Sunday, December 2, 2018

ادھر ادھر سے


میرا سوچنے سمجھنے کا انداز بچپن سے ہی بہت سائینٹفیک رھا ہے۔مشاہدات کی روشنی میں پہلے ایک مفروضہ تیارکرنا اور پھر اس مفروضے کی تائید یا مخالفت میں شواہد ڈھونڈنا اور پھر نتیجہ اخذ کرنا۔ اس سائنٹفک اپروچ سے اخذ شدہ نتائج حتمی اور دیر پا ہوتے ہیں
یہ میرے بچپن کے بہت ابتدائی دنوں کی بات ہے جب ہم لوگ جہلم سے گرمیوں کے چھٹیاں گزارنے کمالیہ آیا کرتے تھے۔ ایک بار اپنے سلیپر کمالیہ بھول گیا۔ اگلے سال  چھٹیاں گزارنے آئے تو سلیپر سائز میں بہت چھوٹے رہ گئے تھے جس سے میں نے مفروضہ بنایا کہ جوتے وقت کے ساتھ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں اور چھوٹے ہوتے ہوتے وہ غائب ہوجاتے ہیں اور اس مفروضے کو تقویت اس بات سے بھی ملی کہ میں نے گھر میں پرانے  جوتے کبھی نہیں دیکھے تھے
زمین کے گول ہونے کے بارے میں تھیوری کو کبھی میرے ذہن نے قبول نہیں کیا۔ اور بہت سال پہلےجس دن  مسجد کے سب سے اونچے مینار پر چڑھ کر شہر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو میرا یقین اور بھی بڑھ گیا۔ کچھ عرصہ پہلے ڈرون اڑا کر میں نے اپنے مفروضے کی تائید میں مزیدشوائد اکھٹے کرنے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ زمین ایک سیدھی پٹی ہے لیکن چونکہ فزکس کے بے شمار مسائل ایسے ہیں جن کو سمجھنے کیلئے  زمین کو گول یا بیضوی قرار دینا ضروری ہے۔اس لیئے زمین کو فرضی طور پر گول قراردے دیا گیا ہے
سنا ہے کہ جس گھر میں کنیر۔ایلوویرا کا پودا ہو۔وہاں مچھر نہیں آتا۔ اس لیئے ایک گملے میں کنیر کا پودا لگا کر صحن میں رکھ دیا۔ جلد ہی بڑا ہوگیا بلکہ اس سے دو چار گملے اور بھی تیار کرلیئے ۔ جونہی گھر میں داخل ہوتا تو ان کی ہری بھری رنگت دیکھ کر موڈ پر ایک خوشگوار اثر پڑتا۔ جو بھی رشتہ دار ملنےآتا وہ ایک آدھ پودا مانگ لیتا ۔ سوشل سرکل بھی اس کے بہانے پھیلنا شروع ہوگیا اور فون پر سیاست اور موسم کی بجائے ایلوویرا کی ا فادیت پر بات چیت کیلئے ایک نیا موضوع مل گیا۔ جہاں تک اس پودے کی گھر میں موجودگی کے بعد مچھروں کی آمد  کی بات ہے تو میرا خیال ہے وہ ابھی تک جاہل ہی ہیں اور پودے کی افادیت نہیں سمجھتے 
مور چھپکلی شوق سے کھاتے ہیں اور اس لیئے سنا ہے جس کمرے میں مور کے پر ہوں اس کمرے میں چھپکلی نہیں آتی۔  کہیں سے دس پندرہ مور کےپر حاصل کرکے کمرے میں لگا دیئے ۔لیکن اکیلے پروں نے کچھ اثر نہ دکھایا لیکن  جب ان کواکھٹا  اس سوراخ پرپھنسا دیا جہاں سے وہ داخل ہوتی تھی تب سے غائب ہے۔ اور دھشت  کچھ ایسی پھیلی ہے  جب سے دسمبر شروع ہوا ہے سارے گھر سے غائب ہوچکی ہیں
کل شام سے لوگوں  کے پرزور اصرار پر انڈےکے معیشت پر اثرات اور کٹے کے بنیادی حقوق کے حوالے سے  سائنٹیفک بنیادوں پر سوچنا شروع کردیا ہے ۔ نتائج جلد شیئر کیئے جائیں گے 

No comments:

Post a Comment