Wednesday, August 2, 2017

تعارف کچھ سوانح عمریوں کا


ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے ۔ اور اس شعور کو سمجھے بغیر اس دور کے فیصلوں کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ تاریخ کا سرسری مطالعہ ہمیں کسی بھی دور کے فیصلوں سے تو آگاہ کرتا ہے لیکن اس شعور سے آشنائی نہیں دلاتا جس کے زیر اثر وہ فیصلے ہوئے ہوتے ہیں ۔

اگر آپ انیسویں اور بیسویں صدی میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر دوڑائیں اور اکیسویں صدی کے شعور کے ساتھ اس دور کے فیصلوں اور واقعات کو سمجھنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ کمیونزم کی قبولیت کا معاملہ ہو یا کارل مارکس کے نظریات کی مقبولیت کا۔ جنگیں ہوں یاآزادی کی تحریکیں ، مشاعروں کی مقبولیت کا معاملہ ہو یا ادب کی قدردانی کا، اخبار کا ایک عام شہری کی زندگی میں اہمیت کا معاملہ ہو یا پھر ریڈیو کے ارتقا کا معاملہ ، نوآبادیاتی نظام کے کل پرزوں کی بات ہو یا انتظامی ڈھانچے پر عمل درآمد کا معاملہ ۔جب تک ان کے پیچھے کارفرما شعور کو نہ سمجھا جائے، تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔۔
کسی بھی دور کی کی ثقافت، رہن سہن، رسم ورواج ، سیاست، سماج ،تجارت،رواج کو سمجھنے کیلئے میرے نزدیک سوانح عمریوں سے بہتر کوئی چیز نہیں۔لوگوں کی زندگی کی داستان انسانی فکر کا ارتقا دکھاتی ہے۔انسانی معاشرت اور بدلتی ہوئی ذہنیت سکھاتی ہے۔جیسے لفظ قوم کے معنی اور مفہوم ماضی میں وہ نہیں تھے جو آج سمجھے جاتے ہیں۔ آج کا سیاسی شعور اس شعور سے بہت مختلف ہے جو ایک صدی پہلے رائج تھا۔۔
ذیل میں ان سوانح کی فہرست ترتیب دی ہے جن کا تعلق ہندستان اور اس کی تمدن  سے جڑا ہے
یادوں کی بارات۔۔جوش ملیح آبادی
ایک محاورہ اکثر بولا جاتا ہے، لفظوں کی جادوگری۔کسی نے اگر اس جادوگری کا عملی ثبوت دیکھنا ہے تو وہ یادوں کی بارات کھول لے۔بہت سے اخلاقی اعتراضات کے باوجود اس کتاب کا ادبی وزن بہت زیادہ ہے۔ یہ صرف ایک شاعر کی زندگی کی کہانی ہی نہیں بلکہ ہندستان کی تاریخ ثقافت اور تہذیب کی ایک تصویر ہے۔جس قدر دلچسپ انداز میں لکھی گئی ہے ،اس کی تحریر ساری عمر آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتی
جب تک میں زندہ ہوں ۔۔مجید نظامی 
افغان باقی کہسار باقی ۔۔ نوائے وقت گروپ کے سابقہ مدیر مجید نظامی کی داستان حیات جو  عائشہ مسعود نے ترتیب دی ہے۔ اگر کتاب مجید نظامی کی زبانی لکھی جاتی اور محترمہ اپنی اردو علمیت جھاڑنے کیلئے بھاری بھر کم الفاظ کا استعمال کم کرتیں تو کتاب کا انداز بہت دلچسپ ہوجاتا۔ لیکن بحرحال پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کیلئے بہت زبردست کتاب ہے 
قبر کی آغوش ۔۔راجہ انور
جھوٹے روپ کے جھوٹے درشن سے شہرت پانے والے پیپلز پارٹی کے جیالے راجہ انور کی کی افغانستان کی بدنام زمانہ جیل پل چرخی میں گزرے دنوں کی داستان ہے۔ یہ صرف جیل کی ایک داستان ہی نہیں بلکہ افغان ثقافت اور جنگ کو سمجھنے کیلئے  بہت دلچسپ کتاب ہے۔
رسیدی ٹکٹ۔ امرتا پریتم
پنجابی زبان سے سے محبت کرنے والوں کیلئے امرتا پریتم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اگرچہ ان کا اپنا ایک مخصوص انداز ان کی پہچان ہے لیکن جو روانی اور اسلوب اس کتاب میں ہے وہ بہت مسحور کن ہے ۔ یہ کتاب امرتا کی زندگی  کے بہت سے پہلوؤں کو کھولتی ہے
وہ بھی کیا دن تھے۔۔حکیم محمد سعید
اگرچہ یہ کتاب بچوں کیلئے لکھی گئی لیکن ہندستان کے رسم ورواج ، گھروں میں رہنے کے سلیقے آداب اور تہذیبی گھرانوں کے ماحول پر گہری روشنی ڈالتی ہے ۔بڑے لوگ بھی کبھی بچے ہوتے تھے وہ بھی شرارتیں کیا کرتے تھے۔ حکیم صاحب نے لکھتے وقت خود کو بالکل ایک بچہ بنا کر اپنی شرارتیں اور زندگی کے پہلوئوں کو قلم بند کیا ہے
رفعتوں کی تلاش۔۔اسد اللہ غالب
امریکی انڈسٹریل ترقی سے متاثر نوجوان رفیع بٹ کی پو شیدہ زندگی کو ڈھونڈنے کی اسداللہ غالب کی ایک کوشش ہے جو بہت کم عمری میں بورے والا کے قریب پرائیویٹ جہاز کے حادثے میں جاںبحق ہوگئے تھے۔رفیع بٹ کو محمد علی جناح کا رائٹ ہینڈ سمجھا جاتا تھا۔
ردر ٹھوکر کھائے۔ ڈاکٹر مبارک علی
تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کیلئے ڈاکٹرمبارک علی کا نام اجنبی نہیں ہے۔ جس دلچسپ انداز سے تاریخ لکھتے ہیں، اتنے ہی دلچسپ انداز میں اپنی زندگی کی کہانی لکھی ہے۔مفلسی کی دہلیز سے اٹھ کر اپنی تعلیم کیسے پائی اور کیسے تاریخ کے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں صرف کیں ۔ ہمارا نظام کیسے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے اور کیسے ان کو عبور کیا جاتا ہے،۔یہ کتاب اس بات کو سمجھنے میں بھی کافی مدد دیتی ہے کہ ہماری روایات اور اقدار کسی طرح سماجی ڈھانچے کی نشاندگی کرتی ہیں۔ 
اپنا گریبان چاک۔۔ ڈاکٹر جاوید اقبال
ڈاکٹر جاوید اقبال نے ایک بار کہا تھا کہ جاوید اقبال کو پیدا ہوتےہی جاویدمنزل کے ایک پنجرے میں قید کر دیا گیا تھا اوروہ ساری عمر اقبال کے نام کے ساتھ جیتے رہے۔اس کتاب کو پڑھ کر ان کی یہ بات درست لگتی ہے کہ اقبال کے بیٹے سے وہ توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آتیں جن کی توقع وابستہ کرلی جاتی ہیں ۔ پوری کتاب میں کہیں بھی نظر نہیں آتا کہ وہ کوئی غیر معمولی شخصیت تھے۔ ہر جگہ وہ اقبال کا زینہ چڑھتے نظر آتےہیں۔لیکن بہت سے واقعات کے عینی گواہ ہونے کی وجہ سے یہ کتاب  تاریخی دستاویزات کی حیثیت رکھتی ہے 
کچھ یادیں کچھ باتیں۔۔شوکت تھانوی
اردو ادب کے ابتدائی مزاح نگا ر کی حیثیت سے جانے پہچانے ادیب شوکت تھانوی کی اپنی زندگی کے کچھ گوشوں سے پردہ ہٹاتی کتاب 
لمحوں کا سفر۔۔محمد اسلم لودھی
نوائے وقت پڑھنے والے قارئین کیلئے اسلم لودھی کا نام شائد نیا نہ ہو لیکن پھر بھی ان کا نام یا شخصیت اتنی معروف نہیں ۔شائد اسی لیئے  اس کتاب کو وہ پزیرائی نہیں  ملی ،جو اس کا حق تھا۔  اس کتاب میں ہماری غربت کی لکیر سے نیچے رہنے  والے اور مڈل کلاس کے گھروں کے رہن سہن ان کی ثقافت، رواج کو سمجھا جاسکتا ہے۔مصنف نے بہت سے کردار بنائے ہیں پھر ان کے گرد کہانیاں اکھٹی کی ہیں اس طرح یہ کتاب صرف مصنف کی زندگی بیان کرتی نظر نہیں  آتی بلکہ معاشرے میں بکھرے ان گنت کرداروں کی کہانی سناتی ہے یہ محض ایک کتاب نہیں ہے ۔ ایک جدوجہد کی داستان ہے۔ ریلوے کواٹرز کے اردگرد سے شروع ہونے والی داستان نصف صدی پر محیط ہوجاتی ہے



ناقابل فراموش۔۔ دیوان سنگھ مفتوں
ہندستان کی صحافت کا گرو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اپنے دور میں تحقیقی صحافت کی بنیاد رکھنے والا اور بریکنگ نیوز کا ماہر دیوان سنگھ مفتوں ۔ اس کتاب میں مصنف نے مختلف موضوعات کے حوالے سے یاداشتوں کو یکجا کیا گیا۔ جو ہندستان کی تحریک آزادی اور سیاسی کشمکش کی اندرونی  کہانیوں پر بڑی گہری روشنی ڈالتی ہے۔
علی پور کا ایلی۔۔ ممتاز مفتی
مفتی کے اس اقرار کے بعد کہ یہ کتاب محض ایک ناول نہیں بلکہ اس کی اپنی زندگی کی کہانی ہے ۔اس کتاب کو سوانح کی فہرست میں رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگرچہ ابتدایہ کافی طویل اور اکتا دینے والا ہے۔ کرداروں کو سمجھنے میں بھی کافی وقت لگتا ہے لیکن اس کے بعد آخری صفحے تک آپ ایلی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ زندگی کی بھول بھلیوں میں کھونے کے بعد جس طرح شہزاد کی یادوں کو نکالتا ہے اس کا احساس ناقابل بیان ہے۔ پوری کتاب میں کردار بکھرے ہوئے ہیں ہر کردار کے ساتھ ایک کہانی شروع ہوجاتی ہے لیکن جو تپش جو خلش شہزاد کا کردار پیدا کرتا ہے اسے پڑھتے ہوئے بار بار دل ڈولتا ہے۔ جو کردار نگاری اور منظر نگاری پوری کتاب میں کی گئی ہے وہ ایک ایسا طلسم  ہے جو آپ کو اپنے حصار سے نکلنے نہیں دیتا۔ 
سرگزشت بخاری۔ذولفقار علی بخاری
پطرس بخاری کے بھائی زیڈ اے بخاری جو  پہلے انڈیا اور بعد میں پاکستان میں ریڈیو براڈکاسٹر رہے ۔ بہت اچھے ادیب، شاعر اور موسیقار بھی تھے۔ یہ داستان مختلف موضوعات کو لیکر یکجا کی گئی ہے۔ ہندستان میں براڈکاسٹنگ کی تاریخ کو بہت خوبصورت اور دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا۔ یہ صرف ایک شخص کی داستان ہی نہیں بلکہ ہندستان کی ثقافت اور تہذیب و تمدن کو سمجھنے کیلئے بہت اعلی کتاب ہےاورتاریخ کے گمشدہ اوراق کو ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے۔
میری کہانی۔۔اشتیاق احمد
انسپکٹر جمشید کے خالق اشتیاق احمد کی ان تھک محنت لگن اور جدوجہد کی داستان۔ ناصرف  ہمیں ایک شخص کی ذاتی زندگی کے پہلوئوں سے روشناس کرواتی ہے بلکہ کتاب کی طباعت اور اس کی راہ میں درپیش مسائل سے بھی آگاہ کرتی ہے 
بجنگ آمد ۔۔ کرنل محمد خاں
یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ نے بجنگ آمد پڑھی ہو اور آپ دیوانہ وار کرنل کی دوسری کتابوں کی تلاش میں نکل نہ پڑے ہوں۔ کرنل محمد خان کا لکھنے کا انداز اس قدر دلچسپ ہے کہ وہ آپ کو اس عورت کی صرف آنکھوں کا حسن بیان کرکے آپ کو عشق میں مبتلا کرسکتا ہے جس کے دانت گرے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ مزاح نگاری میں میرا پہلا ووٹ یوسفی کیلئے دوسرا محمد خان اور تیسرا شفیق الرحمن کیلئے ہے اور چوتھے پانچویں نمبر پر بہت سے احباب آتے ہیں۔۔اس کتاب میں ان کی فوج کے ساتھ وابستگی کے ابتدائی دنوں کی داستان ہے
شہاب نامہ۔۔ قدرت اللہ شہاب
شہاب نامہ پر کوئی تبصرہ بنتا ہی نہیں۔ یہ صرف شہاب کی داستان حیات ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ابتدائی سالوں کی تاریخی دستاویزات کا درجہ رکھتی ہے۔ صرف ایک طویل داستان ہی نہیں بلکہ ایک ادبی شہ پارہ ہے
سوانح خواجہ حسن نظامی۔۔ملا واھدی
اگر کسی نے بیگمات کے آنسو کتاب نہیں پڑھی تو اسے جنگ آزادی کے اسباب اور اس کے نتائج پر تبصرہ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں دیاجاسکتا۔ بیگمات کے آنسو اور جنگ آزادی ۱۸۵۷ اور بے شمار کتابوں کے کے خالق خواجہ حسن نظامی کی کی زندگی پر لکھی گئی کتاب اس لحاظ سے کافی دلچسپ ہے کہ یہ ہندستان کے رہن سہن کو سمجھے کیلئے بہت گہرائی مہیا کرتی ہے۔
پرواز۔۔عبدالکلام
بھارتی میزائل ٹیکنالوجی کا بانی سمجھے جانے والے عبدلکلام کی زندگی کی کہانی جو نا صرف ان کی زندگی کے گوشوں کو عیاں کرتی ہے بلکہ بھارت کی میزائل ٹیکنالوجی کو سمجھنے کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے
داستان چھوڑ آئے۔۔رحیم گل
جنت کی تلاش، وادی گمان سے،ترنم، تن تن تارہ، پیاس کا دریا جیسی کتابوں کے خالق رحیم گل کو ہماری ادبی تاریخ میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار تھے۔ وہ نثر میں شاعری لکھنے کا ہنر رکھتے تھے۔اپنے زندگی کی داستان لکھتے وقت بھی اپنے انداز کو نہیں چھوڑا۔ ایڈونچر سے بھرپور اس داستان کو ایک بار شروع کر دیں تو پھر آخری صفحہ تک آپ ساتھ نہیں چھوڑتے
آپ بیتی ۔ موہن داس کرم چند گاندھی
۔ یہ کتاب صرف مہاتمہ گاندھی کی زندگی پر روشنی نہیں ڈالتی بلکہ ان کی جدوجہد اور ہندستان کی آزادی کی تحریک کو سمجھنے میں بھی بہت مدد دیتی ہے 
آزادی ہند ۔۔ابوالکلام آزاد
برصغیر کی تقسیم کو اس وقت نہیں سمجھا جا سکتا جب تک آپ دونوں پارٹیوں کے موقف کو اچھی طرح جان نہیں لیتے۔ لیکن یہ کتاب صرف آزادی یا تقسیم کی کہانی نہیں بلکہ ایک ادبی سرمایہ بھی ہے جو ابولکلام کی زندگی کے سفر کو بیان کرتی ہے ۔ہندستان میں اٹھنے والی اصلاحی تحریکوں اور انقلابی کرداروں سے پردہ اٹھاتی ہے ۔
سچ محبت اور زرا سا کینہ۔۔ خشونت سنگھ
خشونت سنگھ کے نام سے کون واقف نہیں۔ایک ایسے صحافی اور ادیب کی حیثیت سے جانے جاتے تھے جو پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔لاہور سے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل  کی حیثیت سے کرنے کی وجہ سے کبھی لاہور کو اپنے آپ سے جدا نہ کر سکے ۔ روڈ ٹو پاکستان سے اپنی ادبی شناخت بنانے والے خشونت سنگھ ناصرف ایک ادیب اور صحافی تھے بلکہ سکھ ہسٹری پر ایک مستند تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں ۔ بنگلہ دیش کے قیام کو سمجھنے کیلئے بھی خشونت سنگھ کی تحریروں کو ضرور پڑھنا چاہیئے۔ ان کی زندگی کی اس داستان میں وہی بولڈ انداز موجود ہے جو عام طور پر ان کی تحریروں کا خاصہ سمجھا جاتا ہے ۔ اور بہت سے لوگ سڈنی شیلڈن کے ناولوں کی طرح ان متنازعہ حصوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں ٹیبو سمجھے جاتے ہیں 

No comments:

Post a Comment