگتا ہے.یہ اصول فطرت ہے آزادی اپنی تکمیل کرتی ہے.
بس دیکھنا یہ ہے کہ انسانوں کی بستی کے یہ مکین کب اپنی آزادی کی تکمیل کر کے ٹوکری سے نجات حاصل کرتے ہیں.کیونکہ ٹوکری کے نیچے چاہے آسائش کا ہر سامان مہیا ہو وہ آزاد فضاؤں کا متبادل نہیں ہوسکتا
میم سین

Tuesday, August 30, 2016

میرے مشاہدات


سگریٹ اور حقے کے شوقین سانس کی بیماریوں میں مبتلا بابا جی کا چیک اپ کرنے کے بعد سمجھایا کہ
بابا جی سگریٹ حقہ سے مکمل اجتناب کریں بلکہ آپ کو تو اس قدر پرہیزکرنا چاہیئے
کہ کوئی بندہ سگریٹ پی رھا ہو تو اس کے پاس بھی نہ بیٹھیں
میں دوائی لکھنے لگ گیا اور اتنے میں اس کا بیٹا جو کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا ، کمرے میں داخل ہوا اور
اپنے باپ سے پوچھنے لگا ڈاکٹر صاحب نے کیا کہا
بابا جی نےجواب دیا
ڈاکٹر کہہ رھا ہے کہ جب کوئی پاس بیٹھا ہو تو سگریٹ حقہ نہیں پینا ہے
میم سین

ادھر ادھر سے


احسن صاحب اب اتنے عمر رسیدہ بھی نہیں تھے کہ بیوی کے انتقال کے بعد باقی عمر تنہا گزار لیتے ۔ چار بچوں کی ذمہ داری نے احساس دلایا تو ایک دن اماں نے بھی ہاتھ اٹھا لیئے کہ اب ان کی بوڑھی ہڈیوں میں اتنی طاقت نہیں کہ بچوں کی شرارتوں کا بوجھ برداشت کر سکیں ۔ احسن صاحب نے حامی بھری اور چند ہی دن میں ایک بیوہ ڈھونڈ نکالی گئی جس کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ چند دن گھر میں خوب رونق رہی۔لیکن ساتویں دن دلہن اچانک بے ہوش ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ بلڈ پریشر کی مریضہ تھی ۔شادی کے چکر میں اپنی دوائی استعمال نہ کر سکی اور اب فالج کا حملہ ہوگیا تھا۔ یوں احسن علی کے کندھوں پر ایک اور ذمہ داری نے اپنا بوجھ ڈال دیا

اس کہانی سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے لیکن یہ کہانی بچوں کیلئے تو لکھی نہیں گئی کہ جس سے کوئی سبق نکالنا ضروری ہو ۔ فرحانہ صادق کی رائے میں اس کو ایک اچھا انشائیہ سمجھ کر پڑھ لیں 
بھائی کی شادی پر ننھے میاں نے اپنا کمرہ سجانے کی فرمائش کر ڈالی۔ فرمائش کیا ضد شروع کر دی تو اسے سمجھایا گیا کہ ہماری روایات صرف دلھن کا کمرہ سجانے کی ہیں لیکن ننھے میاں کے سوالوں نے نے سب کو لاجواب کر دیا کہ قرآن پاک میں ایسا کہیں لکھا ہے یا پھر حدیث میں آیا ہے؟ تو مجبورا اس کاکمرہ سجا دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب اس کے ماموں کے بیٹے نے بھی فرمائش کر ڈالی تو اسے زیادہ بحث نہیں کرنا پڑی کیونکہ خاندان میں روایت موجود تھی۔
لیکن بڑی عید پر قربانی کیلئے روایت بھی موجود ہیں اور احکام بھی اس لیئے قربانی کیلئے جانور کی خریداری پر بچوں کی فرمائش پر جیب کی تنگی کا عذر پیش کرنا ممکن نہیں رہتا۔ لیکن اس بار تو کانگو کا بھوت ایسا ذہنوں پر سمایا ہوا ہے کہ مویشی منڈیاں سائیں سائیں کر رہی ہیں۔ حکومتی سختیاں الگ سے آڑھتیوں کو روک رہی ہیں۔ طرح طرح کے میڈیکل سرٹیفکیٹ مانگے جارہے ہیں ۔ بہاولپور میں ایک ڈاکٹر کی موت کی ذمہ داری جس وائرس کے کھاتوں میں لکھی گئی اس کی تصدیق نہ تو مزید کسی کیس میں ہو سکی اور نہ ہی اس کو پورے ہسپتال کے کسی دوسرے بندے میں ڈھونڈا جا سکا۔لیکن کانگو کی روک تھام کیلئے عوامی شعور کی لیئے حکومتی اور میڈیا کوششیں اچھی ہیں لیکن حد سے زیادہ شعور بیدا کر دیا گیاہے ۔ لوگ مویشی منڈیوں کا رخ کرنے سے بھی کترانے لگے ہیں ۔ بہاولپور میں تو لوگ وکٹوریہ ہسپتال کے باہر سے گزرنے ہی گریز کرنے لگے ہیں یا پھر گزرتے وقت اپنی گاڑیوں کا شیشہ چڑھا لیتے ہیں 
ایسی ہی ایک کوشش تھیلیسمیا کے کنٹرول کیلئے بھی کی گئی ہے کہ آئیندہ سے کوئی نکاح اس وقت رجسٹر نہیں ہوسکے گا جب تک ان کے پاس تھیلیسمیا کی سکرینگ کا سرٹیفیکیٹ پیش نہیں کیاجائے گا۔ کیونکہ تھیلیسیمیا کا مرض زندگی بھر کیلئے معذوری ہے۔ اس کی باقی ماندہ زندگی دوسروں کے خون کے سہارے گزرتی ہے۔ لیکن ایسی کئی معذوریوں کا سبب زچگی کے مسائل بھی ہیں۔ جن سے عہدہ برا ہونے کیلئے حاملہ عورتوں کو عطائی دائیوں اور نرسوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تھیلیسیمیا کے پانچ ہزار بچوں کو معذور ہونے سے روکنے کیلئے تو قانون سازی ہوگئی ہے لیکن جو پانچ ہزار بچہ ہر روز دائیوں، غیر تربیت یافتہ نرسوں اور نامناسب سہولتوں کی وجہ سے
معذور ہورھا ہے ان کیلئے اقدام کب اٹھائے جائیں گے ؟
میم سین