Tuesday, October 22, 2019

بِلُّو کی یاد میں.



....

زبردستی مرغی کے گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے منہ میں ڈالے گئے. لیکن ہاضمہ برداشت نہ کرسکا..خود سے کچھ کھانا بھی اس کیلئے ممکن نہ تھا...پھر طے پایا کہ کلیجی زود ہضم ہوتی ہے اس کا استعمال کرتے ہیں اور یہ تجربہ کامیاب رھا. دو تین بار زبردستی خوراک اس کے اندر گئی تو اس نے ناصرف انکھیں کھول دیں بلکہ جسم کو بھی حرکت دینا شروع کردیا..
وحید میرے کلینک پر کام کرتا ہے..محنتی ہے.سمجھدار بھی....کافی خوب بناتا ہے لیکن جو چیز اس کی شخصیت کو ممتاز بناتی ہے وہ اسکی قدرتی حیات میں غیر معمولی دلچسپی ہے.وہ حشرات ہوں یا پھر چرند پرند..یا پھر پالتو جانور...مچھلی کا شکار اس کا جنون ہے...مشاہدہ اس قدر گہرا کہ گھنے درخت پر بیٹھی چڑیا کو دور سے تاڑ لیتا ہے..پرندوں کے بارے اس کی ابزرویشن ایسی کہ نر اور مادہ پرندے کے درمیان فرق بتادیتا ہے.کان ایسے تیز کہ ان کی بولی پہچان لیتا ہے..
اس دن جب گرمیوں کی پہلی آندھی آئی تو اسے ایک الو کہیں سے گرتا پڑتا ملا. لیکن یہ الو نہیں، الو کا پٹھا تھا..جس کے ابھی پر بھی پوری طرح سے نہیں نکلے تھے...بھوک سے نڈھال، کچھ گھونسلے سے بچھڑ کر خوف زدہ.. الو کے پٹھے کی معصومیت پر دل کچھ ایسا گریفتہ ہوا کہ اس کو گود لینے کافیصلہ کرلیا..اور وحید کو اس کی آیا مقرر کردیا گیا.
دو دن میں وہ ناصرف ہشاش بشاش ہوچکا تھا بلکہ اپنی شرارتوں کا آغاز بھی کرچکا تھا..جس پر نام کے خانے میں بِلُّو لکھ کر باقائدہ اپنی فرزندگی میں لے لیا گیا...
چند ہی دن میں بِلو ایک فیملی ممبر بن چکا تھا..جس نے نا صرف اڑان بھرنا شروع کردی بلکہ انگلی پر بیٹھ کر اپنا رقص بھی دکھانا شروع کردیا..محبت سیکھنے سے نہیں آتی. نہ تجربہ درکار ہوتا ہے. محبت تو بس ایک ذاتی جذبے کا نام ہے جو بن بولے، بن سمجھے اپنا رستہ بنا لیتا ہے.اور یہ جذبہ بِلو تک رسائی حاصل کرچکا تھا..
جب کائنات کی سب بہاریں اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں سما چکی تھیں.تب محبت بکھیرتی اس کی ادائوں کی قندیل کچھ پھرپھڑانے لگی..خوشی کی رمق پھوٹتی، پھر بجھنا شروع ہوجاتی. بِلُّو کچھ چڑچڑا رہنے لگ گیا.کھانے میں کچھ دیر ہوجاتی تو ضد کرنا شروع کردیتا..کاٹنے کو دوڑتا..پنڈ کے سیانوں نے بتایا کہ بِلو جوان ہوگیا ہے.اس کیلئے کوئی "الّٰی" ڈھونڈی جائے..جس کے بعد ایک عدد خاندانی گھرانے کی تلاش شروع کردی گئی ...ایک وچولن سے بھی بات کی گئی..لیکن نفسا نفسی کے اس دور میں ایک یتیم لاوارث الو کو کون اپنی "الّی" دیتا...کہیں سے بھی مثبت اشارہ نہ ملا..دن بدن بِلو نے کھانا پینا کم کردیا ..اس کی شرارتیں بھی مانند پڑنا شروع ہوگئیں..
ایسے میں ایک روز خبر ملی کی شہر کے پاس الووں کی ایک بستی ہے.بحریہ ٹائون جیسی سہولتوں سے مزین تو نہیں لیکن رہنے کیلئے اقبال ٹائون سے کم.بھی نہیں...طے یہ پایا کہ اس کو ادھر لیجا کر چھوڑ دیتے ہیں ...اور بِلّو کسی "الّی" سے انڈرسٹینڈنگ بنا کر کورٹ میرج کرلے..
ایک شام بڑی دھوم دھام سے مستنصر حسین تارڑ کی کتاب الُّو ہمارے بھائی ہیں کے سائے میں کلینک سے رخصت کیا گیا.رخصتی کے موقع پر تاجے کے سموسوں اور منیرے کی جلیبیوں سے ضیافت کا اہتمام کیا گیا. .لیکن اگلے دن وحید کندھے پر بٹھائے اسے لیکر واپس آگیا..پتا چلا جب اسے الووں کی بستی چھوڑا گیا تو بِلو نے ایک پرجوش اڑان بھری ...لیکن کچھ ہی دیر بعد پریشان حال واپس لوٹ آیا..
ماہر الووات ملک شہباز صاحب نے مشورہ دیا کہ کم عمری کی شادی مزید مسائل پیدا کردے گی..پہلے اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع دیں..کچھ دنیا کے رنگ ڈھنگ سیکھنے کا موقع دیں.جس پر بِلو کیلئے کلینک کے چھت پر جوڈو اور تائییکوانڈو کے کورسز ترتیب دیئے گے..
دو ہفتے کی سخت تربیت کے دوران توانائیاں استعمال ہونا شروع ہوئیں تو ناصرف بَلُّو کی آنکھوں کی شرارت واپس لوٹ آئی بلکہ اس نے پھر سے اپنی اٹھیکیلیاں شروع کردیں..صحت بھی کافی اچھی ہوگئی ..کورس کے اختتام پر جب اس نے اپنی خوراک تلاش کرکے خود کو شادی کیلئے اہل ثابت کردیا تو دوبارہ اسے مشن پر اقبال ٹائون ڈراپ کیا گیا.. بِلُّو نے ایک لمبی اڑان بھری اور نظروں سے اوجھل ہوگیا.کافی دیر تک اس کا انتظار کیا گیا .لیکن وہ لوٹ کر واپس نہ آیا..
سنا ہے اجکل برگد کے ایک پرانے پیڑ کی کھوہ میں اپارٹمنٹ الاٹ کروا کر اپنی نئی نویلی دلہن کی انکھوں میں جھانک کر جذبات کی قندلیں روشن کررہا ہے
...
بہتی ہوا سا تھا وہ
اُڑتی پتنگ سا تھا وہ
کہاں گیا اُسے ڈھونڈو

کہاں سے آیا تھا وہ
چھو کے ہمارے دل کو
کہاں گیا اسے ڈھونڈو

میم سین

پانی والے تالاب کی کہانی...




لاہوری گیٹ سے داخل ہوں یا پھر رنگ محل یا پھر شاہ عالمی والی سائیڈ سے...سنہری مسجد سے گزر کر ٹیکسالی گیٹ کی طرف بڑھیں تو ایک نام سننے کو ملتا ہے پانی والا تالاب...اب پہلی غلطی تو یہ ہوجاتی ہے . آپ ایک عدد تالاب کی تلاش شروع کردیتے ہیں.اور دوسری غلطی مقامی لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کرکے کرتے ہیں .جن کو اگر اس کے بارے معلوم.بھی تو بھی ان کے اندر کا لاہوری جاگ جاتا ہے...
ویسے میرا لہوریوں بارے اچھا گمان رھا...بس سمجھانے کاانداز کچھ ایسا ہوتا ہے کہ پتا نہیں چلتا بتانا کیا چاہ رہے ہیں...
اب تو خیر.. رہے نام گوگل کا...گوگل میپ نے بہت آسانی کردی ہے..رستہ پوچھنے کی بہت کم ہی نوبت آتی ہے...اس دن بھی گوگل نے عمارت کے دروازے تک پہنچا دیا تھا لیکن چونکہ ذہن میں تالاب گھوم رھا تھا اسلیئے تالاب کو ڈھونڈنے کے چکر میں لہوریوں سے مدد لے لی...عمارت کے لگ بھگ دروازے پر ایک بندے نے کچھ دور ایک سکول کا رستہ سمجھایا اور اس کے ساتھ ہی تالاب کی موجودگی کا عندیہ دیا...وہاں پہنچ کر رہنمائی کی گئی آپ غلط روڈ پر آگئے ہیں..یہاں سے اگے جائیں .جوتوں کی ایک بڑی دکان ائے گی وہاں سے جو گلی اندر جائے گی وہ تالاب تک لیجائے گی..اس دوران گوگل مسلسل آوزیں دیتا رھا
...پیچھے دیکھو پیچھے دیکھو..
.لیکن ہم نے لہوریوں کی زبان پر یقین کیا اور گوگل کو شٹ اپ کال دے دی...کوئی آدھا گھنٹہ خواری کے بعد ایک بابا جی نے تالاب کے حوالے سے غلط فہمی دور کی تو گوگل سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگئے.....
اٹھارہ سو اسی تک لاہور شہر میں گھروں کو پانی کی سپلائی کا ذریعہ صرف کنوئیں تھے... ماشکی معاشرے میں ایک اہم.مقام.رکھتے تھے..جو مشکیزوں میں پانی بھر کر گھروں تک پہنچاتے تھے یا پھر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت برتنوں میں پانی بھر کر گھروں میں سٹور کرتے تھے...اٹھارہ سو اکیاسی میں پہلے باقائدہ سینٹری سسٹم کی تنصیب کا آغاز ہوا.اس نطام کے ذریئے اگلے ایک سوسال تک پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی..جس کیلئے شہر کی سب سے اونچی جگہ کا انتخاب کیا گیا اور پلرز بنا کر ان پر دس ہزار گیلن پانی سٹور کرنے کیلئے بڑے بڑے ٹینک رکھے گئے اور کنوئوں سے پانی لفٹی پمپس کے ذریئے ان میں جمع کیا جاتا تھا اور وہاں سے نلوں کی مدد سے گھر گھر پانی پہنچانے کا آغاز ہوا..ابتدا میں کنووں سے پانی اکھٹا کیا جاتا تھا.بعد میں ٹیوب ول لگائے گئے اور اجکل ٹربائنوں کے ذریئے پانی ان ٹینکوں تک پہنچایا جاتا ہے.....
کافی دیر تالاب کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد ایک بزرگ نے ایک عمارت کی طرف رہنمائی کی. غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع ہے کا بورڈ دیکھ کر وہاں کے ڈائریکٹر سے رابطہ کیا اور اس بات کی یقین دھانی کے بعد کہ ہمارا تعلق کسی اخبار یا ٹی وی چینل سے نہیں ہے تو اندر جانے کی اجازت مل گئی. عمارت کی زبوں حالی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ عمارت کو دیکھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی...ڈیرھ سو سال پرانی عمارت جو ناصرف فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے بلکہ ایک تاریخی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہے .اس کی چھت بوسیدہ ہوکر دو جگہ سے گر چکی ہے اور چھت پر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے..بڑے بڑے پانی کے پائپ اب بھی دیکھے جاسکتے جن پر 1880کنندہ ہے...
ایک سو چالیس سال گزر جانے کے باوجود پانی والے تالاب کا یہ نظام اب بھی کام کررھا پے لیکن عمارت کی زبوں حالی دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا کہ جلد یہ تاریخی ورثہ اپنی عمر مکمل کر لے گا...کسی بھی باشعور قوم کیلئے ایسے ورثے ان کے اثاثے ہوتے ہیں.اور ان اثاثوں کی حفاظت کرنا وہ اپنا اولین فرض سمجھتی ہیں..لیکن نہیں معلوم.خود کو باشعور قوم ثابت کرنے میں ہمیں ابھی کتنا وقت مزید لگے گا.....
میم سین

قصہ، جنوں کا میرے:




فسانہ دل اور قصہ جنوں؛. ایک ایسی دنیا آباد کرتے ہیں، جہاں سعادتوں کے ستارے، دلوں کے رستوں کو سجا دیتے ہیں. جہاں نوازشوں کے پھول، زندگی کو مہکا دیتے ہیں. جہاں حیات، اپنے معنی بھول جاتی ہے ...
ہر دور کا انسان خواب دیکھتا ہے. تعبیر ملے یا نہ ملے..
لیکن ان خوابوں سے وابستگی کا سحر، ایسا پراسرار اور ایسا دل آویز ضرور ہوتا ہے جو آپ کو ایسی خوشی اور ایسی شادمانی سے دوچار کردیتا ہے کہ آپ کو جسم کے ساتھ جڑی، اپنی روح کی موجودگی کا احساس ہونے لگتا ہے. رگوں میں لہو کی جگہ نور دوڑنے لگتا ہے. وجدان تجلیوں سے دمکنے لگتا ہے. انسان جو اپنی ذات کے عرفان کو جاننے سے قاصر ہوتا ہے. وہ اپنی روح کے دکھ کو پہچان کر مرہم رکھنا سیکھ لیتا ہے..
جینے کے سندیسے ملنے لگتے ہیں..
زندگی میں نگہتیں بکھرنے لگتی ہیں...

تم پوچھتے ہو کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟

زندگی کے کچھ لمحے انمول ہوا کرتے ہیں. جو کبھی کبھی زندگی بھر کا سرمایہ بن جاتے ہیں. ظلمتوں کو منور کردیتے ہیں. دل کے نہاں خانوں میں مدتوں سے دفن، مخفی راز افشا کردیتے ہیں. خود فریبی، تصوّر کی حدوں سے نکل کر کسی حقیقت میں ڈھلنے لگتی ہے ..
دلکش اورنازک خوابوں کی تخلیق..
کسی وارفتگی کا آغاز..
وہ لمحے کسی خوشنما جذبے کے ساتھ لمس بن کر آپ کے سپنوں میں بسیرا کرلیتے ہیں. وہ لمحے خوشبو بن کر زندگی کی پنکھڑیوں میں رچ بس جاتےہیں. خلوص، پیار اور یقین کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے.
وہ لمحے سعادت کے ہوتے ہیں..
ہر رشتے سے قوی، ہر تعلق سے بالا، ہر قدر پر بھاری.
وہ لمحے کبھی نور بن کر چاندنی میں بدلتے ہیں. کبھی کٹھن منزلوں کو آساں بناتے ہیں.. کبھی زندگی کو کسی نئے سنگ میل تک پہنچاتے ہیں..
اور میرے ان لمحوں کا تم حصّہ ہو . اس ساتھ کو کیا نام دو گے.؟؟

تم پوچھتے ہو کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟

کچھ آفاقی لمحوں میں فردوسی قربتیں، نصیب ہوتی ہیں. جن میں جنم لینے والے تعلق بے نامی ہوتے ہیں لیکن وہ تعلق آپ کی زندگی بھر کا سرمایہ بن جاتے ہیں. ایک ایسا سرمایہ جس کے احساس سے فضا میں نغمے بکھرنے لگتے ہیں. جس کی لرزش سے وجود میں ارتعاش گونجنے لگتا ہے....

ہماری قربتیں بے زبان رہی ہیں. تمہاری آنکھیں دیکھ رہی ہوتی تھیں لیکن تمہارے لب خاموش رہتے تھے. تمہاری خامشی کے سامنے میرے سینے میں ایک بے نام خواہش پنپتی تھی. تمہیں ان انمول لمحوں سے باخبر کرنے کی..

لیکن میں خواب اور حقیقت کے درمیان کسی پڑاؤ پر جامد تھا. جہاں خواب کے ٹوٹنے کا خوف اور حقیقی مسرت ، ایک الجھن کا شکار رہتی تھی..
پھر ایک دن تم نے بھنووں کو کچھ جنبش دی. ناک کو کچھ سکیڑا. ہونٹوں کو ہلکی سی حرکت دے کر اپنی آنکھوں کی پتلیوں کونچایا..؛ تو لفظوں کے دیپ روشن ہونے لگے. جن میں تمہاری دل کی دھڑکنوں کا عکس نمایاں تھا.
ایک دل فریب مسکراہٹ کے ساتھ تمہاری آنکھیں پھیل چکی تھیں.تمہارے لبوں کا تبسّم کھل اٹھا تھا...
ساری کائنات کا شعور ایک طرف اور وہ ایک لمحہ بس........
ایک قلبی اور روحانی تعلق..... ایک وجدانی سرور...

ایک حسین جاذبیئت میرے جسم میں سرائیت کرچکی تھی. اور میں کسی سحر میں لپٹا اس لمحے کی قید میں جاچکا تھا...
تم اس قید کو کیا نام دو گے؟

تم پوچھتے ہو کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟

سورج مغربی افق میں چھپ رھا تھا. بادلوں کی اوٹ سے سرخ روشنائی کا تاج پہنے آسمان کے کینوس پر دل نشین منظر بن رھا تھا. پہاڑیوں کے درمیان جھاڑیوں اور درختوں کے سائے میں چھوٹی سی سڑک پہ گزرتے ہوئے، سورج کی سرخ کرنیں پتوں سے چھن کر تمہارے چہرے پر کسی تتلی کی طرح رقصاں تھیں..بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پہ ٹھوڑی ٹکائے جب تم سورج کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی بدلیوں پہ ٹکٹکی لگائے کسی سوچ میں گم تھے. تو تمہاری نظروں میں ایک اطمینان تھا . ایک ٹھہراؤ تھا..
جیسے یہ نظریں کوئی نغمہ گنگنا رہی ہوں.جس میں ایک انوکھی گونج تھی.
وہ نغمہ جو زمین اور آسمان کی قید سے آزاد کردے.
وہ نغمہ جو پژمردہ چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دے.
اوراس گھڑی؛ ایک روح دوسری روح سے ہم کلام ہوئی تھی..

تم اس ہمکلامی کو کیا نام دو گے؟؟

تم پوچھتے ہو کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟

گہرے بادل آسمان کو اپنی آغوش میں لے چکے تھے..تیز ہوا نے پانی پر پراسرار لہروں کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا.جو مستی میں کناروں سے ٹکڑا کر اپنی بےخودی پہ نازاں کسی خمار میں ڈوبی ہوئی تھیں ...

میں جو زندگی کی قدروں کو روندے جارھا تھا.سماج کے اصولوں، آدرشوں کو کچل رھا تھا. زندگی کے کسی نئے مفہوم کی تلاش میں سرگرداں تھا. لیکن اس پل تمہاری موجودگی، میرے لیئے زندگی کے نئے معنی ڈھونڈ رہی تھی.

ہمارے اغراض و مقاصد الگ ہوسکتے تھے .ہماری خواہشوں میں بھی شائد یگانگت نہ ہو.ہمارے جذبے عارضی بھی ہوسکتے تھے اور یہ جذبے مر بھی سکتے تھے لیکن فطرت نے ہمیں ایک جگہ اکھٹا کردیاتھا....
جب تم دریا کے پانی میں پاؤں لٹکائے ہاتھ سے پانی کی لہروں کو جواب دے رہے تھے تو میں نے ایک خواہش کو شدت سے محسوس کیا تھا. کچھ ملے یا نہ ملے، لیکن تمہارا قرب میسر رہے .تمہاری موجودگی کا احساس کبھی ختم نہ ہو.. تمہاری باتوں کا ساتھ ہمیشہ قائم رہے..

اس بے ساختہ امڈ آنے والی خواہش کو کیا نام دو گے؟

تم پوچھتے ہو کیا تمہیں مجھے سے محبت ہے؟

مندر کے چبوترے پہ جب بادل ہمارے گرد رقصاں تھے. ہوائیں جب تمہارے چہرے کو چھو کر ملکوتی تبسم بکھیر رہی تھیں. تو اس گھڑی مجھے صرف تم دکھائی دے رہے تھے...
لائم سٹونز پہ بکھری تمہاری پرچھائیاں دکھائی دے رہی تھیں. جھاڑیوں کی صورت، سورج کی تپش کو اپنے سائے کی آغوش میں لیتے ہوئے تمہیں دیکھ رھا تھا. مندر کے ہر پتھر سے تمہاری آنکھیں جھانک رہی تھیں.
پرندوں کے شور میں تمہاری آواز کی بازگشت سنائی دے رہی تھی. ہوا کے دباؤ سے درختوں کے پتوں کے سنگیت میں تمہاری سانسوں کا گمان ہورھا تھا. میں نے بار ہا تمہاری آنکھوں میں جھانکا تھا.اور اپنی سب توانائیوں کے ساتھ، زندگی کو میں نے ان میں موجزن پایا......

دل کا ساز بجتا ہے تو دماغ مدہوش ہوجاتا ہے .اس عالم بے خودی کو کیا نام دوگے؟

ہاں مجھے تم سے محبت ہے..

اس اجنبی آسمان کے نیچے کھڑے ہوکہ میں نے تمہیں آنکھیں بند کرنے کو کہا اور اک بڑے سے پتھر کے قریب روک کر سیدھ میں دیکھنے کو کہا تھا. سامنے گہری وادی میں دور ، دور تک سبزہ، مخمل کی طرح بچھا ہوا تھا. دور افق پر بادلوں کی ایک دھندلی سی لکیر تھی جیسے سمندر کا ساحل ہو اور سمندر کا پانی مستی کے عالم میں موجوں کی صورت اسے گلے لگا رھا ہو . یا پھر دریا ہوا کے تھپیڑوں کے ساتھ کوئی ساز بجا رھا ہو. اور بدلیوں کی ٹولیاں اس ساز پر رقصاں ہوں. جابجا وادی میں فطرت کے ہاتھوں تراشے ہوئے لائم سٹون کے ستون بکھرے ہوئے تھے. جیسے ماضی میں یہاں کسی قلعے کی فصیل ہو اور اب زمانے کے ستم سے کسی کھنڈر میں بدل چکےہوں. سامنے سرخ پہاڑی پہ ایک بڑی سی بدلی آکر رک گئی تھی. اور اس نے سرخ پہاڑی پر اپنا سایہ کرلیا تھا..
بدلی آگے بڑھنا بھول گئی تھی...
اس نے شائد تمہیں دیکھ لیا تھا...
اور تم،... وادی کے طلسم سے سحرزدہ بے یقینی کے عالم میں کچھ دیر سانسیں لینا بھول گئے تھے.. تجسّس اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ تم نے قدم بڑھائے تو میری نظروں نے پتھروں کے درمیان گہری کھائی کو دیکھ لیا ..اور اندیشوں سے گھبرا کر بےاختیار تمہارا ہاتھ تھام لیاتھا..........

کیونکہ مجھے تم سے محبت ہوچکی تھی.

میم.سین

کٹاس راج کی بھڑیں...




کٹاس راج کے مندروں کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ بہت تاریخی اہمیت کی حامل جگہ ہے. مقدس مقام ہے. وہاں پر سیاحوں کو بھی ننگے پاؤں جانا پڑتا ہے۔ یہ جگہ ناصرف ہندوؤں بلکہ بدھ مت اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کیلئے بھی مقدس جگہ ہے. ہزاروں لوگ بھارت اور دوسرے ممالک سے ہرسال اس جگہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں ۔اس لیئے جانے سے پہلے ذہن میں ایک بہت صاف شفاف اور پرسکون جگہ کا تصور تھا..
لیکن وہاں جانے کے بعد معلوم ہوا یہ جگہ بھی پاکستان کی دوسری تاریخی جگہوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ ایک مندر کے قریب کچھ لوگ باربی کیو کا اہتمام کررہے تھے اور دوسرے مندر کے ساتھ چاول پک رہے تھے۔ ایک جگہ کچھ نوجوان چپس کھاتے ہوئے، کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلوں سے مندر کی دیواروں کا نشانہ لے رہے تھے۔نسبتاً کھلی جگہ، ایک فیملی دستر خوان بچھائے کھانے کا اہتمام کررہی تھی۔ کچھ نوجوان مندر کے اوپر چڑھنے کی شرط پوری کرنے کی کوشش کررہے تھے تو کسی کو کھڑکیوں پر چڑھ کر سیلفی بنانے کا شوق ستا رھا تھا۔ اور یوں ایک دیومالائی جگہ کی تصویر جو کئی سالوں سے میں نے سنبھال کررکھی تھی.چند گھنٹوں کے قیام کے بعد ٹوٹ چکی تھی.
متعدد ہندو دیو مالائی داستانوں کے مطابق شیو نامی دیوتا نے ستی نامی دیوی کے ساتھ شادی کے بعد کئی سال کٹاس راج میں ہی گزارے تھے۔
چوآ سیدن شاہ سے کچھ ہی دوری پر کٹاس کا کمپلکس واقع ہے۔ جو سات مندروں اور بدھ مت اور سکھوں کی عبادت گاہوں کا ایک سلسلہ ہے. دو ہزار پانچ میں جب بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی پاکستان آئے تھے تو انہوں نے خاص طور پر کٹاس راج کی یاترا کی تھی.
ہندو عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی سیتا کا جب انتقال ہوا تھا تو شیو کے آنسوؤں سے دو لڑیاں جاری ہوگئی تھیں جن سے پانی کے دو تالاب وجود میں آئے تھے ۔ ایک تو بھارت میں پشکارجو اب نینی تال کہلاتا ہے، میں وجود میں آیا تھا اوردوسرا کٹاشکا میں بنا تھا.جو بگڑتے بگڑتے اب کٹاس رہ گیا ہے۔لیکن کچھ داستانوں میں ذکر ہے کہ شیو جی پتنی کے مرنے پر نہیں بلکہ اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کے مرنےپر روئے تھے،۔ بحرحال وجہ جو بھی ہو، شیو جی روئے ضرور تھے.
اس تالاب کے پانی کو مقدس جانا جاتا ہے اور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب کے عقیدے کے مطابق مخصوص تہواروں کے موقع پر اس میں نہانے سے گناہ دھل جاتے ہیں ۔کٹاس راج کے تالاب کی گہرائی تیس فٹ ہے اور یہ تالاب آہستہ آہستہ خشک ہوتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ علاقے میں قائم سیمنٹ فیکٹریاں بتائی جاتی ہیں.لیکن ایک مقامی بندے کے مطابق اس پانی میں کمی کی وجہ چوہا سیدن شاہ کے کیڈٹ کالج میں لگے ٹیوب ویل ہیں.
ایک ہندو روایت کے مطابق کوروں کے ساتھ لڑائی کے بعد شکست کھا کر پانڈوں نے بارہ سال کٹاس میں گزارے تھے۔ جس دوران انہوں نے متعدد مندر تعمیر کروائے۔پانڈوں اور کوروں بارے مزید بات ہسٹری میڈ ایزی میں کیا جائے گا..اس روایت سے ان مندروں کی تاریخی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوروں اور پانڈوں یعنی مہا بھارت کے زمانے سے پہلے کٹاس کے یہ مندر موجود تھے۔
ایک.مندر میں گھسا تو ایک جوڑا رازو نیاز میں مصروف تھا...شرمندہ ہوکر دوسرے کا رخ کیا تو بھڑوں نے حملہ کر دیا...حویلی کا رخ کیا تو انتطامیہ نے دروازے بند کرکے تالہ لگا دیا....جس مندر کی نزئین و آرائش کی گئی ہے وہاں جانے سے لوگوں نے روک دیا کہ بھڑیں بہت ہیں..
کٹاس کی شہرت کی ایک وجہ وہ قدرتی چشمے بھی ہیں، جن کا پانی مل کرگنیا نالہ کو وجود میں لاتے ہیں..
سکھ جنرل نلوا نے کٹاس راج میں جو حویلی تعمیر کروائی، اس کے چند جھروکے آج بھی کافی حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں.رش کی وجہ سے حویلی کے دروازوں کو تالے لگا کر بند کردیا گیا تھا.اس لیئے حویلی کہ سیر جھڑکوں تک محدود رہی..
اگرچہ ہمیں تو کہیں نظر نہیں آئیں لیکن ایک گائیڈ نے بتایا کہ کٹاس راج کے مندروں اور دوسری عمارات کے کئی حصوں میں مونگے کی چٹانوں، جانوروں کی ہڈیوں اور فوصل شدہ آبی حیات کی ایسی قدیم باقیات دیکھی جا سکتی ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان صدیوں پرانے آثار کی تعمیر میں سمندری یا دریائی پانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
مقامی لوگوں سے یہ بھی سننے میں آیا کہ البیرونی نے اسی جگہ پر کھڑے ہو کر کرہ ارض کا قطر ماپا تھا۔..
بحرحال تاریخی اہمیت کی یہ جگہ اگر کسی بھی زندہ قوم کے پاس ہوتی تو یقینا ایک عظیم تاریخی ورثہ سمجھ کر اسے اپنے ملک کی پہچان بنا کر پوری دنیا میں متعارف کروایا جارھا ہوتا...
اور یہاں محض ایک پکنک پوائنٹ کا درجہ لیئے ہوئے ہے.
میم.سین

میرا داغستان


میں اس کتاب کو سوانح عمری کا نام دوں یا پھر حکایتوں بھرا ایک نصیحت نامہ.اس کو ایک وطن پرست کی داستان کہوں یا پھر ایک شعوری ارتقا کا سفر نامہ..کوئی لوک داستان ہے یا پھر نثریہ شاعری کا ایک مجموعہ ......لیکن شائد کوئی نام دینا میرے لیئے ممکن نہیں ...
پہلا احساس یہ تھا کہ میں نے اس کتاب کو ڈھونڈنے اور پڑھنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی .لیکن دوسرا احساس یہ تھا کہ ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے اور اس شعور کو سمجھنے کیلئے اس دور کے فیصلوں واقعات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے..ایسے ہی ہر کتاب کا ایک شعور ہوتا اور اس شعور کو سمجھے بنا کتاب کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا.جس عمر میں مصنف نے کتاب مکمل کی میں نے اس عمر میں قلم پکڑنا سیکھا.اس لیئے اگر اس کتاب تک پہنچنے میں جتنی دیر لگی وہ میرے شعور کے ارتقا کیلئے ضروری تھا..اور جس طرح کتاب نے اپنا جادو پھونکا وہ شائد دس سال پہلے اتنا کاریگر نہ ہوتا..
بری عورت کی کتھا، یادوں کی بارات، رسیدی ٹکٹ الکیمسٹ آواز دوست کے بعد میرا داغستان وہ کتاب ہے جس نے مجھے اپنی گرفت میں یوں لیا کہ میں ساری مصروفیات ترک کرکے اس کو مکمل کیئے بنا.نہیں رہ سکا...اور اب بار بار صفحے کھول کر یوں لطف اٹھا رھا ہوں جیسے کسی سرد موسم کی شام میں لکڑیاں جلا کر اس کے پاس بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لی جارہی ہوں.
جس نے کتاب پڑھ رکھی وہ اہنی رائے دے اور جس نے ابھی تک نہیں پڑھی تو پھر پہلی فرصت میں اس کتاب کو جگہ دے

مشورہ


پچھلے نوے سالوں سے سندر بن کے جنگلوں میں ایک ٹانگ پر چلہ کاٹنے والے بابا جی نے پہلا کشف حاصل کرنے کے بعد فیس بک واسیوں کو سلام.بھیجا ہے اور غیر شدگان کیلئے کچھ مفید مشوروں سے نوازا ہے.
بابا جی فرماتے ہیں کہ نکاح کے بعد بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنےکا مینوئل جو ایک کتابچہ کی شکل میں ہو، سسرال سے ضرور حاصل کرلیں..ہر عورت کا مزاج انداز مختلف ہوتا ہے لیکن مرد حضرات بیوی کو یونیورسل ریموٹ سے کنٹرول کرنے کی غلطی کرتے ہیں.جس کی وجہ بیویوں کے کچھ فنکشن تو بالکل صحیح کام کرتے ہیں لیکن کچھ کمانڈز کو وہ سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے دماغی مشنری ناصرف کام کرنا چھوڑ جاتی ہے بلکہ زبردستی یا بار بار ایک ہی کمانڈ دینے سے مستقل طور پر آئوٹ آف کنٹرول ہوجاتی ہیں..
علاوہ ازیں نکاح سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ بیوی کے ساتھ اپ ڈیٹس دستیاب ہوں .ورنہ عموما بیویوں کا سافٹ ویئر نکاح کے وقت پر رک جاتی ہیں..اور سسرال کو شادی کے بیس سال بعد بھی نکاح کے وقت کے میکے ساتھ کمپیئر کرتی رہتی ہیں....

پیغام رساں کا ذاتی نوٹ: چونکہ بابا جی نوے سال سے جنگلوں میں رہ رہے ہیں.اس لیئے ان کو اندازہ نہیں بیویاں ابھی تک نان برینڈڈ ہی مل رہی ہیں..بس ایک دفعہ نکاح کردو...آگے شوہر کی قسمت....
شوہروں کو کنٹرول کرنے بارے بابا جی کا علم محدود ہے .کسی ملنگنی سے رجوع کیا جائے

میم سین

رنگِ تازہ بن کے دوڑوں گا


 :-

گزشتہ کئی روز سے رنگوں پر لکھنے کی کوشش میں ہوں..تحریر دلچسپ تو ہو لیکن طوالت کے بغیر.لیکن جب لکھنے بیٹھتا ہوں تو خیال بکھر جاتے ہیں. مانو کسی پرندے کی طرح ـ، جو آپ کے سامنے بیٹھا ہے اور آپ اس کو پکڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن جب پکڑنے کی کوشش شروع کرتے ہیں تو وہ اڑ جاتا ہے..

میرے لئے وہ بہت اَہم ہے جو میں نے ابھی لکھنا ہے کیونکہ وہ اگلا قدم ہے میرے شعوری ارتقا کا... اور جو میں لکھ چکا ہوں وہ میرا سرمایہ ہے، مگر میں اس سے اچھا لکھنا چاہتا ہوں.جب انگور کی بیل سے پہلا پھل میٹھا حاصل ہوجائے تو آئندہ سال اُس سے زیادہ امیدیں بندھ جایا کرتی ہیں...
لکھنے کے معاملے میں جو چیز مجھے اُکساتی ہے وہ تڑپ، درد، خوشی یا مسرت کا داخلی احساس ہے. کیونکہ اِسکے معاملے میں، میری مرضی نہیں چلتی، خود کو بے بس پاتا ہوں....
مجھے اس لئے نہیں لکھنا کہ لوگوں کی یہ ایما ہے یا مجھے لوگوں کو دِکھانا ہے، میں درحقیقت لکھتا نہیں، میں اپنی ذات کا عرفان حاصل کرتا ہوں...
رنگ میری پہچان ہیں اور مجھے لکھنے پر اُبھارتے ہیں.لیکن کبھی کبھی ان کا رنگ ماند پڑ جاتا ہے..آندھی اور طوفان سے پیڑ ٹوٹ جاتے ہیں پر جب بہار آتی ہے تو نئی شاخیں نکل آتی ہیں. بارش نہ ہو لمبے عرصے تک تو ہریالی پیلا رنگ اوڑھ لیتی ہے.
اِسی طرح زندگی میں بھی وقت کے نشیب و فراز میں یہ رنگ مدھم پڑنا شروع ہوجاتے ہیں مگر جونہی کوئی واقعہ کوئی خواہش ان کی آبیاری کرتی ہے تو رنگ زندگی کے کینوس میں پھر سے اُبھرنا شروع ہوجاتے ہیں. اور قلم اپنا کام شروع کردیتا ہے.

رنگوں سے میرا پہلا تعارف پرائمری کلاس میں اس وقت ہوا تھا جب ایک بچے کے پاس رنگوں والے مارکر کا سیٹ دیکھا تھا...لیکن ان رنگوں سے تعارف ملاقات میں اس وقت بدلا تھا جب مڈل کلاس میں خریدنے کے قابل ہوا.اور پھر ہفتے کے سات دنوں کے نام انگریزی اور اردو میں لکھنے کیلئے ان کا استعمال کیا تھا.ہر دن کیلئے ایک الگ رنگ. یہ پہلی خواہش تھی جس نے تکمیل دیکھی تھی

زندگی بہت سی کروٹیں بدل کر بہت اگے نکل چکی ہے لیکن قدم قدم پر آج بھی میری اپنے بچپن سے ملاقات ہوجاتی ہے..کسی سٹیشنری کی دکان پر رکھے رنگوں کو دیکھتا ہوں تو رنگوں کا رقص شعلوں کی طرح میری یادوں میں جاری ہوجاتا ہے.اور میں دیوانہ وار ناسٹیلجیا کی بھول بھلیوں میں اس کوشش میں بھاگنا شروع کردیتا ہوں کہیں مجھے یہاں سے نکلنے کا رستہ نہ مل جائے. میں جب بھول بھلیوں سے نکلتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے وقت پرکسی نے ٹھنڈی راکھ پھیلا دی ہو..
کبھی کبھی یہ خیالات اس قدر شدید ہوتے ہیں جیسے کوئی دشمن میرا پیچھا کررھا ہے اور مجھے اپنی خواہش کے حصول کیلئے اندھا دھند بھاگنا پڑرھا ہے.

پھر ایک دن بہت تیز کی آندھی آئی... اور آندھی کے بعد تیز بارش...
بارش اس قدر کہ ہر طرف جل تھل... گھر کی چھت پہ آسمان پہ تیرتی بدلیوں کو دیکھا تو رنگوں کی اک کمان سے آنکھیں چار ہوئیں... گھر کے آگے درخت کی اوٹ سے شروع ہوتے آسمان پر دور تک پھیلاؤ تھا.کچھ عرصے بعد معلوم ہوا قوس قزاح سے یہ میرا پہلا تعارف تھا. اب بھی جب میں قوس قزاح دیکھتا ہوں تو وہ ست رنگی کمان میری یادوں کے نقوش پہ اُبھر آتی ہے. یہ نقش امی کی سلائی مشین کے ساتھ رکھے رنگا رنگ دھاگوں کی طرح ہوتے ہیں.جن سے ایک خوش رنگ تصویر اُبھرتی ہے .جو کسی رومانوی خیال کی طرح مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے. اور میرا جی چاہتا ہے سب چھوڑ کر گھر کی اُس چھت کے قوس قزاح کے سب رنگ سمیٹ لوں..

نیا نیا رنگین ٹی وی گھر آیا تو ایک دن ٹیوننگ کرتے ہوئے دور درشن سامنے آگیا. کوئی ہندی فلم لگی ہوئی تھی، ہولی کا سین تھا. ہیرو، ہیروئین ان کے دوست، سہیلیاں ایک دوسرے پر رنگ پھینک رہے تھے. سلو موشن میں فلمائے گئے بکھرتے رنگوں کے کچھ سین اور
ایک عرصے تک ہولی کے یہ رنگ دماغ میں کہیں بکھرے رہے... اب بھی جب میں ہولی کے تہوار کا ذکر سنتا ہوں تو میرے اندر ستاروں سی چمک آجاتی ہے. پھولوں جیسی مہک ستانے لگتی ہے، میرا ماضی مجھ سے سرگوشیاں کرنے لگتا ہے.میں ان سرگوشیوں میں یادوں کی جھاڑ سے رنگ برنگ اور خوبصورت پھول چننے لگتا ہوں. ان پھولوں سے یادوں کا اک گلدستہ بناتا ہوں. اس گلدستے کو اک آتشدان کے اوپر رکھ دیتا ہوں. کیونکہ ان پھولوں کے خدوخال میں، میں زندہ ہوں. میری یادیں میرے خیالات، میرے افکار زندہ ہیں. جب تک میں زندہ ہوں یہ گلدستہ یونہی تروتازہ رہے گا، مہکتا رہیگا...
عید سے ایک دن پہلے، زندگی میں پہلی بار ایک رنگ ساز کی دکان کے پاس سے گزرا..مختلف رنگوں کے ڈوپٹے رنگنے کے بعد خشک ہونے کیلئے ایک تار پرلٹکا رکھے تھے اور ہوا سے لہراتے بکھرتے رنگوں نے مجھے روک لیا..پانی کا ایک تسلہ چولہے پر چڑھایا ہوا تھا.. پاس رکھے ایک ڈبے میں بے شمار خانے تھے اور ہر خانے میں الگ رنگ موجود تھا.اس نے چمچ کی مدد سے سے ایک رنگ اٹھا کر تسلہ کے پانی میں پھینکا، چھڑی سے خوب ہلایا اور پھر ایک ڈوپٹے کو اس.میں ڈال کر گھمایا ..نکال کر ایک سرے کو نچوڑا اور نمونے کے کپڑے سے ملایا ..شائد ابھی مطلوبہ رنگ حاصل نہیں ہوا تھا.اس لیئے پھر سے ابلتے رنگ دار پانی میں پھینک دیا...کچھ دیر کام کرتے دیکھ کر اگے بڑھ گیا لیکن ہوا میں لہراتے ڈوپٹے کئی دن تک میری آنکھوں کے سامنے لہراتے رہے...

بے شک میری یاداشت میں بسے یہ رنگ کسی پہاڑی ندی نالے کی طرح ہیں. جن سے آپ کا اچانک سامنا ہوجاتا ہے. لیکن یہ رنگ زندگی کے پتھریلے راستوں سے گزر چکے ہیں. گھاٹیوں سے گزر کر کشادگی میں ڈھل چکے ہیں. رنگوں کے اس تصوّر نے لامحدود وسعتوں کے دروازے کھولے ہیں. میرے تصوّر کی آنکھ آج بھی ان رنگوں کے سرچشمے کو دیکھتی ہے تو زندگی کا بہاؤ جاری رکھنے پر مجبور کردیتی ہیں...

کالج جاتے ہوئے ایک بار ایک زخمی پرندے کو دیکھا..اس پرندے کی خوبی یہ تھی کہ بہت چہچہاتا ہے..اس کو پکڑ کر اپنے پاس رکھ لیا.زخم تو ٹھیک ہوگیا لیکن اس نے چہچانا شروع نہیں کیا..بہت دن گزر گئے لیکن اس کی آواز کو ترستا رھا..ایک دن ایک دوست نے بتایا. تم نے اس سے زندگی کے رنگ چھین لیئے ہیں..اس کا شاخ شاخ، ڈالی ڈالی گھومنا..ہم جولیوں سے باتیں کرنا..گھات گھات کا پانی پینا.

کچھ سال پہلے میں نے بھی سیاہ رنگ اوڑھ لیا تھا.میرا خیال تھا یہ رنگ میری ذہنی بالیدگی کا نتیجہ ہے..لیکن میں بھی اس پرندے کی طرح چپ ہوگیا تھا..پھر ایک شخص ملا .اس نے بتایا کہ منفیت نے تمہاری زندگی کے رنگوں کو ڈھانپ دیا ہے. رنگ تمہاری زندگی ہیں. تمہیں کمانے کیلئے باہر نکلنا پڑتا ہے.لیکن رنگ تمہارے بستر پر پہنچ جاتے ہیں.رنگ تمہارے لیئے وہی اہمیت رکھتے ہیں.جو ایک ادیب کیلئے کہانی، ایک کسان کیلئے گندم.کی بالی، ایک پودے کیلئے پانی، ایک لوہار کیلئے لوہا.بڑھئی کیلئے لکڑی..

تم سنگ تراش ہو تو رنگ تم سے نقش ونگار بنواتے ہیں.شاعر ہو تو اشعار لکھواتے ہیں.تم باغبان ہو تو پودوں کی آییاری کرواتے ہیں. فنکار ہوتو تخلیق کرواتے ہیں.مصور ہو تو تصویر بنواتے ہیں..شاعر ہو تو اشعار لکھواتے ہیں.پھر اس نے ایک ایک کرکے مجھے رنگ ڈھونڈ کر دیئے اور مجھے میری زندگی کی چہچہاہٹ مل گئی..جب کبھی مایوسی کا سامنا کرتا ہوں. دم گھٹنے لگتا ہے تو مجھے یہ الفاظ یاد اجاتے ہیں..

سنو: زندگی سے ان رنگوں کو کبھی مدھم نہ ہونے دینا.....

میم.سین