Wednesday, February 28, 2018

ہسٹری میڈ ایزی


چلیں آج پھر ایک بادشاہ کی کہانی سناتے ہیں ۔جس کے عروج وزوال کو دیکھتے ہوئے سیکھنے والوں کیلئے بڑی نصیحت ہے۔

یہ انیس سو انیس کی بات ہے افغانستان پر امیر حبیب اللہ کی حکومت تھی ایک دن اس کو کسی نے سوتے میں قتل کردیا ۔جس کا فائدہ اٹھا کر سردار نصراللہ نے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا۔ ان دنوں کابل کا گورنر امان اللہ تھا۔اس نے ہمت دکھائی اور تخت پر قبضہ کرکے بادشاہت کا اعلان کردیا۔ 
امان اللہ چونکہ روس کے بہت قریب تھا اس لیئے شہ پا کر برطانوی انڈیا پر حملہ کردیا۔ پہلی جنگ عظیم کی وجہ ایک تو برطانوی حکومت پہلے ہی کافی کمزور تھی اور کچھ انڈیا کے حالات بھی کروٹ کھا رہے تھے اس لیئے زیادہ مزاحمت نہ کرسکے اور افغانستان سے صلح پر مجبور ہوگئی ۔جس کے بعد کابل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے سٹک اینڈ کیرٹ والی پالیسی کا آغاز ہوا۔
امان اللہ ایک انتہائی آزاد خیال انسان تھا اور ملک کو مغربی طرز پر چلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔کافی آزاد خیال پالیسیوں پر گامزن ہوا۔ نہ صرف طرز حکومت بلکہ مغربی کلچر بھی نافذ کرنے پر تلا ہوا تھا۔ملک میں امن امان بحال ہوا تو امان اللہ نے ملکہ کے ساتھ یورپ کا قصد کیا۔ انڈین گورنمنٹ کیلئے کیرٹ پالیسی کیلئے اس سے بہتر کوئی موقع نہیں ہوسکتا تھا۔فوری طور پر لاہور میں  ریل کے چار سپیشل ڈبے تیار کرکے چمن پہنچائے گئے۔جہاں سے بادشاہ سلامت اپنی فیملی کے ہمراہ کراچی پہنچے اور کراچی سے فرانس کی بندرگاہ مارسیلز پہنچے۔ماسیلز پہنچنے پر امان اللہ کا استقبال فرانسیسی صدر نے اپنی کابینہ کے ساتھ بھرپور انداز میں کیا اور ملکہ ثریا بھی مغربی لباس میں داد تحسین وصول کرتی رہیں ۔بادشاہ کو نپولین کے بستر پر سونے کا اعزا بخشا گیا۔ اس کے بعد جس شہر بھی گیا بھرپور استقبال کیا گیا ۔بہت سے شہروں کی اعزازی چابیاں حوالے کی گئیں۔فرانس کا دورہ مکمل کرکے برطانیہ پہنچے تو کنگ جارج بمع اپنی ملکہ  استقبال کیلئے واٹرلو کے اسٹیشن پر موجود تھا۔تین دن شاہی مہمان رہے اس کے بعد ایک ہفتہ سرکاری مہمان ۔برطانیہ سے بلجیئم کے دورے کا ارادہ تھا اور اندازہ یہی تھا کہ بلجیم کا دورہ مکمل کرکے  واپسی کا سفر شروع کریں گے۔ لیکن ابھی برطانیہ میں ہی تھے کہ بادشاہ سلامت نے اعلان کردیا کیا بلجیم کے بعد وہ روس کا دورہ بھی کریں گے۔حکومت برطانیہ نے اپنے نمائیندو ں کے ذریئے اشاروں کنایوں میں سمجھانے کی کوشش کی کہ عالی جاہ بندے بن جاؤ۔ یہ ساری شان شوکت جو آپ کو دی ہے وہ روس سے دور رکھنے کیلئے ہی دی تھی لیکن بادشاہ پھر بادشاہ ہوتا ہے اورمرضی کا مالک ۔ اور اپنی ضد پر اڑا رھا اور روس کا دورہ کرکے ہی واپس گیا۔
اب کیرٹ والا معاملہ توہوگیا تھا ختم اور اب شروع ہونی تھی کہانی سٹک والی
لارنس آف عریبیہ کے نام سے کون واقف نہیں ۔ جس نے ترکوں کے خلاف عربوں کو اکسایا اور خلافت سے نکال کر اپنی حکومت قائم کرنے میں مدد کی ۔ ترکی کا عربوں سے رابطہ ہجاز ٹرین کے ذریعے تھا ۔اور اس ٹریں کی پٹری کو نقصان پہنچانے کیلئے لارنس نے جس حکمت عملی پر عمل کیا وہ کسی ہالی وڈ کی فلم کی کہانی سے مختلف نہیں۔ لیکن یہاں ہم لارنس کا عرب مشن نہیں سنائیں گے بلکہ  آپ کو افغانستان لیئے چلتے ہیں
سٹک پالیسی پر عمل کرنےکیلئے لارنس آف عریبیہ کی خدمات لی گئیں اورایک بزرگ کا روپ دھار کر پشتو سیکھی ۔عربی پر پہلے ہی کمال حاصل تھااور جگہ جگہ وعظ دینا شروع کر دیا ۔جلد ہی ایک نیک بزرگ کی حیثیت سے افغان لوگوں میں اپنا نام بنالیا۔ اس کے معجزوں نے جلد ہی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔جب اپنے معتقدین کا ایک اچھا حلقہ قائم ہوگیا تو اس کے بعد اس نے امان اللہ کے خلاف وہی کام شروع کیا جو آئی جے آئی نے اٹھاسی کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا تھا۔اور نوائے وقت اخبار نے رعنا لیاقت علی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ یورپ کے دورے کی ملکہ کے مغربی لباس میں ملبوس، غیر ملکیوں سے ہاتھ ملانے کی تصویریں اور ایکٹرسز کی تصویروں کو ملکہ کی تصویر کے ساتھ ملا کر بنائی گئی تصویریں عوام میں تقسیم کی گئیں۔ اور بادشاہ کے بارے میں  زوردار پرپیگنڈہ کیا گیا کہ روس جا کر کافر ہوگیا ہے۔ اور اب الحاد کو ملک میں نافذ کرنے کے درپر ہے۔اور یوں بادشاہ کے خلاف نفرت کی ایک ایسی فضا بنا دی گئی کہ اسے عوامی حمایت سے یکسر محروم ہونا پڑ گیا
ایسے حالات میں ایک سابقہ افغان فوجی نظام سقہ نے انگریزوں کے تعاون سے شہروں میں ماڑ دھاڑ شروع کردی اور جلد ہی اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیا۔اور پھر ایک اور ڈاکو سید حسین کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک رات سرکاری محل پر حملہ کردیا۔اب یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگیا ہے لیکن امان اللہ کو محل سے فرار ہونا پڑا اور نظام سقہ کابل کے تخت پر قابض ہوگیا۔ امان اللہ اپنی فیملی کے ہمراہ چھپتا چھپاتا چمن پہنچا۔وہی چمن جہاں سے چند سال پہلے انتہائی لگزری ڈبوں میں اور سرکاری پروٹوکول میں کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا اب بے یارومددگار عام مسافروں کے ساتھ بیٹھ کر بمبئی پہنچا اور اور پھر وہاں سے نکل کر باقی عمر اٹلی گزارنے پر مجبور ہوگیا۔

Monday, February 26, 2018

تاریخ کے جھروکوں سے


چلیں آپ کو ایک کہانی سناتے ہیں ایک بادشاہ کی ۔ بادشاہ بھی ہندستان کا یعنی میرا  آپ کا سب کا بادشاہ۔
 نام تھا اس کا علاؤالدین خلجی ۔ ارے نہیں یہ بالی وڈ کی باتوں میں آکر پہلے ہی منہ نہ بنالیں ۔میں اس کی کسی ملکہ یا غلام کی کہانی نہیں سنانے جا رھا۔بلکہ بادشاہ کی  زندگی کا ایک واقعہ بیان کرنے جا رھا ہوں  ۔علائوالدین  ایک ان پڑھ حکمران تھا جس نے بیس سال تک ہندستان کے ایک وسیع علاقے پر حکومت کی۔انتظامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے حروف  پہچاننا  سیکھ لیئے جس سے تحریر کا مدعا سمجھ جاتا تھا ۔ 
ہندستان پر مسلمان حکمرانوں کی تاریخ اگر کھولی جائے تو صرف تین یا چار حکمران  نظروں سے گزریں گے جن کو آپ مضبوط حکمران قرار دے سکتے ہیں۔ان میں سے ایک علائوالدین کا دور بھی تھا۔ اس کا عہد انتظامی حوالے سے بہترین عہد سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ کچھ لوگ اس کی سفاکی اور ظلم کے واقعات بہت بڑھا چرھا کر پیش کرتے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ ہندستان کو ایسے اعلی منتظم کم کم ہی نصیب ہوئے ہیں۔جس کے فیصلوں اور طرز حکومت سے ایک عام آدمی کو بھی کچھ فائدہ مل سکا تھا۔
ہاں تو بات ہورہی تھی بادشاہ کی ۔بادشاہ قسمت کا کچھ ایسا دھنی ثابت ہوا کہ جو مہم شروع کرتا  وہ کامیاب ہوجاتی ۔ ایک طرف فتوھات اور دوسری طرف کسی میں بغاوت کی جرات نہ ہوئی ۔کچھ امرا ایسے میسر آئے کہ وہ بادشاہ  سے  وفاداری کی اپنی مثال آپ تھے ۔  

جب بادشاہ اپنی غیر معمولی اور مسلسل فتوحات کے نشے میں تھا۔منگول حملہ آوروں کا قلع قمع کر چکا تھا ۔ملک میں غلے اور سامان معیشت کی فراوانی تھی ۔ملک کا انتظام اس قدر مضبوط ہوچکا تھا کہ سلطنت کے راستے اور شہر گڈ گورنس کی بہترین مثال پیش کررہے تھے تو ایسے میں بادشاہ کو خیال آیا کہ قسمت اتنی مہربان ہے تو کیوں نہ سکندر کی طرح پوری دنیا کو فتح کرنے نکلوں یا پھر کچھ ایسا کام کروں کہ میرا نام قیامت تک رہے۔
اس کے چار بہت معتمد ساتھی تھے جن کو وہ چار یار کہا کرتا تھا ان کی مدد سے پہلے نئی شریعت جاری کرنے کا سوچا۔پھر  دنیا کو فتح کرنے کا خبط ذہن پر سوار ہوگیا تھا۔بلکہ مسلسل فتوحات کے بعد سکندر ثانی کا لقب اختیار کرلیا اورناصرف جمعہ کے خطبوں میں  یہ لقب بولا جانے لگا بلکہ سکوں پر بھی کھدوا دیا گیا۔ بادشاہ کے غیص و غضب سے ڈرنے والے درباریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملا کر بادشاہ کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا رکھا تھا۔ ایسے میں ایک دن کوتوال دھلی علاؤالدین علاؤلملک ملنے کیلئے آیا۔ بادشاہ اس کی بڑی قدر کرتا تھا اسلئے  اپنے دونوں منصوبوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بادشاہ کے چاروں یاروں کے علاوہ سب کو محفل سے اٹھوا دیا شراب کی بوتلیں بھی ہٹا دی گئیں اور بادشاہ کو جو دلائل دیئے وہ سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں اور بادشاہ جیسا بھی تھا جہاندیدہ تھا اور باتیں سمجھ میں آگئیں۔
جب نئی شریعت نافذ کرنے کے بارے میں سوال کیا تو علائوالدین گویا ہوا
شریعت کا تعلق وحی آسمانی سے ہوتا ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی ہے اور یہ بات سب خاص و عام کو پتا ہے ۔اگر آپ ایسا کوئی سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کریں گے تو فساد اور بدنظمی ہوگی۔چنگیز خان اور اس کی اولادکی اسلام دشمنی ایک مثال ہے۔ انہوں نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا لیکن وہ اسلام کی روشنی کو ختم نہ کر پائے بلکہ ان کی اولاد مسلمان ہوگئی اور کفار سے جنگ بھی کی 
بادشاہ علاالملک کے جواب سے خاصا مطمئن ہوا اور دنیا کو فتح کرنے کے ارادے کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو جواب ملا
بادشاہ سلامت پہلے تو یہ سوچیں کہ کس کو دھلی کی حکومت سونپ کر جائیں گے جو آپ کی عدم موجودگی میں سلطنت کا انتظام بھی سنبھالے اور آپ کی واپسی پر حکومت بھی آپ کے حوالے کر دے۔اور سکندر کے زمانے میں تو بغاوتوں کی مثال شاذ ونادر ہی ملتی تھی اور آج تو حالات ہی مختلف ہیں۔سکندر کے پاس ارسطو جیسا وزیر باتدبیر تھا جس نے نہ صرف سکندر کی عدم موجودگی میں انتظام سنبھالا بلکہ سکندر کی واپسی پر محفوظ حکومت واپس بھی کر دی ۔اگر بادشاہ کو اپنے امرا پر اس قدر اعتماد ہے تو ضرور اپنے ارادے پر عمل کریں ۔بادشاہ مشورہ ماننے میں کچھ ہچکچاہٹ کا شکار ہوا اور پوچھا کہ پھر میرا یہ ساز وسامان ہاتھی گھوڑے لاؤلشکر کس کام کا؟ تو علاؤلملک نے توجہ ہندستان کی بہت سے مہمات کی طرف دلوائی کہ وہاں بہت ساز وسامان درکار ہوگا بہت توانائی اور پیسے کی ضرورت ہوگی اگر آپ وہی مہمات مکمل کرلیں تو آپ کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ۔ بادشاہ نے علاءالملک کو بہت سے انعام اکرام سے نوازا اور اپنے دونوں ارادے ترک کردیئے ۔
 علاؤالدین خلجی ایک جہاندیدہ بادشاہ تھا ۔ جب منگولوں کا ایک سپہ سالار دھلی پر چڑھ دوڑا تھا توعلاالملک نے لڑائی سے بچنے کا مشورہ دیا تھا لیکن بادشاہ نے اس مشورے کو رد کرکے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور تاریخ نے بادشاہ کے اس فیصلے کو درست قرار دیا 

Saturday, February 10, 2018

ایک خط کے جواب میں


سدا خوش رھو!

اتنے عرصے بعد خط ملا پہلے تو اچنبھا ہوا پھر وہ خوشگوار حیرت میں بدل گیا
دوبارہ پڑھا تو ناسٹیلجیا کے گہرے بادلوں میں خود کو محبوس پایا
میں دیر تک اسی سوچ میں اٹکا رھا کہ تم کہاں ہو؟ کیونکہ یہ خط تو تمہارا ہے لیکن یہ لفظ تمہارے نہیں
وہی انداز لیکن بے روح تحریر۔جیسے تم اداس رہنے لگی ہو، جیسے تمہارا دھیان زندگی میں نہیں رھا۔جیسے تمہارے قدم راستے کی گرد سے بوجھل ہوگئے ہوں۔ جیسے تمہارا سنگ میل تمہاری نظروں سے کسی نے اوجھل کر دیا ہو۔
لیکن جب میں نے تمہاری یاد کے بادلوں میں جھانکا تو تو مجھے تمہارے الفاظ کی روح پر وہ سب بھاری پتھر نظر آنے لگے۔ جنہون نے تمہارے لہجے کو یہ تھکاوٹ بخشی ہے۔ 
تم پوچھتی ہو کہ وہ کونسی امپلس ہے جو تمہیں چٹھیاں لکھنے پر مجبور کرتی ہے تو سنو تمہیں خدا نے ایک امتیاز بخشا ہے، تمہاری سوچ کو ایک جلا دی ہے لکھنے کی قدرت عطا کی تم خیالات کی شمعیں جلا سکتی ہو تم وہ صلاحیت رکھتی ہو کہ جو بن مانگے اپنے حصے کی روشنی دوسروں میں بانٹ دیتے ہیں۔ اس لیئے مجھے یقین ہے کہ تم کبھی لکھنے سے نہیں رک سکتی ۔ تم اب بھی سنگ بہاروں کی تلاش میں نکل سکتی ہو تم ہمالیہ کے شفاف پہاڑوں پر چڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ کم زور تو میں تھا جب تم نے گل پوش وادیوں کی سحرانگیزیاں ڈھونڈنے کیلئے مجھ سے وعدہ مانگا تھا تو میں وہ حوصلہ ڈھونڈ نہیں پایا تھا جس کو پا کر میں تمہارے ساتھ شبنی قطروں کی راہ میں ساتھ چلنے کیلئے ہاں کرتا ۔ میں عذر ڈھونڈ سکتا تھا ۔لیکن میں میں ان دیکھی ان کڑیوں کو توڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا جنہوں نے میرے وجود کو باندھ رکھا تھا
تم واقعی بربت ہو۔ تمہاری سوچ تمہارے ارادے واقعی پربتوں کی طرح بلند اور سنگلاخ چٹانوں کی طرح پائیدار ہیں۔ تمہیں یاد ہے میں کہا کرتا تھا میں کسی دن وہ حوصلہ وہ عظم ڈھونڈ لاؤں گا جو تمہیں تسخیر کرنے کیلئے کافی ہوگا تو تم نے مسکرا کر کہا تھا کہ تم صرف ارادہ باندھ لو میں خود تمہیں سرسبز وادی کے دامن میں بنی اپنی جھونپڑی میں لے جاؤں گی جو چیل اور چنار کے درختوں سے اٹی ہوگی۔ جس کے اوپر نیلا آسمان ہوگا جس کے ساتھ شفاف اور میٹھے پانی کے چشمے بہتے ہونگے ۔لیکن وہ سب باتیں دھرانے کا اب کیا فائدہ ؟
تمہاری باتیں ویسی ہی ہیں جیسی تم پہلے کیا کرتی تھی۔وہی خواب بسنانے کی باتیں، وہی ہوا میں معلق آشیانوں کو ڈھونڈنے کی باتیں ۔ پہلے تم آسمان کے تارے اس سے جدا کرنے کی باتیں کرتی تھی اور اب آسمان کی ریشمی چادر کی بات کرتی ہو لیکن کچھ نہیں ہونے والا ۔ کوئی نئی دنیا دریافت نہیں ہونے والی ۔کوئی تعلق نیا نہیں ملنے والا 
ہم میں سے کوئی بھی غلط نہیں تھا۔ اپنی جگہ ہم دنوں درست تھے ۔ میں مجبوریوں کا پابند تھا تم اپنی خواہشوں کی۔ بالوں میں چاندی اتر اائی تو کیا ہوا مجھے یقین ہے تمہارے خواب آج بھی تمہارے ارد گرد آباد ہیں تمہارے خط میں موجود وارفتگی اور اضطراب بتا رھا ہے کہ تم اپنے افسانوں کے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے آج بھی بے تاب ہو
تم پہلے بھی خواب دیکھتی تھی، خیالوں کے اڑن کھٹولے لیئے پھرتی تھی تم زندگی کو کو بھی خیالی آنکھوں سے دیکھنے کے قائل تھی ۔ تم امنگوں پر جیتی تھی اور تمہارے تصور کی جنت بھی ایسے ہی حسیں تصورات کے سہارے مہک جاتی تھی ۔ مجھے یقین ہے تم آج بھی خواب دیکھتی ہو انہی خوابوں نے تمہیاری جستجو کی حس کو تمہیں ایک بار پھر میرے سامنے لاکھڑا کیا ہے 
لیکن کیا کیا جائے میرا اور تمہارا رشتہ زمین اور آسمان کا ہے جو ایک ساتھ نظر آنے کے باوجود ہمیشہ دور رہتے ہیں ۔ ہم دونوں ایک بینچ پر اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرے کو تنگ نہیں کر سکتے ایک دوسرے کو قائل نہیں کر سکتے لیکن میں سمجھ سکتا ہوں تڑپ کے کنول کھلنے سے روکناکسی کے بس میں نہیں ہوتے ۔ایک مجروح مسکان کی طرح ،روح کی تسکین کیلئے 
لیکن میری جان! زندگی چند رنگینیوں کا نام نہیں ہے یہ یکطرفہ خیالوں کا مجموعہ نہیں ہے ۔مجھے ڈر لگتا ہے جس دنیا کو تم آسمانوں کے پڑے ڈھونڈتی تھی کہیں وہ جیون کے سپنوں کا سحر توڑ نہ دے ۔ مجھے ڈر ہے ریشمی چادر کے پیچھے کی دنیا تمہاری بسائی جنت کو تحلیل نہ کر دے۔ تمہارے نازک سے دل کا آبیگینہ کہیں دوبارہ نہ ٹوٹ جائے
کیونکہ اب تمہارے دل کا ٹوٹنا کافی دردناک ہو سکتا ہے.میں بتا نہیں پایا کبھی لیکن یہ مجھے بھی بہت عزیز رہا ہے.تمہارا دل تمہارے قلم ہی کی طرح تتلیاں بناتا ان میں رنگ بھرتا ہے خواہشوں کی تتلیوں کے پیچھے بھاگتا ہے تو دوسری طرف آس کے جگنو بھی بناتا ہے جو رستے کو پرنور کر کے مسافروں کے لیے آسانی کر دیتے ہیں.
نا چاہتے ہوئے بھی خط ختم کرنا پڑ رہا ہے. کیونکہ صفحہ کتنا بھی لمبا کیوں نہ ہو ختم ہوجاتا ہےزندگی کا ہو چاہے کتاب کا صفحہ پلٹنا تو پڑتا ہے.
فقط
تمہارا

Wednesday, November 15, 2017

ناقابل فراموش


چند دن پہلے پنجاب یونیورسٹی کے حوالے سے سوئمنگ پول میں ایک نوجوان کے ڈوبنے کی خبر سنی تو ذہن بے اختیار کئی سال پیچھے چلا گیا ۔جب میں نے پہلی بارسوئمنگ پول میں قدم رکھا تھا اور پہلا قدم ہی ڈگمگا گیا اور چار فٹ گہرے پانی سے سترہ فٹ گہرے پانی کی طرف بہہ گیا۔
میڈیکل کالج کے ابتدائی دنوں کی بات تھی، جب ایک شام کمرے میں دوستوں نے انکشاف کیا کہ کالج کا سوئمنگ پول کھل گیا ہے۔ اسی وقت پرانی پینٹ کو کاٹ کر نیکر بنایا اور ان کے ہمراہ ہولیا۔مغرب سے کچھ دیر پہلے جب پول کے بند ہونے کا وقت تھا۔ بہت کم لڑکے وہاں موجود تھے۔
جب اپنے جسم کو پانی میں سنبھالنے کی کوشش شروع کی تو جسم سطح پر آنے کی بجائے گہرائی میں ڈوبتا جارھا تھا۔ باوجود اس کے کہ میرے حواس قائم تھے لیکن میں بے بس تھا۔آواز دینے کی کوشش کرتا تو منہ میں پانی چلا جاتا۔ ہاتھ پائوں مارتا تو پانی کی مزید گہرائی میں اتر جاتا۔دماغ میں بس ایک ہی خیال گھومے جارھا تھا۔ کسی کی میرے اوپر نظر پر جائے اور گارڈ تک خبر پہنچ سکے۔جو وہیں کہیں موجود تھا۔ لگ بھگ تین چار منٹ کے بعد سوئمنگ کرتے ایک لڑکے نے مجھے پانی میں ہچکولے کھاتے دیکھ لیا اور چیخیں مارنا شروع کردیں۔اس وقت تک میرے اعصاب جواب دے چکے تھے۔ گارڈ نے کپڑوں سمیت چھلانگ لگا دی۔ پیٹ دبا کر پانی نکالا، ہاتھوں اور ٹانگوں کو ہلا کر ان کی ورزش کروائی۔ چند منٹ بعدہوش آیا تو لگا سب کچھ خواب تھا ۔۔۔۔۔
دو سال تک کیفیت، یہ رہی کہ نالی میں بھی بہتا پانی دیکھ لیتا تو چکر آنے لگتے اور دل ڈوبنے لگتا ۔لیکن پھر ہمت کرکے دوبارہ پول میں اترا اور تیرنا سیکھا اور پھر بہت سے لوگوں کو سکھایا بھی۔چند سال پہلے جناح ہسپتال کے باہر ایک سٹور پر ایک دوائی لینے رکا۔جب دوائی کی قیمت پوچھی تو اس نے لینے سے انکار کردیا کہ بہت سال پہلے میں اپنے کزن کے ہمراہ آپ کے کالج کے سوئمنگ پول آیا کرتا تھا تو آپ نے مجھے سوئمنگ سکھائی تھی۔ آپ کا نام مبشر ہیں نا؟۔۔۔
بہت ہی عزیز دوست ڈاکٹر شہباز ایاز کا یہ قرض میں زندگی بھر نہیں اتار سکتا جس کی بروقت چیخ وپکاڑ نے مجھے ایک نئی زندگی دی۔ ورنہ پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم کی طرح ایک خبر بن چکا ہوتا


دو ہزار چھ میں ایک کام کے سلسلے میں لاہور جانا ہوا۔رات کو ایک ڈیڑھ بجے کام سے فارغ ہوگئے تو سوچا  اب یہاں کیا رکنا۔ ڈرائیور ساتھ ہے واپس نکلتے ہیں۔فروری کا مہینہ تھا اور کچھ جگہوں پر دھند سے واسطہ پر رھا تھا۔جب تاندلیانوالہ سمندری روڈ سے اتر کر کنجوانی روڈ پر گاڑی مڑی تو میں نے اپنی سیٹ بیلٹ کھول دی کہ اب گھر زیادہ دور نہیں رھا۔ اور اگلے ہی لمحۓ دھند کا ایک ٹکڑا سامنے آگیا اور اس سے پہلے ڈرائیور گاڑی کی رفتار کم کرتا، گاڑی سڑک کے درمیان گنے کی ایک خراب ٹرالی کے نیچے گھس گئی۔ میں اچھلا اور میرا سرگاڑی کی ونڈ سکرین سے ٹکرایا اور گاڑی کا کنارہ ٹرالی کے پریشر سے پچک کر اس سیٹ کے ساتھ جا لگا جہاں لمحہ پہلے میں بیٹھا تھا۔ اگر سیٹ بیلٹ لگی ہوتی تو یقینا وہ مجھے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہوتا۔
ہوش اس وقت آیا جب لوگ مجھے نکال چکے تھے۔ اللہ کا شکرتھا کہ سر میں چند ٹانکوں کے علاوہ کہیں کوئی ضرب نہیں آئی تھی۔ 

مکھی شہد کیوں بناتی ہے


شہد دراصل وہ غذا ہے جو شہد کی مکھی اپنے لیئے سردیوں کیلئے محفوظ کرتی ہے۔ اور جس خوارک پر وہ اپنے بچے پالتی ہے
شہد کی مکھی پھولوں سے دو طرح کی چیز اکھٹی کرتی ہے۔ ایک تو نیکٹر ہوتا ہے اور دوسرا پولنز۔پولن پھول کا نر حصہ پیدا کرتا ہے جو فیمیل حصے تک پہنچ کر پولی نیشن کا عمل کرواتا ہے۔نیکٹر ایک میٹھی رطوبت ہوتی ہے جو پھول پولی نیشن کیلئے مکھیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے پیدا کرتا ہے۔
نیکٹر سے شہد بنتا ہے۔ جو شہد کی مکھی اپنے معدے میں بنی تھیلیوں میں جمع کرتی رہتی ہے اوراگر جسم کو ضرورت محسوس ہوتو جسم ان تھیلیوں کو پھاڑ کر اس کو استعمال بھی کر لیتا ہے۔ عام طور پر جب نیکٹر کا وزن شہد کی مکھی کے وزن کے برابر ہوجاتا ہے تو مکھی اپنے چھتے کو لوٹ جاتی ہے۔۔ اور وہاں سے ایک کھیل شروع ہوتا ہے وہ ہے نیکٹر کا ایک مکھی سے دوسری مکھی کو منتقلی ۔۔ اور یہ کھیل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک نمی کا تناسب بہت کم رہ جاتا ہے۔جو لگ بھگ ستر فیصد سے کم ہوکر بیس فیصد پر آجاتا ہے۔۔۔جب نمی کا تناسب اس قدر کم ہوجاتا ہے تو شہد کی تیاری مکمل ہوچکی ہوتی ہے۔اسےچھتے میں بنی ویکس کی نالیوں میں ڈال کر اوپر سے ویکس کا ڈھکن لگا کر محفوظ بنا دیا جاتا ہے۔
اب آتا ہے سوال شہد تو نیکٹڑ سے بن گیا پولن کہاں گیا؟
تو جناب جب بچوں کو شہد کھلایا جاتا ہے تو مکھی کو معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کو پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے اس لیئے شہد کے ساتھ پولن کا سینڈوچ تیار کرکے بچوں کو کھلایا جاتا ہے۔

Monday, October 16, 2017

قصہ ایک مثالی گائوں کا


کسی زمانے میں ماموں کانجن شہر کی شناخت اہل حدیثوں کا مشہور مدرسہ اور کجھور مارکہ صابن ہوا کرتے تھے۔ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ بہت بڑی عمارت میں صوفی محمد عبداللہ کے ہاتھوں وجود میں آنے ادارہ آج بھی موجودہے۔ کسی زمانے میں دنیا بھر سے طالب علم حصول علم کی خاطر اس چھوٹے سے قصبے کا رخ کیا کرتے تھے۔ جس کے زیر اہتمام ہونے والے سالانہ اجتماع میں ملک بھر سے لوگ شرکت کیا کرتے تھے اور میزبانی کی ذمہ داریاں صرف مدرسہ کی انتظامیہ ہی نہیں بلکہ پورا شہر اور ارد گرد کے گاؤں سنبھالا کرتے تھے لیکن حالات نے کروٹ بدلی تو اجتماع بھی ختم ہوگیا اور بیرونی ممالک سے طلبہ کے آنے پر بھی پابندی لگ گئی۔ 
اسی جامعہ کی عمارت کے سامنے حاجی دین محمد صاحب کےکجھور مارکہ صابن کے کارخانے کی بلڈنگ ہے۔جو اپنے معیار کی وجہ سے ایک عرصے تک اپنی پہچان آپ تھا ۔ فیکٹری تو خیر اب بھی چل رہی ہے اور کاروبار بھی لیکن اب مارکیٹنگ کا دور ہے اور اس کے مالکان آج بھی معیار کی بنیاد پر صابن بیچنے کی کوشش کررہے ہیں اور کچھ حاجی صاحب کی کاروبار سے علیحدگی کے بعد پہچان دھندلکوں میں گم ہوتی جارہی ہے۔
حاجی دین محمد صاحب سے آخری دنوں میں ان کے علاج معالجے کے سلسلے میں ملاقاتیں رہی ہیں ۔ بہت ہی نفیس انسان تھے۔آخری عمر میں گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے۔ ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوتاتو ان کی آنکھوں میں ایک چمک آجاتی۔جب  پوری ہمت جمع  کرکے بیٹھ کر سلام لینے کی کوشش کرتے تو بے ساختہ ان پر پیار آجاتا تھا۔اس قدر جامع انسان تھے کہ ان کی شخصیت  پر لکھنے کیلئے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہے۔
لیکن چند سال پہلے سوشل میڈیا پر ایک مثالی گاؤں کی اخباری رپورٹ شائع ہوئی ۔جس  کے بعد مامونکانجن کی شناخت میں اس گاؤں کا ذکر ملنا شروع ہوگیا ہے۔کہیں بھی مامونکانجن شہر کا تذکرہ  نکل پڑے تو فورا مثالی گائوں کے بارے سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا کوئی گائوں علاقے میں موجود ہے۔چند دن پہلے انباکس بنوریہ ٹاؤن  مدرسے کے ایک طالب علم نے اس گاؤں کے بارے کچھ سوالات کیئے تو سوچا کہ اس پر کچھ لکھا جانا چاہیئے۔
صوفی عبداللہ صاحب نے 1931 میں اپنے مدرسے کی بنیاد اوڈاں والی 493 گ ب میں ہی رکھی تھی لیکن اس زمانے کے اکلوتے ذریعہ مواصلات ریلوے  سے کافی دور ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مدرسے تک پہنچنے کیلئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کے پیش نظر  ریلوے سٹیشن کے قریب زمین خرید کر مدرسے کو    1964 میں وہاں منتقل کردیا گیا۔ لیکن گاؤں والوں نے پرانے مدرسے کو بند نہیں ہونے دیا اور مولانا یعقوب صاحب نے اس مدرسے کو جاری رکھا۔ ان کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے حافظ امین صاحب نے اپنے والد کی ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔
مامونکانجن میں کلینک شروع کرنے کے کچھ عرصے بعد  میں ٹریفک حادثے میں جانبحق ہونے والے ایک جواں سال  کے جنازے میں شرکت کیلئے اوڈاں والی جانے کا اتفاق ہوا۔ امام صاحب نے جس رقت آمیز لہجے میں مرحوم کیلئے دعائیں کرنا شروع کیں تو بے اختیار آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایسے لگا جیسے اللہ سے مغفرت کا وعدہ لیکر ہی دعائیں ختم کریں گے۔ میرا اندازہ تھا کہ چونکہ جوان موت تھی اور وہ بھی ناگہانی تو شائد اسلیئے اتنے خشوع خضوع سے دعائیں کی گئیں ہیں لیکن دوبارہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا وہ ہر جنازہ ہی اتنے خلوص اور درد کے ساتھ پڑھاتے ہیں۔
حافظ امین صاحب سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ اور اوڈاں والی کو ایک مثالی گاؤں کی حیثیت دینے اور اسے برقرار رکھنے میں انہی باپ اور بیٹے کا سارا کردار ہے۔
ہمارے ہاں مثالی کا لفظ سن کر ذہن میں فورا خیال آتا ہے کہ شائد گاؤں کی ہر گلی پختہ ہوگی۔ پورے گاؤں کو سیوریج کی سہولت میسر ہوگی۔گھر گھر سوئی گیس موجود ہوگی ۔ بھرے بازار ہونگے۔ ہر گھر پکا ہوگا۔ ۔خواندگی کا تناسب سو فیصد ہوگا اور ہر دوسرا بندہ اعلی تعلیم یافتہ  ہوگا۔گائوں کی معیشت بہت بلند ہوگی۔ ہر گھرانے کا شمار صاحب ثروت لوگوں میں ہوتا ہوگا۔
 تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ 
یہ وہ گاؤں  ہے جس کا کوئی جھگڑا آج تک تھانے نہیں پہنچا۔ہر تنازعہ مسجد میں طے پاجاتا ہے۔یہ وہ گاؤں ہے جس کی دکانوں پر سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے۔جہاں صرف دو مسجدیں ہیں ایک تو وہ جس کے ساتھ مدرسہ منسلک ہے اور دوسری لوگوں کی سہولت کی خاطر گاؤں کے دوسرے کنارے کچھ عرصہ پہلے تعمیر کی گئی تھی لیکن اذان کیلئے اس کا سپیکر مرکزی مسجد سے منسلک ہے۔ یہ وہ گاؤں ہے جہاں بارات کے ساتھ بینڈ باجا لانے کی اجازت نہیں ۔اگر کسی نے ایسا کیا تو پورا گائوں اس گھرانے کا بائیکاٹ کردیتا ہے۔ ہر نکاح مسجد میں ہوتا ہے اور گاؤں کی اپنی جنازہ گاہ ہے ۔ وفات کا صدمہ کسی بھی گھرانے کو اٹھانا پڑے لیکن اس کے جنازے میں پورا گائوں شرکت کی کوشش کرتا ہے۔ گاؤں کا قبرستان انتہائی منظم اورقبریں انتہائی ترتیب کے ساتھ بنائی جاتی ہیں ۔پورے قبرستان میں کوئی قبر پختہ نہیں دکھائی دے گی۔ کیبل کا داخلہ تو ممنوع  تو ہے ہی ۔لیکن دوسرے گاؤں جانے کیلئے بھی کیبل کو گاؤں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پورے گاؤں میں ناجائز تجاوزات نظر نہیں آئیں گی ۔اس لیئے گاؤں کی گلیاں اور بازار آج بھی کشادہ نظر آتے ہیں اور کسی چوک میں نوجوانوں کی ٹولیاں کھڑی دکھائی نہیں دیں گی۔ ہاں بیٹھکیں آباد ہیں، جہاں خوب محفلیں جمتی ہیں۔ حافظ امین صاحب کے زیر نگرانی ایک انجمن کام کرتی ہے جو غریب بچیوں کیلئے شادی کا اہتمام کرتی ہے۔۔۔

بتانے کو شائد کچھ اور باتیں بھی ہوں  لیکن اہم بات یہ ہے کہ نظریات یا نظریاتی ہم آہنگی کسی بھی سماج کے دو فیصد سے بھی کم افراد کا مسئلہ ہوتا ہے۔ جو کہ حل کا متقاضی بھی نہیں ہوتا۔ اور معلوم تاریخ سے ہمیں یہ بھی پتا چلا ہے کہ نظریاتی ہم آہنگی ممکنات میں شائد کم ہی آتی ہے۔اوڈاں والی گائوں سے  میں دو سبق ڈھونڈتا ہوں ایک تنظیم اور دوسرا لیڈرشپ۔لہذا اگر اس گاؤں کو ایک چھوٹی اکائی تصور کر کے اس ڈھانچہ پر بڑے لیول پر ضروری تبدیلیوں کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو کیا وجہ ہےکہ ہم ایسے مثالی "گاؤں" تخلیق نہ کر سکیں۔
میم سین

Wednesday, October 11, 2017

تبصرہ کتب


Shelter Of The Golden Rosewood by Pritam Singh Mahna


فرام سپاہی ٹو صوبیدار، آٹوبائیوگرافی آف لطف اللہ اور ٹریولز ان انڈیا ایسی کتابیں تھیں کہ جنہوں نے مجھے سوانح عمریاں پڑھنے پر لگا دیا تھا۔اگرچہ ٹریولز ان انڈیا کا دوسرا والیم کوشش کے باوجود مل نہیں سکا اس لیئے اس کتاب کی تشنگی ابھی تک باقی ہے۔اور اب فیس بک کے توسط سےملنے والے پریتم سنگھ ماہنا کی اس کتاب نے ایک بار پھر سحر پھونکا ہے کہ کتاب کا پہلا صفحہ شروع کیا تو پھر ختم کرکے کی ہی اٹھا۔
شیلٹر آف دا روزوڈ جدوجہد کی ایک لازوال داستان ہے ہے۔جو پریتم سنگھ ماہنا کی زندگی پر مبنی ہے پاکستان میں منڈی بہاؤلدین کے ایک گاؤں میں ایک غریب کسان کے گھر آنکھ کھولی تو خود کو مصائب اور مسائل کے لمبے سلسلوں میں خود کو قید پایا۔لیکن یہ داستان ان کی پیدائش سے شروع نہیں ہوتی بلکہ کہانی کے سرے ان کے والد کی پیدائش سے بھی پہلے جڑےہوئے ہیں ۔مصنف نے واقعات کو غیر ضروری طوالت سے بچایا ہے۔ واقعات کے بیان میں بھی مقصدیت کو سامنے رکھا ہے۔ اسے کوئی افسانوی رنگ دینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ کتاب کا آغاز ہی کچھ ایسا دلچسپ ہے کہ ایک بار جب پڑھنا شروع کریں تو پھر کتاب بند کرنے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔تقسیم سے پہلے کی زندگی کی تلخیاں ،ہجرت اور اس دوران پیش آنے والے اندوھناک واقعات ۔ پناہ گزیں کیمپوں کے دردناک حالات، مسائل در مسائل۔پناہ گزیں کیمپ سے نکل کر جھگیوں تک کا سفر۔ اور تعلیمی مشکلات لیکن کوئی بھی تکلیف کوئی بھی رکاوٹ پریتم سنگھ ماہناکو آگے بڑھنے سے نہ روک سکی۔ 

یہ کتاب محض ایک شخص کی داستان حیات ہی نہیں ہے۔اور نہ ہی ایک شخص کی جدوجہد کا نام ہے۔ بلکہ یہ ایک تاریخی سند کا درجہ رکھتی ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کا رہن سہن کیسا تھا، ایک عام آدمی کی مشکلات کیا تھیں، اسباب زندگی کیا ہوتے تھے۔ خواراک کے مسائل کیا تھے۔ رشتے کیسے نبھائے جاتے تھے۔ 
اس کتاب کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والی قتل وغارت کا ایک ایسا رخ بھی دکھایا گیا ہے جو شائد ان کیلئے بالکل نیا ہو جو تقسیم ہند کو صرف ایک زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ہندوستان منتقل ہونے کے بعد جن صعوبتوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا وہ سب کچھ پڑھ کر دل بھر جاتا ہے۔ ایک عجیب بے بسی اور بیچارگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ لیکن جہدمسلسل، دیانت ، صداقت اور مصمم ارادوں سے سے جس مقام تک پہنچے وہ ناصرف سب کیلئے مشعل راہ ہے بلکہ زندگی میں کامیابی کے بنیادی اصولوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے

تقسیم کے بعد جب پہلی بار پریتم سنگھ ماہنا پاکستان آئے تواپنی روداد کو یوں بیان کیا

MY FIRST VISIT TO PAKISTAN AFTER THE PARTITION

In the year 1998, I received a telephonic invitation from the brother of my daughter-in-law's grandfather from Pakistan. After the partition, he had opted to continue to be there after embracing Islam.
To get a visa, I approached the Visa Officer in the office of the High Commission of Pakistan. He was, nevertheless, reluctant to issue the Visa without obtaining a verification from the Ministry of External Affairs in Islamabad and that would have taken about 6 months . I, therefore decided to blackmail him emotionally. I talked to him in Punjabi "Mainu bahut afsos lag riha hai ke saadi jis zameen te tusi Pakistan banaya, asin oh vekhan vi nahi ja sakde" (I am feeling tense to imagine that we cannot see our own land over which you have created Pakistan). Hearing this, he laughed a lot and ultimately, issued to me the visa instantly.
We (I alongwith my two brothers, one sister-in-law and my wife) reached CHAK 19 JANUBI, Padhiyawali, P.S. Kotmoman, Distt. Sargodha on 3rd March, 1998. The affection showered by the entire family there, is beyond description and in case I mention the details, the Post will be in a big volume.
The Head of the family Sheikh Ghulam Rasool (Original Hindu name: Hans Raj Oberoi) took over the charge of our tour to various destinations one of which was my home village Rukkan. He took out his own car and did not allow us to spend even a rupee from our pocket during the entire tour.
After showing us his Kinnoo Gardens in the village, and Sargodha
city, He took us to Rukkan, our native place (our actual native village was "Bhutta Mahnia da", but in the year 1921, my father had shifted to Rukkan). First of all, we entered my school then I studied in. All the teachers were so excited to meet us that they would not allow us to go till such time as we all had been served with tea and snacks. We were then taken to the Pori Family's Haveli. The host's family and friends were about 25 in number. We chatted a lot with them and each of them was overjoyed to meet us all. They served us with LASSI, Tea and snacks. Nevertheless, they were not prepared to believe that our speaking language was the same Punjabi as that of Rukkan.
The head of the Pori family Mr. Ghulam Qadir Pori, took us to our ex-houses. A large mob of people had gathered on the road and outside our ex-houses on learning about our arrival from India. We were then seen off. We had walked about 100 meters when we stopped in front of a shop of utensils. After buying a few, we were still in the process of making payment when the Poris came running and paid the money to the shopkeeper on our behalf.
While leaving Pakistan, we were required to get a clearance certificate from Police Station, Kotmoman. Here too, the Inspector on duty paid a lot of respects and regards and did not allow us to leave without serving refreshment. On coming out of the Police Station, we saw the kiosk owner outside and he too, with tears in his eyes, persuaded us to accept his tea, since, according to him, he was a very poor man and, thus, should not be discarded on account of his poverty. Besides, he gave us a few gifts before we left.
To return to India, we had to take a bus from Kotmoman, The entire family of Sheikh Ghulam Rasool had come to see us off. He purchased the tickets with his money and thus, we had not spent even a rupee while in Pakistan in the first week of March, 1998.The entire family had tears in their eyes.
How great the Pakistanis are in the matter of respecting the guests despite the fact that we were from a rival country.




کسی دوست کو پڑھنے سے دلچسپی ہے تو کتاب کیلئے مجھ سے یا مصنف سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں 
میم سین
Pritam Singh Mahna