Tuesday, October 22, 2019

ایک المناک داستان کے نقوش




یہ کوئی ایک صدی پہلے کی بات ہے۔ ایک بہت امیر شخص تھا۔ جس کی دولت کا کوئی حساب نہیں تھا۔ ایک دن اس کو ایک ہنر مند کے بارے میں پتا چلا جس کی شہرت بکنگھم پیلس تک پہنچی ہوئی تھی۔اس نے ہنر مند کو بلا کر ایک گھر تعمیر کرنے کو کہا جو شان و صورت اور خوبصورتی کا ایسا امتزاج ہو ۔ جو اپنی مثال آپ ہو۔ پیسوں کی بوریوں کے منہ کھول دیئے گئے۔ چودہ مرلے پر واقع پانچ منزلوں پر مشتمل اس عمارت کی تعمیر کے بعد اس کے اندر لکڑی کا کا ایسا باریک کام کیا گیا کہ انسانی آنکھ دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب جاتی۔ اٹلی سے رنگین شیشہ منگوا کر بام ودر کوسجایا گیا۔ ستونوں سے لیکر برجیوں تک اور چٹخنیاں، دروازے کھڑکیاں، روشندان ہنرمندوں کی صناعی کی منہ بولتی تصویر پیش کررہے تھے۔رنگوں کی پچی کاری، لکڑی پر نقش ونگاری دیواروں سے لیکر ہر چوکھٹ کاریگروں کی شاعری کا نمونہ پیش کررہی تھیں ۔
نو سال بعد جب محل کی تعمیر مکمل ہوگئی تو ایک سال کے اندر ہی مالک جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ کچھ عرصے بعد بیوہ ماں نے بیٹے کی شادی کا اہتمام بڑی دھوم دھام سے کیا۔ لیکن ولیمے کے روز بیٹا غسل خانے میں نصب حمام میں دم گھنٹے سے انتقال کر گیا۔ ماں صدمے سے ایسی گری کہ ایک سال بعد وہ بھی چل بسی ۔۔۔

یہ کہانی ہے چنیوٹ شہر کے بیچ وں بیچ ریختی محلہ میں واقع عمر حیات محل کی۔ جس کو اس کے مالک شیخ عمر حیات نے بہت چاہت کے ساتھ بنوایا اور بیٹے کے نام پر گلزار منزل رکھا۔ الہی بخش برجھا وہ کاریگر تھا جس نے اس عمارت پر اپنے فن کا جادو جگایا۔ بیٹے اور ماں کو انتقال کے بعد اسی گھر کے مرکزی کمرے میں دفن کر دیا گیا گھر کے باقی ورثا نے نحوست قرار دے کر اس میں رہنے سے انکار کردیا۔ پہلے ایک یتیم خانہ کھلوا گیا پھر اس پر قبضہ گروپ مافیہ کا راج رھا۔ جس کے بعد ایک ڈپٹی کمشنر کو اس کی تاریخ اہمیت کا احساس ہوا تو اس کی تزئین و آرائش کا کام کروا کر اس کو ایک لائبریری کا درجہ دے دیا گیا۔۔

عمارت کے اندر داخل ہوکر پہلی اداسی تو ماں اور بیٹے کی قبروں کو دیکھ چھا جاتی ہے۔ ۔لیکن پھر رنگوں اور میناری کاری کا طلسم آپکو جلد ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ لیکن مرکزی کمرے سے نکل کر سامنے کے کمرے میں داخل ہوں تو آتش دان پر عمارت کی تعمیر کے تکمیل کے موقع پر کھینچی گئی تصویر فریم میں لگی دیکھ کر دل ایک دم سے بوجھل ہوجاتا ہے۔ تصویر میں نظر آنے والی عمارت کی بالائی منزلیں اب گر چکی ہیں۔
حسرت خواب اور خواہش۔ زندگی اور بے ثباتی، نامہربانی ، نزاکت احساس کا روگ۔ استددلال۔ فسوں کے جال۔۔
میم سین

No comments:

Post a Comment