Tuesday, October 22, 2019

چنیوٹ کا کنہ




بابا شہزاد اویسی تحفہ نہ بھیجتا تو کبھی معلوم نہ ہوتا کہ ملتان سے زیادہ اچھا سوہن حلوہ میلسی میں بنتا ہے۔لیکن پھر بھی سوہن حلوہ ملتان کی ہی سوغات ہے۔ایک نئی سوغات آجکل ملتان کی شناخت بنا رہی ہے اس کا نام ہے سرائیکی اجرک۔ پہلی بار نام سنا تو کچھ تذبذب کا شکار ہوا۔ ایک مہربان تنویر مجید صاحب سے ذکر کیا تو اتنی جلدی افتخار چوہدری سوؤ موٹو نوٹس نہیں لیتا تھا جتنی جلدی انہوں نے خرید کر بھیجوا دیں۔ سرائیکی اجرک سندھی اجرک جیسی چادر ہے لیکن اس کا نیلا رنگ بہت دلفریب اور دلکش ہے۔ اس لیئے ملتان سے سوہن حلوہ کی بجائے سرائیکی اجرک کو ٹرائی کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ کمالیہ جائیں تو کھدر کی سوغات۔ گوجرہ مند اور جٹ کی برفی ۔ تاندلیانوالا ماہی کا من پسند ۔ میاں چنوں خوشی کی برفی اور گلاب جامن۔ چکوال کی ریوڑی ایسے ہی بہت سےشہروں کے ساتھ کوئی نہ کوئی سوغات جڑی ہوتی ہے۔جو کچھ لوگوں کو پسند نہیں بھی آتی لیکن سوغات تو سوغات ہوتی ہے۔
ایسے ہی چنیوٹ جائیں تو وہاں کی پہچان ان کا فرنیچر ہے لیکن اگر چنیوٹ جائیں اور کنہ نہ کھائیں تو پھر بہتر ہے چنیوٹ شہر جانے کی بجائے دریائے چناب کا پل عبور کر جائیں۔
کنہ چنیوٹ کی ایک روایتی ڈش ہے۔جو کوئی دو سو سال پرانی ہے اور بادشاہوں اور امرا کی مرغوب تھی۔ بکرے اور بیف دونوں سے بنتی ہے لیکن ہڈی کے بغیر بکرے کے گوشت کا ذائقہ لاجواب ہوتا ہے اور گوشت میں بھی بکرے کے مچھلی کا گوشت زیادہ استعمال کیا جائے تو ذائقہ کے کیا کہنے ۔ کنہ بنانے کے ماہر بزرگ بتاتے ہیں کہ اصل کنہ چربی میں بنایا جاتا تھا اور پکانے کیلئے زیر زمین چولہے استعمال ہوتے تھے ۔ لیکن اب مٹی کی ہانڈی میں آئل ڈال کر اس میں گوشت اور مصالحے ڈال کر اسکو آدھا پونا گھنٹہ پکایا جاتا ہے۔ہانڈی کو مٹی سے لیپ کر رکھا جاتا ہے تاکہ ہانڈی لمبی عمر پائے کیونکہ ہانڈی جتنی پرانی ہوگی کنہ اتنا مزیدار بنے گا۔اس کی تیاری میں سبز مرچ ادرک ٹماٹر یادھنیے کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کے بعد بادام مغز اور دوسری اشیا سے بنا دودھی ملا کر پکایا جاتا ہے۔اور کنہ کی گریوی کے ذائقے میں سارا کمال اسی دودھی کا ہوتا ہے۔ہانڈی کا منہ مٹی لگا کر بند کردیا جاتا ہے اور تین سے چار گھنٹے تک پکایا جاتا ہے۔۔ بوٹی کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے مخصوص ڈوئی استعمال کی جاتی ہے۔اور پھر مٹی کی ہانڈیوں میں ہی ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ گرم گرم تنور کی روٹی کے ساتھ ہو. دھی کا رائتہ اور تازہ سلاد ۔کنہ کا ذائقہ ساری عمر یاد رہے گا
میم سین

No comments:

Post a Comment