Tuesday, October 22, 2019

میرا داغستان


میں اس کتاب کو سوانح عمری کا نام دوں یا پھر حکایتوں بھرا ایک نصیحت نامہ.اس کو ایک وطن پرست کی داستان کہوں یا پھر ایک شعوری ارتقا کا سفر نامہ..کوئی لوک داستان ہے یا پھر نثریہ شاعری کا ایک مجموعہ ......لیکن شائد کوئی نام دینا میرے لیئے ممکن نہیں ...
پہلا احساس یہ تھا کہ میں نے اس کتاب کو ڈھونڈنے اور پڑھنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی .لیکن دوسرا احساس یہ تھا کہ ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے اور اس شعور کو سمجھنے کیلئے اس دور کے فیصلوں واقعات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے..ایسے ہی ہر کتاب کا ایک شعور ہوتا اور اس شعور کو سمجھے بنا کتاب کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا.جس عمر میں مصنف نے کتاب مکمل کی میں نے اس عمر میں قلم پکڑنا سیکھا.اس لیئے اگر اس کتاب تک پہنچنے میں جتنی دیر لگی وہ میرے شعور کے ارتقا کیلئے ضروری تھا..اور جس طرح کتاب نے اپنا جادو پھونکا وہ شائد دس سال پہلے اتنا کاریگر نہ ہوتا..
بری عورت کی کتھا، یادوں کی بارات، رسیدی ٹکٹ الکیمسٹ آواز دوست کے بعد میرا داغستان وہ کتاب ہے جس نے مجھے اپنی گرفت میں یوں لیا کہ میں ساری مصروفیات ترک کرکے اس کو مکمل کیئے بنا.نہیں رہ سکا...اور اب بار بار صفحے کھول کر یوں لطف اٹھا رھا ہوں جیسے کسی سرد موسم کی شام میں لکڑیاں جلا کر اس کے پاس بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لی جارہی ہوں.
جس نے کتاب پڑھ رکھی وہ اہنی رائے دے اور جس نے ابھی تک نہیں پڑھی تو پھر پہلی فرصت میں اس کتاب کو جگہ دے

مشورہ


پچھلے نوے سالوں سے سندر بن کے جنگلوں میں ایک ٹانگ پر چلہ کاٹنے والے بابا جی نے پہلا کشف حاصل کرنے کے بعد فیس بک واسیوں کو سلام.بھیجا ہے اور غیر شدگان کیلئے کچھ مفید مشوروں سے نوازا ہے.
بابا جی فرماتے ہیں کہ نکاح کے بعد بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنےکا مینوئل جو ایک کتابچہ کی شکل میں ہو، سسرال سے ضرور حاصل کرلیں..ہر عورت کا مزاج انداز مختلف ہوتا ہے لیکن مرد حضرات بیوی کو یونیورسل ریموٹ سے کنٹرول کرنے کی غلطی کرتے ہیں.جس کی وجہ بیویوں کے کچھ فنکشن تو بالکل صحیح کام کرتے ہیں لیکن کچھ کمانڈز کو وہ سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے دماغی مشنری ناصرف کام کرنا چھوڑ جاتی ہے بلکہ زبردستی یا بار بار ایک ہی کمانڈ دینے سے مستقل طور پر آئوٹ آف کنٹرول ہوجاتی ہیں..
علاوہ ازیں نکاح سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیوی کے ساتھ اپ ڈیٹس دستیاب ہوں .ورنہ عموما بیویوں کا سافٹ ویئر نکاح کے وقت پر رک جاتی ہیں..اور سسرال کو شادی کے بیس سال بعد بھی نکاح کے وقت کے میکے ساتھ کمپیئر کرتی رہتی ہیں....

پیغام رساں کا ذاتی نوٹ: چونکہ بابا جی نوے سال سے جنگلوں میں رہ رہے ہیں.اس لیئے ان کو اندازہ نہیں بیویاں ابھی تک نان برینڈڈ ہی مل رہی ہیں..بس ایک دفعہ نکاح کردو...آگے شوہر کی قسمت....
شوہروں کو کنٹرول کرنے بارے بابا جی کا علم محدود ہے .کسی ملنگنی سے رجوع کیا جائے

میم سین

رنگِ تازہ بن کے دوڑوں گا


 :-

گزشتہ کئی روز سے رنگوں پر لکھنے کی کوشش میں ہوں..تحریر دلچسپ تو ہو لیکن طوالت کے بغیر.لیکن جب لکھنے بیٹھتا ہوں تو خیال بکھر جاتے ہیں. مانو کسی پرندے کی طرح ـ، جو آپ کے سامنے بیٹھا ہے اور آپ اس کو پکڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن جب پکڑنے کی کوشش شروع کرتے ہیں تو وہ اڑ جاتا ہے..

میرے لئے وہ بہت اَہم ہے جو میں نے ابھی لکھنا ہے کیونکہ وہ اگلا قدم ہے میرے شعوری ارتقا کا... اور جو میں لکھ چکا ہوں وہ میرا سرمایہ ہے، مگر میں اس سے اچھا لکھنا چاہتا ہوں.جب انگور کی بیل سے پہلا پھل میٹھا حاصل ہوجائے تو آئندہ سال اُس سے زیادہ امیدیں بندھ جایا کرتی ہیں...
لکھنے کے معاملے میں جو چیز مجھے اُکساتی ہے وہ تڑپ، درد، خوشی یا مسرت کا داخلی احساس ہے. کیونکہ اِسکے معاملے میں، میری مرضی نہیں چلتی، خود کو بے بس پاتا ہوں....
مجھے اس لئے نہیں لکھنا کہ لوگوں کی یہ ایما ہے یا مجھے لوگوں کو دِکھانا ہے، میں درحقیقت لکھتا نہیں، میں اپنی ذات کا عرفان حاصل کرتا ہوں...
رنگ میری پہچان ہیں اور مجھے لکھنے پر اُبھارتے ہیں.لیکن کبھی کبھی ان کا رنگ ماند پڑ جاتا ہے..آندھی اور طوفان سے پیڑ ٹوٹ جاتے ہیں پر جب بہار آتی ہے تو نئی شاخیں نکل آتی ہیں. بارش نہ ہو لمبے عرصے تک تو ہریالی پیلا رنگ اوڑھ لیتی ہے.
اِسی طرح زندگی میں بھی وقت کے نشیب و فراز میں یہ رنگ مدھم پڑنا شروع ہوجاتے ہیں مگر جونہی کوئی واقعہ کوئی خواہش ان کی آبیاری کرتی ہے تو رنگ زندگی کے کینوس میں پھر سے اُبھرنا شروع ہوجاتے ہیں. اور قلم اپنا کام شروع کردیتا ہے.

رنگوں سے میرا پہلا تعارف پرائمری کلاس میں اس وقت ہوا تھا جب ایک بچے کے پاس رنگوں والے مارکر کا سیٹ دیکھا تھا...لیکن ان رنگوں سے تعارف ملاقات میں اس وقت بدلا تھا جب مڈل کلاس میں خریدنے کے قابل ہوا.اور پھر ہفتے کے سات دنوں کے نام انگریزی اور اردو میں لکھنے کیلئے ان کا استعمال کیا تھا.ہر دن کیلئے ایک الگ رنگ. یہ پہلی خواہش تھی جس نے تکمیل دیکھی تھی

زندگی بہت سی کروٹیں بدل کر بہت اگے نکل چکی ہے لیکن قدم قدم پر آج بھی میری اپنے بچپن سے ملاقات ہوجاتی ہے..کسی سٹیشنری کی دکان پر رکھے رنگوں کو دیکھتا ہوں تو رنگوں کا رقص شعلوں کی طرح میری یادوں میں جاری ہوجاتا ہے.اور میں دیوانہ وار ناسٹیلجیا کی بھول بھلیوں میں اس کوشش میں بھاگنا شروع کردیتا ہوں کہیں مجھے یہاں سے نکلنے کا رستہ نہ مل جائے. میں جب بھول بھلیوں سے نکلتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے وقت پرکسی نے ٹھنڈی راکھ پھیلا دی ہو..
کبھی کبھی یہ خیالات اس قدر شدید ہوتے ہیں جیسے کوئی دشمن میرا پیچھا کررھا ہے اور مجھے اپنی خواہش کے حصول کیلئے اندھا دھند بھاگنا پڑرھا ہے.

پھر ایک دن بہت تیز کی آندھی آئی... اور آندھی کے بعد تیز بارش...
بارش اس قدر کہ ہر طرف جل تھل... گھر کی چھت پہ آسمان پہ تیرتی بدلیوں کو دیکھا تو رنگوں کی اک کمان سے آنکھیں چار ہوئیں... گھر کے آگے درخت کی اوٹ سے شروع ہوتے آسمان پر دور تک پھیلاؤ تھا.کچھ عرصے بعد معلوم ہوا قوس قزاح سے یہ میرا پہلا تعارف تھا. اب بھی جب میں قوس قزاح دیکھتا ہوں تو وہ ست رنگی کمان میری یادوں کے نقوش پہ اُبھر آتی ہے. یہ نقش امی کی سلائی مشین کے ساتھ رکھے رنگا رنگ دھاگوں کی طرح ہوتے ہیں.جن سے ایک خوش رنگ تصویر اُبھرتی ہے .جو کسی رومانوی خیال کی طرح مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے. اور میرا جی چاہتا ہے سب چھوڑ کر گھر کی اُس چھت کے قوس قزاح کے سب رنگ سمیٹ لوں..

نیا نیا رنگین ٹی وی گھر آیا تو ایک دن ٹیوننگ کرتے ہوئے دور درشن سامنے آگیا. کوئی ہندی فلم لگی ہوئی تھی، ہولی کا سین تھا. ہیرو، ہیروئین ان کے دوست، سہیلیاں ایک دوسرے پر رنگ پھینک رہے تھے. سلو موشن میں فلمائے گئے بکھرتے رنگوں کے کچھ سین اور
ایک عرصے تک ہولی کے یہ رنگ دماغ میں کہیں بکھرے رہے... اب بھی جب میں ہولی کے تہوار کا ذکر سنتا ہوں تو میرے اندر ستاروں سی چمک آجاتی ہے. پھولوں جیسی مہک ستانے لگتی ہے، میرا ماضی مجھ سے سرگوشیاں کرنے لگتا ہے.میں ان سرگوشیوں میں یادوں کی جھاڑ سے رنگ برنگ اور خوبصورت پھول چننے لگتا ہوں. ان پھولوں سے یادوں کا اک گلدستہ بناتا ہوں. اس گلدستے کو اک آتشدان کے اوپر رکھ دیتا ہوں. کیونکہ ان پھولوں کے خدوخال میں، میں زندہ ہوں. میری یادیں میرے خیالات، میرے افکار زندہ ہیں. جب تک میں زندہ ہوں یہ گلدستہ یونہی تروتازہ رہے گا، مہکتا رہیگا...
عید سے ایک دن پہلے، زندگی میں پہلی بار ایک رنگ ساز کی دکان کے پاس سے گزرا..مختلف رنگوں کے ڈوپٹے رنگنے کے بعد خشک ہونے کیلئے ایک تار پرلٹکا رکھے تھے اور ہوا سے لہراتے بکھرتے رنگوں نے مجھے روک لیا..پانی کا ایک تسلہ چولہے پر چڑھایا ہوا تھا.. پاس رکھے ایک ڈبے میں بے شمار خانے تھے اور ہر خانے میں الگ رنگ موجود تھا.اس نے چمچ کی مدد سے سے ایک رنگ اٹھا کر تسلہ کے پانی میں پھینکا، چھڑی سے خوب ہلایا اور پھر ایک ڈوپٹے کو اس.میں ڈال کر گھمایا ..نکال کر ایک سرے کو نچوڑا اور نمونے کے کپڑے سے ملایا ..شائد ابھی مطلوبہ رنگ حاصل نہیں ہوا تھا.اس لیئے پھر سے ابلتے رنگ دار پانی میں پھینک دیا...کچھ دیر کام کرتے دیکھ کر اگے بڑھ گیا لیکن ہوا میں لہراتے ڈوپٹے کئی دن تک میری آنکھوں کے سامنے لہراتے رہے...

بے شک میری یاداشت میں بسے یہ رنگ کسی پہاڑی ندی نالے کی طرح ہیں. جن سے آپ کا اچانک سامنا ہوجاتا ہے. لیکن یہ رنگ زندگی کے پتھریلے راستوں سے گزر چکے ہیں. گھاٹیوں سے گزر کر کشادگی میں ڈھل چکے ہیں. رنگوں کے اس تصوّر نے لامحدود وسعتوں کے دروازے کھولے ہیں. میرے تصوّر کی آنکھ آج بھی ان رنگوں کے سرچشمے کو دیکھتی ہے تو زندگی کا بہاؤ جاری رکھنے پر مجبور کردیتی ہیں...

کالج جاتے ہوئے ایک بار ایک زخمی پرندے کو دیکھا..اس پرندے کی خوبی یہ تھی کہ بہت چہچہاتا ہے..اس کو پکڑ کر اپنے پاس رکھ لیا.زخم تو ٹھیک ہوگیا لیکن اس نے چہچانا شروع نہیں کیا..بہت دن گزر گئے لیکن اس کی آواز کو ترستا رھا..ایک دن ایک دوست نے بتایا. تم نے اس سے زندگی کے رنگ چھین لیئے ہیں..اس کا شاخ شاخ، ڈالی ڈالی گھومنا..ہم جولیوں سے باتیں کرنا..گھات گھات کا پانی پینا.

کچھ سال پہلے میں نے بھی سیاہ رنگ اوڑھ لیا تھا.میرا خیال تھا یہ رنگ میری ذہنی بالیدگی کا نتیجہ ہے..لیکن میں بھی اس پرندے کی طرح چپ ہوگیا تھا..پھر ایک شخص ملا .اس نے بتایا کہ منفیت نے تمہاری زندگی کے رنگوں کو ڈھانپ دیا ہے. رنگ تمہاری زندگی ہیں. تمہیں کمانے کیلئے باہر نکلنا پڑتا ہے.لیکن رنگ تمہارے بستر پر پہنچ جاتے ہیں.رنگ تمہارے لیئے وہی اہمیت رکھتے ہیں.جو ایک ادیب کیلئے کہانی، ایک کسان کیلئے گندم.کی بالی، ایک پودے کیلئے پانی، ایک لوہار کیلئے لوہا.بڑھئی کیلئے لکڑی..

تم سنگ تراش ہو تو رنگ تم سے نقش ونگار بنواتے ہیں.شاعر ہو تو اشعار لکھواتے ہیں.تم باغبان ہو تو پودوں کی آییاری کرواتے ہیں. فنکار ہوتو تخلیق کرواتے ہیں.مصور ہو تو تصویر بنواتے ہیں..شاعر ہو تو اشعار لکھواتے ہیں.پھر اس نے ایک ایک کرکے مجھے رنگ ڈھونڈ کر دیئے اور مجھے میری زندگی کی چہچہاہٹ مل گئی..جب کبھی مایوسی کا سامنا کرتا ہوں. دم گھٹنے لگتا ہے تو مجھے یہ الفاظ یاد اجاتے ہیں..

سنو: زندگی سے ان رنگوں کو کبھی مدھم نہ ہونے دینا.....

میم.سین

کھیوڑہ کان کی ناک




جونہی ہم کان کے داخلی دھانے پر پہنچے ٹرین نے رینگنا شروع کردیا تھا..اگلی ٹرین کے بارے پوچھا تو پتا چلا کہ آدھا پونا گھنٹا لگ سکتا ہے.اگر پیدل جانا چاہیں تو کوئی مشکل کام نہیں..
باہر چلچلاتی دھوپ میں آدھا پونا گھنٹا گزارنا آسان کام نہیں تھا.پیدل چلنے کا اردہ کرکے کان میں گھسے تو ایک دم سے خنکی اور.نمی کے خوشگوار احساس کا سامنا ہوا..
بہت سے لوگ پیدل واپس آرہے تھے.ان کی باتوں سے اندازہ ہوا ٹریک ہموار ہے لیکن طویل ہے.چونکہ ابھی کچھ مزید مقامات تک پہنچنا تھا اس لیئے اپنی توانائیاں پیدل چلنے پر ضائع کرنے کی بجائے وہیں کھڑے ہوکر ٹھنڈک کے احساس میں گزار کر ٹرین کی واپسی کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا....
کہتے ہیں سکندر اعظم کے تھکے ہارےگھوڑے یہاں پتھروں کو چاٹتے پائے گئے تھے.جس پر تحقیق کی گئی تو پتا چلا یہ نمک کے پہاڑ ہیں.خوردنی نمک کی سب سے قدیم.اور دنیا کی دوسری بڑی کان میں نمک نکالنے کا کام اس جگہ سے بہت دور ہورھا ہے جس جگہ کو سیاحت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.
ضلع جہلم میں واقع کھیوڑہ کان تک پہنچنے کیلئے اگرچہ للۂ انٹرچینج سے اتر کر پنڈ دادن پہنچنے کا آسان رستہ موجود ہے...لیکن اگر سفر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو پھر چوا سیدن شاہ والی سائیڈ سے پنڈ دادن خان کا سفر کریں..بہت خوبصورت اور منفرد لینڈ سکیپ سے ہوتے ہوئے کھیوڑہ پہنچیں گے اور کان کی سیر کی یادیں ہمیشہ کیلئے امر ہوجائیں گی.سبزے سے ڈھکے میدان، ڈھلوانیں، پانی کے تالاب اور سرخ چٹانوں کے منفرد مناظر آپ کی یاداشت سے کبھی محو نہیں ہونے پائیں گے.

کوئی پونے گھنٹے بعد ٹریں واپس آئی تو انتظار میں کھڑے لوگوں نے منٹوں میں اسے بھر دیا اور ٹرین کان کے اندر چل پڑی.منچلوں کی چیخوں، سیٹیوں اور ہلے گلے کی آوازوں کے ساتھ تنگ سے غار سے ہوتے ہوئے ایک بڑے سے ہال میں آکر رک گئی.

جدید طریقہ کان کنی کو استعمال کرتے ہوئے اٹھارہ سو اڑتالیس میں سرنگوں کی مدد سے نمک نکالنے کا آغاز کیا گیا تھا.نمک نکالنے کا کام کوئی ایک سو دس مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے.اور سرنگوں کی لمبائی نکالی جائے تو چالیس کلومیٹر سے زائد بنتی ہے..

جونہی آپ کان کے مرکزی حصے میں پہنچتے ہیں.رنگا رنگ روشنیوں سے سجائے غار نمکین پانی کے تالاب اور کان کے اندر بنے ٹریکس اپ کو خوش آمدید کہتے ہیں.ویسے میرے ذاتی خیال میں رنگ دار روشنیوں کے استعمال کی بجائے صرف اچھی سفید روشنی کا استعمال کیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا.کیونکہ نمک کے پتھروں کا اپنا قدرتی رنگ اور ڈیزائن بہت دیدہ زیب اور متاثر کن ہے... نمک سے بنے ڈیکوریشن پیس اور دوسری اشیا کے سٹال بھی موجود ہیں جن پر لوگون کا کافی ہجوم ریتا ہے.
نمک سے بنا مینار پاکستان اور.مسجد لوگوں کی توجہ کا خصوصی مرکز بنتے ہیں..
دیواروں سے پانی رستا رہتا ہے جس کے نکاس کیلئے باقائدہ نالیاں بنائی گئی ہیں.کچھ جگہوں پر رِستے ہوئے پانی سے خشک ہوکر نمک کے خوبصورت آرٹ کے نمونے دیدہ زیب ہیں.
یہاں کا ٹمپریچر گرمیوں اور سردیوں میں یکساں رہتا ہے جو اٹھارہ ڈگری بتایا جاتا ہے..
.
کان کے اندر ایک دمہ سنٹر بھی قائم ہے جہاں پر تجرباتی بنیادوں پر دمے کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے لیکن معلومات کی کمی کی وجہ سے بہت کم لوگ اس بارے جانتے ہیں.

اگرچہ سیاحوں کی سہولت کیلئے خاطر خواہ انتطام موجود نہیں ہیں.اور پٹری کے ساتھ پیدل ٹریک پر بھی حفاطتی اقدامات کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا ہے. بجلی کی تاروں کو سنبھالنے پر بھی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے.کھیوڑہ کی کان میں دیکھنے کو بہت زیادہ ورائٹی نہیں ہے.اور بہت سے لوگوں کو یہاں آکر مایوسی کا اظہار کرتے بھی دیکھا لیکن پھر بھی یہاں کی سیر ایک منفرد تجربہ ضرور ہے.اور زندگی کا ہر تجربہ انسانی سوچ کے کینوس کو وسیع کرتا ہے..
بچوں کے مطالعاتی دورے کیلئے بہترین جگہ ہے. مائنز کی سیر کیلئے ان کو ضرور لیکر جانا چاہیئے

میم.سین

*آپٹیمزم*



لڑکی کے گھنگریالے بالوں کو سیدھا کرنے کیلئےاس کی سہیلی نے ایک لوشن استعمال کرنے کا مشورہ دیا..لیکن لوشن لگاتے ہی شدید ری ایکشن ہوگیا. سارا منہ سوج گیا.سر پر چھالےبن کر پانی رسنا شروع ہوگیا ..روتی چیختی لڑکی کو میرے پاس لایا گیا تو وہ آدھے گنجے سر کے ساتھ بہت خوفزدہ تھی..ماں نےبالوں سے جڑے ڈوپٹے کو ہٹا کر سر دکھانا شروع کیا. جب سارا ڈوپٹا سر سے علیحدہ ہوگیا تو سر کے پچھلے حصے کے بالوں کو دیکھ کر ایک دم سے بولی..
او طارہ..لوشن نے کم وکھایا اے، وال تیرے سٍدّے ہوگئے نے

یہ خواب مجھے وراثت میں ملے ہیں



ایک گروپ میں "تصویرکہانی" ایونٹ کے موقع پر لکھی گئی ایک کہانی...

یہ خواب مجھے وراثت میں ملے ہیں :--

پہلا.منظر :
ایک مرد اپنی سات سال کی بیٹی کے ہمراہ ایک دکان سے شاپنگ کرکے نکلتا ہے. سامنے سے ایک خاتون آٹھ دس سال کے بیٹے کے ساتھ آرہی ہے. دونوں جب پاس سے گزرنے لگتے ہیں تو خاتون بے یقینی کے تاثرات کے ساتھ رک جاتی ہے. مرد بھی اسے دیکھ کر پہچان جاتا ہے...
خوشگوار حیرت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے سے سلام لیتے ہیں اور حال احوال پوچھتے ہیں. خاتون اپنے بیٹے کا تعارف کرواتی ہے. جس پر مرد بھی اپنی بیٹی سے ملواتا ہے. اتفاق سے دونوں شاپنگ کرکے تھک چکے ہیں .اس لیئے مزید گفتگو کیلئے قریبی ریستوران کا رخ کرتے ہیں. جہاں زیادہ رش نہیں ہے.

دوسرا منظر:
دونوں ایک ٹیبل پر کھانے کا آرڈر کرکے باتیں کرنے لگ جاتے ہیں. بچے کچھ دیر ان کی باتیں سنتے ہیں لیکن پھر بور ہوکر ھال کے خالی حصے میں گھومنے پھرنے لگ جاتے ہیں.
احمد اور ماریہ کلاس فیلوز تھے. بہت اچھے دوست بھی. دوستی سے وہ ایک قدم آگے جانا چاہتے تھے. لیکن سماج کی بندھی زنجیروں نے ان کو اس رشتے تک پہنچنے سے روک دیا تھا. اور اج دس سال بعد وہ ایک دوسرے کو پہلی بار ملے تھے..

پہلے کچھ گلے شکوے، پھر ایک دوسرے کی ڈھلتی عمر پر جملے اور کچھ فیملیز کے تعارف کے بعد بے تکلفی کی اس سٹیج پر پہنچ چکے تھے جہاں سے دس سال پہلے انہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑا تھا..

" تمہیں یاد ہے جب ہم پہلی بار ملے تھے تو تم ملکہ بن جایا کرتی تھی اور میں رعایا..اور پھر تم ملکہ بن کر مجھ سے فرمائشیں کیا کرتی تھی اور مجھے لگتا تھا کہ یہ فرمائشیں پوری کرنا میرے فرائض میں سے ہیں"
احمد نے گفتگو میں بےتکلفی پیدا کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا تو

ماریہ نے قہقہ لگایا
" ہاں اور جو تم.مجھ سے لمبے لمبے انٹرویو لیا کرتے تھے وہ بھول گئے؟
کھانے میں کیا پسند ہے؟ ..رنگ کیسے اچھے لگتے؟ زندگی کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟..خواب پرست ہو یا نہیں؟ زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟ "

احمد کچھ جھیمپ کر مسکرایا.
"اور تم بھی ایسے جواب دیا کرتی تھی جیسے کوئی بہت بڑی سیلیبرٹی ہو..."

ماریہ نے ایک بار پھرقہقہ مارا اور بولی ..
"اب اتنے نخرے تو بنتے تھے.میری صورت میں تمہاری لاٹری جو نکل آئی تھی.."

"اور اس دن کینٹین پر جب تم اتفاقا مجھ سے ٹکرائے تھے تو بجائے تمہیں گھورنے کے، تمہاری کنفیوز حالت دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑی تھی"
ماریہ نے معنی خیز مسکراہٹ سے بات کی

"اور تم ڈر کر اپنے خول میں چھپ گئے تھے..تمہیں ڈر لگا تھا شائد میری ہنسی تمہیں تحلیل کردے گی؟"
ماریہ نے بات جاری رکھی..

"جی مجھے یاد ہے سب. اور پھر تم نے اپنی کیمسٹری کے مختلف مرکبات سے کیسے ایک غیرفعال مادے کو فعال بنا کر خول سے باہر نکلنے پر مجبور کردیا.."
احمد نے اپنی مسکراہٹ کو امڈنے سے روکتے ہوئے ماریہ کی جانب دیکھا تو اس کی آنکھیں حیا سے جھک گئیں اور پھر بات کو بدلتے ہوئے بولی.

"اور وہ دریائے کنہار کے کنارے ٹری ہائوس بنانے والی بات یاد ہے؟ "

احمد مسکرایااور بولا
" جب تم نے ٹری ہائوس بنانے کی بات کی تھی تو میں نے اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنانے کا اعلان کردیا تھا..."

"اور جو آدھی رات کو سردی سے بچنے کیلئے میرے ٹری ہائوس آنے کی اجازت.مانگی تھی؟ "
ماریہ نے انکھوں کو شرارت سے گھمایا

احمد مسکرایا اور نظریں نیچی کرکے بولا.."
تمہاری شرط مان تو لی تھی کہ مجھے رات گزار لینے دو. بالکل تنگ نہیں کروں گا"

پھر ایک دم.سنجیدہ ہوکر کچھ بڑبڑایا..میں تمہیں تنگ کر بھی نہیں کرسکتا تھا.تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا.اسی لیئے تمہاری زندگی سے ہی نکل گیا تھا...

حقیقتیں زندگی کی قدروں کی محتاج ہوتی ہیں. حالات کی مجبوری اور حقیقت پسندی، حصول تسکین کی خواہش کو زبردستی سلا دیتی ہیں. استقلال کے اونچے پہاڑ ہوں یا عزم کے بےکراں سمندرـ سماج اور.سماج کی اقدار، ان کے سامنے بند باندھ کر کھڑی ہوجایا کرتی ہیں..دنیا میں رہ کر دنیا کے اصولوں کو نظر انداز کردینا ایک بہت مشکل کام ہے..

ماریہ کا کھلا ہوا چہرہ بھی سنجیدگی میں بدل گیا.
بچوں کی طرف مڑکر آواز دی.
"بیٹا دھیان سے کھیلو..کوئی چیز نہ توڑ دینا..."

"دونوں بچے کتنی جلدی گھل مل.گئے ہیں"
.احمد نے اثبات میں سر ہلا کر 'ہوں' کہہ کر اس کی تائید کی.
چند لمحے ایسے ہی بنا کسی بات کے، میز پر رکھی چیزوں پر نظریں جمائے گزر گئے...

ماریہ نے سکوت تورتے ہوئے پوچھا
" کیا خنجراب تک کا.سفر کر ڈالا؟"

احمد نے سر اٹھایا اور پھر ماریہ کی آنکھوں میں کافی دیر تک جھانکنے کے بعد بولا
"خنجراب تک اپنی گاڑی پر جانا اور پھر وہاں سے گوادر تک کا سفر، یہ ہمارا مشترکہ خواب تھا...اور ہم نے اس خواب کے تانے بانے مل کر بنے تھے..یہ خواب ہماری مشترکہ ملکیت تھا.جب تم ہی نہ رہیں تو نامکمل خواب ادھوری خواہش بن گئی.کسی کنجینٹیل فزیکل ڈیفکٹ سے متاثر بچے کی طرح...ادھورے پن کے ساتھ..وہ موجود بھی ہوتے اور پورے بھی نہیں ہوسکتے"

ماحول مین ایک بار پھر سنجیدگی چھا گئی...ماریہ نے مڑ کے دیکھا تو بچے پردوں کے پیچھے چھپ کر ایک دوسرے کو ڈھونڈنے کا کھیل، کھیل رہے تھے..
احمد نے بیرے کو آواز.دی اور پوچھا کھانے میں کتنی دیر ہے..تو اس.نے پروفیشنل مسکراہٹ کے ساتھ 'صرف پانچ' منٹ کہہ کر رخصت لی..

کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ماریہ بولی
" تمہیں وہ بات یاد ہے چاند پر بیٹھ کر دنیا کی جانب پائوں لٹکانے والی؟"

احمد کا اداس موڈ پھر سے تبدیل ہوگیا.اس کی انکھوں میں ایک دم.سے چمک آگئی.
" ارے ہاں..کیا یاد کروادیا..چاند پر بیٹھ کر ستاروں سے باتیں کرنا..اور دم دار ستاروں سے پیغام رسانی کا کام لینا..
اور زمین پر کنکریاں مار کر لوگون کر تنگ کرنے کا پلین..کہکشائوں کا سفر اور.ستاروں سے دوستی..وہاں سے نکل کر بلوچستان کے کسی پہاڑی گائوں میں کٹیا بناکر رہنے کا ارادہ..چولستان کے صحرا کی ریت پر لیٹ کر ستاروں سے باتیں کرنا..میکسکو امریکہ کے بارڈر پر کسی ویران گرجا گھر میں ویمپائر پکڑنے جانا..برمودا ٹرائینگل کے اسرار ڈھونڈنے کیلئے سب سے نظر بچا کر ایک کشتی کی مدد سے سمندر میں کود جانا....."
باتیں کرتے کرتے اداسی نے ایک بار پھر احمد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا..اور دونوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ ایک گہری خاموشی اور اداسی کے ساتھ ٹوٹ گیا..

انسان کا ایک داخلی روپ ہوتا ہے جو ہماری امنگوں آرزوئوں اور امیدوں کے سانچے بناتا ہے.اور ایک غیر مرئی سا وجود تخلیق میں لاتا ہے. زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور. جہاں ہم قلبی طور پر ایک دوسرے تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں.اور دوسرا خارجی. جو سماج کے تقاضوں کا شعور رکھتا ہے. جو یہ جانتا ہے کہ قربتوں کی بنیادیں کس طلب پر رکھی جاتی ہیں. تکمیل تمنا کا رستہ، کن ٹھوس حقائق سے ٹکراتا ہے...آس بھی، یاس بھی اور خوشی اور غم کی سچائی بھی

دونوں کے درمیان خاموشی کی ایک وسیع خلیج حائل ہوچکی تھی. ایک دوسرے سے دونوں نظریں ملانے سےگریز کررہے تھے.بچے اب بھی اپنے کھیل میں مگن تھے. بیرا پلیٹیں اور چمچ لاکر میز پر سجا کر.چلا گیا...

خاموشی کی اس گہری خلیج میں کھڑے ہوکر ماریہ نے بے بسی کی اس خود ساختہ قسم کومحسوس کرلیا جو انسان کسی کمزور لمحے اپنا لیتا ہے اور پھر اس سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر پاتا..اور خود کو پرسکون کرتے ہوئے اپنائیت سے بولی.

"ہم کچھ خواب دیکھتے ہیں. یہ خواب ہمارا سہارا ہوتے ہیں.ہمارے جینے کی تمنائوں کو زندہ رکھتے ہیں.ہمیں زندگی سے ہمکلام رکھتے ہیں. خواب دیکھنے کی رسم بہت پرانی ہے.جب تک خواب زندہ ہیں زندگی چلتی رہے گی..تم ہی تو کہتے تھے دن سورج کا ہے تو رات بحرحال چاند کی ہے..اور پھر نئے دن کا سورج. خواب تراشنے کا ہنر بھی تو ایک فنکاری ہے اور ایک فنکار کے تراشیدہ خواب کسی دن حقیقت میں ڈھل جاتے ہیں.جب تک خوابوں کا تخلیق کار زندہ ہے. انسان زندہ ہے"

" وہ دیکھو ادھر.."

ماریہ نے احمد کی توجہ بچوں کی طرف کروائی جو کھڑکی کے پاس بنی سیڑھیوں پر بیٹھ کر چاند کو دیکھ رہے تھے.
" وہ بھی چاند پر جھولا ڈال کر اس پر جھولے لینے کا سوچ رہے ہونگے......انہوں نے بھی خواب دیکھنا شروع کردیئے ہیں..خواب دیکھنے کا جو سلسلہ ہم نے شروع کیا تھا اس سلسلے کو رکنا نہیں چاہیئے. کہیں تو یہ خواب حقیقت میں ڈھلیں گے. کبھی تو ان کو تعبیر ملے گی."

میم.سین

سچائی


کئی ہفتوں کی کھانسی کی شکائیت کے ساتھ آنے والے مریض سے جب پوچھا سگریٹ تو نہیں پیتے تو اس کا جواب سن کر میری آنکھوں بے اختیار آنسو آگئے کہ ابھی ایماندار اور سچے لوگ دنیا میں موجود ہیں..

" پیتا تو ہوں لیکن سادہ والے نہیں"