Wednesday, January 16, 2019

آوارہ گرد کی ڈائری


یہ آٹھ دسمبر اور بدھ کے دن کی ایک سرد صبح  ہے لیکن نکھڑے ہوئے سورج کی روشنی نے سردی کو اپنی آغوش میں لے کر اس کے احساس کو کچھ گھنٹوں کیلئے کم کردیا ہے ۔ریلوے سٹیشن سے بسوں کے اڈوں کو نکال کر بادامی باغ منتقل ہوئے ابھی چند دن ہوئے ہیں۔ میں ایک دوست کو بہاولپور جانے والی بس میں سوار کروانے آیا ہوں لیکن میرا ارادہ واپسی کا نہیں ۔میں کچھ گھنٹے بادشاہی مسجد اور شاہی قلعے میں گزارنا چاہتا ہوں  ۔جب آپ کسی تاریخی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں تو   تہذیبیں آپ کے ساتھ چلنا شروع ہوجاتی ہیں ۔اور میں تہذیبوں کے اس سفر میں کچھ وقت گزارنا چاہتا ہوں   ۔ 
اقبال پارک کے گرد بنے فٹ پاتھ پر  چلتے ہوئے بار بار نگاہیں میدان کے ایک طرف  کھڑے مینار پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہیں ۔  دسمبرکے مہینہ  کے ابتدائی دن ہیں ،اس لیئے درخت اور پودے رونق سے  خالی ہیں لیکن پھر بھی جابجا بنے باغیچوں میں گیندے کے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ان کے رنگ سنہری دھوپ میں چمک رہے ہیں۔پرندوں کے کچھ گروہ رات بھر سردی میں کانپتے رہنے کے بعد اب دھوپ کی تمازت پا کر مستیاں کرتے ادھر سے ادھر اڑانیں بھر رہےہیں  ۔۔ایک طرف گل داؤدی کا باغیچہ کھلے شگفتہ پھولوں کے ساتھ اپنی پوری آب و تاب دکھا رھا ہے جس کے پھولوں پر پر اچھلتی کودتی تتلیاں اور اور بھنوڑوں کی قطاریں سماں باندھ رہی ہیں۔ ابھی دن کا آغاز ہوا ہے اس لیئے پارک میں لوگوں کی زیادہ چہل پہل نظر نہیں آرہی۔ سکول اور دفتر کھلنے کا وقت گزرنے کے بعد سڑک پر گاڑیوں کا شور اور ڈیزل کا دھواں تھما ہوا ہے۔

سڑک عبور کرنے کے بعدگردوارے کے سامنے سے گزر کر بادشاہی مسجد کی طرف چل پڑتا ہوں ۔جب علامہ اقبال کے مزارکے سامنے سے گزرا تو دوغیر ملکی سیاحوں کو سیڑھیوں پر کھڑے دیکھ کر ان سے بات کرنے  کا ارادہ بناتا ہوں لیکن وہ انگریز نہیں ہیں شائد   کسی دوسرے یورپی ملک سے   ہیں کیونکہ ان کی زبان میری سمجھ میں نہیں آرہی ۔  میں ان کو باتیں کرتا چھوڑ کر مسجد کی سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہوں۔ آخری سیڑھی پر قدم  رکھ کر ایک بار مڑ کے دیکھتا ہوں تو حضوری باغ کی دوسری طرف  قلعہ کا عالم گیری دروازہ سورج کی روشنی میں جگمگا رھا ہے۔ اور میرے سامنے اکبر کا زمانہ دوڑ جاتا ہےجس نے لاہور شہر میں مغل ایمپائر کو کشمیر افغانستان اور ملتان سے ایک حد قائم کرنے کیلئے اس قلعے کی بنیادیں رکھیں ۔ جس میں جہانگیر نے کچھ اضافہ کیا لیکن شاہجاں  نے اس کو ایک مکمل قلعے کی شکل دے دی۔ جس کے سامنے اورنگ زیب نے وہ مشہور دروازہ تعمیر کروایا جو اس وقت میری نگاہوں کے سامنے تھا۔ اور میں مسجد دیکھنے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے قدم قلعے کی طرف بڑھا دیتا ہوں ۔

 گیٹ سے کچھ فاصلے پر ،قلعے کی دیوار کے ساتھ ایک آدمی نے چادر بچھا کر ایک سٹال بنا رکھا ہے۔ اور میں آگے بڑھنے کا ارادہ ترک کرکے اس کے پاس جا پہنچتا ہوں۔ اس کے پاس بہت سی دلچسپ چیزیں دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک کیمرہ نما جس میں ریل ڈال کر تھری ڈی تصویریں دیکھ سکتے ہیں ۔ مکہ  مدینہ کیں، خانہ کعبہ اور مسجد نبوی  کیں۔ نیویارک شہر اور سڈنی اوپیرا ہاؤس کی بھی۔ ساڑھے چار سو روپے  قیمت سن کر  اسے رکھ کر ایک ماچس کی ڈبیا سائز کا ریڈیو اٹھا لیتا ہوں جس پر چار بینڈ چلتے ہیں۔ دکاندار نے سیل ڈال کر اسے چلا کر دکھایا۔ سارے بینڈ چل رہے ہیں  ۔ ایف ایم ہنڈرڈ کی  آواز گونجی تو سنجیدگی سے خریدنے کے بارے سوچ رھا ہوں ۔ لیکن  تین  سو روپے کی عیاشی کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ گھر سے ملنے والے پیسوں سے  ابھی پورا مہینہ گزارا کرنا ہے۔ اس کے پاس اور بھی بہت سی دلچسپ چیزیں  ہیں۔ بیٹری سے چلنے والا پنکھا، ٹمٹماتی لائٹیں،مقناطیسی گڑیاْ ، مائوتھ آرگن۔ لیکن اپنی جیب میں رکھے پرس کی ریزگاری کا اندازہ لگا کر میں آگے بڑھ جاتا ہوں۔ 

ابن انشا اندرون لاہور کو بغداد کہتا تھا ۔ اور میرے لیئے الف لیلوی داستان سے زیادہ پر اسرار ۔اور جب میں نے قلعے کی دیوار کو دور تک جاتا دیکھا تو اس کے ساتھ ساتھ ہولیا کہ یہ مجھے کہاں تک لیکر جاتی ہے۔ پھر دیوار کے ساتھ عمارتیں شروع ہوگئیں اور میں ایلس ان ونڈر لینڈ میں داخل ہوگیا۔درخت کی شاخوں کی طرح ایک شاخ سے نکلتی کئی شاخیں اور شاخ در شاخ اور ایسے ہی گلیاں کھلتی رہیں اور میں چلتا رھا۔ایک گلی کے اوپر تھانہ ٹبی  کا بورڈ  دیکھ کراندازہ ہوا کہ کہاں سے گزر رھا ہوں  ۔یہاں موجود ایک بازار سے جڑی بہت سی کہانیاں ذہن میں گھوم گئی ہیں ۔اس بازار کے ذکر کے بغیر ہمارا کلاسیکل ادب شائد مکمل ہی نہیں ہوتا۔لیکن میں سیدھی سڑک پر ہی چلنا جاری رکھتا ہوں اور چلتے چلتے  ایک سیدھی باریک گلی میں گھس جاتا ہوں جس کے دونوں اطراف دو منزلہ گھر ہیں۔اتنی باریک گلیوں سے دھوپ کو بھی گزرے شائد مدتیں بیت چکی ہیں ۔گھروں کی چھتوں پر کبوتروں کے ڈربے نظر آرہے ہیں اور کبوتروں کی غٹرغوں خاموشی میں گونج پیدا کررہی  ہے ۔۔ 

ابھی دوپہر ہونے میں کچھ دیر ہے اس لیئے گلیوں میں بہت زیادہ چہل پہل نہیں ہے۔کبھی کبھی کوئی موٹر سائکل کی آواز اور کبھی کسی چھابڑی والے کی آواز  گونجتی دکھائی دے رہی ہے۔اینٹوں سے بنی گلیوں کی دونوں جانب نالیاں بنی ہوئی ہیں اور اکثر گھروں کے گلی میں کھلنے والے  دروازوں پر چادریں لٹکا کر پردہ کیا ہوا  ہے۔ایک دروازے پر کوئی بوڑھی عورت دروازے کی دہلیز پر بیٹھی تھال لیئے دال صاف کررہی ہے اور ساتھ ساتھ گھر میں موجود کسی کے ساتھ باتیں بھی کررہی ہے۔ ایک دروازے پر  درمیانی عمر کی ایک عورت چھوٹی بچی کو سامنے بٹھا کر اس کی کنگھی کررہی ہے۔بچی بار بار کھیلنے کیلئے اٹھنے کی کوشش کرتی ہے لیکن عورت  اس کو بالوں سے کھینچ کر پھر بٹھا لیتی ہے ۔ ایک کونے میں ایک ماں بچےکا سر گود میں ٹکائے اس کے سر سے جوئیں نکال رہی ہے۔ دو عورتیں گلی کے درمیان میں کھڑی  ایک دوسرے سے احوال پوچھ رہی ہیں۔ایک طرف تین چار بچے  ماربلز بنٹوں سے نشانے بنا رہے ہیں۔میں کچھ دیر رک کر ان کے کھیل کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں  ۔ایک چھت پر  بچوں کی پتنگ بازی جاری ہے اور  پرجوش آوازیں  سن کر کچھ دیر کیلئے رک جاتا ہوں اور ان کی آوازوں سے ان کی چھت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں ۔دروازوں پر لگے پردوں کے پیچھے سے جھانکتی ڈھیوریاں ۔دوپہر کو پکتے کھانوں کی خوشبوئیں ۔گلی میں کھیلتے بچوں کی اٹھکیلیاں  ۔ میں اپنی ہی دھن میں چلتا جارھا ہوں
گھڑوں پر بنی محروبوں، کچی اینٹ کی دیواروں کو دیکھتے ہوئے دھیان ہی نہیں رھا کہ ایک بند گلی میں پہنچ  جاچکاہوں ۔  اپنے گھرکے باہر جھاڑو لگاتی ایک عورت پوچھتی ہےکس سے ملنا ہے؟۔ میں ہڑبڑا  جاتا ہوں  ۔ شائد غلطی سے ادھر آگیا ہوں۔ اس نے مشکوک نظروں سے مجھے دیکھا اور جب تک میں اس گلی سے واپس نہیں نکل نہیں جاتا ہوں وہ جھاڑو لگانا شروع نہیں کرتی۔ 
وہاں سے نکل کر نسبتا ایک کھلی گلی کا رخ کرتا ہوں  جس میں مرغیاں مجھے خوش آمدید کہتی ہیں ۔گھروں کے باہر سے گزرتے ہوئے کھانوں میں  ڈلے مصالحوں کی خوشبو ایک بار پھر مجھے  اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ایک جگہ چائے کا کھوکھا دیکھ کر رک جاتا ہوں ۔پاس سے کوئی خاتون گزری ہے جس نے تیز خوشبو لگائی ہوئی تھی ۔اس کی خوشبو میرے چائے میں مکس ہوگئی ہے۔ جتنی دیر چائے پیتا رھا خوشبو وہیں موجود رہی۔
گلیوں کوچوں محلوں سے گزرتے گزرتے  ٹریفک کا شور سن کر احساس ہوتا ہے کہ  کوئی بڑی سڑک آرہی ہے اور میں لوہاری گیٹ پہنچ چکا ہوں۔زیر زمین پل عبور کرکے انارکلی والی سائیڈ پر پہنچ کر چھوٹا پانچ روپے، بڑا دس روپے لکھا دیکھ کر فطری تقاضے نے احساس دلا دیا ہے۔انارکلی بازار سے گزرتے ہوئےاس گلی پر کچھ دیر رک جاتا ہوں  جس پر کچھ آگے چل کر  ایک پرانا مندر اور قطب الدین ایبک کا مزار آتا ہے۔ لیکن میں کچھ تھک چکا ہوں  اور بھوک بھی لگ رہی ہے ۔
سفر جاری رکھتے ہوئے انارکلی عبور کرکے کنگ ایڈورڈ والی سائیڈ پر جاکر اس فروٹ شاپ پر جاپہنچتا ہوں  جہاں سے اپلیکیشن فارم جمع کروانے والے دن سٹوڈنٹس نے فولنگ کے دوران ساڑھے سات سو روپے کے جوسز پیئے تھے اور اس احسان کے جواب میں طویل قطار سے نکال کر میرے فارم دفتر میں جمع کرواکر  رسید مجھے لاکر پکڑا دی تھی
انارکلی میں بہت سی پرانی کتابوں کی دکانیں ہیں۔لیکن جس جگہ گھڑیوں کی بڑی سی دکان ہے، اس کے قریب اندر کو ایک گلی جاتی ہے جہاں پر ایک  پرانی لیکن  بڑی دکان ہے۔مجھے یہ دکان اس لیئے پسند ہے کہ اس کے مالک کے پاس نا صرف  کتابوں کا  بڑا ذخیرہ ہوتا  ہے بلکہ اس کو اپنی پسند بتائی جائے تو  ڈھیڑوں کتابیں نکال کر سامنے رکھ دیتا ہے ۔جن میں سے اپنی پسند کی کتاب ڈھونڈنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں ۔ہمیشہ کی طرح بہت سی کتابیں پسند کرلیتا ہوں  اور پھران کی قیمت کا اندازہ لگاکر  اگلے مہینے ملنے والے سکالرشپ کی امید پر دکان پر چھوڑ کر باہر نکل آتا ہوں۔گھڑیوں کی اس دکان سے کچھ آگے سٹیشنری کی بہت بڑی دکان ہے جس پر پینٹنگ اور اس سے جڑا دوسرا سامان بھی دستیاب  ہےلیکن میں دکان کے اندر نہیں جاتا ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کسی فضول خرچی کی نظر نہ ہوجائوں ۔
 دکانوں کے بیچ بنی مسجد میں نماز پڑھ کر پاک ٹی ہاؤس کا رخ کرتا ہوں۔یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے  اس جاں بلب   ادبی گہوارے میں کچھ وقت گزارنے کا موقع مل جاتا ہے۔اگرچہ وہ رونقیں مجھے ابھی تک نہیں مل سکی ہیں  جن کا ذکر کتابوں، افسانوں میں ملا کرتا ہے لیکن پھر بھی اس کے اندر کے ماحول کی رومانیت اداسی اور چائے پیش کرنے کا انداز  مجھے متاثر کرتا ہے۔ میں چائے کے ساتھ پیسٹری لانے کا کہتا ہوں ۔کچھ ہی دیر بعد میرے سامنے ایک کپ رکھ دیا جاتا ہے جس میں گرم پانی ہے۔ اور ساتھ ایک خالی پیالی ہے۔بیرا سلیقے سے چائے دانی اور دودھ کی کٹوری رکھ کر چلاجاتا ہے تو میں کپ سے  گرم پانی  نکال کر خالی پیالی میں انڈیل دیتا ہوں اور اپنے  لیئے چائے کا ایک کپ بناتا ہوں۔ دھیرے دھیرے چسکیاں لیتا ارد گرد  کےماحول کوجائزہ لینے لگتا  ہوں۔ کچھ فاصلے پر ایک موٹا چشمہ لگائے سانولی سی لڑکی ایک بزرگ  کو اپنے کچھ نوٹس دکھا رہی ہے۔۔ اس کے پاس تین چار موٹی کتابیں رکھی ہیں۔ میں بزرگ آدمی کو پہچان نہیں پاتا ہوں لیکن ان کی باتوں سے اندازہ ہورھا ہےکہ بزرگ شخص  کوئی اہم ادبی شخصیت ہے اور لڑکی پی ایچ ڈی کی طالبہ  جو اس سے اپناکوئی مقالہ ڈسکس  کررہی ہے ۔ایک کونے میں ایک لمبے بالوں والا شخص سگریٹ پر سگریٹ پھونک رھا ہے اور سامنے رکھی چائے کب کی ٹھنڈی ہوچکی ہے۔۔  سانولا  ڈھلتی عمر کا ایک آدمی جس نے اپنے بال تازہ تازہ سیاہ کیئے ہوئے ہیں، ایک ہاتھ میں کپ اور دوسرے سے کچھ لکھنے کی کوشش کررھا ہے لیکن شائد اپنی تحریر سے مطمئن نہیں ہورھا اور  چہرے پر جنجھلاہٹ کے ساتھ بار بار اپنا لکھا کاٹ کر دوبارہ سے لکھنے لگ جاتا ہے۔اتنے میں تین چار افراد بہت بے تکلفی کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ شائد وہ  باقائدگی سے آتے ہیں کیونکہ بیرے  نےایک ٹیبل کو  اچھی طرح کپڑے سے صاف کیا ہے اور اب کھڑا ان کے بیٹھنے کا انتظار کررھا ہے ۔ میں اپنا چائے کا کپ ختم کرچکا ہوں اور  بل ادا کرکے  وہاں سے نکل کر مال روڈ پر چلتا ہوا پرانی انارکلی کا رخ کرتا ہوں۔ 
کسی کھنڈر کا سماں پیش کرتی ٹولنٹن مارکیٹ کے پاس سے گزرتے ہوئے  پرانی انارکلی میں داخل ہوتا ہوں ۔ انارکلی کا حسن یا تو صبح صبح نکھڑتا ہے یا پھر شام ڈھلنے کے بعد۔اس وقت سہ پہر ہے اوراس پر ایک گہری اداسی چھائی ہوئی ہے۔اس گہری اداسی کے سائے تلے چلتے ہوئے  یوسف فالوودے والے کے پاس سے گزرا تو  ایک لمحے کودودھ پینے کا خیال آتا ہے لیکن جن احساسات کو ساتھ لیکر پاک ٹی ہاؤس سے نکلا ہوں ان کو میں ابھی بچھڑنے نہیں دینا چاہتا۔ اور سڑک کے کنارے ایک طرف ٹیک لگائے جین مندر کے پاس سے گزر کر سٹیشن سے آنے والی ویگن کا انتظار کرنے لگتا ہوں  جو مجھے مسلم ٹاؤن موڑ پہنچائے گی ۔جہاں سے تیتیس نمبر ویگن لیکر میں اپنے کالج پہنچ جائوں گا

No comments:

Post a Comment