Monday, April 3, 2017

کچھ چکن پاکس کے بارے میں



چکن پاکس کیا ہے؟
.عام زبان میں اسے لاکڑا کاکڑا بولا جاتا ہے 
ایک وائرس کی وجہ سے انسانی جسم کو یہ بیماری لگتی ہے. عام طور پر اس سے بچے متاثر ہوتے ہیں لیکن یہ کسی بھی عمر کے انسان کو متاثر کر سکتا ہے۔ بیماری لگنے کی صورت میں جسم میں اس کے خلاف مدافعتی نظام قائم ہوجاتا ہے جس کی وجہ یہ زندگی میں عام طور پر صرف ایک بار لاحق ہوتی ہے۔

بیماری کیسے لگتی ہے
یہ ایک وبائی یا متعدی مرض ہے جو ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کو منتقل ہوتا ہے۔ مریض کے تھوک سے، کھانسی کرنے سے یا چھینکنے سے یا پھر دانوں کا پانی صحت مند مریض تک پہنچنے سےاسے چکن پاکس کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔

علامات
عام طور پر تیز بخار کے ساتھ بچہ کھانا پینا چھوڑ جاتا ہے سستی کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے اور بخار کے ایک دو دن کے بعد جسم پر سرخ رنگ کے دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں جن کے اندر پانی بھرا ہوتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ان دانوں میں خارش بڑھتی جاتی ہے ۔کئی دفعہ دانے پہلے نکل آتے ہیں اور بخار بعدمیں شروع ہوتا ہے ۔بخار اور دانوں کی شدت ہر مریض میں مختلف ہوسکتی ہے
چند دنوں بعد دانے پھٹ جاتے ہیں اور کرسٹ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جو براؤن یا کالے رنگ کے نشان بناتا ہے۔کچھ دنوں بعد کرسٹ اتر جاتا ہے ۔ اور لگ بھگ ایک ڈیڑھ ماہ بعد نشانات مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں

علاج
چکن پاکس چونکہ ایک وائرل بیماری ہے اور اپنے دن پورے کرکے جسم سے ختم ہوجاتی ہے اس لیئے کسی باقائدہ علاج کی ضرورت نہیں ہوتی ۔صرف علامتوں کے مطابق دوائی کاستعمال کروانا چاہیئے۔جیسے بخار کیلئے پیراسیٹامول کا استعمال ۔ اور خارش کوکم کرنے کیلئے کیلامین لوشن یا کسی انٹی ہسٹامین کا استعما ل کافی ہوتا ہے۔خارش کیلئے نہانے کے پانی میں میٹھے سوڈے کا استعمال یا دانوں پر برف کی ٹکور بھی خارش کی تکلیف کو کم کرتی ہے 
لیکن
اگر بچے کی آنکھیں سرخ ہورہی ہیں یا پھر دانوں میں پیپ کی علامات نظر آرہی ہیں یا پھر ساتھ کھانسی یا سانس کا مسئلہ محسوس ہورھا ہے تو فوری طور پر اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ایسے افراد بھی ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ جنہیں کوئی دل کا عارضہ ہے یا پھر انہیں کوئی قوت مدافعت کی کمی کی بیماری ہے یا زیادہ عمر رسیدہ شخص ہے ۔
حاملہ ماں یا نوزائیدہ بچے میں اس بیماری کی علامتیں دیکھنے پر بھی اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر نا چاہیئے

احتیاطی تدابیر
بچوں کو چکن پاکس کے مریض سے دور رکھیں 
چکن پاکس کا حفاظتی ٹیکہ دستیاب ہے ۔ جو کہ بچے کو ایک سال کی عمر میں لگ جانا چاہیئے اور اس کے بعد بوسٹردو سال کی عمر میں لگوا دینا چاہیئے۔اگر گھر میں کسی کو چکن پاکس نکل آئے تو باقی گھر والے فوری طور پر ویکسین لگوا لیں تو کافی چانس ہیں کہ وہ اس مرض سے محفوظ ہوجائیں گے۔کچھ لوگ شکایئیت کرتے ہیں کہ ٹیکہ لگنے کے باوجود ان کے بچے کو چکن پاکس کا مرض لاحق ہوا ہے۔ ایسا ممکن ہے لیکن ایسے بچوں میں بیماری کی شدت بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہے

کچھ متھ کے بارے میں
عام طور پر لوگوں میں یہ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ چکن پاکس نکلنے کی صورت میں بچے کو نہلانا نہیں چاہیئے ۔ اسی ٹھنڈی چیزیں نہیں دینا چاہیئے ۔ بچے کو گرم چیزیں کھلائیں تاکہ سارے دانے باہر نکل آئیں اور کوئی دانہ جسم کے اندر نہ رہ جائے
ان تمام باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ بلکہ نہانے سے بچہ خارش اور جلن سے سکون پاتا ہے ۔ ہاں کوشش کریں کہ نہانے کے بعد کسی سخت کپڑے سے جسم کو صاف نہ کریں تاکہ دانے پھٹنے نہ پائیں۔

چکن پاکس کے نشانات کا علاج
جو دانے نکل کر اپنی طبعی عمر پا کر ختم ہوجاتے ہیں ان کی نشانات کچھ عرصے بعد مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں لیکن جن دانوں کو خارش کے دوران چھیل دیا جائے یا پھر کسی رگڑ کی وجہ سے پھٹ جائیں ان کے نشانات عام طور پر ختم نہیں ہوتے ان کے علاج کیلئے سکن سپیشلسٹ سے رابطہ کرنا چاہیئے
میم سین

ایک مخلصانہ اور ضروری مشورہ:



جب بھی اپنے بچے کو ڈاکٹر کو چیک اپ کروانے جائیں تو اس بات کا اہتمام ضرور کریں کہ بچے کی والدہ ساتھ ہو۔ ۔کیونکہ بچے کی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات کیلئے سب سے مناسب رشتہ وہی ہوتا ہے۔
کیونکہ کسی بھی بیماری کی تشخیص کیلئے سب سے اہم چیز ہسٹری ہوتی ہے اوراکثر اوقات بیماری کا ستر فیصد سے بھی زیادہ درست اندازہ صرف اچھی ہسٹری سے ہوجاتا ہے
لیکن مصروفیت کے اس دور میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مائیں بچے کو ڈاکٹر کے پاس دفتر سے شام کو لوٹنے والے باپ کے ہاتھ بھیج دیتی ہیں یا پھر ماموں چچا یا کسی کزن کے ساتھ ۔۔ جن کو صرف بیماری کی بنیادی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا ہوتا ہے اور جب ان سے بچے کی بیماری کے بارے میں سوالات کیئے جاتے ہیں تو لاعلمی میں یا تواندازے سے جواب دینا شروع کردیتے ہیں یا پھر فون نکال کر ماں سے رابطہ کرنا ۔ جو یا تو اس وقت کہیں مصروف ہوتی ہے یا پھر سوالات کی نوعیت کو صحیح سمجھ نہیں پا رہی ہوتی ہے
اور اس ساری صورتحال کا نقصان بچے کی بیماری کی غلط تشخیص کی صورت میں نکل سکتا ہے
کوشش کیا کریں کسی بھی ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں تو اس کی کی لکھی ہوئی دوائیوں والی پرچی اور کروائے گئے ٹسٹ ہمیشہ ایک فائل کی صورت میں محفوظ رکھیں۔ جب بھی بچے کے کسی مسئلے میں ڈاکٹر سے ملنے جائیں تو بچے کی اس فائل کو ہمیشہ ساتھ لے کر جائیں ۔ بہت سی بیماریوں کی نوعیت اور بچے کی صحت کے حوالے سے اس فائل کی ڈاکٹر کیلئے کافی اہمیت ہوتی ہے
میم سین

Wednesday, March 29, 2017

متھ کیسے بنتے ہیں۔۔۔



چند سال پہلے ایک فیملی میرے پاس آئی ۔ ان کے پاس ہومیو پیتھی گولیوں کی ایک شیشی تھی ۔ جاتے ہوئے وہ گولیوں کی شیشی میز پر بھول گئے
چند دن بعد ایک خاتون ایک ماہ کے بچے کے ساتھ اس شکایئت کے ساتھ آئی کہ اس کا دودھ بہت کم ہے اس کیلئے کوئی دوائی دیں
میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ ماں کا دودھ کم نہیں ہوتا لیکن خاتون بضد رہیں کہ کوئی دوائی دیں یا پھر دودھ کا ڈبہ بتائیں جو میں اپنے دودھ کے ساتھ پلا سکوں
اچانک میری نظر انہی ہومیو پیتھی گولیوں پر پڑی ۔ اسے اٹھا کر اس خاتون کے حوالے کیا کہ جب دودھ پلانے لگیں تو ایک گولی زبان کے نیچے رکھ لیں اور ایک ہفتے بعد مجھے بتائیں ۔۔ اگر پھر بھی دودھ پورا نہ ہوا تو ڈبے کا دودھ شروع کر دیں گے
اور ایک ہفتے بعد خاتون اپنے ساتھ اپنی ایک رشتہ دار کو بھی ساتھ لائیں کہ اس کو بھی ایک شیشی گولیوں کی دے دیں ہمیں کسی میڈیکل سٹور سے نہیں ملی

Thursday, March 9, 2017

محب وطن پاکستانیوں کے نام


السلام علیکم

میرا نام میجر ثاقب ہے اور آئی ایس آئی کے ٹیررازم  ڈیپارٹمنٹ سے بیلونگ کرتا ہوں
یس مائی فرینڈز، وہی وٹس اپ کے وائس میسج والا۔ جس کے میسج کو محب وطن پاکستانیوں نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ بلکہ ایک ایک بندے کو بیسیوں بار پہنچاکر یاد دھانی کروائی اور میں شکرگزار ہوں پوری قوم کا کہ اس میسج کی وجہ سے اب کوئی بھی  اپنا تعارف ثاقب نام سے کرواتا ہے تو لوگ کھڑے ہوکر ملتے ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق نیو بارن بچوں میں ثاقب نام ٹاپ پر آچکا ہے۔
ویل مائی فرینڈز جیسا کہ آپ جانتے ہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک ہی میڈیم کو بار باراستعمال کرنے کی اجازت نہیں ۔اس لیئے اس بار فیس بک سے مخاطب ہوں 
اس وقت میں ایک اہم مشن پر ہوں اس لیئے زیادہ بات نہیں کر سکتا لیکن کل خفیہ اداروں کی اطلاع پر کی گئی ایک اہم کاروائی کی کچھ تفصیلات آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جس میں کسوال سے بیلونگ کرنے والی ایک فیملی جو مغل پورہ میں ایک کرائے کے گھر میں پچھلے بیس سال سے سٹے کر رہی تھی۔ ریڈ کے دوران معلوم ہوا کہ پچھلے بیس سال سے علاقے میں مقیم اس شخص کے بارے میں پورے محلے میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنے شاندا دہی بھلے بناتا ہے ۔مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ علاقے کی مشہور نیلی مسجد کے گیٹ کے باہر اپنی ریڑھی لگاتا ہے ۔آپ لوگوں سے التماس ہے کہ اس میسج کو جتنا ہو سکے شیئر کریں تاکہ ہمارے ہنرمندوں کو دنیا کے نظروں سے دور رکھنے کے دشمن کے عزائم
کو شکست دی جاسکے۔
پاکستان زندہ باد

Thursday, February 2, 2017

مغرب کی ترقی کا راز اور ہم




سولہویں صدی کے بعد تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ایک طرف یورپ بیداری کیلئے کروٹ لے رھا تھا . اور دوسری طرف امریکہ کی دریافت کے بعد ایک نیا معاشرہ جنم لے رھا تھا جس کی بنیاد صاحب ثروت لوگ، چور اچکے ،مجرم اور مہم جو افراد رکھ رہے تھےجس کی اساس فرد واحد کی بجائےاداروں پر تھی۔
ایک علم ہوتا ہے جو ہم کتابوں سے ڈھونڈتے ہیں۔ دوسرا علم ہم استاد سے حاصل کرتے ہیں ۔لیکن ایک تیسرا علم ایسا بھی ہے جو ہم سفر سے حاصل کرتے ہیں۔ لوگوں سے مل کر حاصل کرتے ہیں اور وہ علم بہت بہتر اور تیار حالت میں ہوتا جن سے نتائج اخذ کرنا آسان ہوتا ہے ۔اور امریکی معاشرے کی بنیاد ایسے ہی مہم جو افراد نے رکھی تھی ۔جن کے پاس دنیا گھوم پھر کر تجربہ بھی تھا اور وژن بھی 
ایشیا کے بیشتر ممالک اپنی ضروریات کیلئے چونکہ کسی کے محتاج نہیں تھے اس لیئے وہ تیزی سے ہونے والی دنیا کی سیاسی اور فکری تبدیلی سے بے خبر رہے اور نتیجہ نوآبادیاتی نظام کا حصہ بننے کی صورت میں نکلا۔ 
تیسری طرف یورپ تھا جو چرچ کی گرفت میں تھا جب یورپ میں چرچ کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں تو ان شعبوں کو چلانے کا مسئلہ سامنے آیا جن کی ذمہ داری چرچ نے سنبھال رکھی تھی۔ ان شعبوں کو چلانے کیلئے ادارے بنائے گئے ۔ وقت کے ساتھ ادارے مضبوط ہوتے گئے ۔اختیارات فرد کےہاتھوں سے نکل کر اداروں کو منتقل ہوتے گئے اور ایک وقت ایسا آیا ہے کہ ریاستوں کا مکمل انتظام ان اداروں نے سنبھال لیا اورفرد کی اہمیت علامتی رہ گئی۔ریاستوں کا انتظام اداروں کے ہاتھ میں جانے کے بعد ایک تو انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی دوسرا مساوات نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کی۔اور انصاف اور مساوات دو ایسے خواص ہیں جو کسی بھی فلاحی معاشرے کی لیئے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ اور یوں ان اداروں کے سہارے یورپ اپنے ڈارک ایجز سے نکل کر دنیا کے سامنے ایک مستحکم پوزیشن میں سامنے آیا۔ اتنا مستحکم کہ دو عظیم جنگیں اور شدید ترین کساد بازاری اور معاشی بحرانوں کے باوجود دنیا کی حکمرانی سے یورپ کے قدم نہیں اکھڑے. کیونکہ یہ سب ان اداروں کی مرہون منت تھا جو یورپ نے مستحکم کر لیے تھے۔ انصاف کا نظام ہو یا پھر پارلیمنٹ کی بالادستی، تعلیم کا شعبہ ہو یا پھر صحت کا میدان یہ وہ شعبے ہیں جنہیں ہمارے ہاں سب سے سے زیادہ نظر انداز کیا جاتاہے.لیکن مغرب نے ان کو خصوصی توجہ کا مرکز بنایا۔ ان اداروں نے یورپ کو اندھیروں سے نکالااور ایک نئی روح پھونکی۔ ابن خلدون کی عصبیت کی مجسم شکل یورپ کے وہ ممالک نظر آئے جو پانچ پانچ سو سال اسی "قومیت" کے چکر میں حالت جنگ میں رہے تھے لیکن جب ادارے مضبوط کر لیے تو پھر تمام تر اختلافات بھلا کر معاشی و معاشرتی ترقی پر اپنی توجہ مبذول کرلی اور ان اداروں نے لوگوں کو نا صرف ترقی دی بلکہ شعور دیااوروہ مجموعی قومی عرفان بھی جس سے آج ہمارہ معاشرہ یکسر محروم نظر آتا ہے 
یہ ایک لمبی بحث ہوجائے گی کہ مغرب کے عروج کے پیچھے اور کون کون سے عوامل کارفرما تھے لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ ان سب عوامل نے اداروں کو ہی استحکام بخشا اورآج مغرب جس مقام پر کھڑا نظر آتاہے وہ ان ہی اداروں کی مرہون منت ہے ۔اور آج جس قوم نے بھی اداروں کے سہارے ملک چلانے کی کوشش کی ہے وہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نظر آئیں گے۔ دبئی سمیت ایشیا کے کئی ممالک کا نام لیا جاسکتا ہے ۔
لیکن جب میں ملک عزیز میں انتہائے تضادات کی نئی نئی راہیں دیکھتا ہوں ۔اور فریب ہنر بنا کر کیسے کیسے شعور سینوں میں اتارے جا رھے ہیں ۔تو میری سمجھ میں آتا کہ ہمارا علم بے کار کیوں ہوجاتا ہے ہماری تہذیب بے بسی کی تصویر کیوں بنی دکھائی دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ علم سے انسان میں صرف بھلائی کا بیج جنم لیتا ہے۔لیکن جو علم مرعوبیت کے سائے میں حاصل ہو وہ بھلائی سے زیادہ شر پھیلاتا ہے ۔ ایساباخبر شخص زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اس میں ایک لچک آجاتی ہے ۔وہ نفع اور نقصان کو بہتر طور پر جذب کرسکتا ہے ۔وہ اگر اچھائی کو اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو بدی کو بھی یکساں جذب کرتا ہے۔ دوسری طرف انسان میں نیکی اور محبت کی تلقین عام ہے لیکن عملی طور پر انسانی رویہ مختلف ہے۔ اور نصیحت اور عمل کا یہی تضاد ہمہ گیر مذہبی سچائی کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔جب مذہب مشکوک ٹھہرا تو تو پھر ذاتی آدرشوں کو زندگی کا عرفان ٹھہرایا جانے لگتا ہے۔ اور یوں مرعوبیت کا شکارافراد نے ترقی کی راہ میں حائل سب سے پہلا الزام مذہب پر لگایا۔
مذہب سے نکلے تو عورت کے حقوق کو آزادی کے راہ میں رکاوٹ پایا۔ عورت کی آزادی کا مسئلہ۔ حجاب کا مسئلہ ،عورت کی ڈرائیونگ کا مسئلہ ۔عورت۔عورت عورت ۔ترقی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم عورت کی شخصی مجبوریوں سے شروع ہوکر ہوکر عورت کی جنسی محرومیوں سے نکلنے لگا۔
علم میں غرق اور مذہب سے دورشخص نفع و نقصان کے معیار اپنی سوچ کے مطابق بناتا ہے۔نفع و نقصان کے یہ ترازو خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں جن کا دائرہ تکمیل ذات سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہمارا شعور ،ہمارا ادراک مغرب کی ترقی سے متاثر تو ضرور ہوا ہے لیکن اس کے اسباب ڈھونڈ نکالنے کے لیئے جو معیار ترتیب دیئے ہیں وہ اس کے ذاتی عرفان کے تابع ہیں ۔اور ذاتی عرفان کے تابع معیار ذاتی تو ہو سکتے ہیں، معاشرتی یا اجتماعی نہیں۔ ریاستوں اور معاشروں کے معاملات اجتماعی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور اجتماعی دانش وعمل کے متقاضی بھی اور مذہب کی ضد میں بنائے گئے ذاتی نفع و نقصان کو ناپتے تولتے معیارات کس حد تک کسی قوم یا معاشرہ کے لیے سود مند ہو سکتے ہیں ہماری موجودہ بدحالی کو دیکھتے ہوئے اس کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں

میم سین

Tuesday, January 24, 2017

کچھ پولیو ویکسین کے حوالے سے


چند سال پہلے امریکہ میں ایک کسان کے حوالے ایک کیس بہت مشہور ہوا تھا جو اپنے بچے کو گائے کا کچہ دودھ پلانا چاہ رھا تھا لیکن صحت کے اداروں نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا تھا کہ بچے کی صحت کے ساتھ کوئی نہیں کھیل سکتا خواہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں

ایسے ہی چند سال پہلے فرانس میں کھلونے بنانے والے ایک ادارے نے  ان کے ایک کھلونے کی کاپی بنانے پر دوسرے ادارے پر کیس کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا نہیں کیا تھا بلکہ اس پرلکھے پانچ سے بارہ سال کی بجائے دو سے بارہ سال کے بچوں کیلئے لکھنے پر کیا تھا کہ یہ چھوٹے بچوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ قانون کی نظر میں بچوں کی صحت سے کھیلنا بڑا جرم ہے۔
مغرب میں عوام کی صحت کے بارے میں حکومتی فکر اور اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔جتنے سخت قوانین صحت کے حوالے سے موجود ہیں شائد ہی کسی اور شعبے کے متعلق ہوں۔غیر معیاری خوارک ہو یا مضرصحت اجناس اس پر کسی رعائیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  لیکن ہمارے لیئے مغرب کی صحت کے معاملے میں اتنی فکر سمجھنا مشکل کام ہے ۔ چند دن پہلے ایک دودھ پیک کرنے والی کمپنی کو انسانی جانوں سے کھیلنے پر دس لاکھ روپے جرمانہ کرکے کے سپریم کورٹ نے پوری قوم کے منہ پر جوطمانچہ مارا ہے۔ اس کے بعد ہمیں صحت کے بارے میں مغرب کی ہر بے چینی میں کوئی سازش ہی نظر آئی گی۔اور آئل و گھی اور منرل واٹرکی کوالٹی کے حوالے سے آنے والی تشویش ناک رپورٹ ویسے ہی منظر نامے سے ہٹا دی گئی ہے۔ورنہ ہماری صحت کے بارے میں بے حسی کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے
۔
یہ ساری تمہید میں نے باندھی ہے پولیو ویکسین کے حوالے سے کہ ہمارے ہاں آج بھی پولیو ویکسین کے حوالے سے نہ صرف کنفیوژن پائی جاتی ہے بلکہ پھیلائی بھی جاتی ہے اور آئے دن بہت سے سازشی نظریات کوجنم دیا جاتا ہے
لوگوں کے اس مہم کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں 
جیسے آخر مغرب کو ہمارے ملک سے پولیو کے خاتمے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟
اربوں روپے وہ صرف پولیو کے خاتمے کیلئے خرچ کر رہے ہیں جبکہ یہاں کروڑوں لوگ بھوک اور غربت سے متاثر ہیں
انتظامیہ کی طرف سے پولیس کا استعمال اور سختی اس مہم کو مشکوک بنا رہی ہے
چلیں ایک نظر اس مہم پر ڈال لیں تو شائد بہت سے سوالوں کے جواب خود ہی مل جائیں
پولیو کا وائرس انسانی جسم سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر اس وائرس کو رہنے کو کوئی جسم نہیں ملے گا تو وہ خود ہی اپنے موت مر جائے گا اس حقیقت کو لیکر پولیو کے خاتمے کیلئے مہم کا آغاز 1988 میں شروع کی گئی تھی اس وقت ہر سال ساڑھے تین لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہوجایا کرتے تھے لیکن اگلے بیس سالوں میں لگ بھگ دنیا کے تین چوتھائی ممالک سے اس وائرس کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ 2016 میں صرف 37 کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 20 پاکستان سے تھے۔ 2015  میں 74 کیس رپورٹ ہوئے تھے جن میں سے 54 پاکستان سے تھے۔ 2013میں 416 اور دو ہزار بارہ میں 223کیس رپورٹ ہوئے اور ان میں  سےبھی بیشتر مریضوں کا تعلق پاکستان سے تھا
ہم سے کئی گنا بڑا اور مسائل میں الجھا بھارت بھی بہتر منصوبہ بندی کی بدولت دوہزار چودہ میں پولیو فری ملک قرار پا چکا ہے ۔لیکن اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی پاکستان پولیو کے دوبارہ پھیلاؤ کیلئے دنیا کا سب سے خطرہ بنا ہوا ہے
دوہزار پانچ میں امریکہ میں پولیو کے کیس کی موجودگی نے صحت کے اداروں کیلئے الارم بجا دیا تھا جس کے بعد اس پروگرام کو پہلے سے زیادہ متحرک کر دیا گیا اور یہی وہ خوف ہے جو مغرب کو پاکستان پر اتنی زیادہ توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کررھاہے کہ کہیں پولیو واپس نہ لوٹ آئے
کیونکہ جب تک دنیا سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک یہ مغرب کے حواسوں پر خوف بن کر چمٹا رہے گا۔
ان مختصر سے اعداد وشمار سے اندازہ ہوجانا چاہیئے کہ پولیو کی اس مہم پر اربوں روپے کیوں خرچ ہورہے ہیں اور انتظامیہ اس معاملے میں بیرونی دباؤ کیوں برداشت نہیں کر پا رہی
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے جن تحفظات کا اکثر انٹر نیٹ کے صفحات کے حوالے سے ذکر کیا جاتا ہے وہ تحفظات لگ بھگ ہر ویکسین کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ 
ہاں جن تحفظات کا ذکر ہونا چاہیئے جن پر سوال اٹھنے چاہییں وہ 
 ویکسین کی کوالٹی کی یقین دھانی 
ایک بچے کے کورس کو مکمل کرنے کے باوجود اسے بار بار قطرے پلانے سے متعلق خدشات کے بارے میں یقین دھانی
فیکٹری سے بچے کو پلانے تک ویکسین کی کولڈ چین کو محفوظ بنانا
ویکسین پلانے والےورکرز کی مکمل تربیت اور ان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ان کی ڈیوٹی کے دوران پائی جانے والی کوتاہیوں سے نبٹنا
میم سین

Sunday, January 22, 2017

ترجیحات کا فرق


بات یہ نہیں ہے کہ ہم خود کو مسلمان نہیں کہلووانا  چاہتے 

اور نہ یہ بات درست ہے کہ ہماری مذہب بیزاری کی وجہُ ملا ہے
وجہ یہ بھی نہیں کہ ہم  اسلام کو سمجھنا نہیں چاہتے 
اور بات یہ بھی درست نہیں کہ ہمیں  اسلامی تشخص پر تحفظات ہیں
بات یہ ہے کہ زندگی کے تقاضے بدل گئی ہیں ترجیہات  بدل گئی ہیں۔جن کی وجہ سے ضروریات بدل گئی ہیں جن کی خاطر مفہوم بدلنے پڑ رہے  ہیں
کیونکہ ہماری زندگیوں میں وہ آواز دم توڑ گئی ہے جو کوہ صفا سے بلند ہوئی تھی
اے جماعت قریش اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے بنی کعب اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ
سب ہی کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔سب ہی عشق رسول کی بات کرتے ہیں۔ سب کا ہی دعوی ہے کہ قرآن الہامی کتاب ہے۔
لیکن 
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کے معیار بدل لیئے ہیں
ہماری لگن، جستجو، محنت اس کامیابی کیلئے مختص ہوکر رہ گئے ہیں جو انسان کو سٹیٹس دیتا ہے۔شہرت دیتا ہے۔ دنیا میں مقام دیتا ہے ۔ اچھا گھر، محفوظ مستقبل کے خواب دکھاتا ہے
 جو معیار قرآن نے مقرر کیا تھا وہ اب بدل چکا ہے 
 جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں
 ہماری جستجو کی دوڑ اور ترقی کیلئے استدلال اونچی عمارتیں اور پرتعیش زندگی رہ گئے ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا تھا
دنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوش حالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر انکا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کی بدترین جگہ ہے 
بات چھوٹی سی ہے لیکن بات سمجھنے کی ہے وہ بھی ٹھنڈے دل سے
جب کامیابی کے معیار ہی بدل گئے تو پھر اس کی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدل جائیں گے۔ پھر ہم نئی توجیحات اخذ کریں گے، ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے
صفائیاں پیش کریں گے اس معیار پر پورا اترنے کیلئے
جب نئی توجیہات سامنے آئیں گی تو مفہوم بدلیں گے ۔جب صفائیاں پیش ہونگی تو حسرتیں بدلیں گی ۔انفرادی خواہشات اور ارادے تکمیل چاہیں گے اور ہم غیرارادی طور پرراہ راست سے دور ہوتے چلے جائیں گے 
جب معیار ہی بدل گئے تو پھر گمراہی کا احساس کیسا ؟
طلب کیسی کہ
راہ نجات کونسی سی ہے؟ اور راہ حیات کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

میم سین